Surat uz Dhuha

Surah: 93

Verse: 9

سورة الضحى

فَاَمَّا الۡیَتِیۡمَ فَلَا تَقۡہَرۡ ؕ﴿۹﴾

So as for the orphan, do not oppress [him].

پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Therefore, treat not the orphan with oppression. meaning, `just as you were an orphan and Allah sheltered you, then do not oppress the orphan.' In other words, `do not humiliate him, scorn him or despise him. Rather, you should be kind and gentle to him.' Qatadah said, "Be like a merciful father to the orphan." وَأَمَّا السَّايِلَ فَلَأ تَنْهَرْ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

9۔ 1 بلکہ اس کے ساتھ نرمی واحسان کا معاملہ کر۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] یتیم کی کفالت :۔ یعنی جس طرح ہم نے تمہاری یتیمی کے دوران ہر مرحلہ پر تمہارا خیال رکھا اسی طرح تم بھی یتیموں سے بہترین سلوک کرو۔ نہ انہیں دباؤ نہ ان پر سختی کرو، نہ انہیں بےیارو مددگار چھوڑ دو بلکہ ان کی ضرورتوں کا پورا پورا خیال رکھا کرو۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے مسلمانوں کو بھی یتیموں کی کفالت اور ان سے حسن سلوک کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ : میں اور یتیم کا کفیل جنت میں اس طرح (اکٹھے) ہوں گے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی شہادت کی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کیا اور انہیں تھوڑا سا کھول دیا (بخاری، کتاب الادب۔ باب فضل من یعول یتیما)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(فاما الیتیم فلا تقھر : آپ نے یتیمی اور اس کی تلخی اور بےچارگی دیکھی ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح آپ کو جگہ دی اور آپ پر بےپناہ مہربانیاں فرمائیں، اب دونوں چیزوں کا تقاضا ہے کہ یتیم پر سختی نہ کرو بلکہ زیادہ سے زیادہ حسن سلوک کرو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Injunction [ 1] فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ‌ (Therefore, as for orphan, do not oppress him,...93:9). The word qahr means &to treat people who are less powerful in an unfair and cruel way&. In the present context, the verse means: &Since you were a poor orphan, and Allah sheltered you, do not oppress the orphan.& [ In words, &do not seize their wealth by force and squander it. Do not scorn them, humiliate them or despise them. Rather, you should be kind and gentle to them.&] As a result, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) emphasised that the orphan be treated kindly and gently, and has forbidden any hurting attitude towards them. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said that the best house of a Muslim is the one in which there is an orphan who is treated kindly, and with love and affection. The worst house is the one in which there is an orphan who is treated badly. [ This is transmitted by Bukhari in Al-Adab-ul- Mufrad, and by Ibn Majah and Baghawi, as quoted by Mazhari ].

