Surat ul Alaq

Surah: 96

Verse: 3

سورة العلق

اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ ۙ﴿۳﴾

Recite, and your Lord is the most Generous -

تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تو قاری ہی نہیں اللہ نے فرمایا، اللہ بہت کرم والا ہے پڑھ، یعنی انسانوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرنا اس کا وصف خاص ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] اللہ اکرم کس لحاظ سے ہے ؟ جس نے انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی زندگی کی بقا کے وہ تمام اسباب مہیا کردیئے جو اس غرض کی تکمیل کے لیے ضروری تھے۔ پھر انسان کو ان اسباب سے کام لینے اور انہیں استعمال کرنے کا طریقہ بھی اس کی فطرت میں رکھ دیا۔ اسی پروردگار کا نام لے کر آپ پڑھیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) اقرا و ربک الاکرم…: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دہشت زدہ ہوجانے کی وجہ یس دوبارہ فرمایا، پڑھ ! تجھے وہ پڑھا رہا ہے جس سے زیادہ کرم والا کوئی نہیں۔ (٢) یہ اس کے کرم کی انتہا ہے کہ اتنی حقیر چیز سے پیدا ہونے والے انسان کو علم جیسی بلند ترین صفت سے نواز دیا، بلکہ قلم کے ساتھ علم سکھایا، جس سے علم محفوظ ہوتا اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے۔ یہ نہ ہوتا تو علم محدود اور پھر معدوم ہوجاتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse [ 3] اقْرَ‌أْ وَرَ‌بُّكَ الْأَكْرَ‌مُ (Read, and your Lord is the most gracious.) The command iqra& [ Read ] has been repeated in this verse for two reasons: The first command in verse [ 1] was for the Holy Prophet himself to read or recite. The second command in this verse is to proclaim, convey, communicate and teach or preach. It is not inconceivable that the command iqra& is repeated by deliberate design for emphasis. The Divine attribute al-Akram &the Most Gracious& signifies that Allah did not create the world or man for any ulterior motive, for selfish motivation or for His own benefit. He has done it out of His infinite grace, generosity and magnanimity. He endowed upon the universe the great favour of existence without asking for it.

