Surat ul Aala

Surah: 87

Verse: 13

سورة الأعلى

ثُمَّ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَ لَا یَحۡیٰی ﴿ؕ۱۳﴾

Neither dying therein nor living.

جہاں پھر نہ وہ مرے گا نہ جئیے گا ( بلکہ حالت نزع میں پڑا رہے گا ) ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

But it will be avoided by the wretched, who will enter the great Fire. There he will neither die nor live. meaning, he will not die and thus be allowed to rest, nor will he live a life that is beneficial to him. Instead, his life will be harmful to him, because it will be the cause of his feeling of the pain of torment and various types of punishments what he is being punished with. Imam Ahmad recorded from Abu Sa`id that the Messenger of Allah said, أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا لاَ يَمُوتُونَ وَلاَ يَحْيَوْنَ وَأَمَّا أُنَاسٌ يُرِيدُ اللهُ بِهِمُ الرَّحْمَةَ فَيُمِيتُهُمْ فِي النَّارِ فَيَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الشُّفَعَاءُ فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ الضِّبَارَةَ فَيُنْبِتُهُمْ أو قال يَنْبُتُونَ فِي نَهْرِ الْحَيَا أو قال الْحَيَاةِ أو قال الْحَيَوَانِ أو قال نَهْرِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْل Concerning the people of the Fire who are deserving of it, they will not die nor will they live. Regarding the people that Allah wants mercy for, He will cause them to die in the Fire. Then He will allow the intercessors to come to them, and a man will take his groups of supporters and plant them (or he said (they will be planted) in the River of Al-Haya (or he said (Al-Hayah, or Al-Hayawan, or Nahr Al-Jannah). Then they will sprout up like the sprouting of the seed on the moist bank of a flowing stream.) Then the Prophet said, أَمَا تَرَوْنَ الشَّجَرَةَ تَكُونُ خَضْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ صَفْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ خَضْرَاءَ Haven't you all seen the tree that is green, then it turns yellow, then it turns green (again)? Abu Sa`id then said that some of those present said, "It is as if the Prophet used to live in the desert wilderness (i.e., due to his parables of nature)." Ahmad also recorded from Abu Sa`id that the Messenger of Allah said, أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَإِنَّهُمْ لاَ يَمُوتُونَ فِيهَا وَلاَ يَحْيَوْنَ وَلَــكِنْ أُنَاسٌ أو كما قال تُصِيبُهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ أو قال بِخَطَايَاهُمْ فَيُمِيتُهُمْ إِمَاتَةً حَتْى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَايِرَ ضَبَايِرَ فَبُثُّوا عَلى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْل Concerning the people of the Fire who will be dwellers of it, they will not die in it nor will they live. However, there will be a group of people - or as he said -(whom the Fire will burn due to their sins - or he said - (their wrongdoings. So, He will cause them to die until they become burnt coal. Then the intercession will be allowed and they will be brought group after group, and they will be scattered over the rivers of Paradise. Then it will be said: "O people of Paradise! Pour down upon them." Then they will sprout like the growing of the seed that is upon the moist bank of the flowing stream." Then, a man from among the people present said, "It is as if the Messenger of Allah used to live in the desert wilderness." Muslim also recorded this Hadith.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 ان کے برعکس جو لوگ صرف اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے عارضی طور پر جہنم میں رہ گئے ہوں گے انہیں اللہ تعالیٰ ایک طرح کی موت دے دے گا حتی کہ وہ آگ میں جل کر کوئلہ ہوجائیں گے پھیر اللہ تعالیٰ انبیاء وغیرہ کی سفارش سے ان کو گروہوں کی شکل میں نکالے گا، ان کو جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، جنتی بھی ان پر پانی ڈالیں گے جس سے وہ اس طرح اٹھیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے سے دانہ اگ آتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] یعنی اخروی زندگی میں مر تو سکے گا نہیں اور جو زندگی ہوگی وہ عذاب کی وجہ سے موت سے بدتر ہوگی۔ ایسی زندگی پر وہ خود بھی موت کو ترجیح دینگے مگر موت نام کی وہاں کوئی چیز نہ ہوگی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْہَا وَلَا يَحْيٰي۝ ١٣ ۭ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی معنی مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣{ ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی ۔ } ” پھر نہ اس میں وہ مرے گا نہ زندہ رہے گا۔ “ جہنم کی یہی خصوصیت سورة المدثر میں بایں الفاظ بیان ہوئی ہے : { لَا تُبْقِیْ وَلَا تَذَرُ ۔ } ” وہ انسان کو نہ تو باقی رہنے دے گی اور نہ ہی اسے چھوڑے گی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12 That is, "He will neither die so as to escape the punishment nor live as one truly lives so as to enjoy the pleasures of life." This punishment is for those who do not at all accept the admonition of AIlah and His Messenger and persist in disbelief, polytheism and atheism till death. As for those who believe in their hearts but are cast into Hell because of their evil deeds, it has been said in the Hadid that when they will have undergone their punishment, AIlah will give them death; then intercession on their behalf will be accepted, and their scorched bodies will be brought to the canals of Paradise, and the dwellers of Paradise will be asked to sprinkle water on them; then by that water they will come to life even as vegetation grows up when water is sprinkled on the earth. This theme has been reported from the Holy Prophet (upon whom be peace) in Muslim on the authority of Hadrat Abu Sa`id Khudri and in Bazzar on the authority of Hadrat Abu Hurairah.

