Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 22

سورة الأنفال

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الۡبُکۡمُ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۲﴾

Indeed, the worst of living creatures in the sight of Allah are the deaf and dumb who do not use reason.

بیشک بدترین خلائق اللہ تعالٰی کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ ( ذرا ) نہیں سمجھتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابَّ عِندَ اللّهِ الصُّمُّ ... Verily, the worst of living creatures with Allah are the deaf, who do not hear the truth, ... الْبُكْمُ ... and the dumb, who cannot comprehend it, ... الَّذِينَ لاَ يَعْقِلُونَ who understand not. These indeed are the most wicked creatures, for every creature except them abide by the way that Allah created in them. These people were created to worship Allah, but instead disbelieved. This is why Allah equated them to animals, when He said, وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ الَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لاَ يَسْمَعُ إِلاَّ دُعَأءً وَنِدَاءً And the example of those who disbelieve is as that of him who shouts to those that hear nothing but calls and cries. (2:171) and, أُوْلَـيِكَ كَالاَنْعَـمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلَـيِكَ هُمُ الْغَـفِلُونَ They are like cattle, nay even more astray; those! They are the heedless ones. (7:179) It was also said that; the Ayah (8:22) refers to some of the pagans of Quraysh from the tribe of Bani `Abd Ad-Dar, according to Ibn Abbas, Mujahid and Ibn Jarir. Muhammad bin Ishaq said that; this Ayah refers to hypocrites, as we stated. There is no contradiction here, because both disbelievers and hypocrites are devoid of sound comprehension, in addition to having lost the intention to do good. Allah states here that such are those who neither have sound understanding nor good intentions, even if they have some type of reason,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

22۔ 1 اس بات کو قرآن کریم میں دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا ہے۔ (لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :179) ان کے دل ہیں، لیکن ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں، لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپائے کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہ لوگ (اللہ سے) بیخبر ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢١] بدترین مخلوق کون ہیں ؟ اس آیت کا مضمون سورة اعراف کی آیت نمبر ١٧٩ میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اعضاء سے وہ کام لینا چھوڑ دے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں تو پھر بالآخر وہ اعضاء اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً آنکھیں اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کو دیکھیں، کان اس لیے کہ وہ حق بات کو سنیں اور عقل اس لیے کہ وہ آنکھ اور کان کی بہم پہنچائی ہوئی معلومات میں غور و فکر کرے۔ اب جو شخص ان اعضاء سے کام نہ لیتے ہوئے انہیں بےکار بنا دیتا ہے تو ایسے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو برباد کردیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ : ” الدَّوَاۗبِّ “ ” دَابَّۃٌ“ کی جمع ہے، ” دَبَّ یَدِبُّ (ض) “ زمین پر چلنا۔ انسان کو ” الدَّوَاۗبِّ “ میں اس لیے شمار کیا کہ کتب لغہ میں ہر جاندار کو دابہ کہہ لیتے ہیں۔ مصباح میں ہے ” دَابَّۃٌ“ زمین کا ہر جاندار، خواہ سمجھ رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یعنی کفار و منافقین جو کان سے اچھی بات نہ سنیں، زبان سے اچھی بات نہ نکالیں اور اللہ کی دی ہوئی عقل سے کام نہ لیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام جانوروں سے بدتر ہیں، کیونکہ جانور تو اپنے فطری تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور ان لوگوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، مگر یہ اس غرض کو بھی پورا نہیں کرتے۔ یہاں پہلے بہرے ہونے کا ذکر ہے، پھر گونگے ہونے کا، کیونکہ حق سن کر ہی اس کی تائید و تبلیغ زبان سے ہوتی ہے، پھر بےعقل ہونے کا، کیونکہ بعض بہرے اور گونگے عقل سے حق کو سمجھتے اور اسے قبول کرلیتے ہیں، مگر یہ لوگ تینوں چیزوں سے خالی ہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (١٧٩) اور فرقان (٤٤) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The third verse (22) strongly condemns those who do not listen to what is the truth thoughtfully and let it go unaccepted. The Qur&an has declared such people to be worse than animals. The words used are: إِنَّ شَرَّ‌ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ﴿٢٢﴾ (Surely, the worst of all animals in the sight of Allah are the deaf and the dumb who do not understand). The word: دوابّ (dawabb) is the plural form of: دَآبَّۃ (dābbah). Literally, everything that walks on the earth is called &dābbah.& But, in usage, only quadruped animals are called &dābbah.& So, the sense of the verse is that the worst quadrupeds in the sight of Allah are the ones deaf against listening to the truth and dumb when it comes to accepting it. Even someone deaf and dumb could, if he has the least fund of reason in him, make himself understood by simple gestures in a two-way communication. But, these people are not only deaf and dumb, they are short on reason also. It is obvious that for a person, who is deaf, dumb; and devoid of reason too, the lines of communication shall remain blocked and there will be no way they would understand or be made to understand. In this verse, Allah Ta` ala has made it clear that human beings have been created with the best of destiny. They have been made the superior-most among the created and the universe has been placed at their service. These are great blessings which lie embedded in and dependent on listening to truth and obeying it. Once human beings turn their backs on listening to the truth, understanding and accepting it, all these blessings are sucked away from them and they are relegated to some species worse than animals. It appears in Tafsir Ruh al-Bay-an that human beings are, in terms of their original creation, superior to all animals, but are lower in rank as compared to angels. But, when human beings strive on the pathway of obedience to Allah, their creator, they rise higher in status than angels too. However, should they turn away from the pathway of obedience to Allah, they are condemned to become the lowest of the low, far too worse than animals.

