صلوۃ وتر کی سورتیں ۔
اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابن مکتوم آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر حضرت عمار حضرت بلال حضرت سعد آئے پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت سبح اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی ، مسند احمد میں ہے کہ یہ سورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تو نے سورہ آیت ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى Ǻۙ ) 87- الأعلى:1 ) کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی؟ مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آیت ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى Ǻۙ ) 87- الأعلى:1 ) اور ( هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ 17ۙ ) 85- البروج:17 ) دونوں عید کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابو داؤد اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی ہے مسند احمد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوة الاعلى‘ الكافرون اور اخلاص پڑھتے تھے ایک روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورہ معوذتین یعنی قل اعوذبرب الفلق اور قل اعوذ برب الناس بھی پڑھتے تھے یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کیساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے واللہ اعظم ۔