سورة الْاَعْلٰی حاشیہ نمبر :12 یعنی نہ اسے موت ہی آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے ، اور نہ جینے کی طرح جیے گا کہ زندگی کا کوئی لطف اسے حاصل ہو ۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے ہے جو سرے سے اللہ اور اس کے رسول کی نصیحت کو قبول ہی نہ کریں اور مرتے دم تک کفر و شرک یا دہریت پر قائم رہیں ۔ رہے وہ لوگ جو دل میں ایمان رکھتے ہوں مگر اپنے برے اعمال کی بنا پر جہنم میں ڈالے جائیں تو ان کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ جب وہ اپنی سزا بھگت لیں گے تو اللہ تعالی انہیں موت دے دے گا ، پھر ان کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی اور ان کی جلی ہوئی لاشیں جنت کی نہروں پر لا کر ڈالی جائیں گی اور اہل جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو اور اس پانی سے وہ اس طرح جی اٹھیں گے جیسے نباتات پانی پڑنے سے ا گ آتی ہیں ۔ یہ مضمون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلم میں حضرت ابو سعید خدری اور بزار میں حضرت ابو ہریرہ کے حوالہ سے منقول ہوا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: یعنی زندہ رہنے کا کوئی آرام اُسے حاصل نہیں ہوگا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى ؕ٠٠١٣﴾ (پھر وہ دوزخ کی آگ میں نہ مرے گا نہ جیے گا) ۔ مرے گا تو اس لیے نہیں کہ وہاں موت آنی ہی نہیں ہے اور جیے گا اس لیے نہیں کہ وہ زندگی، زندگی کہنے کے قابل نہیں۔ بھلا وہ بھی کوئی زندگی ہے جو اتنی بڑی آگ میں گزر رہی ہو جس کا اوپر ذکر ہوا۔ سورة ٴ فاطر میں فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ ١ۚ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ٠٠٣٦﴾ (اور کافروں کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں اور نہ ان سے اس کا عذاب ہلکا کیا جائے گا ہم اسی طرح ہر کافر کو سزا دیتے ہیں) ۔ آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ نصیحت حاصل کرنا انہیں لوگوں کا طریقہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، وہ جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر جیے اور مرے تو اس کا انجام برا ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) پھر وہ اس آگ میں نہ مرے گا اور نہ جئے گا یعنی موت تو آنے ہی کی نہیں اور حیات بھی مثل لاحیات ہوگی وہ زندگی جس سے آدمی موت کو لاکھ درجے بہتر سمجھتا ہو وہ زندگی نہ جینے کے برابر ہے آگے ڈرنے والوں کی تفصیل ہے۔