Surat ul Aala

Surah: 87

Verse: 0

سورة الأعلى

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

In the name of Allah , the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

شروع کرتا ہوں اللہ تعا لٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

صلوۃ وتر کی سورتیں ۔ اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابن مکتوم آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر حضرت عمار حضرت بلال حضرت سعد آئے پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت سبح اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی ، مسند احمد میں ہے کہ یہ سورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تو نے سورہ آیت ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى Ǻ۝ۙ ) 87- الأعلى:1 ) کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی؟ مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آیت ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى Ǻ۝ۙ ) 87- الأعلى:1 ) اور ( هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ 17؀ۙ ) 85- البروج:17 ) دونوں عید کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابو داؤد اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی ہے مسند احمد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوة الاعلى‘ الكافرون اور اخلاص پڑھتے تھے ایک روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورہ معوذتین یعنی قل اعوذبرب الفلق اور قل اعوذ برب الناس بھی پڑھتے تھے یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کیساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے واللہ اعظم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

نام : پہلی ہی آیت سبح اسم ربک الاعلٰی کے لفظ الاعلٰی کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے ۔ زمانۂ نزول : اس کے مضمون سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے ، اور آیت نمبر 6 کے یہ الفاظ بھی کہ ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولو گے “ یہ بتاتے ہیں کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابھی وحی اخذ کرنے کی اچھی طرح مشق نہیں ہوئی تھی اور نزول وحی کے وقت آپ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں میں اس کے الفاظ بھول نہ جاؤں ۔ اس آیت کے ساتھ اگر سورۂ طٰہٰ کی آیت 114 اور سورۂ قیامہ کی آیات 16 – 19 کو ملا کر دیکھا جائے ، اور تینوں آیتوں کے انداز بیاں اور موقع و محل پر بھی غور کیا جائے تو واقعات کی ترتیب یہ معلوم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے اس سورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطمینان دلایا گیا کہ آپ فکر نہ کریں ، ہم یہ کلام آپ کو پڑھوا دیں گے اور آپ اسے نہ بھولیں گے ۔ پھر ایک مدت کے بعد ، دوسرے موقع پر جب سورۂ قیامہ نازل ہو رہی تھی ، حضور بے اختیار الفاظِ وحی کو دہرانے لگے ۔ اس وقت فرمایا گیا اے نبی ، اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو ، اس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے ، لہٰذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں اس وقت تم اس کی قرات کو غور سے سنتے رہو ، پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے ۔ آخری مرتبہ سورۂ طٰہ کے نزول کے موقع پر حضور کو پھر بتقاضائے بشریت اندیشہ لاحق ہوا کہ یہ 113 آیتیں جو متواتر نازل ہوئی ہیں ان میں سے کوئی چیز میرے حافظے سے نہ نکل جائے اور آپ ان کو یاد کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔ اس پر فرمایا گیا اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک تمہاری طرف اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے اس کے بعد پھر کبھی اس کی نوبت نہیں ہوئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کوئی خطرہ لاحق ہوتا ، کیونکہ ان تین مقامات کے سوا کوئی چوتھا مقام قرآن میں ایسا نہیں ہے جہاں اس معاملے کی طرف کوئی اشارہ پایا جاتا ہو ۔ موضوع اور مضمون : اس چھوٹی سی سورت کے تین موضوع ہیں ۔ توحید ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدایت اور آخرت ۔ پہلی آیت میں توحید کی تعلیم کو اس ایک فقرے میں سمیٹ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کے نام کی تسبیح کی جائے ، یعنی اس کو کسی ایسے نام سے یاد نہ کیا جائے جو اپنے اندر کسی قسم کے نقص ، عیب ، کمزوری یا مخلوقات سے تشبیہ کا کوئی پہلو رکھتا ہو کیونکہ دنیا میں جتنے بھی فاسد عقائد پیدا ہوئے ہیں ان سب کی جڑ اللہ تعالٰی کے متعلق کوئی نہ کوئی غلط تصور ہے جس نے اس ذات پاک کے لیے کسی غلط نام کی شکل اختیار کی ہے لہٰذا عقیدے کی تصحیح کے لیے سب سے مقدم یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کو صرف ان اسماء حسنٰی ہی سے یاد کیا جائے جو اس کے لیے موزوں اور مناسب ہیں ۔ اس کے بعد تین آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ تمہارا رب ، جس کے نام کی تسبیح کا حکم دیا جا رہا ہے ، وہ ہے جس نے کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ، اس کا تناسب قائم کیا ، اس کی تقدیر بنائی ، اسے وہ کام انجام دینے کی راہ بتائی جس کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے ، اور تم اپنی آنکھوں سے اس کی قدرت کا یہ کرشمہ دیکھ رہے ہو کہ وہ زمین پر نباتات کو پیدا بھی کرتا ہے اور پھر انہیں خس و خاشاک بھی بنا دیتا ہے ۔ کوئی ہستی نہ بہار لانے پر قادر ہے نہ خزاں کو آنے سے روک سکتی ہے ۔ پھر دو آیتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ قرآن جو آپ پر نازل کیا جا رہا ہے ، یہ لفظ بلفظ آپ کو یاد کیسے رہے گا ۔ اس کو آپ کے حافظے میں محفوظ کر دینا ہمارا کام ہے ، اور اس کا محفوظ رہنا آپ کے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں بلکہ ہمارے فضل کا نتیجہ ہے ، ورنہ ہم چاہیں تو اسے بھلا دیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کے سپرد ہر ایک کو راہ راست پر لے آنے کا کام نہیں کیا گیا ہے بلکہ آپ کا کام بس حق کی تبلیغ کر دینا ہے ، اور تبلیغ کا سیدھا سادا طریقہ یہ ہے کہ جو نصیحت سننے اور قبول کرنے کے لیے تیار ہو اسے نصیحت کی جائے اور جو اس کے لیے تیار نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑا جائے ۔ جس کے دل میں گمراہی کے انجام بد کا خوف ہوگا وہ حق بات کو سن کر قبول کر لے گا اور جو بدبخت اسے سننے اور قبول کرنے سے گریز کرے گا وہ اپنا برا انجام خود دیکھ لے گا ۔ آخر میں کلام کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ فلاح صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو عقائد ، اخلاق اور اعمال کی پاکیزگی اختیار کریں ، اور اپنے رب کا نام یاد کر کے نماز پڑھیں ۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں ساری فکر بس اسی دنیا کے آرام و آسائش اور فائدوں اور لذتوں کی ہے حالانکہ اصل فکر آخرت کی ہونی چاہیے ، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ، اور دنیا کی نعمتوں سے آخرت کی نعمتیں بدرجہا بڑھ کر ہیں ۔ یہ حقیقت صرف قرآن ہی میں نہیں بتائی جا رہی ہے ، بلکہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسٰی علیہم السلام کے صحیفوں میں بھی انسان کو اسی حقیقت سے آگاہ کیا گیا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi