Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 55

سورة الأنفال

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۵﴾ۖ ۚ

Indeed, the worst of living creatures in the sight of Allah are those who have disbelieved, and they will not [ever] believe -

تمام جانداروں سے بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو کفر کریں پھر وہ ایمان نہ لائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Striking Hard against Those Who disbelieve and break the Covenants Allah says; إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللّهِ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَهُمْ لاَ يُوْمِنُونَ الَّذِينَ عَاهَدتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لاَ يَتَّقُونَ

زمیں کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بد تر اللہ کے نزدیک بے ایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں ۔ ادھر قول و قرار کیا ادھر پھر گئے ، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں ۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا ۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آجائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو ۔ وہ بھی خوف زدہ ہو جائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

55۔ 1 شَرُّ النَّا سِ (لوگوں میں سب سے بدتر) کے بجائے انہیں شَرَّ الدَّ وَابِّ کہا گیا ہے۔ جو لغوی معنی کے لحاظ سے تو انسانوں اور چوپایوں وغیرہ سب پر بولا جاتا ہے۔ لیکن عام طور پر اس کا استعمال چوپایوں کے لئے ہوتا ہے۔ گویا کافروں کا تعلق انسانوں سے ہے ہی نہیں۔ کفر کا ارتکاب کرکے وہ جانور بلکہ جانوروں میں بھی سب سے بدتر جانور بن گئے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٨] بدترین مخلوق کون ہے ؟ :۔ بدترین اس لحاظ سے کہ انہیں عقل اور تمیز کی قوت بخشی گئی ہے جو عام جانوروں کو عطا نہیں ہوئی۔ پھر اگر یہ لوگ ان قوتوں کے باوجود حق کو سمجھنے یا دیکھنے یا سننے کی زحمت ہی گوارا نہ کریں اور نہ حق پر ایمان لانے پر آمادہ ہوں تو یہ عام جانوروں سے بدتر ٹھہرے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ : اوپر کی آیت میں جب تمام کفار کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ ظالم ہیں تو اب یہاں کفار کی بعض خاص شرارتوں کا ذکر فرمایا۔ ” وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ سے نہیں ڈرتے، یا وہ اپنی بد عہدی کے انجام سے نہیں ڈرتے۔ ان سے مراد خاص طور پر مدینہ منورہ کے یہودی ہیں، جن سے مدینہ منورہ پہنچ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے اور باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، لیکن اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت انھیں ایک نظر نہ بھاتی تھی، چناچہ کبھی وہ اوس و خزرج کے درمیان جاہلی عصبیت ابھار کر ان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتے اور کبھی اسلام کے دشمنوں کی ہتھیاروں سے مدد کر کے معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کرتے اور جب ان سے کہا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہمیں معاہدہ یاد نہیں رہا تھا، لیکن جونہی موقع ملتا پھر کوئی ایسی حرکت کر گزرتے جو معاہدے کے خلاف ہوتی، حتیٰ کہ اس معاہدے کے ہوتے ہوئے ان کا سردار کعب بن اشرف ( جو بدر میں قریش کی شکست سے انتہائی سیخ پا ہوا تھا) مکہ پہنچا اور وہاں مقتولین کفار بدر کے ہیجان انگیز مرثیے پڑھ کر قریش کے نوجوانوں کو مسلمانوں سے انتقام لینے کا جوش دلاتا رہا۔ ایسے ہی لوگ ہیں جنھیں ” شَرَّ الدَّوَاۗبِّ “ (بدترین جانور) فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) یہاں انھیں ” شَرَّ النَّاسِ “ (سب لوگوں سے برے) کے بجائے ” شَرَّ الدَّوَاۗبِّ “ کہا گیا ہے، اگرچہ ” الدَّوَاۗبِّ “ میں انسان بھی آجاتے ہیں، کیونکہ وہ بھی چلتے پھرتے ہیں، مگر عام طور پر یہ لفظ انسان کے بجائے جانوروں پر بولا جاتا ہے، گویا کفر کی وجہ سے یہ لوگ انسانیت کے شرف سے محروم ہوچکے ہیں۔ دیکھیے سورة بینہ (٦) ، سورة اعراف (١٧٩) اور سورة فرقان (٤٤) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the verse which follows immediately, it was said about the same disbelievers: إِنَّ شَرَّ‌ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا (Surely, the worst of all the living, in the sight of Allah, are those who reject Faith - 55). Here, the word: دَوَابّ (dawabb) is the plural form of dabbah which literally means crea¬tures who walk on the earth. Therefore, this word covers human beings and whatever of the animals walk on the earth. But, in common usage, this word is used particularly for quadruped animals. Since they were far below animals in their state of insensitiveness, they were identified with that expression in the language. Thus, the mean¬ing of the verse is clear - that these people were the worst of animals from among all animals and human beings. At the end of the verse, it was said: فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (so they do not believe - 55). The sense is that these people have allowed their God-given abilities to go waste by making the satisfaction of their physical needs the very purpose of their life, therefore, having access to the refinements of Faith was just not possi¬ble for them. Sa’ id ibn Jubayr said that this verse was revealed about six men from the Jews about whom Allah Ta` ala has declared in advance that they will never enter the fold of Faith. In addition to that, through this word, the aim is to grant an ex¬emption from punishment for people who were though engaged at that time, in tandem with disbelievers, in their struggle against Muslims and Islam but the likelihood was that, in future, a time will come when they will repent their past mistakes and embrace Islam. The fact is that this is how it came to be. A very large group from among them became, by embracing Islam, not only personally pious and righteous, but rose to be - in word and deed alike - leaders among men and wom¬en of the world as heralds of moral betterment and paradigms of re¬sponsible conduct of life before the Creator.

