Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 27

سورة الأنفال

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷﴾

O you who have believed, do not betray Allah and the Messenger or betray your trusts while you know [the consequence].

اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول ( کے حقوق ) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں خیانت مت کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Reason behind revealing This Ayah, and the prohibition of Betrayal Allah says; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ لاَ تَخُونُواْ اللّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُواْ أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ O you who believe! Betray not Allah and His Messenger, nor betray knowingly your Amanat (things entrusted to you). The Two Sahihs mention the story of Hatib bin Abi Baltaah. In the year of the victory of Makkah he wrote to the Quraysh alerting them that the Messenger of Allah intended to march towards them. Allah informed His Messenger of this, and he sent a Companion to retrieve the letter that Hatib sent, and then he summoned him. He admitted to what he did. Umar bin Al-Khattab stood up and said, "O Allah's Messenger! Should I cut off his head, for he has betrayed Allah, His Messenger and the believers?" The Prophet said, دَعْهُ فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِيْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُم Leave him! He participated in Badr. How do you know that Allah has not looked at those who participated in Badr and said, Do whatever you want, for I have forgiven you. However, it appears that this Ayah is more general, even if it was revealed about a specific incident. Such rulings are dealt with by their indications, not the specific reasons behind revealing them, according to the majority of scholars. Betrayal includes both minor and major sins, as well those that affect others. Ali bin Abi Talhah said that Ibn Abbas commented on the Ayah, وَتَخُونُواْ أَمَانَاتِكُمْ (nor betray your Amanat), "The Amanah refers to the actions that Allah has entrusted the servants with, such as and including what He ordained. Therefore, Allah says here, لااَ تَخُونُواْ (nor betray...), `do not abandon the obligations."' Abdur-Rahman bin Zayd commented, "Allah forbade you from betraying Him and His Messenger, as hypocrites do." Allah said,

اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے ۔ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کر دیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتا دیا کہ حضور کا فیصلہ تمھارے حق میں یہی ہوگا ۔ اب حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول کی خیانت کی ۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں ۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آ گئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گر پڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کر لی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں چنانچہ آپ خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یارسول اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کر لے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ نے ارشاد فرمایا نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ابو سفیان مکے سے چلا جبر ئیل علیہ السلام نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ ابو سفیان فلاں جگہ ہے آپ نے صحابہ سے ذکر کیا اور فرمادیا کہ اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا ۔ پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں ۔ بخاری و مسلم میں حضرت حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی آپ نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا ۔ حضرت حاطب نے اپنے قصور کا اقرار کیا حضرت عمر نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول اور مومنوں سے خیانت کی ہے آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے ۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے ۔ میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے ۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں ۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو ، پیغمبر کی سنت کو نہ چھوڑو ، اس کی نافرمانی نہ کرو ۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے ۔ سدی فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا ایک صورت اس کی حضور کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا ۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو؟ یا ان میں مشغول ہو کر ، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے ۔ اس کا ارشاد ہے کہ مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا ۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں اور آیت میں ہے کہ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں ، ان سے ہوشیار رہنا ۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بےنفع ہوتے ہیں ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف و مالک ہے ، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں ، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا ، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے ، میرا فوت ہو جانا تمام چیزوں کا فوت ہو جانا ہے ، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں ۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو ، جو محض اللہ کے لئے دوستی رکھتا ہو اور جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنا معلوم ہوتا ہو ۔ بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

27۔ 1 اللہ اور رسول کے حقوق میں خیانت یہ ہے کہ جلوت میں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تابع دار بن کر رہے اور خلوت میں اس کے برعکس معصیت کار۔ اسی طرح یہ بھی خیانت ہے کہ فرائض میں سے کسی فرض کا ترک اور نواہی میں سے کسی بات کا ارتکاب کیا جائے اور ایک شخص دوسرے کے پاس جو امانت رکھواتا ہے اس میں خیانت نہ کرے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی امانت کی حفاظت کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اکثر خطبوں میں یہ ضرور ارشاد فرماتے تھے ' اس کا ایمان نہیں، جس کے اندر امانت کی پاسداری نہیں اور اس کا دین نہیں، جس کے اندر دین کی پابندی کا احساس نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] امانتوں میں خیانت کی مختلف صورتیں :۔ امانتوں میں خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ امانتوں سے مراد وہ تمام عہد معاہدے اور وہ ذمہ داریاں ہیں جو کسی انسان پر عائد کی گئی ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ سے انسان کا عہد، عہد میثاق بھی ہے جس کو پورا کرنے پر انسان اللہ کا نافرمان رہ ہی نہیں سکتا اور وہ عہد بھی جو انسان ذاتی طور پر اللہ سے باندھتا ہے جیسے نذریں اور منتیں وغیرہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیانت یہ ہے کہ جن باتوں پر کسی مسلمان نے آپ سے بیعت کی ہے۔ ان میں فرار کی راہیں سوچنے لگے اور لوگوں سے معاہدے دین کے بھی ہوسکتے ہیں۔ صلح و جنگ کے سمجھوتے بھی، نکاح کے بھی، پھر انسان پر اس کے منصب کے لحاظ سے طرح طرح کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ غرض اس آیت کے مضمون میں انسان کی پوری زندگی آجاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر واقعہ کے وقت متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی حال میں خیانت نہ کرے۔ اور بالخصوص جس بات پر اس آیت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کفار سے متعلق مسلمانوں کی پالیسی کو منافقوں یا مشکوک لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کریں اور اس سلسلہ میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ کیونکہ ہر قسم کی جنگی تدابیر اللہ اور اس کے رسول کی امانت ہیں اور ایسے اقدامات کے متعلق کافروں کو اشارتاً یا کنایتہ مطلع کرنا یعنی جنگی راز کو فاش کرنا بھی امانت میں خیانت ہے۔ جس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ بسا اوقات فتح شکست میں بدل جاتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ : امانتوں میں خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس سے وہ تمام ذمہ داریاں اور عہد معاہدے مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ یا بندوں سے کیے گئے ہوں۔ صلح، جنگ اور نکاح وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں، ایک دوسرے کے ذاتی راز اور فوجی راز بھی امانت ہیں۔ حاطب بن ابی بلتعہ (رض) نے فتح مکہ سے پہلے ایک عورت کو خط دے کر مکہ بھیجا تھا، جس میں اہل مکہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حملے کے ارادے سے آگاہ کیا تھا اور اس پر اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی تھی۔ [ بخاری، ٣٩٨٣۔ مسلم : ٢٤٩٤ ] سورة ممتحنہ کے شروع میں اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کم ہی کوئی خطبہ دیا مگر اس میں فرمایا : ( لاَ اِیْمَانَ لِمَنْ لاَّ أَمَانَۃَ لَہُ وَلاَ دِیْنَ لِمَنْ لاَّ عَھْدَ لَہُ ) [ أحمد : ٣؍١٣٥، ح : ١٢٣٨٣، و حسنہ شعیب الأرنؤوط۔ ابن حبان : ١٩٤ ] ” اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس کی کوئی امانت نہیں اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جس کا کوئی عہد نہیں۔ “ عبداللہ بن عمرو اور ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ منافق کی علامات میں سے ایک علامت امانت میں خیانت بھی ہے۔ [ بخاری، الإیمان، باب علامات المنافق : ٣٣۔ مسلم : ٥٩ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the third verse (27), Muslims have been instructed not to commit any breach of trust خِیَانہ (khiyanah) in the dual rights due against them, that is, in the rights of Allah (Huququllah) or in the mutual rights of the servants of Allah as enjoined on each other (Huququl-` Ibad) - either by failing to fulfill them totally, or by fulfilling them in a defective manner leaving one or the other shortcoming behind. Then, by saying: وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (while you know) at the end of the verse, it was stressed that they already knew that breach of trust was an evil conduct lined with many a curse, therefore, going ahead to do something like that was not what an intelligent person would choose to do - and, since the cause of negligence or shortcoming in fulfilling the rights of the servants of Al¬lah is usually one&s attachment to property and children, a warning was given in verse 28 by saying:

تیسری آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں یا آپس میں بندوں کے حقوق میں خیانت نہ کریں کہ حق ادا ہی نہ کریں یا اس میں کوئی اور کوتاہی کرکے ادا کریں۔ آخر آیت میں (آیت) وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ فرما کر یہ بتلا دیا کہ تم تو خیانت کی برائی اور اس کے وبال کو جانتے ہی ہو پھر اس پر اقدام کرنا قرین دانشمندی نہیں اور چونکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی سے غفلت و کوتاہی کا سبب عموما انسان کے اموال و اولاد ہوا کرتے ہیں اس لئے اس پر تنبیہ کرنے کے لئے فرمایا :

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝ ٢٧ خون الخِيَانَة والنّفاق واحد، إلا أنّ الخیانة تقال اعتبارا بالعهد والأمانة، والنّفاق يقال اعتبارا بالدّين، ثم يتداخلان، فالخیانة : مخالفة الحقّ بنقض العهد في السّرّ. ونقیض الخیانة : الأمانة وعلی ذلک قوله : لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، ( خ و ن ) الخیانۃ خیانت اور نفاق دونوں ہم معنی ہیں مگر خیانت کا لفظ عہد اور امانت کا پاس نہ کرنے پر بولا جاتا ہے اور نفاق دین کے متعلق بولا جاتا ہے پھر ان میں تداخل ہوجاتا ہے پس خیانت کے معنی خفیہ طور پر عہد شکنی کرکے حق کی مخالفت کے آتے ہیں اس کا ضد امانت ہے ۔ اور محاورہ میں دونوں طرح بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو ۔ أمانت أصل الأَمْن : طمأنينة النفس وزوال الخوف، والأَمْنُ والأَمَانَةُ والأَمَانُ في الأصل مصادر، ويجعل الأمان تارة اسما للحالة التي يكون عليها الإنسان في الأمن، وتارة اسما لما يؤمن عليه الإنسان، نحو قوله تعالی: وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، أي : ما ائتمنتم عليه، ( ا م ن ) امانت ۔ اصل میں امن کا معنی نفس کے مطمئن ہونا کے ہیں ۔ امن ، امانۃ اور امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ } ( سورة الأَنْفال 27) یعنی وہ چیزیں جن پر تم امین مقرر کئے گئے ہو ان میں خیانت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧) نیز مروان اور ابولبابہ بن عبد المنذر تم لوگ بنی قریظہ کو اس بات کا اشارہ کرکے کہ سعد بن معاذ کے حکم پر مت اترو دین خداوندی میں خلل مت ڈالو اور تم احکام الہی میں جن کی حفاظت تم پر امانت کے طور پر واجب ہے خلل نہ ڈالو اور تم لوگ تو اس خلل کو جانتے ہی ہو۔ شان نزول : (آیت ) ” یایھا الذین امنوا لا “۔ (الخ) حضرت سعید بن منصور (رح) نے عبداللہ بن ابی قتادہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابولبابہ بن عبد المنذر کے متعلق نازل ہوئی، قریضہ والے دن ان سے بنو قریظہ نے پوچھا تھا کہ یہ کیا فیصلہ ہوگا، تو انہوں نے حلق کے اشارے سے بتادیا تھا، کہ گردنیں اڑا دی جائیں گی، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ابولبابہ (رض) فرماتے ہیں کہ اس اشارہ کے بعد میری قوم اپنی جگہ سے نہیں ہٹی مگر میں نے اچھی طرح جان لیا کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے معاملہ میں خیانت ہوگئی ہے۔ ابن جریرہ (رح) نے جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ابوسفیان مکہ معظمہ سے نکلا تو جبریل امین رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتلایا کہ ابوسفیان فلاں جگہ ہے، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) سے فرمایا کہ ابوسفیان فلاں مقام پر ہے، اس کی طرف چلو اور اس بات کو راز میں رکھو تو منافقین میں سے ایک شخص نے ابوسفیان کو اس بات کی اطلاع کردی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے پیچھے آرہے ہیں لہٰذا اپنا بچاؤ کرلو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حقوق میں دخل اندازی نہ کرو، یہ حدیث بہت غریب ہے اس کی سند اور متن میں کلام ہے، نیز ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ منافقین رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی بات کی خبر لگاتے اور پھر اس کو ظاہر کردیتے تھے، مشرکین کو اس کی اطلاع ہوجاتی تھی، اس بات پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ ) اللہ کی امانت میں خیانت یقیناً بہت بڑی خیانت ہے۔ ہمارے پاس اللہ کی سب سے بڑی امانت اس کی وہ روح ہے جو اس نے ہمارے جسموں میں پھونک رکھی ہے۔ اسی کے بارے میں سورة الاحزاب میں فرمایا گیا : (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلً ۔ ) ہم نے (اپنی) امانت کو آسمانوں ‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور وہ اس سے ڈر گئے ‘ مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ‘ یقیناً وہ ظالم اور جاہل تھا۔ پھر اس کے بعد دین ‘ قرآن اور شریعت اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بڑی بڑی امانتیں ہیں جو ہمیں سو نپی گئی ہیں۔ چناچہ ایمان کا دم بھرنا ‘ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کا دعویٰ کرنا ‘ لیکن پھر اللہ کے دین کو مغلوب دیکھ کر بھی اپنے کاروبار ‘ اپنی جائیداد ‘ اپنی ملازمت اور اپنے کیرئیر کی فکر میں لگے رہنا ‘ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس سے بڑی بےوفائی ‘ غداری اور خیانت اور کیا ہوگی !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22. 'Trusts' embrace all the responsibilities which are imparted to someone because he is trusted. These might consist of obligations arising out of an agreement or collective covenant. It might also consist of the secrets of a group. It might also consist of personal or collective property, or any office or position which might be bestowed upon a person by the group. (For further explanation see Towards Undersranding the Qur' an, vol. 11. al-Nisa' 4, n. 88, pp. 49 f - Ed.)

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٧۔ مسند سعید بن منصور تفسیر عبدالرزاق ‘ تفسیر زہری ‘ اور تفسیر کلبی میں عبداللہ بن ابی قتادہ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت نے یہود بنی قریظہ کا اکیس روز تک محاصرہ کیا اور بنی قریظہ نے آنحضرت سے صلح کرنے کی درخواست کی تو آنحضرت نے صلح سے انکار کیا اور یہ فرمایا کہ تم سعد بن معاذ (رض) کو اپنا بیچ قرار دے کر اپنی گڑھی سے نیچے اتر آؤ بعد گڑھی کے نیچے اتر آنے کے سعد بن معاذ (رض) جو مشورہ اور رائے تمہارے باب میں دیویں گے اس کے موافق فیصلہ کیا جاوے گا بنی قریظہ نے کہا پہلے ابو لبابہ (رض) بن عبدالمنذر کو ہمارے پاس مشورہ کے لئے بھیجدیا جاوے آنحضرت ابولبابہ (رض) کو بھیجدیا ابولبابہ نے اپنی گردن پر اپنا ہاتھ پھیرا اشارہ سے بنی قریظہ کو یہ سمجھادیا کہ گڑھی سے اترو گے تو قتل کر دئے جاؤ گے پھر ابولبابہ (رض) کو اسی وقت خیال آیا کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امانت میں خیانت کی کیونکہ لشکر اسلام کی بھید میں نے ان پر اشارہ سے ظاہر فرما دیا اس پر اللہ تعال نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کی توبہ قبول ہوئی سوا اس کے اور شان نزول جو اس آیت کے مفسرین نے بیان کی ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ اس پر بھی آیت کا مطلب صادق آتا ہے کیونکہ ابولبابہ (رض) کے قصہ کی شان نزول جو اوپر بیان کی گئی اس کی روایت تفسیر عبدالرزاق میں ہے یہ عبدالرزاق قدیم مفسروں میں ہیں اور ان کی یہ تفسیر ان کے نابنیا ہونے سے پہلے کی ہے اور ان کے نابینا ہونے کے بعد ان کی روایتیں نہیں اگرچہ آیت کی شان نزول میں ایک خاص حیات کا ذکر ہے لیکن سورة نساء میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی صحیح روایت گذر چکی ہے کہ لفظ امانت سے وہ باتیں مقصود ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان پر فرض کی ہیں مثلا نماز روزہ حج زکوۃ ان کو پورے طور پر ادا کرنا پوری امانت کی ادائی ہے ورنہ خیانت ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا امانت میں خیانت کرنا منافق آدمی کی عادتوں میں سے ایک عادت ہے آیت حدیث اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کو ملا کر یہ مطلب قرار پایا کہ عبادت آلہی میں کس طرح کا خلل ڈالنا یا کوئی شخص کوئی چیز امانت رکھوا دے تو اس میں خیانت کا کرنا یہ سب منافق لوگوں کی نشانی ہے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:27) لاتخونوا۔ تم جنابت نہ کرو۔ خیانۃ سے (باب نصر) تخونوا امنتکم۔ تخونوا۔ مضارع مجزوم ہے اور لاتخونوا پر عطف ہے تقدیر کلام یوں ہے ولا تخونوا امنتکم۔ اور یہ آپس کی امانتوں میں خیانت کرو۔ وانتم تعلمون۔ اور تم اس خیانت کے قبیح اور مذموم ہونے کو جانتے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی مال غنیمت میں خیا نت نہ کرو یا آنحضرت سے بےوفائی اور غداری نہ کرو بلکہ ان سے ایمان و اطاعت کا جو عہد باند ھا ہے اسے پورے اخلاص سے بھاؤ، امام زہری (رح) وغیرہ کا بیان ہے کہ جب بنو قریظہ کے یہودی گھر گئے اور انہیں اپنے قلعہ سے اترنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے حضرت ابو لبابہ (رض) سے دریافت کیا کہ ہم سعد بن معاذ (رض) کے حکم پر اتر اٗیں ؟ ابو لبابہ (رض) نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا کہ نہیں یعنی ایسا کرنے سے گلا کٹ جائے گا اور قتل کردیئے جاؤ گے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، حضرت ابو لبانہ (رض) کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور انہوں نے تو بہ کے ارادہ سے اپنے آپ کو مسجد نبوی (رض) نے ستو ن سے س باندھ تو نو روزٍ تک نہ کچھ کھایا نہ پیا تک کہ بےہوش ہر کر گرپڑے۔ ک کہ جس میں مانت نہیں اللہ تعالیٰ کی توبہ قبول فرمائی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تشریف لاکر انہیں ستو ن سے کھولا ( کبیر، ابن کثیر)9 آ نحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کم ہی کوئی خطبہ دیا ہوگا جس میں یہ ارشاد نہ فرمایا ہو لا ایمان المن لا اما نتہ لہ ولا دین لمن لا عھد لہ۔ کہ جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں ہے اور جو اپنے عہد کو پو رانہ کرے اس کا دین نہیں ہے۔ ( رازی ابن حبانی) نیز فرمایا کہ کا کام ہے۔ ( ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیات : 27 تا 29 لغات القرآن۔ لا تخونوا۔ خیانت نہ کرو۔ فتنۃ ۔ آزمائش۔ فرقان۔ حق و باطل کے درمیان فرق کرنیو الا۔ تشریح : اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! یہ جسم و جاں مال و اسباب یہ بال بچے۔ یہ علم و عقل یہ صحت و فراغت یہ اقتدار اختیار اپنے اور پرائے غرضیکہ جو کچھ بھی اور جتنا بھی تمہارے پاس ہے سب اللہ کی امانت ہے۔ تم صرف ایک امانت دار ہوں ان چیزوں کو اسی طرح استعمال کرو جس طرح اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کو استعمال کرنے کا وقت بارہ مہینے اور گھنٹوں میں چوبیس گھنٹے ہیں ہوش پانے سے ہوش کھونے تک ہے۔ جو خیانت کرنے والے ہیں وہ تبلیغ دین سے بھاگتے ہیں کیونکہ اس میں علم و عقل اور استقلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ تنظیم اور تنظیمی کاموں سے بھاگتے ہیں کیونکہ اس میں ” انا اور نفس “ کو مارنے کی اور اطاعت امیر اور نظم و ضبط کی ضرورت ہے وہ جہاد سے بھاگتے ہیں کیونکہ اس میں اہل و عیال سے چھوٹنے کا خطرہ ہے۔ وقت، آرام اور جان و مال کی قربانی کا سوال ہے۔ سامان زندگی اور سامان عیش و آرام کو تج دینے کا سوال ہے۔ کون ہے جو یہ باتیں نہیں جانتا۔ کون ہے جب اس کی امانت میں خیانت ہوتی ہے تو وہ تڑپ نہیں اٹھتا۔ لیکن کس بےضمیری سے وہ ان امانتوں میں خیانت کرتا ہے جو اللہ نے اس کے پاس رکھوائی ہیں اور جو لوگوں نے اس کے پاس رکھوائی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جان و مال علم و عقل یہ صحت و فراغت نہ صرف اللہ کی امانتیں ہیں بلکہ ان سب کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔ کلمہ طیبہ کا زبان اور دل سے اقرار اہل ایمان کو ان امانتوں میں خیانت اور دوسروں کے حقوق میں کمی سے روکتا ہے۔ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں تو ازن کا صحیح طریق سکھاتا ہے۔ اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ تمام چیزیں بندے کا ایک امتحان ہیں دیکھیں کون بےخطر آتش نمرود میں کود پڑتا ہے اور کون لب بام محو تماشا رہتا ہے۔ اس آیت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیشک مال و دولت اور اولاد میں بڑی کشش ہے یہ کشش ہی بڑی آزمائش ہے لیکن جو لوگ امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں ان شکر گزار بندوں کے لئے اللہ نے بیشمار انعامات اور نعمتوں کا خزانہ محفوظ کر رکھا ہے جو انہیں جنت میں عطا کیا جائے گا۔ آگے فرمایا کہ اے مومنو ! تم اپنے دل میں خشیت الٰہی پیدا کرو ہر قدم جو تماٹھائو ہر کام جس کو تم ہاتھ لگائو پہلے غور کرلو کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی اور رضا شامل ہے یا نہیں۔ اگر اس میں اللہ و رسول کی اطاعت ہے تو کو کر ڈالو اور اگر للہ اور رسول کی اطاعت کے خلاف ہے تو اس راستے سے ہٹ جائو اس مسلسل عمل سے تمہارے اندر ایک سلامتی کا مزاج پیدا ہوجائے گا۔ ایک قوت تمیزی زور پکڑلے گی۔ ایک ضمیر زندہ و تابندہ ہوجائے گا۔ تم خود اپنا فیصلہ آپ کرسکو گے۔ اور قرآن و سنت کی روشنی تمہاری رہنما بن جائے گی۔ اللہ بڑے فضل وکر والا ہے ” یہ آیت امید ہے۔ آیت تو کل ہے آیت تقویٰ ہے۔ آیت ہدایت ہے آیت وعدہ ہے اور آیت جنت ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مزید ہدایات کے ساتھ نیا خطاب شروع ہوتا ہے : اس ارشاد میں مسلمانوں کو امانتوں میں خیانت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خیانت صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی دوسرے کی چیز میں خرد برد کرلے۔ اسلام میں امانت اور خیانت کا تصور بڑا وسیع ہے کیونکہ اس آیت میں امانت کے لیے جمع کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ہر مسلمان کے ذمہ پہلی امانت اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ پورے اخلاص کے ساتھ محبت کرنا اور دل و جان کے ساتھ ان کے احکام ماننا ہے۔ دوسری امانت لوگوں کے آپس کے حقوق و فرائض ہیں۔ اگر کوئی شخص معاشرے کی تفویض کردہ ذمہ داری اور منصب کے فرائض تن دہی سے ادا نہیں کرتا تو وہ بھی خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ منصبی ذمہ داری کے حوالے سے امانت کے ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے قرآن مجید نے ٹھوس بنیاد فراہم کرکے حکم دیا ہے کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جب تم کسی کو امانت سپرد کرو تو اہل لوگوں کو سپرد کیا کرو۔ جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہیں اچھی سے اچھی نصیحت کرتا ہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ (النساء : ٥٨) سورۃ النساء میں امانت اہل لوگوں کو سپرد کرکے ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم تھا یہاں خیانت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر امانت کی چار قسمیں ہوسکتی ہیں۔ (١) اہل شخص کو منصب سپرد کرنا۔ (٢) منصب کی ذمہ داری پوری کرنا۔ (٣) کسی کی رکھی ہوئی امانت میں خرد برد سے بچنا اور اسے پورا پورا ادا کرنا۔ (٤) اگر کوئی مشورہ طلب کرے تو اسے اپنی فہم و فراست کے مطابق پوری دیانت داری کے ساتھ مشورہ دینا اور اگر کوئی راز بتائے تو اس کے راز کی حفاظت کرنا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الایمان، بابَ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس سے مشورہ مانگا جائے وہ امین ہے۔ “ (عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسْتَعْمَلَ عَامِلًا فَجَاءَ ہُ الْعَامِلُ حینَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِہٖ فَقَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ ہٰذَا لَکُمْ وَہٰذَا أُہْدِیَ لِی فَقَالَ لَہٗ أَفَلَا قَعَدْتَّ فِی بَیْتِ أَبِیکَ وَأُمِّکَ فَنَظَرْتَ أَیُہْدٰی لَکَ أَمْ لَا ثُمَّ قَامَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَشِیَّۃً بَعْدَ الصَّلَاۃِ فَتَشَہَّدَ وَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہٗ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُہٗ فَیَأْتِینَا فَیَقُولُ ہٰذَا مِنْ عَمَلِکُمْ وَہٰذَا أُہْدِیَ لِی أَفَلَا قَعَدَ فِی بَیْتِ أَبِیہِ وَأُمِّہٖ فَنَظَرَ ہَلْ یُہْدٰی لَہٗ أَمْ لَا فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَا یَغُلُّ أَحَدُکُمْ مِنْہَا شَیْءًا إِلَّا جَاءَ بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَحْمِلُہُ عَلٰی عُنُقِہٖ إِنْ کَانَ بَعِیرًا جَاءَ بِہٖ لَہٗ رُغَاءٌ وَإِنْ کَانَتْ بَقَرَۃً جَاءَ بِہَا لَہَا خُوَارٌ وَإِنْ کَانَتْ شَاۃً جَاءَ بِہَا تَیْعَرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ فَقَالَ أَبُو حُمَیْدٍ ثُمَّ رَفَعَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَدَہُ حَتّٰی إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی عُفْرَۃِ إِبْطَیْہٖ قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذٰلِکَ مَعِی زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَسْءَلُوْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب کانت یمین النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت ابو حمیدساعدی (رض) نے بتلایا کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی علاقے کی طرف عامل بھیجا۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس آیا۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہ آپ کے لیے ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا تو اپنے باپ یا ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا اور تو دیکھتا کہ تجھے تحفہ دیا جاتا یا نہیں۔ پھر رسول مکرم عشاء کی نماز کے بعد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا اس عامل کا کیا معاملہ ہے جسے ہم کہیں مقرر کریں تو وہ واپس آکر کہے کہ یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ وہ کیوں نہ اپنے ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! تم میں سے جو کوئی بھی خیانت کرے گا وہ اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے قیامت کے دن آئے گا اگر وہ اونٹ ہوگا تو آوازیں نکال رہا ہوگا اگر وہ گائے ہوئی تو وہ بھی ڈکرا رہی ہوگی اور اگر بکری ہوگی تو وہ ممیارہی ہوگی۔ بلاشبہ میں نے یہ پہنچا دیا ہے۔ ابو حمید ساعدی (رض) فرماتے ہیں کہ پھر رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ بلند فرمایا یہاں تک کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ رہے تھے۔ ابوحمید ساعدی (رض) کہتے ہیں میرے ساتھ یہ زید بن ثابت (رض) نے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا تو اس سے بھی پوچھ لو۔ “ مسائل ١۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام پر عمل نہ کرنا خیانت کرنے کے مترادف ہے۔ ٢۔ امانت میں خیانت کرنا جائز نہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب پھر اہل ایمان کو دوبارہ پکارا جاتا ہے۔ انسان کے مالی حالات معاملات اور اس کی اولاد کے مفادات بعض اوقات انسان کو خوف اور بخل کی وجہ سے جدوجہد کرنے سے روک دیتے ہیں۔ جس زندگی کی طرف رسول اللہ دعوت دے رہے ہیں وہ ایک باعز زندگی ہے اور اس زندگی کے حصول کی راہ میں مشکلات لازماً پیش آتی ہیں اور اس کے لیے قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ لہذا قرآن کریم ان کمزوریوں کی اصلاح اس طرح کرتا ہے کہ وہ تحریک اسلامی کو فتنہ مال اور فتنہ اولاد کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں اس طرح فتنہ ہیں کہ ان سے انسان کا امتحان مقصود ہوتا ہے۔ اس امتحان اور آزمائش سے گزرنا مشکل کام ہے۔ ان کی وجہ سے دعوت جہاد سے انسان رک جتا ہے اور امانت ، عہد اور بیعت کے تقاضوں وک پورا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے۔ لہذا تم خبردار رہو کہ جہاد سے پیچھے رہ جانا رسول اللہ سے غداری ہے اور اس امانت سے غداری اور اس میں خیانت ہے جو مسلمانوں کے سپرد کی گئی ہے یعنی مقصد اعلائے کلمۃ اللہ اور قیام حاکمیت الہیہ اور لوگوں کو سچائی اور انسان کی دعوت اور ان کو یہ بھی یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں جو اجر عطیم ہے ، اس تحریک جہاد پر وہ مال اور اولاد سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس کرہ ارض پر امت مسلمہ کے ذمہ جو فرائض عائد کیے گئے ہیں ، ان کو ترک کرنا اور ان سے دست بردار ہوجانا خدا اور رسول کے ساتھ خیانت ہے۔ اسلام کی اساس کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک حاکم ہے۔ اور یہ حاکمیت اس شکل میں ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علی ہوسلم نے پیش کی۔ انسانوں نے اپنی پوری تاریخ میں کسی وقت بھی ذات باری سے بالکل انکار نہیں کیا بلکہ انسان یہ غلطی کرتے رہے ہیں کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کرتے رہے ہیں۔ کبھی تو یہ شراکت محدود پیمانے پر اعتقادات اور عبادات میں ہوتی ہے اور کبھی نہایت ہی وسیع پیمانے پر اللہ کے اقتدار اعلیٰ اور حق حاکمیت میں بھی ہوتی ہے۔ اور یہ دوسری صورت عظیم شرک کی صورت ہے لہذا اسلام کے سامنے کبھی یہ مسئلہ اہم نہیں رہا ہے کہ لوگ خدا کو تسلیم کریں اور ان کو یہ دعوت دی جائے کہ خدا موجود ہے ، بلکہ مسئلہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ یہ خدا وحدہ لاشریک ہے اور اسے اس حیثیت کے ساتھ تسلیم کیا جائے اور لا الہ الا اللہ کا مفہوم یہی ہے کہ اس کرہ ارض پر حق حاکمیت بھی صرف اسے حاصل ہے اور جس طرح تمام لوگ اقرار کرتے ہیں کہ اس کائنات کا حاکم اللہ ہے ، اسی طرح وہ یہ اقرار بھی کریں کہ زمین پر بھی وہ الہ ہے۔ اور آسمان پر بھی ھوالذی فی السماٗ الہ و فی الارض الہ۔ اللہ وہ ہے جو آسمانوں پر بھی الہ ہے ، اور زمین پر بھی الہ ہے “۔ یہ ہے اصل قضیہ۔ مزید یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اللہ کا پیغام لانے والے ہیں لہذا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ یہ ہے دین اسلام کا اصل مسئلہ یعنی نظریات جن کا دل دماغ میں جاگزیں ہونا ضروری ہے اور وہ عملی جد وجہد جس کے ذریعے اس کرہ ارض پر عملی نظام قائم کیا جائے۔ لہذا ان مقاصد سے دستکش ہونا خیانت ہے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یہاں متنبہ کرتے ہیں کہ تم ہر گز انمقاصد سے دستکش نہ ہونا۔ یہ خیانت تصور ہوگی۔ لہذا جو گروہ اپنے اس نظریہ کا اعلان کردے اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے لیے جدوجہد کرے۔ اس راہ میں جو جہاد اور اس کی مشکلات ییش آئیں انہیں برداشت کرے۔ چاہے مال دینا پڑے ، چاہے اولاد کو قربان کرنا پڑے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس امانت میں خیانت کرنے سے بھی مسلمانوں کو خبردار کرتا ہے جس کے وہ اس وقت سے حامل ہیں جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا گیا ہے ، کیونکہ اسلام صرف چند کلمات سے عبارت نہیں ہے جن کو جس زبان سے ادا کردیا جائے ، اور نہ چند عبادات اور دعاؤں کا نام ہے بلکہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو پوری انسانی زندگی پر حاوی ہے۔ اس کے قیام کی راہ میں بڑی بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔ اسلام در حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی پوری عملی زندگی کو کلمہ طیبہ کے اصولوں پر استوار کردے۔ اور لوگوں کو اللہ کی بندگی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ انسانی معاشرے کو اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون اور اخلاقی نظام کی طرف لوٹا دیا جائے۔ ان لوگوں کو رد کردیا جائے جو اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرتے ہیں۔ اپنی الوہیت قائم کرتے ہیں اور اس نظام میں لوگوں کے درمیان مکمل عدل اور انصاف نافذ کیا جائے اور کرہ ارض پر انسان فریضہ خلافت الہیہ ادا کرتے ہوئے یہ سب کچھ کرے۔ یہ ہیں وہ فرائض جو ہر مسلمان پر عائد ہوتے ہیں اور جو ان کو ادا نہیں کرتا وہ گویا خائن ہے۔ وہ اس عہد کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کو توڑ رہا ہے اور اس میں خیانت کر رہا ہے۔ اور یہ فرائض کچھ قربانیوں کا تقاضا کرتے ہیں ، ان کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان مال اور اولاد کے فتنوں اور آزمائشوں میں کامیاب نکلے اور اس کا نصب العین رضائے الہی اور اجر اخروی ہو ، جو عظیم اجر ہے اور جو ان لوگوں کے لیے محفوظ ہے جو امین ہیں ، صابرین ہیں ، قربانیاں دینے والے ہیں اور آخرت کو ترجیح دینے والے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور آپس میں بھی خیانت کرنے سے باز رہو درمنثور (ص ١٧٨ ج ٣) میں حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ جب ابو سفیان کی مکہ سے روانگی ہوئی تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو بتادیا کہ ابو سفیان فلاں فلاں جگہ پر ہے لہٰذا اس کی طرف نکل کھڑے ہوں اور اس بات کو پوشیدہ رکھیں لیکن بعض منافقین نے ابو سفیان کو بذریعہ خط اطلاع دے دی کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے قافلے پر حملہ آور ہونے کے لیے ارادہ کر رہے ہیں لہٰذا تم اپنی حفاظت کی فکر کرو۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور ایک روایت یوں ہے جو حضرت ابن شہاب زہری سے مروی ہے کہ بنو قریظہ (جو یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا) انہوں نے جب معاہدہ کی خلاف ورزی کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا محاصرہ فرمایا انہوں نے کہا کہ سعد بن معاذ جو فیصلہ کریں وہ ہمیں منظور ہے۔ حضرت سعد نے یہ فیصلہ دیا کہ ان میں جو بالغ مرد ہیں ان کو قتل کردیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ ان کے اس فیصلہ کا علم حضرت ابو لبابہ (رض) کو ہوگیا جو یہودیوں کے حلیف تھے انہوں نے یہودیوں کو اپنے گلے پر ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے یہ بتادیا کہ تمہارے بارے میں قتل کا فیصلہ ہے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ حضرت ابو لبابہ (رض) کو جب اپنی غلطی کا حساس ہوا تو سمجھ گئے کہ میں نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی ہے لہٰذا انہوں نے مسجد نبوی کے ایک ستون سے اپنے آپ کو باندھ دیا اور کہنے لگے کہ میں نہ کچھ چکھوں گا اور نہ پیوں گا حتیٰ کہ مرجاؤں یا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرمائے۔ حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کا علم ہوا تو فرمایا کہ میرے پاس آجاتا تو میں اس کے لیے استغفار کردیتا۔ اب جو اس نے خود ایسا کرلیا ہے تو میں اس وقت چھوڑ سکتا ہوں جب اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے۔ سات دن تک انہوں نے کچھ نہ کھایا نہ پیا۔ یہاں تک کہ بیہوش ہو کر گرگئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے گئے اور ان کو کھول دیا۔ (روح المعانی ص ١٩٠ ج ٩) آیت کا سبب نزول جو بھی ہو اس میں اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور اس کا عموم ہر طرح کی خیانت کو شامل ہے اسی لیے حضرت ابن عباس (رض) نے آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا لا تخونوا اللہ بترک فرائضہ و الرسول بترک سنتہ یعنی فرائض کو چھوڑ کر اللہ کی خیانت نہ کرو اور سنتوں کو چھوڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خیانت نہ کرو۔ (درمنثور ص ١٧٨ ج ٣) معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خیانت ہے اور جن چیزوں کو پوشیدہ رکھنے کا حکم فرمایا ہو ان کو ظاہر کردینا بھی خیانت میں شمار ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خیانت کرنے کی ممانعت کے بعد فرمایا (وَلاَ تَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ ) اور آپس میں اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو چونکہ امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے اور ہر طرح کی امانت میں خیانت کرنے کی ممانعت ہے اس لیے ہر خیانت سے نہایت اہتمام کے ساتھ پرہیز کرنا لازم ہے۔ مالی خیانت کو تو سبھی جانتے ہیں مثلاً کوئی شخص امانت رکھ دے تو اس کو کھاجائے یا استعمال کرے یا کم کر دے یا دو شریک آپس میں خیانت کرلیں جو شخص قرض دے کر یا کسی بھی طرح اپنا مال دے کر بھول جائے اس کا حق رکھ لیں وغیرہ وغیرہ یہ سب خیانتیں ہیں اور ہر شخص کو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے کس کا حق مارا ہے اور کس کی خیانت کی، فکر آخرت اور اللہ کا ڈر ہو تو انسان خیانت سے بچ سکتا ہے ورنہ دنیاوی نفع کو دیکھ کر بڑے بڑے دیانت داری کے دعویدار اس مسئلہ میں کچے پڑجاتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے متعلقہ احکام میں دیانت دار ہے۔ چھوٹے بڑے حکام اور ملوک اور رؤساء اور وزراء امانت دار ہیں۔ انہوں نے جو عہدے اپنے ذمہ لیے ہیں وہ ان کی ذمہ داری شریعت اسلامیہ کے مطابق پوری کریں۔ کسی بھی معاملے میں عوام کی خیانت نہ کریں۔ اسی طرح سے بائع اور مشتری اور سفر کے ساتھی، پڑوسی، میاں بیوی، اور ماں باپ اور اولاد سب ایک دوسرے کے مال کے اور دیگر متعلقہ امور کے امانت دار ہیں۔ جو بھی کوئی کسی کی خیانت کرے گا گنہگار ہوگا اور میدان آخرت میں پکڑا جائے گا۔ مالیات کے علاوہ دیگر امور میں خیانت ہوتی ہے جن کا ذکر احادیث شریفہ میں وارد ہوا ہے۔ آیت کے ختم پر فرمایا (وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) یعنی تم امانتوں میں خیانت نہ کرو جبکہ تم خیانت کا برا انجام جانتے ہو اور تمہیں اس کے معصیت ہونے کا علم ہے۔ امانت اور خیانت کے بارے میں تفصیلی نصائح اور احکام ہم سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ الآی اَھْلِھَا) کے ذیل میں بیان کر آئے ہیں ١ ؂ اور ہم نے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ بھی لکھا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29: چوتھا قانون جنگ۔ “ تَخُوْنُوْا اَمَانَاتِکُمْ ”، “ تَخُوْنُوْا اللّٰهَ ” پر معطوف ہے “ اَيْ وَلَا تَخُوْنُوْا اَمَانٰتِکُمُ ” اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ اللہ کی خیانت یہ ہے کہ اس کے فرائض و احکام کو معطل کردیا جائے اور ان کی تعمیل نہ کی جائے اور رسول کی خیانت یہ ہے کہ آپ کی سنت اور آپ کے طرق کا اتباع نہ کیا جائے۔ “ (لَا تَخُوْنُوْا اللّٰهَ ) بان تعطلوا فرائضه (والرسول) بان لا تستنوا به (وَ تَخُوْنُوْا اَمَا نٰتِکُمْ ) فیما بینکم بان لا تحفظوھا ” (مدارک ج 2 ص 77) ۔ “ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ” اور تم خوب جانتے ہو کہ خیانت بہت بڑا گناہ ہے اور حفظ امانت بہت بڑا کا رخیر ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

27 اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حقوق میں خیانت اور کمی نہ کرو اور نہ تم اپنی امانتوں میں خیانت کرو حالانکہ تم اس کے ضرر اور نقصان کو جانتے ہو۔ اللہ اور اس کے رسول کے حقوق میں خیانت یہ کہ ان کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے یا سستی اور کاہلی سے کام لیا جائے جس کام پر اللہ کے رسول نے مامور کیا ہو اس کے انجام دینے میں بددیانتی کی جائے یا مال غنیمت میں بددیانتی کی جائے۔ غرض خیانت خواہ حقوق اللہ میں ہو یا حقوق العباد میں ہو۔ بہرحال بری اور ممنوع ہے اس کا ضرر رساں ہونا کم و بیش ہر مسلمان جانتا ہے۔ مفسرین نے آیت کے نزول کا تعلق ابو لبابہ سے ظاہر کیا ہے مگر الفاظ بہت وسیع ہیں اور بڑی تفصیل چاہتے ہیں۔