اقرا و ربک الاکرم یہاں لفظ اقرا کو مکرر لایا گیا ہے جس کی ایک وجہ خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے اور یہ بھی کا جاسکتا ہے کہ پہلا اقرا تو خود آپ کے پڑھنے کے لئے فرمایا تھا، یہ دوسرا تبلیغ و دعوت اور لوگوں کو کہ تخلیق عالم اور تخلیق انسان میں اللہ تعالیٰ کی اپنی کوئی غرض اور نفع نہیں بلکہ یہ سب بتقاضائے جو دو کرم ہے کہ بےمانگ کائنات کو جود کی نعمت عظمیٰ عطا فرمائی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ۝ ٣ ۙ قرأ والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ( ق ر ء) قرءت المرءۃ وقرءت الدم ۔ القراءۃ کے معنی حروف وکلمات کو ترتیل میں جمع کرنے کے ہیں کیونکہ ایک حروت کے بولنے کو قراءت نہیں کہا جاتا ہے اور نہ یہ عام ہر چیز کے جمع کے کرنے پر بولاجاتا ہے ۔ لہذ ا اجمعت القوم کی بجاے قررءت القوم کہنا صحیح نہیں ہے ۔ القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ كرم الكَرَمُ إذا وصف اللہ تعالیٰ به فهو اسم لإحسانه وإنعامه المتظاهر، نحو قوله : فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وإذا وصف به الإنسان فهو اسم للأخلاق والأفعال المحمودة التي تظهر منه، ولا يقال : هو كريم حتی يظهر ذلک منه . قال بعض العلماء : الكَرَمُ کالحرّيّة إلّا أنّ الحرّيّة قد تقال في المحاسن الصّغيرة والکبيرة، والکرم لا يقال إلا في المحاسن الکبيرة، كمن ينفق مالا في تجهيز جيش في سبیل الله، وتحمّل حمالة ترقئ دماء قوم، وقوله تعالی: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ [ الحجرات/ 13] فإنما کان کذلک لأنّ الْكَرَمَ الأفعال المحمودة، وأكرمها وأشرفها ما يقصد به وجه اللہ تعالی، فمن قصد ذلک بمحاسن فعله فهو التّقيّ ، فإذا أكرم الناس أتقاهم، وكلّ شيء شرف في بابه فإنه يوصف بالکرم . قال تعالی: فَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ، وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] ، إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ، وَقُلْ لَهُما قَوْلًا كَرِيماً [ الإسراء/ 23] . والإِكْرَامُ والتَّكْرِيمُ : أن يوصل إلى الإنسان إکرام، أي : نفع لا يلحقه فيه غضاضة، أو أن يجعل ما يوصل إليه شيئا كَرِيماً ، أي : شریفا، قال : هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ [ الذاریات/ 24] . وقوله : بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ [ الأنبیاء/ 26] أي : جعلهم کراما، قال : كِراماً كاتِبِينَ [ الانفطار/ 11] ، وقال : بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 15 16] ، وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس/ 27] ، وقوله : ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] منطو علی المعنيين . ( ک ر م ) الکرم ۔ جب اللہ کی صفت ہو تو اس سے احسان وانعام مراد ہوتا ہے جو ذات باری تعالیٰ سے صادر ہوتا رہتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تو میر اپروردگار بےپرواہ اور کرم کرنے والا ہے ۔ اور جب انسان کی صفت ہو تو پسندیدہ اخلاق اور افعال مراد ہوتے ہیں جو کسی انسان سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ اور کسی شخص کو اس وقت تک کریمہ نہیں کہاجاسکتا جب تک کہ اس سے کرم کا ظہور نہ ہوچکا ہو ۔ بعض نے علماء کہا ہے کہ حریت اور کرم ہم معنی ہیں لیکن حریت کا لفظ جھوٹی بڑی ہر قسم کی خوبیوں پر بولا جا تا ہے اور کرم صرف بڑے بڑے محاسن کو کہتے ہیں مثلا جہاد میں فوج کے لئے سازو سامان مہیا کرنا یا کیس ایسے بھاری تا وان کو اٹھا لینا جس سے قوم کے خون اور جان کی حفاظت ہوتی ہو ۔ اور آیت : ۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ [ الحجرات/ 13] اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا ہے جو زیادہ پرہیز گار ہیں ۔ میں القی یعنی سب سے زیادہ پرہیز گا ۔ کو اکرم یعنی سب سے زیادہ عزت و تکریم کا مستحق ٹہھر انے کی وجہ یہ ہے کہ کرم بہترین صفات کو کہتے ہیں اور سب سے بہتر اور پسند یدہ کام وہی ہوسکتے ہیں جن سے رضا الہیٰ کے حصول کا قصد کیا جائے لہذا جو جس قدر زیادہ پرہیز گار ہوگا اسی قدر زیادہ واجب التکریم ہوگا ۔ نیز الکریم ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنی چیز کو کہتے ہیں جو اپنی ہم نوع چیزوں میں سب سے زیادہ باشرف ہو چناچہ فرمایا : ۔ فَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] پھر ( اس سے ) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائیں ۔ وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] اور کھیتیاں اور نفیس مکان ۔ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ وَقُلْ لَهُما قَوْلًا كَرِيماً [ الإسراء/ 23] اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا ۔ الا کرام والتکریم کے معنی ہیں کسی کو اس طرح نفع پہچانا کہ اس میں اس کی کسی طرح کی سبکی اور خفت نہ ہو یا جو نفع پہچا یا جائے وہ نہایت باشرف اور اعلٰی ہو اور المکرم کے معنی معزز اور با شرف کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ [ الذاریات/ 24] بھلا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے ؛ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ [ الأنبیاء/ 26] کے معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ کے معزز بندے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس/ 27] اور مجھے عزت والوں میں کیا ۔ كِراماً كاتِبِينَ [ الانفطار/ 11] عالی قدر تمہاری باتوں کے لکھنے والے ۔ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 15 16] ( ایسے ) لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو سر دار اور نیوک کار ہیں ۔ اور آیت : ۔ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] اور جو صاحب جلال اور عظمت ہے ۔ میں اکرام کا لفظ ہر دو معنی پر مشتمل ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ عزت و تکریم بھی عطا کرتا ہے اور باشرف چیزیں بھی بخشتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(96:3) اقرا وربک الاکرم : اقرا دوبارہ تاکید کے لئے لایا ہے واؤ حالیہ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف۔ الاکرم سفت، بڑا کریم۔ کرم سے جس کے معنی باعزت ہونے اور سخاوت کرنے کے ہیں۔ اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ وربک الاکرم ضمیر اقراء سے حال ہے۔ پڑھ۔ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اقرا وربک ............................ مالم یعلم (3:96 تا 5) ” پڑھو ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا ، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “۔ انسان کی تخلیق کے بعد ، یہ اس میں بہت بڑی تبدیلی تھی لیکن یہ کر کستا ہے ، وہ بڑا کریم ہے ، اس لئے اللہ نے ایک خوردبینی نکتے میں یہ تغیر رونما کردیا کہ وہ کامل انسان کے بعد عالم انسان بن گیا ، یہ اس قدر عظیم تبدیلی ہے کہ اس سے سرچکرا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان آیات میں اسلام کا نظریہ تعلیم بھی واضح کیا گیا ہے ، رب نے انسان کو تعلیم ” قلم “ کے ساتھ دی۔ کیونکہ اس وقت بھی اور آج بھی انسان کی زندگی میں قلم اہم اور موثرذریعہ تعلیم ہے اور اس حقیقت کو جس طرح ہم آج سمجھتے ہیں نزول قرآن کے وقت اس طرح نہ سمجھتے تھے ، لیکن اللہ تعالیٰ تعلیم اور قلم کی قدروقیمت کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ لہٰذا آخری رسول کو آخری مشن سپرد کرتے وقت اللہ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا اور قرآن کی پہلی سورت میں یہ اسارہ کردیا گیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ جس رسول کو یہ ہدایت دی گئی وہ خط نہ لکھ سکتے تھے۔ لہٰذا اگر کوئی یہک ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کی تصنیف ہے تو کوئی امی انسان یہ بات نہیں کرسکتا تھا۔ لہٰذا یہ ایک حقیقت ہے جو وحی الٰہی نے بتائی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سچے رسول ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے ، کہ قرآن کے نظریہ کے مطابق تعلیم کا سرچشمہ کیا ہے۔ یہ سرچشمہ ذات باری ہے۔ انسان نے آج تک جس قدر علم حاصل کیا ہے یا آئندہ کرے گا۔ آج تک انسان پر اس کائنات کے جو اسرار کھلے ہیں وہ اللہ ہی کے فضل وکرم سے کھلے ہیں۔ انسانی زندگی اور انسانی نفس کے بارے میں جو اسرار کھلے ہیں وہ بھی اللہ کے فضل وکرم سے کھلے ہیں۔ اللہ ہی وہ واعد مصدر اور منبع سے جس کے سوا کوئی اور سرچشمہ علم و حکمت نہیں ہے۔ یہ پیراگراف جو ان لمحات کے آغاز میں نازل ہوا ، جن میں سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عالم بالا کے درمیان رابطہ قائم ہوا ، اس ایک ہی پیراگراف کے اندر ایمانی تصور حیات کے اساسی اصول بیان کردیئے گئے تاکہ ” ہر حکم ، ہر حرکت ، ہر قدم ، ہر عمل اور ہر کام اللہ کے نام اور اللہ کے احکام کے مطابق ہوگا ، اللہ کے نام سے اقدام ہوگا ، اللہ کے نام سے چلے گا ، اللہ کے رخ ہوجائے گا اور انجام کار اللہ تک پہنچے گا “۔ اس لئے کہ اللہ ہی خالق ہے ، وہی جاننے والا اور جان کاری دینے والا ہے ، اسی سے آغاز ہے ، اسی کی جانب سے نشوونما ہے اور اسی کی طرف سے تعلیم وتربیت ہے ، انسان سیکھتا ہے جو کچھ سیکھتا ہے وہ جانتا ہے جو کچھ بھی جانتا ہے لیکن سب علم وہنر کا سرچشمہ ذات باری ہے جس نے پیدا کیا ، علم کے ذرائع دیئے اور

