Surat ul Aala
Surah: 87
Verse: 18
سورة الأعلى
اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰی ﴿ۙ۱۸﴾
Indeed, this is in the former scriptures,
یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں ۔
اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰی ﴿ۙ۱۸﴾
Indeed, this is in the former scriptures,
یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں ۔
[١٢] یعنی جو صحائف سیدنا ابراہیم کو عطا ہوئے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات سے پہلے عطا ہوئے (جو کہ بعض اقوال کے مطابق دس دس تھے) ان میں یہ مضمون قد افلح سے خیر وابقی تک مذکور تھا۔ یہ مضمون نہ کبھی منسوخ ہوا اور نہ بدلا گیا۔
إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ (Indeed this is [ written ] in the earlier divine scripts, the scripts of Ibrahim and Musa....87:18, 19] In other words, either all the themes of this Surah or its last theme, that the Hereafter is much better and much more durable than this life, was written in the earlier Divine scriptures. It is further explicated that this theme was written in the scriptures of Prophets Ibrahim and Musa (علیہما السلام) . Probably, it refers to other scriptures that were given to Prophet Musa (علیہ السلام) before Torah. It is also possible that it refers to Torah itself. Themes of the Scripts of Prophet Ibrahim (علیہ السلام) Ajurri transmits a narration from Sayyidna Abu Dharr Al-Ghifari (رض) that he inquired from the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as to the contents of the scripts of Prophet Ibrahim (علیہ السلام) and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) replied that they contained educating parables . A story is told in it about a tyrant king where he is addressed and told: You haughty, arrogant and oppressive ruler! I did not give you kingdom so that you may amass wealth, but I had given you power so that you may let the supplication of the oppressed against the oppressor reach me, because my law does not reject the supplication of an oppressed, even though it may be uttered by an unbeliever. Another parable addresses the general public thus: A wise person should divide his time into three parts. One part should be reserved for the worship of his Lord and supplication to Him. The second part should be reserved for self-assessment of his deeds, and reflection on the Omnipotence and creation of Allah. The third part should be allocated for acquisition of livelihood and fulfilling the natural needs. It further imparts that a wise person should keep himself abreast of the circumstances of his time, and keep himself busy in performing his intended work. He should take care of his tongue. He who takes speech as one of his works, his speech will be confined only to the things of real need. Themes of the Scripts of Prophet Musa (علیہ السلام) Sayyidna Abu Dharr Al-Ghifari (رض) says that he then inquired from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as to the contents of the scripts of Prophet Musa (علیہ السلام) and the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم replied that they contained lessons of wisdom. Some of them are as follows: § I am surprised at the person who believes that he will certainly die, and yet he lives happily. • I am surprised at the person who believes in Divine destiny, and yet he is despondent and aggrieved. • I am surprised at the person who experiences the vicissitudes of life and rise and fall of nations, and yet he is content with the world. • I am surprised at the person who believes in the Reckoning of the Hereafter, and yet he abandons [ good ] deeds. Sayyidna Abu Dharr Al-Ghifari (رض) says that he asked the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) whether anything from these scriptures was revealed to him, he replied in the affirmative and asked Sayyidna Abu Dharr Ghifari (رض) to recite verses 14-19 of this Surah. [ Qurtubi ] Alhamdulillah The Commentary on Surah Al-A` la Ends here
