Surat un Naziaat
Surah: 79
Verse: 7
سورة النازعات
تَتۡبَعُہَا الرَّادِفَۃُ ؕ﴿۷﴾
There will follow it the subsequent [one].
اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی ( پیچھے پیچھے ) آئے گی ۔
تَتۡبَعُہَا الرَّادِفَۃُ ؕ﴿۷﴾
There will follow it the subsequent [one].
اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی ( پیچھے پیچھے ) آئے گی ۔
On the Day the Rajifah shakes, followed by the Radifah. Ibn Abbas said, "These are the two blasts (of the Trumpet) -- the first and the second." Mujahid, Al-Hasan, Qatadah, Ad-Dahhak and others have made similar statements. It has been reported from Mujahid that he said, "In reference to the first, it is the statement of Allah, يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ (On the Day the Rajifah shakes,) This is similar to Allah's statement, يَوْمَ تَرْجُفُ الاٌّرْضُ وَالْجِبَالُ On the Day the earth and the mountains shake. (73:14) The second is Ar-Radifah, and it is like the Allah's statement, وَحُمِلَتِ الاٌّرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَحِدَةً And the earth and mountains shall be removed from their places, and crushed with a single crushing. (69:14)" Concerning Allah's statement, قُلُوبٌ يَوْمَيِذٍ وَاجِفَةٌ
7۔ 1 یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سے چالیس سال بعد ہوگا۔
[٧] آیت نمبر ٦ اور نمبر ٧ کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ نفخہ صور اول کے وقت زمین کانپنے لگے گی۔ پھر اسے لگاتار زلزلہ کے مزید جھٹکے پڑنے لگیں گے۔ دوسرا یہ کہ رادفہ سے زلزلہ کے بجائے نفخہ صور مراد لیا جائے۔ یعنی پہلے نفخہ صور کے نتیجہ میں زمین کانپنے لگے گی پھر اس کے بعد جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو تمام مرے ہوئے لوگ زندہ ہو کر قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔
تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ ٧ ۭ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ ردف الرِّدْفُ : التابع، ورِدْفُ المرأة : عجیزتها، والتَّرَادُفُ : التتابع، والرَّادِفُ : المتأخّر، والمُرْدِفُ : المتقدّم الذي أَرْدَفَ غيره، قال تعالی: فَاسْتَجابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ [ الأنفال/ 9] ، قال أبو عبیدة : مردفین : جائين بعد «1» ، فجعل رَدِفَ وأَرْدَفَ بمعنی واحد، وأنشدإذا الجوزاء أَرْدَفَتِ الثّري وقال غيره : معناه مردفین ملائكة أخری، فعلی هذا يکونون ممدّين بألفین من الملائكة، وقیل : عنی بِالْمُرْدِفِينَ المتقدّمين للعسکر يلقون في قلوب العدی الرّعب . وقرئ مُرْدِفِين أي : أُرْدِفَ كلّ إنسان ملکا، ( ومُرَدَّفِينَ ) يعني مُرْتَدِفِينَ ، فأدغم التاء في الدّال، وطرح حركة التاء علی الدّال . وقد قال في سورة آل عمران : أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ بَلى إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هذا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُسَوِّمِينَ. وأَرْدَفْتُهُ : حملته علی رِدْفِ الفرس، والرِّدَافُ : مرکب الرّدف، ودابّة لا تُرَادَفُ ولا تُرْدَفُ وجاء واحد فأردفه آخر . وأَرْدَافُ الملوکِ : الذین يخلفونهم . ( ر د ف) الردف تابع یعنی ہر وہ چیز جو دوسرے کے پیچھے ہو اور ردف المرءۃ کے معنی عورت کے سرین کے ہیں ۔ الترادف یکے بعد دیگرے آنا ۔ ایک دوسرے کی پیروی کرنا ۔ الرادف ۔ متاخر یعنی پچھلا ۔ المردف اگلا جس نے اپنے پیچھے کسی کو سوار کیا ہو ۔ قرآن میں ہے : فَاسْتَجابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَالْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ [ الأنفال/ 9] سو اس نے تمہاری سن لی ( اور فرمایا ) کہ ہم لگاتار ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کریں گے ۔ ابو عبیدہ کے نزدیک ردف واردف یعنی مجرد اور مزید فیہ ایک ہی معنی میں آتے ہیں اس لئے انہوں نے مردفین کا معنی بعد میں آنے والے کیا ہے ۔ اور یہ شاید پیش کیا ہے ۔ (179) |" اذا الجوزاء اردفت الثریا |" جب ثریا کے پیچھے جوزاء ستار نگل آیا ۔ مگر ابو عبیدہ کے علاوہ دوسرے علماء نے مردفین کے معنی یہ کئے ہیں کہ |" دوسرے فرشتوں کو پیچھے لانے والے |" تو اس لحاظ سے گویا دو ہزار فرشتوں کے ساتھ مسلمانوں کی مدد کی گئی تھی ۔ بعض نے کہا ہے مردفین سے مراد وہ فرشتے ہیں ۔ جو اسلامی لشکر کے آگے چلتے تھے تاکہ کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیں ۔ اور ایک قرات میں مردفین فتح دال کے ساتھ ہے یعنی ہر ایک مسلمان فوجی کے پیچھے اس کی مدد کے لئے ایک فرشتہ متعین تھا ۔ ایک اور قرآت میں مردفین بتشدید دال ہے جو دراصل مردفین باب افتعال سے ہے ۔ صرفی قاعدہ کے مطابق تاء کو دال میں ادغام کر کے اس کی حرکت دال کو دے دی گئی ہے ۔ سورة آل عمران میں ہے : أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ بَلى إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هذا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُسَوِّمِينَ. کیا تم کو اتنا کافی نہیں کہ تمہارا رب ( آسمان سے ) تین ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری مدد فرمائے ( ضرور کافی ہے ) بلکہ اگر تم ثابت قدم رہو ( اور خدا اور رسول کی نافرمانی سے ) بچو اور دشمن ( ابھی ) اسی دم تم پر چڑھ آئیں تم تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا جو بڑی سج دھج سے آموجود ہوں گے ۔ وأَرْدَفْتُهُ : میں نے اسے اپنے پیچھے سوار کیا ۔ والرِّدَافُ : سواری پر ردلف کے بیٹھنے کی جگہ ۔ ودابّة لا تُرَادَفُ ولا تُرْدَفُ : سواری جو ردیف کو سوار نہ ہونے دے ۔ وجاء واحد فأردفه آخر : ایک کے بعد دوسرا آیا ۔ وأَرْدَافُ الملوکِ : بادشاہو
آیت ٧{ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ ۔ } ” اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا آئے گا۔ “ اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے ‘ جس کے بعد سب ُ مردے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔
2 The first jolt implies the jolt which will destroy the earth and everything on it, and the second jolt at which all dead men will rise up from death and from their graves. This same state has been described in Surah Az-Zumar, thus: "And when the Trumpet shall be blown on that Day, all those who are in the heavens and the earth shall fall down dead except those whom Allah may allow (to live) . Then the Trumpet shall be blown again and they will all stand up, looking around." (v. 68)
سورة النّٰزِعٰت حاشیہ نمبر :2 پہلے جھٹکے سے مراد وہ جھٹکا ہے جو زمین اور اس کی ہر چیز کو تباہ کر دے گا اور دوسرے جھٹکے سے مراد وہ جھٹکا ہے جس کے بعد تمام مردے زندہ ہو کر زمین سے نکل آئیں گے ۔ اسی کیفیت کو سورۃ زمر میں یوں بیان کیا گیا ہے اور صور پھونکا جائے گا تو زمین اور آسمان میں جو بھی ہیں وہ سب مر کر گر جائیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ ( زندہ رکھنا ) چاہے ۔ پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے ۔ ( آیت 68 ) ۔
3: اس سے مراد دُوسرا صور ہے۔ پہلے صور کے نتیجے میں سب مَر چکے ہوں گے، اور دُوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہوکر حشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے۔
(79:7) تتبعھا الرادفۃ : تتبع مضارع واحد مؤنث غائب تبع (باب سمع) مصدر سے۔ بمعنی پیچھے چلنا۔ پیچھے پیچھے آنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الراجفۃ ہے۔ الرادفۃ؛ ردف (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث پیچھے سوار ہونے والی۔ پیچھے جانے والی۔ ترادف ایک دوسرے کے پیچھے آنا۔ یا سوار ہونا۔ لفظوں کا ہم معنی ہونا۔ مترادف ہم معنی۔ اس کے پیچھے آئے گی ایک اور لرزاہٹ، بھونچال ، زلزلہ۔ فائدہ : بعض کے نزدیک ردف سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جو پہلے نفخہ کے بعد ہوگا۔ جس کے بعد سب مردے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ صاحب تفسیر حقانی رقمطراز ہیں :۔ یوم ترجف الراجفۃ۔ اس روز کہ لرزنے والی چیزیں لرزیں یعنی زمین اور پہاڑ ہلیں ۔ اور تتبعہا الرادفۃ پے در پے لرزے آنے سے یہ تمام دنیا نیست و نابود ہوجائے گی۔ اس کے بعد بار دیگر ہر ایک انسان زندہ ہوگا۔ ابتدائے نفخ صور اول سے لے کر نفخ ثانی تک ایک متصل زمانہ ہے اس لئے اس میں زندہ ہونا صحیح ہوسکتا ہے ورنہ تو صرف نفخ اول صور میں تو کوئی زندہ نہ ہوگا بلکہ زندہ لوگ بھی مرجائیں گے۔ گویا آیت نمبر 6 اور آیات نمبر 7 دونوں نفخ صور اول کی کیفیات ہیں ۔ نفخ ثانی بعد میں ہوگی۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں :۔ یوم ترجف الراجفۃ سے مراد وہ ہیبت ناک آواز ہے جو نفخہ اولیٰ کے وقت ہوگی۔ جس سے زمین و آسمان، وحوش و طیور، حیوان و انسان نیست و نابود ہوجائیں گے اور تتبعھا الرادفۃ سے مراد نفخہ ثانیہ ہے (یعنی بار دیگر صور پھونکنا) جس سے تمام حیوان و انسان بار دیگر زندہ ہوں گے ۔ اور ان دونوں نفخ صور میں بمقدار چالیس برس کا زمانہ ہوگا۔ (تفسیر حقانی، مظہری، خازن)
ف 3۔ یعنی دوسری مرتبہ صور پھونکنا یعنی لگاتار بھونچال چلا جاوے۔
﴿تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ٠٠٧﴾ یعنی (ہلا دینے والی چیز) کے پیچھے اس کے بعد آنے والی چیز آجائے گی اس سے نفخہ ثانیہ یعنی دوسری دفعہ صور پھونکنا مراد ہے۔ ﴿ قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ٠٠٨﴾ (اس دن دل دھڑک رہے ہوں گے) ﴿ اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ٠٠٩﴾ (ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی) ۔