Surat ul Ghashiya

Surah: 88

Verse: 26

سورة الغاشية

ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا حِسَابَہُمۡ ﴿۲۶﴾٪  13 النصف

Then indeed, upon Us is their account.

پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then verily, for Us will be their reckoning. meaning, `We will reckon their deeds for them and requite them for those deeds.' If they did good, they will receive good, and if they did evil, they will receive evil. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Ghashiyah and all praise and blessings are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 مشہور ہے کہ اس کے جواب میں اللھم حاسبنا حسابا یسیرا۔ پڑھا جائے، یہ دعا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے جو آپ اپنی بعض نمازوں میں پڑھتے تھے، جیسا کہ سورة انشقاق میں گزرا لیکن اس کے جواب میں پڑھنا یہ آپ سے ثابت نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَہُمْ۝ ٢٦ ۧ حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ، وقیل : لا يعلم حسبانه إلا الله، وقال عزّ وجل : وَيُرْسِلَ عَلَيْها حُسْباناً مِنَ السَّماءِ [ الكهف/ 40] ، قيل : معناه : نارا، وعذابا وإنما هو في الحقیقة ما يحاسب عليه فيجازی بحسبه، وفي الحدیث أنه قال صلّى اللہ عليه وسلم في الریح : «اللهمّ لا تجعلها عذابا ولا حسبانا»، قال تعالی: فَحاسَبْناها حِساباً شَدِيداً [ الطلاق/ 8] ، إشارة إلى نحو ما روي : «من نوقش الحساب عذّب» وقال تعالی: اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسابُهُمْ [ الأنبیاء/ 1] ، نحو : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، وَكَفى بِنا حاسِبِينَ [ الأنبیاء/ 47] ، وقوله عزّ وجلّ : وَلَمْ أَدْرِ ما حسابِيَهْ [ الحاقة/ 26] ، إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلاقٍ حِسابِيَهْ [ الحاقة/ 20] ، فالهاء فيها للوقف، نحو : مالِيَهْ وسُلْطانِيَهْ وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسابِ [ آل عمران/ 199] ، وقوله عزّ وجلّ : جَزاءً مِنْ رَبِّكَ عَطاءً حِساباً [ عم/ 36] ، فقد قيل : کافیا، وقیل : ذلك إشارة إلى ما قال : وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى [ النجم/ 39] ، ( ح س ب ) الحساب کے معنی گنتے اور شمار کرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ حسبت ( ض ) قرآن میں ہے : ۔ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] اور برسوں کا شمار اور حساب جان لو ۔ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔ اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ان کے حسبان ہونے کی حقیقت خدا ہی جانتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَيُرْسِلَ عَلَيْها حُسْباناً مِنَ السَّماءِ [ الكهف/ 40] اور وہ تمہارے باغ ) پر آسمان سے آفت بھیج دے میں بعض نے کہا ہے کہ حسبا نا کے معنی آگ اور عذاب کے ہیں اور حقیقت میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس پر محاسبہ کای جائے اور پھر اس کے مطابق بدلہ دیا جائے ۔ حدیچ میں ہے آنحضرت نے آندھی کے متعلق فرمایا : ۔ کہ الہیٰ ؟ اسے عذاب یا حسبان نہ بنا اور آیت کریمہ : ۔ فَحاسَبْناها حِساباً شَدِيداً [ الطلاق/ 8] تو تم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا ۔ میں حدیث کہ جس سے حساب میں سختی کی گئی اسے ضرور عذاب ہوگا کے مضمون کی طرف اشارہ ہے اور آیت کریمہ : ۔ اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسابُهُمْ [ الأنبیاء/ 1] لوگوں کا حساب ( اعمال کا وقت ) نزدیک آپہنچا ) اپنے مضمون میں وَكَفى بِنا حاسِبِينَ [ الأنبیاء/ 47] کی طرح ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلَمْ أَدْرِ ما حسابِيَهْ [ الحاقة/ 26] اور مجھے معلوم نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے ۔ اور آیت : ۔ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلاقٍ حِسابِيَهْ [ الحاقة/ 20] مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب ( وکتاب ) ضرور ملے گا ۔ میں ہ وقف کی ہے جیسا کہ میں ہے ۔إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسابِ [ آل عمران/ 199] بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ جَزاءً مِنْ رَبِّكَ عَطاءً حِساباً [ عم/ 36] یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے صلہ ہے انعام کثیر میں بعض نے کہا ہے کہ حسابا کے معنی کافیا کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت : ۔ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى [ النجم/ 39] کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٦{ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَہُمْ ۔ } ” پھر ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تذکیر اور یاد دہانی کے حوالے سے اپنا فرض ادا کرتے جایئے۔ ان کی جوابدہی اور حساب کا معاملہ آپ ہم پر چھوڑ دیں۔ یہ وہی انداز اور اسلوب ہے جو اس گروپ کی سورتوں میں قبل ازیں بھی کئی بار آچکا ہے۔ اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں مشرکین کو مہلت دینے کا ذکر بہت خصوصیت کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً سورة المزمل میں فرمایا گیا : { وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَۃِ وَمَہِّلْہُمْ قَلِیْلًا ۔ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں ‘ جو بڑی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں اور ابھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں کچھ مہلت دیں “۔ اسی طرح سورة الطارق کی آخری آیت میں بھی یہ مضمون خصوصی اسلوب کے ساتھ آیا ہے۔ اس آیت میں اس مفہوم کے دو صیغے (مَھِّلْ ۔ اَمْھِلْ ) باب تفعیل اور باب افعال سے آئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ان سب کو لوٹ کر ہماری ہی طرف آنا ہے۔ پھر ان کا حساب ہمارے ذمہ ہے ! “ اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا ۔ آمین یاربّ العالمین !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(88:26) ثم ان علینا حسابھم : ثم تراخی فی الرتبہ کے لئے ہے۔ بیشک ان سے حساب لینا ہمارا ذمہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اس آیت کے خاتمہ پر اللھم حاسبنا حساباً یسراً کہنا مستحب ہے یعنی اے اللہ ہم سے آسان حساب لے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(26) پھر ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا ہے۔ یعنی ان کی واپی موت اور بعث کے بعد ہماری طرف ہے اور ہمارے سوا اور کسی کے پاس ان کی بازگشت نہیں ہے پھر ان کا حساب لینا بھی ہمارا ہی کام ہے ہمارے سوا اور کوئی حساب نہیں لے سکتا ہم ہر چھوٹی بڑی چیز اور ان کی نیت اور ان کے اعمال کا حساب ان سے لیں گے۔ وکفی بنا حاسبین اللھم حاسبنی حسابا یسیرا مصیطر کو بعض قراء نے صاد سے اور بض نے سین سے پڑھا ہے۔ تم تفسیر سورة الغاشیۃ