15 Surah An-Najm: 45, deals with the same theme, thus "It is but a Revelation which is sent down to him. One, mighty in power, has taught him. " As to what is implied by the mighty powers of the Angel Gabriel (peace be upon him) is ambiguous. In any case it at least shows that he is distinguished even among the angels because of his extraordinary powers. In Muslim (kitab- al-iman) Hadrat `A'ishah has reported the Holy Prophet's saying to the effect: "I have twice seen Gabriel in his real shape and form: his glorious being was encompassing the whole space between the earth and the heavens." According to the tradition reported from Hadrat `Abdullah bin Mas`ud in Bukhari. Muslim, Tirmidhi and Musnad Ahmad, the Holy Prophet (upon whom be peace) had seen Gabriel with his six hundred wings. From this one can have an idea of his mighty powers.
سورة التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :15
سورہ نجم آیات 4 ۔ 5 میں اسی مضمون کو یوں ادا کیا گیا ہے کہ ان ھو الا وحی یوحی ۔ علمہ شدید القوی ۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے ۔ اس کو زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے ۔ یہ بات درحقیقت متشابہات میں سے ہے کہ جبریل علیہ السلام کی ان زبردست قوتوں اور ان کی اس عظیم توانائی سے کیا مراد ہے ۔ بہرحال اس سے اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ فرشتوں میں بھی وہ اپنی غیر معمولی طاقتوں کے اعتبار سے ممتاز ہیں ۔ مسلم ، کتاب الایمان میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے دو مرتبہ جبریل کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ، ان کی عظیم ہستی زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا پر چھائی ہوئی تھی ۔ بخاری ، مسلم ، ترمذی اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس شان میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے ۔ اس سے کچھ ان کی زبردست طاقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