Surat un Naziaat

Surah: 79

Verse: 2

سورة النازعات

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشۡطًا ۙ﴿۲﴾

And [by] those who remove with ease

بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم!

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

By those who free briskly. This has been mentioned by Ibn Abbas. In reference to Allah's statement, وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 نَشْط کے معنی گرہ کھول دینا، یعنی مومنوں کی جان فرشتے بہ سہولت سے نکالتے ہیں جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] نشط کا لغوی مفہوم :۔ نشط لغت اضداد سے ہے نشط الحبل بمعنی رسی کو گرہ لگائی۔ اور نَشَطَ الْعُقْدَۃُ بمعنی گرہ کو مضبوط کیا اور النَّشُوْطُ بمعنی آسانی سے کھل جانے والی گرہ۔ گویا نشط کا معنی گرہ لگانا بھی ہے اور گرہ کھولنا بھی۔ یعنی اللہ نے جب انسان کو بنایا یا پیدا کیا تو ایک ایک جوڑ اور بند کو مضبوط کیا تھا۔ موت کے وقت فرشتے انہیں جوڑوں کے بند کھول کر انہیں ڈھیلا کردیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The second quality of the angels: وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا (and by those [ angels ] who untie the knot [ of the souls of the believers ] smoothly, [ 2] & The word nashitat is derived from nasht and it means &to untie the knot&. This signifies &to untie the knot of something which contains water or air, so that it may be released easily&. This is metaphor for drawing out the souls of the believers gently, unlike the souls of the infidels which are plucked out harshly. In this case too, the adverb &smoothly& refers to the spiritual smoothness, and not to the physical experience. Sometimes, it happens that there is a delay at the time of death of a righteous believer. This may not be suspected to mean that he is undergoing some sort of suffering, although physically it may seem so. When the soul of an infidel is extracted, the entire scene of the punishment of barzakh comes in front of him. It is frightened by it, disperses throughout the body and tries to hide or escape. The angels forcefully extract the soul just as wet wool wrapped around a skewer is forcefully removed. When the soul of a believer is extracted, on the other hand, the reward, the blessings and the welcome news of the barzakh come in front of him.