ان تینوں نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد آپ کو تین چیزوں کا حکم دیا گیا، اول فاما البیتیم فلا تقھر، قہر کے معنے غلبہ اور جبری تسلط کے ہیں، مراد یہ ہے کہ آپ کسی یتیم کو ضعیف اور بےوارث سمجھ کر اس کے اموال و حقوق پر اس طرح مسل نہ ہوں کہ اس کا حق ضائع ہوجائے اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یتیم کے ساتھ شفقت کے معاملے کی تاکید فرمائی اور اس کے ساتھ دل شکنی کا برتاؤ کرنے سے منع فرمایا، ارشاد ہے کہ مسلمانوں کے گھروں میں بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ احسان و محبت کا سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے برا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو (رواہ البخاری فی الادب المفرد، وابن ماجہ والبغوری، مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْہَرْ۝ ٩ ۭ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام کے لئے آتا ہے جیسے امابعد فانہ کذا ۔ يتم اليُتْمُ : انقطاع الصَّبيِّ عن أبيه قبل بلوغه، وفي سائر الحیوانات من قِبَلِ أمّه . قال تعالی: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی[ الضحی/ 6] ، وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] وجمعه : يَتَامَى. قال تعالی: وَآتُوا الْيَتامی أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 2] ، إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوالَ الْيَتامی [ النساء/ 10] ، وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الْيَتامی [ البقرة/ 220] وكلُّ منفردٍ يَتِيمٌ ، يقال : دُرَّةٌ يَتِيمَةٌ ، تنبيها علی أنّه انقطع مادّتها التي خرجت منها، وقیل : بَيْتٌ يَتِيمٌ تشبيها بالدّرّة اليَتِيمَةِ. ( ی ت م ) الیتم کے معنی نا بالغ بچہ کے تحت شفقت پدری سے محروم ہوجانے کے ہیں ۔ انسان کے علاوہ دیگر حیوانات میں یتم کا اعتبار ماں کیطرف سے ہوتا ہے اور جانور کے چھوٹے بچے کے بن ماں کے رہ جانے کو یتم کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی[ الضحی/ 6] بھلا اس نے تمہیں یتیم پاکر جگہ نہیں دی ۔ وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] یتیموں اور قیدیوں کو یتیم کی جمع یتامیٰ ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَآتُوا الْيَتامی أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 2] اور یتیموں کا مال ( جو تمہاری تحویل میں ہو ) ان کے حوالے کردو ۔ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوالَ الْيَتامی [ النساء/ 10] جو لوگ یتیموں کا مال ( ناجائز طور پر ) کھاتے ہیں ۔ وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الْيَتامی [ البقرة/ 220] اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریاقت کرتے ہیں ۔ مجازا ہر یکتا اور بےمثل چیز کو عربی میں یتیم کہاجاتا ہے ۔ جیسا کہ گوہر یکتا درۃ یتیمۃ کہہ دیتے ہیں ۔ اور اس میں اس کے مادہ کے منقطع ہونے پر تنبیہ کرنا مقصود ہوتا ہے اور درۃ کے ساتھ تشبیہ دے کر یکتا مکان کو بھی یتیم کہہ دیا جاتا ہے ۔ قهر القَهْرُ : الغلبة والتّذلیل معا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] ، وقال : وَهُوَ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [ الرعد/ 16] ، فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] ، فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلا تَقْهَرْ [ الضحی/ 9] أي : لا تذلل، وأَقْهَرَهُ : سلّط عليه من يقهره، والْقَهْقَرَى: المشي إلى خلف . ( ق ھ ر ) القھر ۔ کے معنی کسی پر غلبہ پاکر اسے ذلیل کرنے کے ہیں اور ان دنوں ( یعنی غلبہ اور تذلیل ) میں ستے ہر ایک معنی میں علیدہ علیدہ بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ وَهُوَ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [ الرعد/ 16] اور وہ یکتا اور زبردست ہے ۔ ۔ فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] اور بےشبہ ہم ان پر غالب ہیں ۔ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلا تَقْهَرْ [ الضحی/ 9] تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرو اسے ذلیل نہ کرو ۔ اقھرہ ۔ کسی پر ایسے شخص کو مسلط کرنا جو اسے ذلیل کردے ۔ القھقری پچھلے پاؤں لوٹنا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

یتیم پر نرمی کا حکم قول باری ہے (فاما الیتیم فلا تقھمر۔ لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو) ایک قول کے مطابق ” اس پر ظلم کرکے اور اس کا مال چھین کر اس پر سختی نہ کرو۔ “ یتیم کا خصوصیت کے ساتھ اس لئے ذکر کیا کہ اللہ کے سوا اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کے معاملے میں شدت اختیار کی گئی تاکہ اس پر ظلم کرنے والے کو سزا بھی سخت دی جائے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (اتقوا ظلم من لا ناصرلہ غیر اللہ۔ اس شخص پر ظلم کرنے سے بچو جس کا اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں)

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩{ فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ ۔ } ” تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔ “ جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یتیمی میں اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کفالت وغیرہ کا بندوبست کیا ‘ اسی طرح اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی یتیموں کی سرپرستی کریں اور انہیں لوگوں کی زیادتیوں سے بچائیں

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 That is, "As you yourself have been an orphan, and Allah graced you with the bounty that he made the best possible arrangements to help you in that state, therefore, in gratitude you should see that no orphan is treated unjustly and harshly."