ان ھذا لفی الصحف الاولی۔ صحف ابراہیم وموسی، یعنی اس سورت کے سب مضامین یا آخری مضمون یعنی آخرت کا بہ نسبت دنیا کے خیر اور بقیٰ ہونا پچھلے صحیفوں میں بھی موجود تھا جسکا بیان آگے یہ فرمایا کہ حضرت ابراہیم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں یہ مضومن تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات سے پہلے کچھ صحیفے بھی دیئے گئے تھے وہ مراد ہیں اور ہوسکتا ہے کہ صحف موسیٰ سے تورات ہی مراد ہو۔ صحف ابراہیمی کے مضامین آجری نے حضرت ابوذرغفاری سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے کیسے اور کیا تھے آپ نے فرمایا کہ ان صحیفوں میں امثال عبرت کا بیان تھا، ان میں سے ایک مثال میں ظالم بادشاہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اے لوگوں پر مسلط ہوجانے والے مغرور مبتلی میں نے تجھے حکومت اس لئے نہیں دی تھی کہ تو دنیا کا مال پر مال جمع کرتا چلا جائے بلکہ میں نے تو تجھے اقتدار اس لئے سونپا تھا کہ تو مظلوم کی بددعا مجھ تک نہ پہنچنے دے کیونکہ میرا قانون یہ ہے کہ میں مظلوم کی دعا کو رد نہیں کرتا اگرچہ وہ کافر کی زبان سے نکلی ہو۔ اور ایک مثال میں عام لوگوں کو خطاب کرکے فرمایا کہ عقلمند آدمی کا کام یہ ہے کہ اپنے اوقات کے تین حصے کرے ایک حصہ اپنے رب کی عبادت اور اس سے مناجات کا ہو، دوسرا حصہ اپنے اعمال کا محاسبہ کا اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت وصنعت میں غو وفکر کا، تیسرا حصہ اپنی ضروریات معاش حاصل کرنے اور طبعی ضرورتیں پورا کرنے کا۔ اور فرمایا کہ عقلمند آدمی پر لازم ہے کہ اپنے زمانے کے حالات سے واقف رہے اور اپنے مقصود کام میں لگا رہے اپنی زبان کی حفاظت کرے، اور جو شخص اپنے کلام کو اپنا عمل سمجھ لیگا اس کا کلام بہت کم صرف ضروری کاموں میں رہ جائیگا۔ صحف موسیٰ (علیہ السلام) کے مضامین حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ پھر میں نے عرض کیا کہ صحف موسیٰ (علیہ السلام) میں کیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ ان میں سب عبرتیں ہی عبرتیں تھیں جن میں سے چند کلمات یہ ہیں :۔ مجھے تعجب ہے اس شخص پر جس کو مرنے کا یقین ہو پھر وہ کیسے خوش رہتا ہے، اور مجھے تعجب ہے، اس شخص پر جو تقدیر پر ایمان رکھتا ہو وہ کیسے عاجز و درماندہ اور غمگین ہو اور مجھے تعجب ہے، اس شخص پر جو دنیا اور اسکے انقلابات اور لوگوں کے عروج ونزول کو دیکھتا ہے وہ کیسے دنیا پر مطمئن ہو بیٹھتا ہے، اور مجھے تعجب ہے اس شخص پر جس کو آخرت کے حساب پر یقین ہو وہ کیسے عمل کو چھوڑ بیٹھتا ہے، حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ میں پھر یہ سوال کیا کہ کیا ان صحیفوں میں سے کوئی چیز آپ کے پاس آنیوالی وحی میں بھی ہے آپ نے فرمایا اے ابوذر یہ آیتیں پڑھو قد افلح من تزکی۔ وذکر اسم ربہ فصلی۔ آخر سورة اعلیٰ تک (قرطبی) تمت سورة الاعلیٰ بحمد اللہ تعالیٰ لیلة یوم الاحد ٨١ شعبان ٩١٣١
اِنَّ ہٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى ١٨ ۙ صحف الصَّحِيفَةُ : المبسوط من الشیء، کصحیفة الوجه، والصَّحِيفَةُ : التي يكتب فيها، وجمعها : صَحَائِفُ وصُحُفٌ. قال تعالی: صُحُفِ إِبْراهِيمَ وَمُوسی [ الأعلی/ 19] ، يَتْلُوا صُحُفاً مُطَهَّرَةً فِيها كُتُبٌ قَيِّمَةٌ [ البینة/ 2- 3] ، قيل : أريد بها القرآن، وجعله صحفا فيها كتب من أجل تضمّنه لزیادة ما في كتب اللہ المتقدّمة . والْمُصْحَفُ : ما جعل جامعا لِلصُّحُفِ المکتوبة، وجمعه : مَصَاحِفُ ، والتَّصْحِيفُ : قراءة المصحف وروایته علی غير ما هو لاشتباه حروفه، والصَّحْفَةُ مثل قصعة عریضة . ( ص ح ف ) الصحیفۃ کے معنی پھیلی ہوئی چیز کے ہیں جیسے صحیفۃ الوجہ ( چہرے کا پھیلاؤ ) اور وہ چیز جس میں کچھ لکھا جاتا ہے اسے بھی صحیفہ کہتے ہیں ۔ اس کی جمع صحائف وصحف آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ صُحُفِ إِبْراهِيمَ وَمُوسی [ الأعلی/ 19] یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يَتْلُوا صُحُفاً مُطَهَّرَةً فِيها كُتُبٌ قَيِّمَةٌ [ البینة/ 2- 3] پاک اوراق پڑھتے ہیں جس میں مستحکم ( آیتیں ) لکھی ہوئی ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ صحف سے قرآن پاک مراد ہے اور اس کو صحفا اور فیھا کتب اس لئے کہا ہے کہ قرآن میں کتب سابقہ کی بنسبت بہت سے زائد احکام اور نصوص پر مشتمل ہے ۔ المصحف متعدد صحیفوں کا مجموعہ اس کی جمع مصاحف آتی ہے اور التصحیف کے معنی اشتباہ حروف کی وجہ سے کسی صحیفہ کی قرآت یا روایت میں غلطی کرنے کے ہیں ۔ اور صحفۃ ( چوڑی رکابی ) چوڑے پیالے کی طرح کا ایک برتن ۔