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ٠٠٣﴾ (آپ پڑھیے اور آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے) ﴿الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِۙ٠٠٤﴾ (جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا) ۔ ﴿عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْؕ٠٠٥﴾ (اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا) ۔ ارشاد فرمایا کہ آپ پڑھیے، اس کا خیال نہ کیجئے کہ آپ نے مخلوق سے نہیں پڑھا۔ آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے اسے علم دینے کے لیے اسباب کی حاجت نہیں ہے اس نے قلم کے ذریعہ سکھایا اور جسے چاہا بغیر قلم کے بھی سکھا دیا انسانوں کے پاس جو علم ہے سارا استاد اور کتاب اور قلم ہی سے تو نہیں ہے جس ذات پاک نے اسباب کے ذریعہ علم دیا اسے بلا اسباب بھی علم دینے پر قدرت ہے آپ کو جو علم دیا ہے بغیر قلم عطا فرمایا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) آپ قرآن پڑھا کیجئے اور آپ کا پروردگار بڑا کرم کرنے والا ہے ہوسکتا ہے کہ پہلی قرات اپنے نفس کے لئے ہو اور دوسری قراءت تبلیغ اور امت کی تعلیم کے لئے ہو، آگے جملہ مستانفہ ہے کہ آپ کا پروردگار بہت کرم کرنے والا ہے جو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے آپ کی تربیت جس طرح کی گئی ہے اس سے آپ کی استعداد کا کمال ظاہر ہے پھر مبدا فیاض میں کوئی بخل نہیں اس لئے آپ کو جو کچھ عطا کیا جائے اس پر کوئی تعجب نہیں وہ ایسا کرم کرنے والا ہے کہ