تیسری آیت میں ان لوگوں کی شدید مزمت ہے جو حق بات کو غور و تدبر کے ساتھ نہیں سنتے اور اس کو قبول نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو قرآن کریم نے جانوروں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ ۔ لفظ دواب دابہ کی جمع ہے اصل لغت کے اعتبار سے ہر زمین پر چلنے والے کو دابہ کہا جاتا ہے مگر عرف و محاورہ میں صرف چوپایہ جانوروں کو دابة کہتے ہیں۔ معنی آیت کے یہ ہوئے کہ سب سے بدترین چوپائے اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو حق کو سننے سے بہرے اور اس کے قبول کرنے سے گونگے ہیں اور بہرے گونگے میں اگر کچھ عقل ہو تو وہ بھی اشاروں سے اپنے دل کی بات کہہ لیتا ہے اور دوسروں کی بات سمجھ لیتا ہے یہ لوگ بہرے گونگے ہونے کے ساتھ بےعقل بھی ہیں اور یہ ظاہر ہے جو بہرا گونگا عقل سے بھی خالی ہو اس کے سمجھنے سمجھانے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ انسان کو جو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا اور اشرف المخلوقات اور مخدوم کائنات بنایا گیا یہ سب انعامات صرف اطاعت حق میں مضمر اور منحصر ہیں جب انسان نے حق بات کے سننے سمجھنے اور ماننے سے اعراض کیا تو یہ سارے انعامات اس سے سلب ہوجاتے ہیں اور وہ جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ انسان اپنی اصل خلقت کے اعتبار سے سب جانوروں سے افضل و اعلی ہے اور فرشتوں سے کم درجہ رکھتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے سعی و عمل اور اطاعت حق میں جد و جہد کرتا ہے تو فرشتوں سے بھی اعلی و اشرف ہوجاتا ہے اور اگر اس نے اطاعت حق سے روگردانی کی تو پھر وہ اسفل سافلین میں جاتا ہے اور جانوروں سے بھی زیادہ بدتر ہوجاتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللہِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۝ ٢٢ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے ۔ دب الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان، وفي الحشرات أكثر، ويستعمل في الشّراب ويستعمل في كلّ حيوان وإن اختصّت في التّعارف بالفرس : وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] ( د ب ب ) دب الدب والدبیب ( ض ) کے معنی آہستہ آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں ۔ یہ لفظ حیوانات اور زیادہ نر حشرات الارض کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور شراب اور مگر ( لغۃ ) ہر حیوان یعنی ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] اور زمین پر چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے ۔ صمم الصَّمَمُ : فقدانُ حاسّة السّمع، وبه يوصف من لا يُصغِي إلى الحقّ ولا يقبله . قال تعالی: صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ، ( ص م م ) الصمم کے معیم حاصہ سماعت ضائع ہوجانا کے ہیں ( مجاز) اس کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوتا ہے جو نہ تو حق کی آواز سنے اور نہ ہی اسے قبول کرے ( بلکہ اپنی مرضی کرتا چلا جائے ) قرآن میں ہے : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ بكم قال عزّ وجلّ : صُمٌّ بُكْمٌ [ البقرة/ 18] ، جمع أَبْكَم، وهو الذي يولد أخرس، فكلّ أبكم أخرس، ولیس کل أخرس أبكم، قال تعالی: وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُما أَبْكَمُ لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 76] ، ويقال : بَكِمَ عنالکلام : إذا ضعف عنه لضعف عقله، فصار کالأبكم . ( ب ک م ) الابکم ۔ پیدائشی گونگا اور اخرس عام گونگے کو کہے ہیں لہذا ابکم عام اور اخرس خاص ہے قرآن میں ہے ۔ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُما أَبْكَمُ لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 76] اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک ان میں گونگا اور دوسرے کی ملک ( ہے دبے اختیار وناتوان ) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا ۔ اور ابکم کی جمع بکم آتی ہے چناچہ فرمایا : ۔ صُمٌّ بُكْمٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اور جو شخص ضعف عقلی کے سبب گفتگو نہ کرسکے اور گونگے کی طرح چپ رہے تو اس کے متعلق بکم عن الکلام کہا جاتا ہے یعنی وہ کلام سے عاجز ہوگیا ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢) کہ بدترین خلقت واخلاق کے اعتبار سے وہ لوگ ہیں جو حق کی بات سننے اور کہنے سے بہرے اور گونگے ہیں اور حکم الہی اور توحید الہی کو بالکل نہیں سمجھتے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢ (اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُوْنَ ) یہاں پر واضح طور پر منافقین کو بد ترین جانور قرار دیا گیا ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