دوسری صفت ہے وّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا، نشطات نشط سے متعلق ہے جس کے معنے بندھن کھول دینے کے ہیں۔ جس چیز میں پانی یا ہوا وغیرہ بھری ہوں اس کا بندھن کھول دینے سے وہ پانی وغیرہ آسانی کیساتھ نکل جاتا ہے۔ اس میں مومن کی روح نکلنے کو اس سے تشبیہ دے کر بتلایا ہے کہ جو فرشتے مومن کی قبض روح پر مقرر ہیں وہ آسانی سے اس کو قبض کرتے ہیں شدت نہیں کرتے، یہاں بھی آسانی روحانی مراد ہے جسمانی نہیں اس لئے کسی مسلمان بلکہ مرد صالح کو بوقت موت نزع روح میں دیر لگنے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس پر سختی ہو رہی ہے اگرچہ جسمانی طور پر یہ سختی دیکھی جاتی ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کافر کو نزع روح کے وقت ہی سے برزخ کا عذاب سامنے آجاتا ہے اس کی روح اس سے گھبرا کر بدن میں چھپنا چاہتی ہے۔ فرشتے کھینچ کر نکالتے ہیں، اور مومن کی روح کے سامنے عالم برزخ کا ثواب، نعمیتیں اور بشارتیں آتی ہیں تو اس کی روح تیزی سے ان کی طرف جانا چاہتی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا۝ ٢ ۙ نشط قال اللہ تعالی: وَالنَّاشِطاتِ نَشْطاً [ النازعات/ 2] قيل : أراد بها النّجوم الخارجات من الشَّرْق إلى الغَرْب بسَيْرِ الفَلَك أو السّائِرَاتِ من المغرب إلى المشرق بسَيْرِ أنفسها . من قولهم : ثور نَاشِطٌ: خارجٌ من أرض إلى أرض، وقیل : الملائكة التي تَنْشِطُ أرواحَ لنَّاسِ ، أي : تَنْزِعُ. وقیل : الملائكةُ التي تَعْقِدُ الأمورَ. من قولهم : نَشَطْتُ العُقْدَةَ ، وتَخْصِيصُ النَّشْطِ ، وهو العَقْدُ الذي يَسْهُلُ حَلُّه تنبيهاً علی سهولةِ الأَمْر عليهم، وبئر أَنْشَاطٌ: قریبةُ القَعْرِ يخرُجُ دَلْوُهَا بجَذْبةٍ واحدةٍ ، والنَّشِيطَةُ : ما يَنْشَطُ الرئيسُ لِأَخْذِهِ قبلَ القِسْمَة . وقیل : النَّشِيطَةُ مِن الإبلِ : أن يَجِدَها الجیشُ فتساقُ من غير أن يُحْدَى لها، ويقال : نَشَطَتْهُ الحَيَّةُ : نَهَشَتْهُ. ( ن ش ط ) النشط ( ض ) کے اصل معنی گرہ کھولنے کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : وَالنَّاشِطاتِ نَشْطاً [ النازعات/ 2] اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں ۔ میں بعص نے کہا ہے کہ ناشطات سے مراد ستارے ہیں جو مشرق سے نکل کر حرکت فلک سے مغرب کی طرف جاتے ہیں ۔ یا خود مشرق سے مغرب کو چلتے ہیں اور یہ نور ناشط کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ایک علاقہ سے نکل کر دوسرے علاقہ میں جانے والے بیل کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ ناشطات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو امور کو طے کرتے ہیں ۔ اور یہ نشطت العقدۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گرہ نگالنے کے ہیں اور یہاں خاص کر نشط کے لفظ سے جس کے معنی آسانی سے کھلنے والی گرہ کے ہیں ۔ اس بات پر تنبیہ کی ہے کہ فرشتے نہایت آسانی سے ان امور کو سر انجام دے رہے ہیں جن کہ وہ مامور ہیں ۔ بئر انشاط کم گہرا کنواں جس سے پانی کا ڈول ایک ہی جھٹکے میں باہر آجائے ۔ النشیطۃ اس مال کو کہتے ہیں جو رئیس قوم تقسیم غنیمت سے قبل اپنے لئے مخصوص کرلیتا ہے بعض نے کہا ہے کہ نشیطۃ ان اونٹوں کو کہا جاتا ہے جو بلا قصد ہاتھ لگ جائیں اور حدی خواں کے بغیر ہی نشاط سے چلتے ہوں ۔ نشطۃ الحیۃ اسے سانپ نے کاٹ کھایا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢{ وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا ۔ } ” اور ان (فرشتوں) کی قسم جو گرہیں کھولتے ہیں آسانی سے۔ “ یہ بھی انسان کی جان قبض ہونے کی ہی ایک کیفیت کا ذکر ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ جب فرشتہ بندئہ مومن کی جان قبض کرتا ہے تو اسے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے مشک کے بند منہ سے پانی کا ایک قطرہ ٹپک گیا ہے اور جب وہ کسی کافر کی جان قبض کرتا ہے تو اسے ایسی سختی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے سیخ پر سے کباب کھینچا جا رہا ہے (اَعاَذنَا اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ ) ۔ بہرحال یہاں یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان دونوں کیفیات کا تعلق انسان کی روح سے ہے ‘ اس کے ظاہری جسم سے نہیں۔ جسمانی طور پر تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے نیک بندوں پر بھی نزع کا وقت سخت انداز میں وارد ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ظاہری تکلیف تو خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی طاری ہوئی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکلیف کو دیکھ کر بار بار روتی تھیں اور ان (رض) کے منہ سے بےاختیار یا ابتاہ ! یا ابتاہ ! (ہائے میرے ابا جان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ تکلیف ! ) کے الفاظ نکلتے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سن کر فرماتے کہ بیٹی آج کے بعد تیرے باپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کوئی سختی نہیں ہے۔ فداہ آبائنا وامھاتنا !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(79:2) والنشطت نشطا واؤ عاطفہ ہے۔ واؤ تسمیہ مقدرہ ہے النشطت مقسم بہا ہے۔ نشطا مفعول مطلق تاکید کے لئے ہے جواب قسم محذوف ہے۔ النشطت اسم فاعل جمع مؤنث ہے۔ الناشطۃ واحد۔ بند کھولنے والیاں یہ لفظ نشط الدلو۔ ڈول کو آسانی کے ساتھ بغیر تکلیف کے نکال لیا۔ کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ یا نشط الحبل سے ماخوذ ہے یعنی رسی کو اتنا ڈھیلا چھوڑ دیا کہ وہ کھل گئی۔ اور قسم ہے آسانی کے ساتھ گرہ کھولنے والیوں کی۔ (آسانی سے روح قبض کرنے والیوں کی)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ فرشتے مسلمان کی روح گرہ کھول کر نکالتے ہیں۔ وہ اپنی خوشی سے عالم پاک کی طرف دوڑتی ہے۔ بدن کی تکلیف الگ ہے اس میں کافر اور مسلمان برابر ہیں۔ (ازموضح تبصرف)13 یا ” جو روحوں کو نکالنے کے لئے بدنوں میں تیرتے ہیں۔ یا جو اللہ تعالیٰ کے احکام لے کر جلدی سے زمین کی طرف آتے ہیں، بعض مفسرین نے سابحات، اسے مراد گھوڑے لئے ہیں جو لڑائی میں تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں گویا سمندر میں تیر رہے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو نرمی اور آسانی سے کھینچنے والے ہیں۔