اس کے بعد کی آیت میں انھیں کافروں کے بارے میں ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اس میں لفظ دواب دابہ کی جمع ہے جس کے لغوی معنی زمین پر چلنے والے کے ہیں اس لئے انسان اور جتنے جانور زمین پر چلتے ہیں سب کو یہ لفظ شامل ہے مگر عام محاورات میں یہ لفظ خاص چوپائے جانوروں کے لئے بولا جاتا ہے۔ ان لوگوں کا حال بےشعوری میں جانوروں سے بھی زیادہ گرا ہوا تھا اس لئے اس لفظ سے تعبیر کیا گیا۔ معنی آیت کے واضح ہیں کہ تمام جانوروں اور انسانوں میں سب سے بدترین جانور یہ لوگ ہیں۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ ۔ یعنی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی خداداد استعداد و قابلیت کو ضائع کردیا، چوپائے جانوروں کی طرح کھانے پینے سونے جاگنے کو مقصد زندگی بنالیا، اس لئے ان کی رسائی ایمان تک نہیں ہوسکتی۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ یہ آیت یہود کے چھ آدمیوں کے بارے میں آئی ہے جن کے متعلق حق تعالیٰ نے پیشگی خبر دے دی کہ یہ لوگ آخر تک ایمان نہیں لائیں گے۔ نیز اس لفظ میں ان لوگوں کو عذاب سے مستثنی کرنا منظور ہے جو اگرچہ اس وقت کفار کے ساتھ لگے ہوئے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جد و جہد میں مشغول ہیں مگر آئندہ کسی وقت اسلام قبول کرکے اپنی سابق غلط کاریوں سے توبہ کرلیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان میں سے بہت بڑی جماعت مسلمان ہو کر نہ صرف خود صالح و متقی بن گئی بلکہ دنیا کے لئے مصلح اور تقوی کی داعی بن کر کھڑی ہوئی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللہِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝ ٥٥ ۖۚ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے ۔ دب الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان، وفي الحشرات أكثر، ويستعمل في الشّراب ويستعمل في كلّ حيوان وإن اختصّت في التّعارف بالفرس : وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] ( د ب ب ) دب الدب والدبیب ( ض ) کے معنی آہستہ آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں ۔ یہ لفظ حیوانات اور زیادہ نر حشرات الارض کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور شراب اور مگر ( لغۃ ) ہر حیوان یعنی ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] اور زمین پر چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٥) یعنی بنوقریظہ وغیرہ خلقت اور اخلاق کے اعتبار سے بدترین خلائق ہیں یہ قرآن کریم اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کبھی بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ شان نزول : (آیت) ان شر الدواب “۔ (الخ) ابوالشیخ نے سعید بن جبیر (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کی چھ جماعتوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جن میں سے ’ ابن التابوت “۔ بھی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٥ (اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ) یہی بات اس سے پہلے ہم سورة الاعراف کی آیت ١٧٩ میں بھی پڑھ چکے ہیں کہ یہ لوگ انسان نظر آتے ہیں ‘ حقیقت میں انسان نہیں ہیں : (لَہُمْ قُلُوْبٌ لاَّ یَفْقَہُوْنَ بِہَاز وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لاَّ یُبْصِرُوْنَ بِہَاز وَلَہُمْ اٰذَانٌ لاَّ یَسْمَعُوْنَ بِہَاط اولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ط) یعنی حقیقت میں وہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ان ہی لوگوں کو یہاں شَرَّ الدَّوَآب کہا گیا ہے ‘ کہ یہی وہ حیوان نماانسان ہیں جو تمام جانوروں سے برے ہیں۔ جو عقل ‘ شعور اور ایمان کی نعمتوں کے مقابلے میں کفر کی روش اختیار کر کے دنیا کی لذتوں پر ریجھ گئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

37: دیکھئے پیچھے آیت نمبر 22 کا حاشیہ

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٥۔ ٥٨۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں مجاہد سے اور تفسیر ابوالشیخ میں سعید بن جبیر سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت اور یہود بنی قریظہ کا یہ معاہدہ تھا کہ نہ وہ لوگ آنحضرت سے لڑیں گے نہ مسلمانوں کے دشمن کو مدد دینگے پہلے انہوں نے خلاف معاہدہ کر کے مشرکین مکہ کو ہتھیاروں کی مدد دی اور جب ان سے پوچھا گیا تو معاہدہ کے یاد نہ رہنے کا عذر کیا پھر دوبارہ معاہدہ کیا اور پھر معاہدہ کے برخلاف تمام قبائل عرب کو بہکا کر خندق کی لڑائی میں چڑھا لائے ان میں ایک شخص کعب بن اشرف شاعر بڑا شریر تھا مسلمانوں کی ہمیشہ ہجو کیا کرتا تھا یہ وہی کعب بن اشرف ہے جس نے مشرکین مکہ سے یہ کہا تھا کہ تمہارا دین مسلمانوں کے دین سے اچھا ہے محمد بن مسلمہ (رض) صحابی نے اس کو خاص طور پر اس کے گھر جاکر قتل کیا اور نو سو کے قریب بنی قریظہ کے لوگ جو تھے خندق کی لڑائی کے متصل ایک بڑے محاصرہ کے بعد سب کے سب کو ان کو گڑھے سے اتار کر ایک دم مسلمانوں نے قتل کر ڈالا اور کعب بن اشرف اور بنی قریظہ کے قتل کا قصہ تفصیل سے بخاری میں مذکور ہے اسے بنی قریظہ کی بدعہدی کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں یہ کعب بن اشرف کے قتل کا قصہ تو صحیح بخاری میں جابر (رض) بن عبداللہ کی روایت سے ہے یہ قتل ٣ ہجری میں ہوا ہے بنی قریظہ کے قتل کا حکم سعد بن معاذ (رض) کے فیصلہ کے موافق جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیا ہے اس کا ذکر صحیح بختری میں حضرت عائشہ (رض) کی روایت سے ہے اکثر سلف کا یہ قول ہے کہ بنی قریظہ کی تعداد نوسو کے قریب تھی۔ معتبر سند سے ترمذی نسائی اور صحیح بن حبان میں جابر (رض) کی روایت سے بنی قریظہ کی تعداد چار سو کی جو آئی ہے اس کے معنے علماء نے یہ بیان کئے ہیں کہ یہ تعداد ان میں کے جو ان آدمیوں کی ہے یہ بنی قریظہ کا قتل ٤؁ ہجری میں ہوا ہے کیونکہ خندق کی لڑائی اسی ٤؁ھ میں ہے اور اسی لڑائی سے واپس ہونے کے بعد بنی قریظہ پر چڑھائی ہوئی چناچہ حضرت عائشہ (رض) کی صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ خندق کی لڑائی سے واپس ہو کر ابھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہتھیار کھول کر فقط غسل کیا تھا کہ اتنے میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور بنی قریظہ پر چڑھائی کرنے کا حکم انہوں نے سنایا بنی قریظہ کی چڑھائی کے وقت کی عبداللہ (رض) بن عمر کی وہ حدیث ہے جدس میں بنی قریظہ کے مقام پر جلدی پہنچ جانے کی غرض سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے یہ فرمایا ہے کہ عصر کی نماز بنی قریظہ کے مقام سے دور نہ پڑھی جائے بخاری میں اس نماز کے ساتھ عصر کا لفظ ہے اور مسلم میں ظہر کا ان دونوں روایتوں کی مطابقت علماء نے یوں بیان کی ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے بنی قریظہ کی چڑھائی کا حال سن کر بنی قریظہ کے مقام پر روانہ کرنے کو جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کی طلبی کا حکم دیا تو بعضے صحابہ ظہر سے پہلے حاضر ہوگئے اور بعضے ظہر کے بعد آئے جو صحابہ ظہر سے پہلے آئے تھے ان کو آپ نے بنی قریظہ کے مقام پر ظہر کی نماز پڑھنے کا حکم دیا اور جو صحابہ ظہر کی نماز کے بعد آئے تھے ان کو عصر کی نماز کا۔ اس حکم کی تعمیل میں صحابہ کا اختلاف بھی ظہور آیا بعضوں نے وقت پر نماز راستہ میں پڑھ لی اور حکم کا مطلب یہ سمجھا کہ اس سے بنی قریظہ کے مقام پر جلدی پہنچ جانا مقصود ہے اور بعضوں نے بنی قریظہ کے مقام پر پہنچ کر بےوقت نماز پڑھی مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں گروہ میں سے کسی کو کچھ اولاہنا نہیں دیا کیونکہ ان دونوں گروہ کی نیت بخیر اور دونوں کو اطاعت حکم رسول کا خیال تھا بعضے علماء نے لکھا ہے کہ ان دونوں گروہ میں سے فضیلت ان صحابہ کو ہے جنہو وں نے نماز کے وقت پر پڑھنے کے حکم اور بنی قریظہ کے مقام پر جلد پہنچ جانے کے حکم ان دونوں حکموں کو مدنظر رکھا شان نزول کے روایت میں تفسیر ابو الشیخ کا حوالہ جو اوپر گذرا یہ ابوالشیخ ابن حبان قدیم مفسروں میں ابن مردویہ اور حاکم کے رتبہ کے مفسر ہیں اور ان کی تفسیر کا شمار روایتی تفسیروں میں ہے روایتی تفسیریں وہ ہیں جن کا مدار صحابہ تابعین اور تبع تابعین کے اقوال پر ہے ان تفسیروں میں سے تفسیر ابن جریر میں یہ ایک بات زیادہ ہے کہ چند قولوں میں سے ایک قول کو ترجیح دی حافظ ابوجعفر ابن جریر نے اپنی اس تفسیر میں بیان کردی ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنے عہد کا پورا کرنا اور اس کو نباہنا لازم ہے کعب بن اشرف کے گروہ بنی قریظہ نے جو بدعہدی کی اور ان کے سردار کعب بن اشرف نے عہد کے برخلاف مشرکین مکہ کو مسلمانوں پر چڑھائی کے لئے آمادہ کیا تو یہ لوگ شان انسانیت سے خارج اور اللہ کے نزدیک سب جانداروں سے بدتر ہیں اس لئے لڑائی میں ایسے لوگوں پر جب قابو پالیا جائے تو ان کو ایسی سخت سزا دی جائے کہ اہل مکہ جو مخالفت اسلام میں ان بنی قریظہ کے پیروکار اور قدم بقدم ہیں وہ بھی عبرت پکڑیں اور بدعہدی سے دور بھاگیں اور علاوہ اس قوم کے جس قوم سے بدعہدی کا اندیشہ ہو تو اے رسول اللہ کے ایسی دغاباز قوم سے عہد کا قائم رکھا جانا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے اس لئے ایسی قوم کو عہد کے قائم نہ رہنے کی اطلاع دے دی جاوے تاکہ بدعہدی کا دھوکا باقی نہ رہے حاصل کلام یہ ہے کہ اگر کسی قوم سے بدعہدی کا اندیشہ ہو تو اے رسول اللہ کے ایسی دغاباز قوم سے عہد کا قائم رکھنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے اس لئے ایسی قوم کو عہد کے قائم نہ رہنے کی اطلاع دے دی جاوے تاکہ بدعہدی کا دھوکا باقی نہ رہے حاصل کلام یہ ہے کہ اگر کسی قوم سے بدعہدی کا فقط اندیشہ ہو تو آئندہ ایسی قوم سے عہد قائم نہ کیا جائے اور اگر کوئی قوم عہد کے بعد کھلم کھلا بدعہدی کر بیٹھے جس طرح مثلا بنی قریظہ کی بدعہدی کا ذکر اوپر گذرا یا مثلا مشرکین مکہ نے صلح حدیبیہ کی شرط کے برخلاف بدعہدی کی جس کا مفصل ذکر صلح حدیبیہ میں سورة انافتحنا کی تفسیر میں آوے گا اور کچھ ذکر اس کا سورة توبہ کی تفسیر میں بھی ہے تو ایسی صورت میں عہد کے ٹوٹ جانے کی اطلاع ضروری نہیں بلکہ ایسی صورت میں بدعہد قوم پر چڑھائی کا حکم ہے اس لئے بنی قریظہ پر اور فتح مکہ کے وقت مشرکین مکہ پر بغیر کسی اطلاع کے شروع سے لشکر اسلام کی چڑھائی عمل میں آئی سورة النساء میں گذر چکا ہے کہ بنی قریظہ کے سردار کعب بن اشرف نے مکہ جاکر مشرکین مکہ کو مسلمانوں پر چڑھائی کرنے کی ترغیب دلائی تھی اور اسی ترغیب کی بنا پر مشرکین کہ خندق کی لڑائی کے وقت چڑھائی کر کے آئے تھے اسی واسطے ان آیتوں میں مشرکین مکہ کو بنی قریظہ کے پیچھے فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ خندق کی لڑائی کے وقت بنی قریظہ کا سردار کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی گویا اس لڑائی کے بانی تھے اور مشرکین مکہ ان کے پیرو اور پچھلے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:55) شرالدواب۔ بدترین جانور۔ ملاحظہ ہو 8:22 ۔ الذین کفروا فہم لا یؤمنون۔۔ ای اصروا علی الکفر والجوافیہ فلا یتوقع منھم الایمان۔ وہ لوگ جو کفر پر مصر رہے ان سے ایمان کی توقع نہیں کی جاسکتی (یہ بنو قریظہ تھے)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیات : 55 تا 59 لغات القرآن۔ عاھدت۔ تو نے معاہدہ کیا۔ ینقضون۔ وہ توڑتے ہیں۔ لا یتقون۔ وہ ڈر نہیں رکھتے۔ تثقفنھم۔ تو ان کو پائے۔ الحرب۔ جنگ۔ شرد۔ تو بھگا دے۔ تو سزا دے ان کو ۔ خلفھم۔ ل جو ان کے پیچھے ہیں۔ تخافن۔ تجھے ڈر ہو۔ خوف ہو۔ خیانۃ۔ بےایمانی۔ بددیانتی۔ انبذ۔ پھینک دے۔ سواء۔ برابری۔ لا یحب۔ پسند نہیں کرتا۔ الخائنین۔ خیانت کرنے والے۔ لا یحسبب۔ وہ گمان نہ کریں۔ وہ نہ سمجھیں۔ سبقوا۔ وہ آگے بڑھ گئے۔ وہ بچ گئے۔ لا یعجزون۔ وہ عاجز و بےبس نہیں کرسکتے۔ تشریح : سورۃ الانفال میں نہ صرف ان اصولوں کو پیش کیا گیا ہے جو میدان جنگ میں لڑنے سے متعلق ہیں بلکہ ان اصولوں اور قوانین کو بھی بہت زور دار انداز میں پیش کیا گیا ہے جو چیزیں جنگ کو جنم دیتی ہیں یا جنگ کو روک دیتی ہیں۔ ہم دوسروں کے ساتھ، اللہ کے دشمنوں کے ساتھ کیا معاملہ کریں جو لوگ عہد کرنے کے باوجود اس کو توڑ دیتے ہیں ان کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کریں ان باتوں کو ان آیتوں میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ (1) وہ لوگ اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ بدترین ہیں جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ (2) جو اہل ایمان سے معاہدہ کرنے کے بعد ہر مرتبہ توڑ دینے کے عادی ہیں اور وہ اس کے برے انجام سے نہیں ڈرتے۔ ان آیات میں مدینہ کے یہودی قبائل بنو قریظہ اور بنو نضیر سے متعلق پھر ارشاد ہے اور مکہ کے ان کفار کی طرف بھی واضح اشارہ ہے جنہوں نے معاہدہ کرکے اس کو توڑ دیا تھا۔ ہجرت کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے یہودی قبائل سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان اختلاف رائے کیوقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا فصلہ سب کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔ اور حملہ کے وقت مدینہ کے یہودی مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی کسی اعتبار سے بھی کوئی امداد نہ کریں گے۔ مگر ان یہودیوں نے غزوہ بدر کے موقع پر اور خاص طور پر غزوہ احد کے موقع پر نہ صرف اس معاہدہ کیخلاف ورزی کی بلکہبوض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف نے خود مکہ جا کر اور مشرکین مکہ کو جوش دلا کر اپنی حمایت کا یقین دلایا اور ان کو جنگ احد میں لا کھڑا کیا۔ ۔ اس پس منظر میں اللہ تعالیٰ نیاہل ایمان کو قیامت تک ایسے لوگوں کے متعلق احکامات عنایت فرمائے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ چناچہ فرمایا گیا کہ۔ اگر کسی قوم سے مسلمانوں کا معاہدہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ دشمن کی مدد کرتی ہے یا اہل ایمان کے خلاف جنگ میں حصہ لیتی ہے تو ایسی قوم کے ساتھ بھی دشمنوں جیسا معاملہ کیا جائے ۔ اور اس کو ایسا سبق سکھایا جائے گا کہ پھر وہ اپنی بد نیتی پر حسرت و افسوس ہی کرتی رہ جائے۔ (2) اگر کسی قوم سے معاہدہ ہے لیکن اس کے باوجود اس کے چند افراد دشمنوں کی مدد کرتے ہیں یا اہل ایمان کے خلاف جنگ میں حصہ لیتے ہیں تو فرمایا کہ پھر ان چند افراد کی قوم کے خلاف نہیں بلکہ ان ہی افراد کے خلاف کاروائی کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ (3) فرمایا گیا کہ اگر کسی قوم سے معاہدہ ہے اور اس کے طور، طریق دیکھ کر اہل ایمان کو خطرہ پیدا ہوجائے کہ یہ قوم معاہدہ کی پابندنہ رہے گی بلکہ عین وقت پر دغا دے جائے گی تو اہل ایمان کو حق حاصل ہے کہ پوری قوم کو پیشگی نوٹس دے کر اس کا معاہدہ واپس کردیں۔ لیکن معاہدہ واپس کرنے کے بعد ان کے خلاف کسی کاروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس بنیادی پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ کوئی قوم معاہدہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے ” عہد کا بند “ نہ کھولے۔ اگر وہ خیانت پر اتر آئیں تو ان کو برابری کی بنیاد پر جواب دیا جائے۔ (4) اگر فریق ثانی اعلیٰ الاعلان معاہدہ توڑ چکا ہے اور مسلمانوں کے خلاف کاروائی کا مجرم ہے تو پھر اس کے خلاف بغیر کسی نوٹس کے بھی کاروائی کی جاسکتی ہے۔ یہ اشارہ قریش مکہ کی طرف ہے جنہوں نے معاہدہ کے باوجود مدینہ کے یہودیوں سے ساز باز کی اور صلح حدیبیہ کے معاہدوں کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ پھر اللہ نے مکہ مکرمہ کو فتح کرادیا۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر وہ لوگ معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو وہ کسی خوش گمانی میں نہ رہیں کیونکہ ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوسکتی ہے۔ اور واقعتا مکہ کے کفار کو معاہدہ کی خلاف ورزی بہت مہنگی پڑی اور انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنی موت کی دعوت دے ڈالی اور مکہ فتح ہو کردیا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

9۔ لایومنون فرماناان ہی کے اعتبار سے ہے جو علم الہی میں عمر کافر رہنے والے تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 86 ایک نظر میں سورت انفال کا یہ چوتھا اور آخری سبق ہے۔ اس میں دوسرے ممالک اور بلاکوں کے ساتھ صلح و جنگ کے کچھ قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشرے کی داخلی تنظیم اور دوسری تنظیموں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کو منضبط کیا گیا ہے۔ مختلف احوال میں اسلام اور دوسری اقوام کے ساتھ معاہدوں کی نوعیت پر بحث ہے۔ نیز خون رنگ و نسل ، علاقائیت اور قائد و نظریات کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کو متعین کیا گیا ہے اس سبق میں ان موضوعات کے بارے میں ایسے احکام بھی دیے گئے ہیں جو اپنے موضوع پر فائنل ہیں۔ اور بعض ایسے ہیں جو اس مرحلے کے لیے تھے جن میں یہ صورت اتری ہے اور متعین حالات کے لیے تھے۔ یا ایک متعین واقعہ کے لیے تھے اور جن میں بعد میں ترمیمیں کی گئیں اور انہوں نے بعد میں آخری صورت اختیار کی۔ یعنی سورت توبہ میں ان احکامات نے آخری شکل اختیار کی۔ سورت توبہ مدنی دور کی آخری سورتوں میں سے ہے۔ ان احکامات نے آخری شکل اختیار کی۔ سورت توبہ مدنی دور کی آخری سورتوں میں سے ہے۔ ان احکامات اور قواعد میں درج ذیل امور شامل ہیں۔ جو لوگ اسلامی بلاک سے معاہدے کرتے ہیں اور بعد میں اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں وہ اس کرہ ارض پر بد ترین جانور ہیں۔ لہذا اسلامی بلاک کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ان کی سبق آموز تربیت کرے۔ اور ان کو ایسا سبق سکھائے کہ یہ لوگ اور ان کے بعد آنے والے یا ان کی پشت پر جو قوتیں کھڑی ہوں ان کے لیے بھی وہ اچھی عبرت ہو۔ جن معاہد اقوام سے اسلامی حکومت کو یہ خطرہ لاحق ہو کہ وہ بد عہدی کریں گی یا عہد میں امانت داری کے مقابلے میں خیانت کریں گی تو اسلامی قیادت کا یہ حق ہوگا کہ وہ اس عہد کو ان کے سامنے رکھ دے اور اعلان کردے کہ اس کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس کے بعد اگر اسلامی حکومت ان لوگوں کی سرزنش کرے تو وہ آزاد ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو خوفزدہ کرسکے جو اسلامی حکومت کے خلاف سرگرم ہوں اور تیاریاں کر رہے ہوں کہ حملہ کردیں۔ یہ کہ اسلامی بلاک کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی دفاعی افواج کو ہر وقت چوکس رکھیں اور انتہائی ممکن حد تک اپنی فوجی قوت کو ترقی دیں۔ اس طرح کہ اس کرہ ارض پر ہدایت یافتہ قوت ہی بڑی قوت ہو اور اس سے تمام باطل قوتیں لرزہ بر اندام ہوں اور ان کی قوت کے بارے میں زمین میں تمام باطل قوتیں جانتی ہوں اور خائف ہوں اور یہ جراءت نہ کرسکیں کہ وہ حملہ آور ہوں اور وہ اللہ کی سلطنت کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور صورت حال یہ ہوجائے کہ پوری دنیا میں کسی داعی اسلام کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو اور کوئی رکاوٹ ان لوگوں کے سامنے نہ رہے جو دعوت اسلامی کو قبول کرنا چاہتے ہیں اور کوئی قوت سیاسی اقتدار اعلی اپنے لیے مخصوص کرنے والی نہ ہو بلکہ نظام حکومت صرف اللہ کا چلتا ہو۔ ٭۔ یہ کہ اگر غیر مسلموں میں سے کوئی اسلامی کمپ کے ساتھ کوئی معاہدہ امن کرنا چاہے اور وہ اسلامی حکومت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے تو اسلامی حکومت کی قیادت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اسے قبول کرلے اور معاہدہ کرلے۔ اگر وہ کوئی خفیہ سازش کرنا چاہتے ہوں اور بظاہر دھوکے کی کوئی علامت نظر نہ آتی ہو تو ان کا فرض ہے کہ ان کے خفیہ ارادوں کو اللہ پر چھوڑ دے۔ اللہ اس قسم کے فریب کاروں کے شر سے بچانے والا ہے۔ ٭۔ جہاد مسلمانوں پر فرض ہے۔ اگرچہ دشمن کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے دوگنا ہو۔ خدا کے فضل سے مسلمانوں کو اپنے دشمنوں پر فتح نصیب ہوگی۔ ان میں سے ایک آدمی بیس کا مقابلہ کرسکتا ہے اور کمزور حالات میں بھی ان میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ لہذا جہاد کا فریضہ اس موقوع کے لیے انتظار کی مہلت نہیں دیتا کہ مومنین اور ان کے دشمن کی تعداد برابر ہو۔ اس لیے مسلمانوں کی تیار قوت ہی کافی ہے اور ان پر فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ قوت تیار رکھیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں معرکے میں ثابت قدم رہیں۔ مشکلات میں صبر سے کام لیں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔ اس لیے کہ وہ مادی قوتوں کے علاوہ روحانی قوت بھی رکھتے ہیں۔ ٭۔ اسلامی محاذ کا پہلا ہدف یہ ہونا چاہی کہ وہ طاغوتی قوت کے تمام سرچشموں کو پاش پاش کرکے رکھ دے۔ اگر وہ سمجھتے ہوں کہ فوجیوں کو قید کرنا اور پھر تاوان جنگ لے کر چھوڑ دینا مفید مطلب نہیں ہے تو پھر ایسا ہر گزنہ کرنا چاہیے ، اس لیے کہ رسول اور مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ طاغوتی قوتوں کو اچھی طرح پاش پاش کرنے سے چاہئے ، اس لیے کہ رسول اور مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ طاغوتی قوتوں کو اچھی طرح پاش پاش کرکے علاقے میں اپنا اقتدار اعلی نافذ کردیں۔ اس سے پہلے قیدی بنا کر فدیہ لینے سے بہتر ہے کہ وہ دشمن کو پیس کر رکھ دیں۔ ٭۔ مسلمانوں کے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا ہے اور اسی طرح مسلمانوں کے لیے بھی یہ جائز کردیا گیا ہے کہ وہ قیدیوں کو رہا کرکے جنگی تاوان وصول کریں لیکن اس وقت جب وہ دشمن کی قوت کو اچھی طرح توڑ دیں اور اپنا اقتدار اعلی قائم کردیں اور ان کے اقتدار کی شان و شوکت قائم ہوجائے۔ ٭۔ اسلامی کیمپ میں قید ہونے والے کفار سے کہا جاتا ہے کہ وہ اسلام میں دلچسپی لیں اور یاد رکھیں کہ تم سے جو اموال غنیمت لیے گئے ہیں اگر مسلمان ہوجاؤ تو اللہ تمہیں اس سے اچھا دینے والا ہے۔ لیکن اگر تم خیانت کروگے تو جس طرح تمہارا انجام جنگ بدر میں ہوا ہے وہی دوبارہ ہوگا۔ ٭۔ اسلامی معاشرہ میں اکٹھ نظریات پر ہوتا ہے لیکن تعلق مولات تو خصوصاً نظریات اور مشترکہ تحریک کی اساس پر ہوتا ہے ، لہذا جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جن لوگوں نے پناہ دی اور نصرت دی یہی لوگ در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے نظریہ تو قبول کرلیا اور ایمان بھی لائے مگر ہجرت نہ کی تو ان اور مومنین مہاجرین کے درمیان کوئی ولایت نہیں ہے۔ یعنی دار الاسلام ان کی نصرت اور ان کی کفالت اور ہمدردی کا پابند نہیں ہے۔ اور ان کی مسلمانوں پر نصرت اور ہمدردی صرف اس وت فرض ہے جبکہ ان کا عقیدہ اور نظریہ زد میں ہو اور نظریات و عقائد کی وجہ سے ان پر ظلم ہو رہا ہو۔ ۔ یکن اس بارے میں بھی ایک مزید شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ ظلم اور زیادتی قوم کی طرف سے نہ ہو جن کا اہل اسلام کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو۔ ٭۔ اسلامی معاشرے کے اندر بھی دوستی اور ہمدردی کا تعلق صرف اس اکٹھ کے دائرے کے اندر ہے جس کا عقیدہ و نظریہ حقیقی ایمان کا ہو اور ان کے اندر اسلامی انقلاب کے لیے مشترکہ تحریک کا تعلق بھی ہو۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رشتہ دار (اولو الارحام) دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ترجیح کے مستحق تصور نہ ہوں گے ، لہذا و ہزیادہ قریب تصور ہوں گے۔ بشرطیکہ یہ رشتہ دار سب کے سب اسلامی نظریہ حیات کے قائل ہوں اور باہم مل کر اسلام کے لیے کام کر رہے ہوں۔ صرف رشتہ داری کافی نہیں ہے ، یعنی ایسی رشتہ داری جس میں نظریات و عقائد کا اشتراک نہ ہو اور جس میں ایک مقصد کے لیے حرکت نہ پائی جاتی ہو۔ اجمالاً اس سبق میں یہی بڑے مضامین ہیں اور یہ مضامین و موضوعات اسلامی معاشرے کی تنظیم کے داخلی اور خارجی موضوعات کے اہم مضامین ہیں۔ اور تفصیلات آیات کی تشریح کے دوران ملاحظہ فرمائیں۔ درس نمبر 86 تشریح آیات۔ 55 ۔ تا۔ 75 تفسیر آیات 55 تا 63: یہ آیات ایک قسم کی عملی ہدایات ہیں ، اس وقت جبکہ جماعت مسلمہ ایسے حالات سے عملاً دو چار تھی۔ اس وت مدینہ میں اسلامی مملکت کی بیناد رکھی جا رہی تھی۔ ان عملی حالات میں ، امت مسلمہ کو ضروری احکامات دیے گئے۔ ان میں سے اکثر ہدایات اس وقت کی قائم اسلامی مملکت یا اسلامی محاذ اور اس وقت کی اسلامی حکومت کے ارد گرد قائم مملکتوں اور محاذوں کے درمیان قانون بین الممالک کے موضوع پر ہیں۔ ان آیات کے بعد ، قرآن کریم نے ان میں معمولی ترمیمات کی ہیں لیکن یہ ہدایات اسلام کے قانون بین الممالک کے سلسلے کی اساسی ہدایات ہیں۔ ان ہدایات میں اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ مختلف بین الاقوامی گروہوں اور مملکتوں کے درمیان باہم سلامتی کے معاہدات ہوسکتے ہیں ، بشرطیکہ فریقین معاہدہ اس کی شرائط کی نیک دلی کے ساتھ پابندی کرتے ہوں۔ اگر کوئی فریق اس معاہدے کے پردے میں غداری اور خیانت کی تدابیر کر رہا ہو اور حملے اور شر انگیزیوں کی تیار کر رہا ہو تو اسلامی مملکت کے سربراہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ ان معاہدوں کو علی الاعلان منسوخ کردے اور اس کی اطلاع فریق مخالف کو بھی دے دے اور پھر اس کا اختیار ہے کہ وہ جس وقت چاہے اس قسم کے خائنوں اور غداروں پر ضرب لگائے اور یہ ضرب اس قدر شدید ہو اور اس قدر سبق آموز ہو کہ کوئی کینہ پرور کھلے طور پر یا خفیہ طور پر اسلامی مملکت کے خلاف کسی راہ میں رکاوٹ بھی نہ بنیں یا یہ کہ وہ ہر شخص تک دعوت اسلامی کے پہنچنے میں مزاحم نہ ہوں تو اسلامی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے اور جب تک ان سے کسی بدنیتی کا ظہور نہ ہو وہ ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے۔ پڑوسی مملکتوں کے درمیان عملی حالات کا یہ ایک عملی ضابطہ ہے۔ یہ ضابطہ باہم تعلقات کو اس وقت تک ختم نہیں کرتا جب تک اسلامی مملکت کے پڑوسی ممالک دعوت اسلامی کے پھیلاؤ کی راہ میں کوئی مادی رکاوٹ کھڑی نہیں کردیتے اور لوگوں کے کانوں تک اسلام کی تبلیغ کی رسائی کو ختم نہیں کردیا جاتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ تحفظ بھی دیا جاتا ہے کہ یہ معاہدے دشمن کے یے سازشوں اور یشہ دوانیوں کا سبب نہ بن جائیں اور ان معاہدوں کے پس پردہ یہ لوگ اسلامی مملکت پر اچانک اور غدارانہ ضرب لگانے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں۔ وہ عملی حالات کیا تھے جن میں یہ ہدایات نازل ہوئیں۔ جب امت مسلمہ ہجرت کرکے مدینہ کو گئی تو اس وقت وہاں مسلمانوں کو جو حالات درپیش تھے ان کی تلخیص امام ابن قیم نے زاد المعاد میں یوں کی ہے : " جب حضور مدینہ تشریف لائے تو ان کے اور کفار کے درمیان تین قسم کے تعلقات تھے۔ ایک قسم کے لوگ وہ تھے جنہوں نے حضور کے ساتھ مصالحت کی اور وعدہ کیا کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں گے۔ آپ کے ساتھ جنگ نہ کریں گے نہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ موالات کریں گے اور امداد دیں گے اور وہ اپنے کفریہ نظریات پر قائم رہیں گے اور پر امن رہیں گے۔ ان کا خون اور مال محفوظ ہوگا۔ دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جو آپ کے دشمن اور محارب تھے اور تیسری قسم ان لوگوں کی تھی جنہوں نے نہ تو عہد کیا اور نہ ہی آپ کے ساتھ جنگ کی بلکہ وہ انتظار کرتے رہے کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ان لوگوں میں سے بعض تو ایسے تھے جو آپ کی کامیابی کے دل سے خواہاں تھے اور بعض ایسے تھے جو آپ کے دشمنوں کی کامیابی اور فتح چاہتے تھے۔ اور بعض ایسے تھے جو مسلمانوں کی صفوں میں بظاہر شریک ہوگئے تھے لیکن فی الباطن وہ دشمنوں کے ساتھ تھے۔ یہ منافقین تھے ، تو حضور نے ان لوگوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جس کا رب تعالیٰ نے حکم دیا۔ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ عہد امن کیا اور وعدہ کیا وہ مدینہ کے ارگرد رہنے والے تین یہودی قبائل تھے۔ بنی قینقاع ، بنو النضیر اور بنو قریظہ اور ان کے علاوہ بعض مشرک قبائل بھی تھے جو مدینہ کے ارد گرد بستے تھے۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ حالات وقتی حالات تھے اور عملی حالات تھے ، جو مسلمانوں کو درپیش تھے۔ اور اسلامی مملکت یا اسلامی نظام کے مستقل بین الاقوامی ضوابط نہ تھے۔ کیونکہ بعد میں ان کے اندر ترمیمات کی گئیں۔ اور سورت براءت میں جو احکام وارد ہوئے وہ آخری احکام تھے۔ بین الاقوامی تعلقات جن مراحل سے گزرے ان کا ذکر ہم نے امام ابن القیم کی کتاب زاد المعاد سے پارہ نہم میں نقل کیا تھا " یہاں مناسب ہے کہ دوبارہ وہ اقتباس دے دیا جائے۔ " بعثت سے لے کر وفات تک کفار اور منافقین کے ساتھ آپ کا طرز عمل " اس عنوان کے تحت وہ رقم طراز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کی طرف یہ وحی نازل کی کہ " آپ اپنے رب کے نام سے پڑھیں " یوں ہوا آپ کی نبوت کا آغاز ، اس وقت جو حکم دیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ آپ اپنے دل میں پڑھیں۔ ابھی آپ کو تبلیغ کا حکم نہ ملا تھا ، کچھ عرصہ بعد یہ آیت نازل ہوئی یا ایہا المدثر قم فانذر یعنی اقراء سے آپ کو نبوت ملی اور یا ایہا المدثر سے آپ کو منصب رسالت عطا ہوا اور حکم دیا گیا کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں ، رشتہ داروں کے بعد آپ نے اپنی قوم کو انجام بد سے ڈرایا۔ قوم کے بعد مکہ مکرمہ کے ارگرد پھیلے ہوئے قبائل کو تبلیغ کی۔ اس کے بعد یہ پیغام پوری عرب دنیا تک عام کردیا گیا اور بالآخر اس دعوت کو بین الاقوامی دعوت بنا دیا گیا۔ دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کئی سال تک صرف وعظ اور تبلیغ کرتے رہے اور طاقت کا استعمال نہ کیا ، بلکہ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ صبر اور درگزر سے کام لیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیں۔ ایک عرصہ بعد آپ کو ہجرت کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی دشمنوں سے لڑنے کی بھی اجازت دی گئی تاہم یہ اجازت اس حد تک تھی کہ صرف ان لوگوں سے جنگ کی جائے جو لڑنے کے لیے میدان میں اتر آئیں اور دوسروں سے نہ لڑا جائے۔ سب سے آخر میں یہ حکم دیا گیا کہ کفار اور مشرکین سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب تک دین اللہ کے لیے خالص نہیں ہوجاتا۔ (لیکون الدین کلہ للہ) جس وقت آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ، اس وقت حضور اور کفار کے درمیان تعلقات کی صرف تین شکلیں تھیں ، اہل صلح ، اہل حرب اور اہل ذمہ ، اہل صلح یعنی جن کے ساتھ امن کے معاہدات ہوئے تھے ، ان کے بارے میں حکم ہوا کہ عہد کو آخر تک نبھایا جائے ، لیکن صرف اس صورت میں کہ جانب مخالف اپنے معاہدے کا پابند ہو اور اگر وہ عہد شکنی اور غداری کریں تو آپ بھی معاہدہ ان کے منہ پر دے ماریں ، البتہ ایسے لوگوں کے ساتھ عملاً جنگ اس وقت تک نہ چھیڑی جائے جب تک انہیں باقاعدہ اطلاع نہ دی جائے کہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے۔ جب سورة براءت نازل ہوئی تو ان تمام اقسام کے احکام علیحدہ علیحدہ بیان ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ وہ اہل کتاب (یہود و نصاری) سے اس وقت تک لڑیں کہ یا وہ جزیہ قبول کریں اور یا اسلام میں داخل ہوجائیں اور مشرکین اور منافقین سے بھی جہاد کا حکم دیا گیا۔ نیز منافقین سے مزید سختی برتنے کا حکم دیا گیا۔ کفار کے ساتھ آپ کا جہاد مسلح جنگ کی شکل میں تھا اور منافقین کے ساتھ زبان اور دلیل سے۔ سورة براۃ میں یہ حکم بھی دیا گیا کہ کفار کے ساتھ کیے ہوئے تمام معاہدات کو ختم کردیا جائے اور علی الاعلان ان سے براءت کا اظہار کردیا جائے۔ اس اعلان کے بعد اہل عہد کی تین اقسام قرار پائیں ، وہ جن کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے عہد شکنی کی تھی اور اپنے عہد پر قائم نہیں رہے تھے ، ان لوگوں کے ساتھ حضور نے جنگ کی اور ان پر فتح پائی۔ دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جن کے ساتھ عہد تھا اور وہ اسے نبھاتے بھی رہے۔ آپ کو حکم دیا گیا کہ ان کے ساتھ جو معاہدہ ہے اسے مقرر مدت تک برقرار رکھا جائے اور شرائط کی پابندی کی جائے۔ تیسری قسم ایسے لوگوں کی تھی کہ جن کے ساتھ اگرچہ معاہدہ تو نہ تھا لیکن یہ لوگ آپ کے خلاف کسی جنگ میں بھی شریک نہ ہوئے تھے یا ان کے ساتھ تعین مدت کے بغیر معاہدہ طے پا گیا تھا ، ایسے لوگوں کے بارے میں حکم ہوا کہ انہیں چار ماہ کی مہلت دی جائے اور ان سے کہہ دیا جائے کہ اس کے بعد کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ یا مسلمان ہوجاؤ ورنہ لڑنے کے لیے تیارہ ہوجاؤ۔ چناچہ انہی ہدایات کے مطابق آپ نے عہد شکنوں کے ساتھ جنگ کی ، اور جن کے ساتھ کوئی عہد نہ تھا انہیں چار ماہ کی مہلت دی اور راست باز معاہدین کے ساتھ اپنا عہد پورا کیا اور ایسے تمام لوگ معاہدہ کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اہل ایمان اور مسلمانوں کا جزو بن گئے اور اہل ذمہ پر جزیہ عائد ہوا۔ جیسا کہ کہا گیا سورة براءت کے نزول کے بعد کفار کے ساتھ آپ کے تعلقات تین قسم کے رہ گئے تھے یعنی محارب ، اہل ذمہ اور اہل عہد اور چونکہ اہل سب کے سب اسلام میں داخل ہوگئے تھے ، اس طرح صرف اہل ذمہ اور اہل حرب ہی باقی رہ گئے۔ اہل حرب کی حالت یہ رہتی تھی کہ آپ کے دور میں وہ ہمیشہ آپ سے خائف رہتے تھے۔ چناچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر کے آخری دور میں حضور اور تمام انسانوں کے تعلقات کی نوعیت صرف یہ رہ گئی تھی کہ ان میں سے بعض مسلم اور مومن تھے ، بعض آمن اور مسالم تھے اور بعض آپ سے خائف اور محارب تھے۔ منافقین کے ساتھ آپ کا طرز عمل یہ تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ آپ ان کے اعلان اسلام کو قبول فرمائیں اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیں اور ان کے مقابلے میں علم و استدلال کے ہتھیار ہی استعمال کریں اور ان کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیار کریں اور ان سے سختی برتیں اور ان کی نفسی کیفیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے ارشادات عالیہ سے ان کی اصلاح کی سعی کریں۔ ان کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کریں اور نہ حضور ان کی قبر پر کھڑے ہوکر دعا کریں اور یہ کہ اگر آپ ان کے لیے دعائے مغفرت مانگ بھی لیں تو بھی اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا۔ یہ تھا مختصر بیان حضور کے طرز عمل کا اپنے کفار اور منافق دشمنوں کے ساتھ " اس تلخیص کے مطالعہ ، واقعات سیر کے مطالعہ اور ان آیات کے شان نزول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن حالات میں سورت انفال نازل ہوئی وہ حالات ، مدینہ کے ابتدائی حالات اور سورت توبہ میں پیش کردہ آخری حالات کے درمیان ایک عبوری مرحلہ تھا۔ لہذا ان تاریخی مراحل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان آیات کا مطالعہ ضروری ہے۔ اگرچہ ان میں بعض حتمی اصول بھی موجود ہیں لیکن یہ آخری شکل میں سورت توبہ میں دی گئی اور عملی طور پر ان اصولوں کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کے آخری ایام میں نافذ کیا گیا۔ ابن قیم کے اس تفصیلی بیان کی روشنی میں اب ہم ان نصوص قرآنی کی تشریح کرتے ہیں : اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔ اَلَّذِيْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِيْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ ۔ یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا۔ پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ (خصوصا) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تونے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے۔ لفظ دواب کا اطلاق اگرچہ لغوی طور پر ان تمام چیزوں پر ہوتا ہے جو زمین پر چلتی پھرتی ہیں۔ لہذا انسان پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے ، لیکن جب اس کا اطلاق انسانوں پر کیا جائے تو اس وقت بات کو ایک خاص رنگ دینا بھی مطلوب ہوتا ہے۔ یعنی انسانیت کو حیوانیت کا رنگ اور شیڈ دینا مطلوب ہوتا ہے۔ اس طرح جن انسانوں پر اس لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے ، ان کے بارے میں یہ تاثر دے دیا جاتا ہے کہ وہ بدترین بہائم ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کی روش اختیار کرلی ہے اور ان کے حالات ان کو یہاں تک لے آے ہیں کہ اب وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عہد کو تو توڑتے ہیں اور اللہ سے نہیں ڈرتے۔ اس آیت سے مراد کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ بنو قریظہ ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ بنونضیر ہیں۔ بعض روایات میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ بنوقینقاع ہیں۔ بعض میں یہ کہا گیا کہ اس سے وہ عرب مراد ہیں جو مدینہ کے اردگرد رہتے تھے۔ اس آیت کے الفاظ اور تاریخی واقعات دونوں بناتے ہیں کہ اس سے مراد یہ سب لوگ ہوسکتے ہیں کیونکہ یہودیوں میں سے ہر گروہ نے اپنی اپنی جگہ حضور کے ساتھ عہد شکنی کی۔ اور مدینہ کے ارد گرد مشرکین نے بھی بار بار عہد شکنی کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں بدر سے پہلے اور بعد میں پیش ہونے والے سب واقعات پر تبصرہ کیا ہے۔ لیکن جو حکم دیا گیا ہے وہ قیامت تک کے لیے ہے اور ان تمام لوگوں پر اور تمام حالات پر صادق ہوگا جو قیامت تک اسی نہج پر پیش آئیں گے۔ یہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی یہ لوگ کفر میں دور تک چلے گئے ہیں اور انہوں نے ایسی روش اختیار کی ہے کہ اب ان کے ایمان کا کوئی امکان نہیں رہا ہے۔ اس طرح ان کی فطرت میں بگاڑ داخل ہوگیا ہے۔ اور وہ جانوروں میں سے بدترین جانور بن گئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کفر جانوروں سے بدتر ہیں : پھر فرمایا (اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) (الآیۃ) (بےشک اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے پھرنے والوں میں سب سے زیادہ برے وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا) الدّواب، دَآبَّۃٌ کی جمع ہے، ہر وہ چیز جو زمین پر چلے پھرے لغوی اعتبار سے یہ لفظ سب کو شامل ہے۔ لیکن محاورات میں دابۃ چوپایوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ صاحب روح المعانی ص ٢١ ج ١٠ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شَرُّ النَّاس نہیں فرمایا اس میں اس طرح اشارہ ہے کہ گویا یہ لوگ جنس انسانی سے نہیں ہیں جنس دواب میں سے ہیں اور اس جنس کے بدترین افراد میں سے ہیں (فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (سو یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے) ان کی سر کشی بہت آگے بڑھ گئی ہے اور کفر میں راسخ اور مضبوط ہوچکے ہیں لہٰذا یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ آپ ان کے پیچھے اپنی جان ہلاک نہ کریں۔ آپ کے کرنے کا جو کام تھا (یعنی دعوت حق اور بلاغ مبین) وہ آپ کرچکے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

57: یہ زجر ہے جو کفار معاندین کفر میں راسخ اور عناد پر مصر ہیں وہ خدا کے نزدیک اس کی ساری مخلوق سے بدتر ہیں وہ ایمان کبھی نہیں لائیں گے۔ ان کی شرارت اور خبث باطن کا یہ حال ہے کہ جب بھی آپ ان سے کوئی عہد لیتے ہیں وہ ہر بار عہد شکنی کرتے ہیں اور عہد توڑنے میں ذرا نہیں ہچکچاتے۔ اس سے بنی قریظہ کے یہود مراد ہیں جنہوں نےحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عہد کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی نہ امداد کریں گے اور نہ ان کو مسلمانوں کے خلاف اکسائیں گے۔ مگر وہ اپنے عہد پر قائم نہ رہے اور انہوں نے جنگ بدر میں اسلحہ سے مشرکین کی امداد کی۔ جب مشرکین شکست کھا گئے تو یہودحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معذرت کرنے لگے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے۔ چناچہ آپ نے دوبارہ ان سے عہد لیا۔ مگر اس کے بعد غزوہ خندق میں انہوں نے پھر عہد توڑ دیا اور مشرکین کا ساتھ دیا۔ “ قال ابن عباس ھم قریظة فانھم نقضوا عھد رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم واعانوا علیه المشرکین بالسلاح یوم بدر ثم قالوا اخطانا فاھدھم مرة اخري فنقضوه ایضا يوم الخندق ” (کبیر ج 4 ص 557) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

55 بے شک سب جانداروں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین خلائق وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر و انکار کا شیوہ اختیار کیا پھر وہ ایمان نہیں لائے۔ یعنی ان کی بداعمالیوں کے سبب توفیق ہی نہیں ملتی جو ایمان لائیں۔