17. These are the ones who neither hear nor speak the truth. So far as truth is concerned, their ears are deaf and their mouths dumb.

سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :17 یعنی جو حق سنتے ہیں نہ حق بولتے ہیں ۔ جن کے کان اور جن کے منہ حق کے لیے بہرے گونگے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

11: پچھلی آیت میں سننے سے مراد سمجھنا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ کانوں سے تو سننے کا دعوی کرتے ہیں، مگر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اس لحاظ سے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ بے زبان جانور اگر کسی کی بات کو نہ سمجھیں تواتنی بری بات نہیں ہے، ان میں یہ صلاحیت پیدا ہی نہیں کی گئی، اور نہ ان سے یہ مطالبہ ہے، لیکن انسانوں میں تو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے، اور ان سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کوئی راستہ اپنائیں، اگر وہ سمجھنے کی کوشش نہ کریں توجانوروں سے بھی بدتر ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:22) شرالدواب۔ الدواب۔ دابۃ کی جمع ہے۔ جانور ۔ چار پائے۔ پاؤں دھرنے والے۔ رینگنے والے جانور۔ تمام جانوروں میں سے سب سے بدتر۔ شر اصل میں اشر تھا۔ کثرت استعمال سے ہمزہ ساقط ہوگیا۔ اسی طرح خیر بھی اصل میں اخیر تھا۔ الضم الیکم۔ بہرے اور گونگے۔ ان لوگوں کو جو سنتے ہیں مگر کان نہیں دھرتے تصدیق حق نہیں کرتے۔ ان کو زمرۂ حیوانات میں شامل کیا۔ پھر ان کو سب سے بدتر زمرہ میں رکھ دیا کہ حیوان میں بھی اور اس پر مستزاد یہ کہ بہرے اور گونگے ہیں کہ سمجھتے ہی کچھ نہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی کفار جو کان اچھی بات نہ سنیں زبان سے اچھی بات نہ نکالیں اور اللہ کی دی ہوئی عقل سے کوئی کام نہ لیں وہ جا نوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ جا نور تو اپنے فطری تقاضوں کے مطابق زند گی بسر کرتے ہیں اور ان لوگوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے مگر یہ اس غرض کو بھی پورا نہیں کرتے ( رازی

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

23: مذکورہ بالا معاندین کے دلوں، کانوں اور زبانوں پر مہر جباریت تمثیل ہے۔ یعنی زمین پر چلنے والی مخلوق میں اللہ کے نزدیک سب سے بد تر وہ لوگ ہیں جو حق بات نہیں سنتے اور منہ سے حق بات نہیں نکالتے اور دل سے حق سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ایسے لوگ اللہ کی ساری مخلوق سے بد تر ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

22 بلاشبہ تمام روئے زمین پر چلنے والوں میں یعنی تمام مخلوق میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین وہ بہرے گونگے ہیں جو بالکل نہیں سمجھتے اور اپنی عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔ یعنی حق کے سننے سے بہرے اور حق بات کہنے سے گونگے اور سمجھ سے کام نہ لینے والے یہ لوگ خدا تعالیٰ کے نزدیک بدترین ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جانوروں سے بھی بدتر ہیں وہ آدمی کہ دین حق کو نہ سمجھیں۔ 12