Surat ul Aala

Surah: 87

Verse: 10

سورة الأعلى

سَیَذَّکَّرُ مَنۡ یَّخۡشٰی ﴿ۙ۱۰﴾

He who fears [ Allah ] will be reminded.

ڈرنے والا تو نصیحت لے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The reminder will be received by him who fears, meaning, `he whose heart fears Allah and who knows that he is going to meet Him, will receive admonition from what you convey to him, O Muhammad.' وَيَتَجَنَّبُهَا الاَْشْقَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

یعنی آپ کی نصیحت سے وہ یقینا عبرت حاصل کریں گے جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوگا، ان میں خشیت الہی اور اپنی اصلاح کا جذبہ مزید قوی ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى۝ ١٠ ۙ خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠{ سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی ۔ } ” وہ نصیحت حاصل کرلے گا جو ڈرتا ہے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو تذکیر و نصیحت کرتے جایئے ‘ جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا وہ اس کا اثر ضرور قبول کرے گا اور اسے فائدہ بھی ہوگا۔ چناچہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی آپ پر کوئی نئی وحی آئے تو آپ وہ نیا کلام پڑھ کر لوگوں کو ضرور سنائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل ایمان ساتھیوں کے علم اور ایمان میں اس سے ضرور اضافہ ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11 That is, only the one who has fear of God and of evil consequences, will consider whether or not he is following a wrong way, and he only will heed the admonition of the Servant of Allah who is distinguishing guidance from misguidance for him and guiding him to true successes and piety.

سورة الْاَعْلٰی حاشیہ نمبر :11 یعنی جس شخص کے دل میں خدا کا خوف اور انجام بد کا اندیشہ ہو گا اسی کو یہ فکر ہو گی کہ کہیں میں غلط راستے پر تو نہیں جا رہا ہوں ، اور وہی اللہ کے اس بندے کی نصیحت کو توجہ سے سنے گا جو اسے ہدایت اور گمراہی کا فرق اور فلاح و سعادت کا راستہ بتا رہا ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(87:10) سیذکر : سین کے لئے ملاحظہ ہو 87:6 متذکرہ الصدر۔ یذکر مضارع واحد مذکر غائب تذکرۃ (تفعل) مصدر۔ یہ اصل میں یتذکر تھا ت کو ذال میں مدغم کیا۔ یذکر ہوگیا۔ نصیحت پکڑے گا۔ من یخشی : من موصولہ۔ یخشی (صلہ) مضارع واحد مذکر غائب خشیۃ (باب سمع) مصدر۔ بمعنی ڈرنا۔ من یخشی جو ڈرتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سیذکر ................................ فصلی آپ یاد دہانی کرائیں اور اس یاد دہانی سے استفادہ وہی شخص کرے گا جو ڈرتا ہو۔ من یخشیٰ (10:87) جس کے دل میں خدا کا خوف ہو ، اور جو خدا کے غضب اور خدا کے عذاب سے ڈرتا ہے ، اور وہی شخص ڈرتا ہے اور محتاط رہتا ہے جو زندہ ہو۔ اور یہ شخص جانتا ہو کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے ، جس نے اس جہاں کو پیدا کرکے اسے نہایت متوازن بنایا ہے ، تقدیر مقرر کی اور لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کی۔ اس نے لوگوں کو ویسا ہی شتر بےمہار بناکر نہیں چھوڑ دیا اور نہ مہمل پیدا کیا ہے۔ لہٰذا خیروشر کے سلسلے میں اللہ حساب لینے والا ہے اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والا ہے۔ تو ایسا شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت لیتا ہے ، اسے بصیرت دی جاتی ہے تو قبول کرتا ہے اور جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ عبرت حاصل کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا : ﴿ سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى ۙ٠٠١٠﴾ (وہ شخص نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرتا ہے) ۔ ﴿ وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ٠٠١١﴾ (اور اس نصیحت سے وہ شخص پرہیز کرے گا جو بڑا بدبخت ہے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ ” سیذکر “ اس میں پہلے فریق کا ذکر ہے۔ پند و نصیحت اور وعظ و ارشاد سے صرف وہی فائدہ اٹھائیں گے جن کے دلوں میں خدا کا خوف اور اللہ کی طرف انابت و رجوع کا جذبہ موجود ہو۔ ” ویتجنبہا الاشقی “ یہ دوسرے فریق کا بیان ہے اور ساتھ اس فریق کے لیے تخویف اخروی ہے۔ وہ بدبخت کفار و مشرکین جو انکار وعناد پر اصرار کرتے ہیں، پند و نصیحت کو قبول کرنے سے اجتنبا کریں گے۔ ان کی سزا یہ ہوگی کہ وہ سب سے بڑی آگ میں داخل ہوں گے۔ مراد دوزخ کا سب سے نچلا طبقہ ہے۔ ای الطبقۃ السفلی من اطباق النار کما قال الفراء (روح ج 30 ص 108) ۔ ایسے بدبخت جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے سزا پاتے رہیں گے ان کو وہاں نہ موت ہی آئے گی کہ عذاب سے راحت پالیں اور نہ وہاں ان کی کوئی زندگی ہی ہوگی کہ جس میں آرام و چین کا سانس لے سکیں۔ بس مسلسل اور لگاتار اس عذاب میں گرفتار رہیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) وہی شخص جلدی نصیحت قبول کرتا ہے جو ڈرتا ہے یعنی وہی شخص سمجھائے سے سمجھتا ہے جس کے دل میں خدا کا ڈر ہو اور وہ اپنے انجام کی فکر رکھتا ہو۔