سورة الضُّحٰی حاشیہ نمبر :9 یعنی تم چونکہ خود یتیم رہ چکے ہو ، اور اللہ نے تم پر یہ فضل فرمایا کہ یتیمی کی حالت میں بہترین طریقے سے تمہاری دستگیری کی ، اس لیے اس کا شکرانہ یہ ہے کہ تمہارے ہاتھ سے کبھی کسی یتیم پر ظلم اور زیادتی نہ ہونے پائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(93:9) فاما الیتیم فلا تقھر : اما بمعنی لیکن یا سو۔ حرف شرط ہے اور اکثر حالت میں تفصیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تاکید کے لئے بھی۔ یہاں تفصیل کے لئے آیا ہے۔ لاتقھر فعل نہی کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو نہ دبا۔ تو ظلم نہ کر۔ قھر (باب فتح) سے جس کے معنی دوسرے پر غلبہ کرنے۔ دبانے اور ذلیل کرنے کے ہیں۔ قھر کے معنی غلبہ اور تذلیل دونوں ایک ساتھ ملحوظ ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک معنی میں علیحدہ علیحدہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ وھو القاھر فوق عبادہ (6:18) (وہی غالب ہے اپنے بندوں پر) میں محض غلبہ کے معنی میں آیا ہے۔ اور آیر زیر مطالعہ میں محض تذلیل کے معنی میں آیا ہے کہ یتیم کو ذلیل مت کرو۔ تفسیر الخازن میں ہے :۔ ای لا تحقر الیتیم فقد کنت یتیما۔ یتیم کی تحقیر مت کرو آپ بھی تو یتیم تھے ۔ یہاں سے اخیر سورة تک معترضہ جملے ہیں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یتیم اور عائل یعنی نادار ہونے کا ذکر کرکے ذیل میں یتیم اور سائل کے احکام کا ذکر کردیا۔ (تفسیر مظہری)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی کسی پہلو سے اس پر ظلم نہ کرو اور نہ اسے حقیر جانو بلکہ اس کی دلجوئی اور خبر گیری کرتے رہو۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” جنت میں “ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا یوں ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں یہ کہتے ہوئے آپ نے بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یتیموں اور غریبوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی خصوصی تلقین۔ یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہر صاحب حیثیت کا فرض ہے لیکن یہ فرض اس شخص کے لیے زیادہ اہم ہوجاتا ہے جس نے یتیمی میں آنکھ کھولی اور غریبی میں پرورش پائی ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے مقام عطا فرمائے اور وسائل سے ہمکنار کرے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دوسروں سے بڑھ کر یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امت کا سربراہ بنایا اور فتح مکہ کے بعد وسائل کے دروازے کھول دئیے۔ اس لیے آپ کو حکم دیا گیا کہ یتیم کو نہیں جھڑکنا اور سائل سے روگردانی اختیار نہیں کرنی اور اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرتے رہنا۔ (عَنْ سَہْلٍ (رض) قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیمِ فِی الْجَنَّۃِ ہَکَذَا وَأَشَار بالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی، وَفَرَّجَ بَیْنَہُمَا شَیْءًا) (رواہ البخاری : باب فضل من یعول یتیما) ” حضرت سہل (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِيُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) السَّاعِيْ عَلَی الْأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوِ الْقَاءِمِ اللَّیْلَ الصَّاءِمِ النَّھَارَ ) (رواہ البخاری : باب فضل النفقۃ علی الأھل) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیوہ اور مسکین پر نگران اللہ کی راہ میں مجاہد کی طرح ہے یا رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ “ حقیقی سائل کو جھڑکنے کی اجازت نہیں : (عنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ قَسَمَ رَسُول اللّٰہِ َ قَسْمًا فَقُلْتُ وَاللّٰہِ یَا رَسُول اللّٰہِ لَغَیْرُ ہَؤُلَاءِ کَانَ أَحَقَّ بِہِ مِنْہُمْ قَالَ إِنَّہُمْ خَیَّرُونِی أَنْ یَسْأَلُونِی بالْفُحْشِ أَوْ یُبَخِّلُونِی فَلَسْتُ بِبَاخِل) (صحیح مسلم، بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ سَأَلَ بِفُحْشٍ وَغِلْظَۃٍ ) ” حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کا کچھ مال تقسیم فرمایا۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس کے مستحق تو دوسرے لوگ ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان لوگوں نے مجھے مجبور کردیا ہے یا تو وہ مجھ سے بےحیائی اور ڈھٹائی سے مانگیں یا وہ مجھے بخیل کہیں اور میں بخل کرنے والا نہیں ہوں۔ “ (عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِی ثَوْبٍ دُونٍ فَقَالَ لَہٗ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَلَکَ مَالٌ قَالَ نَعَمْ مِنْ کُلِّ الْمَالِ قَالَ مِنْ أَیِّ الْمَالِ قَالَ قَدْ آتَانِی اللّٰہُ مِنْ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَیْلِ وَالرَّقِیقِ قَالَ فَإِذَا آتَاک اللّٰہُ مَالًا فَلْیُرَ عَلَیْکَ أَثَرُ نِعْمَۃِ اللّٰہِ وَکَرَامَتِہٖ ) (رواہ النسائی : کتاب الزینۃ، باب الجلاجل ) ” حضرت ابو الاحوص اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بالکل معمولی کپڑوں میں آئے تو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے پاس مال ہے انھوں نے کہا ہاں ہر طرح کا مال ہے نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کون کون سا ؟ میرے والد نے کہا اللہ نے اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام اور لونڈیاں بھی دی ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے تو اس کی نعمت اور فضل کے آثار بھی تم پر دکھائی دینے چاہئیں۔ “ مسائل ١۔ یتیم پر سختی نہیں کرنی چاہیے۔ ٢۔ حقیقی سائل کو جھڑکنے کی اجازت نہیں۔ ٣۔ اپنے رب کی نعمتوں کا شکریہ اور اظہار کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن یتیموں اور مسکینوں کے حقوق : ١۔ یتیم تمہارے بھائی ہیں۔ (البقرۃ : ٢٢٠) ٢۔ یتیموں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم۔ (البقرۃ : ٨٣) ٣۔ یتیموں کا مال واپس کیا جائے۔ (النساء : ٢) ٤۔ یتیموں کا مال بلوغت کی عمر کو پہنچنے پر واپس کرو۔ (النساء : ٦) ٥۔ یتیموں کو مال دو تو اس پر گواہ کرلو۔ (النساء : ٦) ٦۔ یتیموں کا مال کھانا بڑا گناہ ہے۔ (النساء : ٢) ٧۔ یتیم کو جھڑکنے کی ممانعت۔ (الضحیٰ : ٩) ٨۔ والدین، یتیموں، اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ (النساء : ٣٦) ٩۔ یتیم کا مال کھانے والا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔ (النساء : ١٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فاما ........................................ فحدث یہ ہدایات کہ یتیم کا اکرام کرو ، اس پر سختی نہ کرو ، اس کی دل شکنی نہ کرو ، سائل کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ، سائل کی عزت کرو۔ یہ ہدایات مکہ کی نہایت ہی منکر حق اور دولت پرست ، سوسائٹی میں بہت ضروری تھیں ، جس میں ضعیف اور قوت نہ رکھنے والا شخص اپناحق حاصل نہ کرسکتا تھا ، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا ، لیکن جب اسلامی نظام نافذ ہوا تو اسلامی شریعت نے اس سوسائٹی کو حق پرست اور عدالت گستر سوسائٹی بنا دیا ، لوگ نہایت محتاط ہوگئے ، اللہ کے حدود پر رکنے لگے۔ اور وہ ایک طرف حدود اللہ کو قائم کرنے لگے اور دوسری طرف حقوق العباد کے محافظ ہوگئے ، خصوصاً ایسے لوگوں کے حقوق کے محافظ ہوگئے جن کے پاس قوت نہ تھی ، جو تلوار کے ذریعہ اپنا حق نہیں لے سکتے تھے۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان کرنے سے نعمت کا شکر ادا ہوتا ہے اور اس سے نعمت پاک بھی ہوتی ہے اور عملاً شکر کی ادائیگی بھی ہوتی ہے۔ اور خاموش گفتگو اور شریفانہ گفتگو بھی شکرالٰہی ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ٠٠٩﴾ (سو آپ یتیم پر سختی نہ کیجئے) ۔ چونکہ آپ نے یتیمی کا زمانہ گزارا ہے اور آپ کو معلوم تھا کہ ماں باپ کا سایہ اٹھ جانے سے کیسی زندگی گزرتی ہے اس لیے آپ کو خطاب کر کے فرمایا کہ یتیم پر سختی نہ کرنا گو خطاب آپ کو ہے لیکن اس میں ساری امت کو تلقین فرما دی کہ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ نہ کریں یتیم کی پرورش کرنے اور اس کے ساتھ رحمت اور شفقت کا برتاؤ کرنے کی احادیث شریفہ میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضرت ابوامامہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ ہاتھ پھیرنا صرف اللہ کی رضا کے لیے تھا تو ہر بال جو اس کے ہاتھ کے نیچے آئے اس کے بدلہ میں بہت سی نیکیاں دی جائیں گی اور جس نے کسی یتیم لڑکے یا لڑکی کے ساتھ اچھا سلوک کیا میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے لفظ ” اس طرح “ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ساتھ ملایا۔ (رواہ احمد والترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ ٧٢٣)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” فاما الیتیم “ یہ تینوں امور پہلے تینوں امور پر مرتب ہیں بطور لف و نشر مرتب۔ امر اول، ” الم یجدک یتیما فاوی “ پر مرتب ہے۔ چونکہ آپ بھی اس حال سے گذرے ہیں اور یتیمی کا مزہ آپ نے بھی چکھا ہے اس لیے کسی یتیم پر سختی نہ کرنا اور نہ اس کو جھڑکنا۔ ” واما السائل فلا تنھر “ یہ ” ووجدک ضالا فھدی “ پر متفرع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و شریعت کے علوم و معارف سے مالا مال کردیا ہے اس لیے اگر کوئی علم دین کا سائل حاضر خدمت ہو تو اس کو مت ڈانٹنا بلکہ اس کو علم دین سے سیراب کردینا ” واما بنعمۃ ربک فحدث “ یہ ” ووجدک عائلا فاغنی “ پر متفرع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دولت عطا کی اس لیے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کر اور اس کا اقرار و اعتراف کر کیونکہ جب تنگی کے بعد فراخی آتی ہے تو اس کا خوب اقرار ہوتا ہے۔ سورة الضحیٰ ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(9) سو آپ یتیم پر کسی قسم کا دبائو نہ ڈالیے۔