آیت ١٨{ اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی ۔ } ” یقینا یہی بات اگلے صحیفوں میں بھی ۔ “ یعنی تذکیر اور ہدایت کا اصل جوہر اور خلاصہ یہی ہے کہ انسان آخرت کو دنیا پر ترجیح دے ‘ کیونکہ دنیا فانی اور وقتی ہے جبکہ آخرت اس سے کہیں بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ہدایت کے حوالے سے یہ بنیادی نکتہ پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی مذکور تھا۔
(87:18) ان ھذا لفی الصحف الاولی : ان حرف تحقیق، بےشک، ھذا یہ مضمون۔ جو افلح سے چوتھی آیت تک مذکور ہے (تفسیر مظہری و خازن) (2) شروع سے لے کر والاخرۃ خیر وابقی تک (جریر، ابن ابی حاتم عن ابن زید) ۔ (3) قد افلح سے لے کر آخر تک (مدارک التنزیل) الصحف الاولی موصوف و صفت، پہلے صحیفوں میں۔ گزشتہ انبیاء کی آسمانی کتابوں میں۔
ان ھذا ............................ موسیٰ اس سورت میں جو مضامین آئے ہیں وہ اس عظیم عقیدہ کے بنیادی اصول ہیں اور یہ وہی بنیادی اصول دعوت ہیں اور اصول دین ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کتابوں اور صحیفوں میں مذکور ہوئے تھے۔ یہ کہ سچائی ایک ہے ، عقیدہ ایک ہے ، اصول دین ایک ہے یہ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سب ادیان ایک اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ ایک ہی ارادہ اور مشیت ہے جس نے ابراہیم اور مولیٰ (علیہما السلام) کو اور پھر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا ارادہ کیا ہے۔ سچائی ایک ہے ، تو اس کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔ ہاں ادیان میں فروعی اختلاف ہیں لیکن وہ اس لئے کہ شریعت و قانون میں اللہ نے وقت کے حالات اور تقاضوں کے مطابق تبدیلی فرمائی۔ البتہ تمام شرائع کی اصل ایک ہے اور ایک ہی سرچشمہ سے تمام شریعتیں نکلیں یعنی اسی رب اعلیٰ کی طرف سے آئیں جس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے متناسب بنایا اور جس نے ہر چیز کو مقدر کیا ، تقدیر بنائی اور ہر چیز کو ہدایت دی۔
﴿اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى ۙ٠٠١٨ صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى (رح) ٠٠١٩﴾ (بلاشبہ یہ ان صحیفوں میں ہے جو پہلے نازل کیے گئے جو ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفے تھے) ۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ ھٰذَا کا ارشاد ﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۙ٠٠١٤﴾ سے لے کر ﴿ وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ؕ٠٠١٧﴾ تک جو مضامین بیان ہوئے ان سب کی طرف ہے۔ صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن مردویہ اور ابن عساکر نے حضرت ابوذر (رض) سے ایک حدیث نقل کی ہے جس کے آخر میں یہ ہے کہ انہوں نے خدمت عالی میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ابراہیم اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے صحیفوں میں سے آپ پر کچھ نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا : ہاں اس کے بعد آپ نے ﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۙ٠٠١٤﴾ سے لے کر ﴿ وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ؕ٠٠١٧﴾ تک آیات تلاوت فرمائیں۔ صاحب روح المعانی نے آخر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ : واللہ تعالیٰ اعلم بصحة الحدیث۔ بعض حضرات نے پوری سورة کے مضامین کو اور بعض حضرات نے مضامین قرآن کو ھذا کا مشار الیہ قرار دیا ہے۔ والعلم عند اللہ العلیم آیت کریمہ ﴿اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ٠٠٣٦ وَ اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤىۙ٠٠٣٧﴾ اور ان کے بعد کی چند آیات کی تفسیر دیکھ لی جائے۔
10:۔ ” ان ھذا “ یہ دونوں دعو وں پر دلیل نقلی ہے۔ مسئلہ توحید جس طرح اس سورت میں مذکور ہے اور دنیا کی بےثباتی اور آخرت کے دوام وبقاء کا مضمون اسی طرح یہ دونوں مضمون پہلے آسمانی صحیفوں یعنی ابراہیم اور موسیٰ علیہما الصلوۃ والسلام کے صحیفوں میں بھی مذکور تھے۔ ” صحف ابراہیم وموسی “ الصحف، الاولی سے بدل ہے۔ سورة الاعلی میں آیات توحید 1 ۔ ” سبح اسم ربک الاعلی “ تا ” فجعلہ غثاء احوی “۔ نفی شرک فی التصرف 2 ۔ ” انہ یعلم الجھر وما یخفی “۔ نفی شرک فی العلم سورة اعلی ختم ہوئی