Surat ul Aala
Surah: 87
Verse: 8
سورة الأعلى
وَ نُیَسِّرُکَ لِلۡیُسۡرٰی ۚ﴿ۖ۸﴾
And We will ease you toward ease.
ہم آپ کیلئے آسانی پیدا کر دیں گے ۔
وَ نُیَسِّرُکَ لِلۡیُسۡرٰی ۚ﴿ۖ۸﴾
And We will ease you toward ease.
ہم آپ کیلئے آسانی پیدا کر دیں گے ۔
And We shall make easy for you the easy. meaning, `We will make good deeds and statements easy for you, and We will legislate such Law for you that is easy, tolerant, straight and just, with no crookedness, difficulty or hardship in it.' The Command to remind Allah then says, فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَى
8۔ 1 یہ بھی عام ہے۔ ہم آپ پر وحی آسان کردیں گے تاکہ اس کو یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہوجائے ہم آپ کے اس طریقے سے رہنمائی کریں گے جو آسان ہوگا، ہم جنت والا عمل آپ کے لئے آسان کردیں گے۔ ہم آپ کے لیے ایسے اقوال و افعال آسان کردیں گے جن میں خیر ہو اور ہم آپ کے لیے ایسی شریعت مقرر کریں گے جو سہل، مستقیم، اور معتدل ہوگی جس میں کوئی کجی، عسر اور تنگی نہیں ہوگی۔
[٧] اس آیت کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ آپ کو بلاتکلیف سہولت کے ساتھ قرآن یاد رہے گا۔ دوسرا یہ کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آسان اور سہل شریعت پر چلائیں گے۔ تیسرا یہ کہ شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہونا ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے آسان بنادیں گے۔ چوتھا یہ کہ اسلام کے راستہ سے ہم تمام رکاوٹوں کو دور کردیں گے اور کامیابی کی راہ پر گامزن ہونا آپ کے لیے آسان بنادیں گے۔ پانچواں یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذمہ داری بس اتنی ہی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں۔ اس سے آگے کسی مشکل میں پڑنا یا بہ جبر لوگوں کو اسلام کی طرف لانا آپ کی ذمہ داری نہیں۔
ونیسرک للیسری : یعنی ہم آپ کے لئے یہ آسانی فرمائیں گے کہ آپ کے خاموش رہ کر سننے جانے سے آپ کو وحی الٰہی یاد ہوجائے گی۔
وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَىٰ (And We will facilitate for you [ to reach ] the easiest way....87:8). The phrase the easiest way& refers to the sacred laws of Islam. Apparently, according to the demand of the context, it should have been stated &We will make the Shari&ah easy for you&. But the Qur&an chose, instead, to state &And We will facilitate for you (to reach) the easiest way. [ 8] &. The reason for that, probably, is to indicate that Allah will predispose him to the sacred laws, so that they will become part of his nature, and he will become an embodiment of Shari&ah.
ونسیرک للیسری، لفظی ترجمہ اس کا یہ ہے کہ ہم آپکو طریقہ یسریٰ کے لئے آسان کردینگے، طریقہ یسریٰ سے مراد شریعت اسلام ہے بظاہر مقتضائے مقام یہ تھا کہ یہ فرمایا جاتا کہ ہم اس طریقہ اور شریعت کو آپ کے لئے آسان کردینگے مگر قرآن کریم نے اس کو چھوڑ کر یہ فرمایا کہ ہم آپ کو اس طریقہ کے لئے آسان کردینگے۔ حکمت اسی میں یہ بتلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو طبعی اور مادی طور پر ایسا بنادیں گے کہ شریعت آپکی طبیعت بنجائے اور آپ شریعت کے سانچہ میں ڈھل جائیں۔
وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى ٨ ۖ يسر اليُسْرُ : ضدّ العسر . قال تعالی: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] ، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] ، فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] وتَيَسَّرَ كذا واسْتَيْسَرَ أي تسهّل، قال : فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة/ 196] ، فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل/ 20] أي : تسهّل وتهيّأ، ومنه : أَيْسَرَتِ المرأةُ ، وتَيَسَّرَتْ في كذا . أي : سهَّلته وهيّأته، قال تعالی: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ [ القمر/ 17] ، فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ مریم/ 97] واليُسْرَى: السّهل، وقوله : فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرى[ اللیل/ 7] ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرى [ اللیل/ 10] فهذا۔ وإن کان قد أعاره لفظ التَّيْسِيرِ- فهو علی حسب ما قال عزّ وجلّ : فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِيمٍ [ آل عمران/ 21] . واليَسِيرُ والمَيْسُورُ : السّهلُ ، قال تعالی: فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً [ الإسراء/ 28] واليَسِيرُ يقال في الشیء القلیل، فعلی الأوّل يحمل قوله : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَكانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً [ الأحزاب/ 30] ، وقوله : إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] . وعلی الثاني يحمل قوله : وَما تَلَبَّثُوا بِها إِلَّا يَسِيراً [ الأحزاب/ 14] والمَيْسَرَةُ واليَسَارُ عبارةٌ عن الغنی. قال تعالی: فَنَظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ [ البقرة/ 280] واليَسَارُ أختُ الیمین، وقیل : اليِسَارُ بالکسر، واليَسَرَاتُ : القوائمُ الخِفافُ ، ومن اليُسْرِ المَيْسِرُ. ( ی س ر ) الیسر کے معنی آسانی ار سہولت کے ہیں یہ عسر کی ضد ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے ۔ اور سختی نہیں چاہتا ۔ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا ۔ وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] بلکہ اس سے نرم بات کہیں گے ۔ فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] پھر نر می سے چلتی ہیں ۔ تیسر کذا واستیسرکے معنی آسان ہو نیکے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة/ 196] اگر رستے میں روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو کردو ۔ فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل/ 20] تو جتنا آسانی سے ہو سکے پڑھ لیا کرو ۔ اسی سے الیسرت المرءۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی عورت کے سہولت سے بچہ جننے کے ہیں ۔ یسرت کذا کے معنی کسی کام آسان اور سہل کردینے کے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ [ القمر/ 17] اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ۔ فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ مریم/ 97] اے پیغمبر یہ قران تمہاری زبان میں آسان نازل کیا ہے ۔ الیسری اسم بمعنی یسر قرآن پاک میں ہے : فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرى[ اللیل/ 7] اس کو ہم آسان طریقے کی توفیقی دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرى [ اللیل/ 10] اسے سختی میں پہنچا ئنگے ۔ میں عسریٰ کے ساتھ تیسیر کا لفظ بطور تحکم لایا گیا ہے جس طرح کہ آیت : ۔ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِيمٍ [ آل عمران/ 21] میں عذاب کے متعلق بشارت کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ الیسیر والمیسور سہل اور آسان قرآن پاک میں ہے : ۔ فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً
(٨۔ ١٣) اور ہم آپ کو تبلیغ رسالت کے لیے اور تمام طاعتوں کے لیے سہولت دے دیں گے اور قرآن کریم کے ذریعے سے نصیحت کیا کیجیے اور سب کو یہ نصیحت مفید نہیں ہوسکتی، سوائے اس مومن کے جو اس نصیحت کو قبول کرتا ہو اور اللہ سے ڈرتا ہو اور جو سخت بد نصیب ہے وہ قرآنی نصیحتوں اور اللہ تعالیٰ سے دور بھاگتا ہے، بالاخر دوزخ کی بڑی آگ میں داخل ہوگا کہ اس سے بڑا عذاب اور کوئی نہیں اور پھر اس دوزخ میں نہ مر ہی جائے گا کہ چھٹکارا ہوجائے گا اور نہ آرام کی زندگی پائے گا۔
آیت ٨{ وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی ۔ } ” اور ہم رفتہ رفتہ پہنچائیں گے آپ کو آسانی تک۔ “ تَیْسِیْر یُسر سے باب تفعیل ہے۔ اس باب میں تدریج کے معنی پائے جاتے ہیں۔ چناچہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم مشکلات میں سے رفتہ رفتہ آپ کے لیے راستہ بناتے چلے جائیں گے اور اس آسان راستے پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تدریجاً ایک بڑی آسانی کی طرف لے جائیں گے۔ اس سے مراد اس دنیا میں غلبہ دین کی جدوجہد کی کامیابی اور آخرت میں جنت اور اس کی آسائشیں ہیں۔ ہم چاہیں تو آنِ واحد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام دشمنوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سرنگوں کردیں اور تمام جن و انس کو ایمان کی توفیق بخش دیں ‘ لیکن ہماری حکمت اور مشیت میں اس معاملے کی ایک تدریج ہے۔ چناچہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جدوجہد کو مرحلہ وار اور رفتہ رفتہ کامیابی سے ہمکنار کریں گے۔ اس فلسفے کی مزید وضاحت آگے چل کر سورة الشمس میں آئے گی۔
4: اﷲ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو جو شریعت عطا فرمائی ہے، وہ بذات خود آسان ہے، پھر مزید تسلی دی گئی ہے کہ ہم اس پر چلنے کو بھی آپ کے لئے آسان کردیں گے۔
(87:8) ونیسرک للیسری واؤ عاطفہ ہے۔ نیسرک کا عطف سنقرئک پر ہے ہم تیرے لئے آسان بات کو سہل کردیں گے نیسر فعل مضارع صیغہ جمع متکلم تیسیر (تفعیل) مصدر سے ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تیرے لئے ہم سہولت پیدا کردیتے ہیں یا کردیں گے۔ یسر ضد ہے عسر کی۔ آسانی ، سہولت۔ الیسری۔ واحد مؤنث اسم تفصیل معرف باللام ۔ الیسر واحد مذکر، یسر مصدر ہے ۔ یسر ییسر کا۔ (آسان ہونا) ۔ آسان (شریعت) یا عمل جنت ، یعنی عمل خیر (ابن عباس ) آسان طریقہ ۔ یعنی وہ عمل جو رضا الٰہی کے حصول کا سبب ہو۔ (معالم التنزیل) ۔ صاحب تفسیر ضیاء القرآن اس آیت کی تشریح میں حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں :۔ حقیقت میں شریعت اسلامیہ کا بنایا ہوا طریقہ بڑا آسان ہے کیونکہ اس کے قوانین فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں۔ اس کی صلاحیتوں کی نشو و نما میں بڑے معاون ثابت ہوئے ہیں لیکن بعض لوگ جن کے مزاج بگڑ چکے ہوتے ہیں انہیں اس راہ پر قدم اٹھانا بڑا مشکل معلوم دیتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ وہ اس دین کو قبول کرنا آسان بنا دے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کے لئے اس پر کاربند رہنا آسان بنادیا ہے اسی لئے حضرت صدیقہ (رض) سے جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق حسنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کان خلقہ القران۔ آپ کا خلق قرآن تھا۔
ف 19 یعنی وحی کا یاد رکھنا ہو یا کوئی بھی نیکی کا کام وہ ہماری توفیق کی بدلوت آپ پر آسان ہوجائیگا۔
3۔ پس اس سے کسی چیز کی مصلحت مخفی نہیں اس لئے جب محفوظ رکھنا مصلحت ہوتا ہے محفوظ رکھتے ہیں۔ جب بھلا دینا مصلحت ہو بھلا دیتے ہیں۔
(8) اور ہم اس دین کے لئے آپ کو آسانیاں بہم پہنچائیں گے۔ یسریٰ کے معنی بعض مفسرین نے شریعت کئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وحی کا یاد کرنا آسان ہوجائے گا۔ بہرحال ! دین یا شریعت جو حقیقت میں آسان ہے اس کو تبلیغ کے لئے ہر پیغمبر آسانیاں طلب کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول مشہور ہے ویسرلی فی امری یعنی میرے کام میں آسانیاں بہم پہنچا، یہاں اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمادیا ونیسرک للیسری یعنی ہم بتدریج آپ کو آسانی تک پہنچا دیں گے وحی کی حفاظت ہو یا دین یسر کی تبلیغ ہو، نوفقک للشرایعۃ الیسری۔ بہرحال آپ کے کام میں آسانیاں پیدا کی جائیں گی وہ تبلیغ ہو یا تنظیم ہو یا سیاسی امور کی دیکھ بھال ہو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرماایا الدین یسر بہرحال دین کی اشاعت اور اس کی عام مقبولیت میں آپ کو بتدریج کامیابی ہوگی۔