Surat ul Zilzaal

Surah: 99

Verse: 6

سورة الزلزال

یَوۡمَئِذٍ یَّصۡدُرُ النَّاسُ اَشۡتَاتًا ۬ ۙ لِّیُرَوۡا اَعۡمَالَہُمۡ ؕ﴿۶﴾

That Day, the people will depart separated [into categories] to be shown [the result of] their deeds.

اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر ( واپس ) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَوْمَيِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا ... That Day mankind will proceed in scattered groups أَشْتَاتًا (Ashtat), meaning, they will return from the station of the Judgement in separate groups. This means that they will be divided into types and categories: between those who are miserable and those who are happy, and those who are commanded to go to Paradise and those who are commanded to go to the Hellfire. As-Suddi said, " أَشْتَاتًا Ashtat means sects." Allah said, ... لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ that they may be shown their deeds. meaning, so that they may act and be rewarded for what they did in this life of good and evil. The Recompense for Every Minute Deed Therefore Allah goes on to say, فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 یصدر، یرجع (لوٹیں گے) یہ ورود کی ضد ہے یعنی قبروں سے نکل کر موقف حساب کی طرف، یا حساب کے بعد جنت اور دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔ اشتاتا، متفرق، یعنی ٹولیاں ٹولیاں، بعض بےخوف ہوں گے، بعض خوف زدہ، بعض کے رنگ سفید ہوں گے جیسے جنتیوں کے ہوں گے اور بعض کے رنگ سیاہ، جو ان کے جہنمی ہونے کی علامت ہوگی۔ بیض کا رخ دائیں جانب ہوگا تو بعض کا بائیں جانب۔ یا یہ مختلف گروہ ادیان و مذاہب اور اعمال و افعال کی بنیاد پر ہوں گے۔ 6۔ 1 یعنی زمین اپنی خبریں اس لئے بیان کرے گی تاکہ انسانوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ سب انسان متفرق اور الگ ہوجائیں گے اور ہر ایک سے انفرادی طور پر اللہ کے ہاں باز پرس ہوگی۔ اور دوسرا یہ کہ جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے ان کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ شرابیوں کا گروہ الگ ہوگا، زانیوں کا الگ، چوروں کا الگ، ڈاکوؤں اور لٹیروں کا الگ، غرض ہر انسان اپنے اپنے ہم جنسوں سے مل جائے گا۔ [٦] یہاں صرف اعمال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی سب قسم کے لوگوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں گے اور اس کی صورت وہی ہوگی جو اوپر مذکور ہوئی۔ یعنی ان کے اعمال کی فلمیں ہر ایک کو دکھا دی جائیں گی۔ تاکہ کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر شخص کا اعمال نامہ اس کے حوالہ کردیا جائے گا کہ وہ خود اپنے اعمال کو ٹھیک طرح پڑھ لے اور دیکھ بھال کرلے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(یومئذ یصدر الناس اشتاتاً ، لبروا اعمالھم :” یصدر “ واپس لوٹیں گے، یعنی پہلے قبروں میں گئے تھے، اب وہاں سے حساب کے لئے میدان محشر میں اللہ کے حضور واپس لوٹیں گے، جیسا کہ فرمایا :(ثم یمتکم ثم یحیکم ثم الیہ ترجعون) (البقرۃ : ٢٨)” پھر وہ تمہیں مارے گا، پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ “ ” اشتاتاً ” شت “ کی جمع ہے، الگ الگ۔ ” لیروا “ (اری یری اراء ۃ “ (افعال) سے مضارع مجہول ہے، تاکہ وہ دکھائے جائیں اپنے عمل۔ ” لبروا “ میں ضمیر نئاب فاعل ہے اور ” اعمالھم “ مفعول ثانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اکیلا اکیلا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے لئے پیش ہوگا، اس کا قبیلہ، اس کی جماعت اور دوست احباب کوئی ساتھ نہیں ہوگا، جیسا کہ فرمایا :(ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنکم اول مرۃ) (الانعام : ٩٣)” اور یقیناً تم ہمارے پاس اس طرح اکیلے آئے ہو جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ “ الگ الگہ و کر اس لئے لوٹیں گے کہ ہر ایک کو اس کے اعمال دکھائے جائیں، جیسا کہ فرمایا :(اقرا کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیباً ) (بنی اسرائیل : ١٣)” اپنی کتاب پڑھ، آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب بہت کافی ہے۔ “ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ الگ الگ گروہ کی شکل میں میدان محشر کی طرف روانہ ہوں گے، اگر چہ اللہ تعالیٰ کے حضور فرداً فرداً پیش ہوں گے ، جیسا کہ فرمایا :(ویوم نحشرمن کل امۃ فوجاً ممن یکذب بایتنا فھم یوزعون) (النمل : ٨٣)” اور جس دن ہم ہر امت میں ایک گروہ ان لوگوں کا اکٹھا کریں گے جو ہماری آیت ا کو جھٹلاتے تھے، پھر ان کی جدا جداق س میں بنائی جائیں گی۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا۝ ٠ۥۙ لِّيُرَوْا اَعْمَالَہُمْ۝ ٦ ۭ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] ، ثم استعیر لمقدّم الشیء كَصَدْرِ القناة، وصَدْرِ المجلس، والکتاب، والکلام، وصَدَرَهُ أَصَابَ صَدْرَهُ ، أو قَصَدَ قَصْدَهُ نحو : ظَهَرَهُ ، وكَتَفَهُ ، ومنه قيل : رجل مَصْدُورٌ: يشكو صَدْرَهُ ، وإذا عدّي صَدَرَ ب ( عن) اقتضی الانصراف، تقول : صَدَرَتِ الإبل عن الماء صَدَراً ، وقیل : الصَّدْرُ ، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، والْمَصْدَرُ في الحقیقة : صَدَرٌ عن الماء، ولموضع المصدر، ولزمانه، وقد يقال في تعارف النّحويّين للّفظ الذي روعي فيه صدور الفعل الماضي والمستقبل عنه . ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے ۔ وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ ہر چیز کے اعلیٰ ( اگلے ) حصہ کو صدر کہنے لگے ہیں جیسے صدرالقناۃ ( نیزے کا بھالا ) صدر المجلس ( رئیس مجلس ) صدر الکتاب اور صدرالکلام وغیرہ صدرہ کے معنی کسی کے سینہ پر مارنے یا اس کا قصد کرنے کے ہیں جیسا کہ ظھرہ وکتفہ کے معنی کسی کی پیٹھ یا کندھے پر مارنا کے آتے ہیں ۔ اور اسی سے رجل مصدور کا محاورہ ہے ۔ یعنی وہ شخص جو سینہ کی بیماری میں مبتلا ہو پھر جب صدر کا لفظ عن کے ذریعہ متعدی ہو تو معنی انصرف کو متضمن ہوتا ہے جیسے صدرن الابل عن الماء صدرا وصدرا اونٹ پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹ آئے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے ۔ اور مصدر کے اصل معنی پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹنا کے ہیں ۔ یہ ظرف مکان اور زمان کے لئے بھی آتا ہے اور علمائے نحو کی اصطلاح میں مصدر اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے فعل ماضی اور مستقبل کا اشتقاق فرض کیا گیا ہو ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ شتت الشَّتُّ : تفریق الشّعب، يقال : شَتَّ جمعهم شَتّاً وشَتَاتاً ، وجاؤوا أَشْتَاتاً ، أي : متفرّقي النّظام، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، وقال : مِنْ نَباتٍ شَتَّى[ طه/ 53] ، أي : مختلفة الأنواع، وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى [ الحشر/ 14] ، أي : هم بخلاف من وصفهم بقوله : وَلكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ [ الأنفال/ 63] . و ( شَتَّانَ ) : اسم فعل، نحو : وشکان، يقال : شتّان ما هما، وشتّان ما بينهما : إذا أخبرت عن ارتفاع الالتئام بينهما . ( ش ت ت ) الشت کے معنی قبیلہ کو متفرق کرنے کے ہیں محاورہ ہے ۔ شت جمعھم شتا وشتاتا ان کی جمیعت متفرق ہوگئی ۔ جاؤا اشتاتا وہ پر اگندہ حالت میں آئے قرآن میں ہے : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہوکر آئیں گے ۔ مِنْ نَباتٍ شَتَّى[ طه/ 53] ( یعنی انواع ( وہ اقسام ) کی مختلف روئیدگی پید اکیں ۔ وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى [ الحشر/ 14]( مگر) ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں ۔ یعنی ان کی حالت مسلمانوں کی حالت کے برعکس ہے جن کے متعلق فرمایا : وَلكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ [ الأنفال/ 63] مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی ۔ شتان یہ اسم فعل وزن وشگان ہے ۔ محاورہ ہے ؛۔ شتان ما ھما وشتان ما بینھما ان دونوں میں کس قدر بعد اور تفاوت ہے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦{ یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًاج } ” اس دن لوگ علیحدہ علیحدہ ہو کر نکل پڑیں گے “ اَشْتَاتًا جمع ہے شَتٌّکی ‘ یعنی منتشر و متفرق۔ نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ سورة اللیل کی اس آیت میں بھی آیا ہے : { اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی ۔ } کہ تم انسان بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہو لیکن تمہاری سعی و جہد کے رخ بالکل مختلف ہیں۔ { لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ ۔ } ” تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔ “ اس منظر کی ایک جھلک سورة الکہف کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے : { وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰٹہَاج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ۔ } ” اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ ‘ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ اور وہ پائیں گے جو عمل بھی انہوں نے کیا ہوگا اسے موجود۔ اور آپ کا رب ظلم نہیں کرے گا کسی پر بھی۔ “ آج کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کا مفہوم یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اس دن ایک بہت بڑا کمپیوٹر سرمحشر نصب کردیا جائے گا جس میں پوری نوع انسانی کے ایک ایک فرد کے اعمال سے متعلق تفصیلی ڈیٹا موجود ہوگا۔ جونہی کسی فرد کو حساب کے لیے پیش کیا جائے گا اس کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو فلم فوراً سکرین پر چلنا شروع ہوجائے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 This can have two meanings: (1) That each man with present himself in his own individual capacity--families, groups, parties, nations, all will scatter away. This thing has been said at other places also in the Qur'an, e.g., according to Surah Al-An`am 94, Allah on that Day will say to the people "So, you have come before Us all alone, as We created you at first", and in Surah Maryam: "He will appear before Us all alone" (v 80) , and "Everyone of them will be presented before Him individually on the Resurrection Day" (v 95) (2) That the people who during thousands and thousands of years had died at different places; will be rising from different corners of the earth and proceeding in groups, as has been said in Surah An-Naba "The day the Trumpet is blown, you will come out in crowds." (v 18) Apart from these, there is no room in the word ashtatan for the meanings, which different commentators have given, and are, therefore, outside the literal bounds of this word, although they are correct by themselves and in accordance with the conditions depicted of the Resurrection Day in Qur'an and the Hadith. 6 This can have two meanings: (1) That they are shown their deeds, i. e. , each one told what he did in the world; and (2) that they are shown the rewards of their deeds. Although this second meaning also can be taken of the words li yurau' jaza'a a malahum (so as to be shown the rewards of their deeds) but li yurau' a malahum (so as to be shown their deeds) . Therefore, the first meaning only is preferable, especially when at several places in the Qur'an it has been stated clearly that the disbeliever and the believer, the righteous and the wicked, the obedient and the disobedient, all will be given their records (e.g. see Al-Haqqah: 19, 25; Al-Inshiqaq: 7, 10) . Evidently, there is no difference between showing somebody his deeds and handing over to him his record. Furthermore, when the earth will narrate whatever had happened on her, the whole picture of the conflict between the Truth and the falsehood that has been raging since the beginning of time and will continue to rage till the end, also will appear before the people and they will see what part the truth-loving people played in it and what vile deeds did the supporters of falsehood commit against them. It may well be that the people will hear with their own ears all the speeches and dialogues of the callers to right guidance and of the publicists of error and evil; the whole record of the writings and literature produced by the two sides will be placed intact before them, and the people gathered together in the Plain of Assembly will see with their own eyes the persecution of the lovers of Truth by the worshippers of falsehood and all the scenes of the bitter conflict that raged between the two parties.

سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 5 اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہر ایک اکیلا اپنی انفرادی حیثیت میں ہوگا ، خاندان ، جتھے ، پارٹیاں ، قومیں سب بکھر جائیں گی ۔ یہ بات قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی فرمائی گئی ہے ۔ مثلا سورہ انعام میں ہے کہ اللہ تعالی اس روز لوگوں سے فرمائے گا کہ لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا ( آیت 94 ) اور سورہ مریم میں فرمایا یہ اکیلا ہمارے پاس آئے گا ( آیت 80 ) اور یہ کہ ان میں سے ہر ایک قیامت کے روز اللہ کے حضور اکیلا حاضر ہوگا ( آیت 95 ) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو ہزار ہا برس کے دوران میں جگہ جگہ مرے تھے ، زمین کے گوشے گوشے سے گروہ در گروہ چلے آرہے ہوں گے ، جیسا کہ سورہ نباء میں فرمایا گیا جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی تم فوج در فوج آجاؤ گے ( آیت 18 ) اس کے علاوہ جو مطلب مختلف مفسرین نے بیان کیے ہیں ان کی گنجائش لفظ اشتاتا میں نہیں ہے ، اس لیے ہمارے نزدیک وہ اس لفظ کے معنوی حدود سے باہر ہیں ، اگرچہ بجائے خود صحیح ہیں اور قرآن و حدیث کے بیان کردہ احوال قیامت سے مطابقت رکھتے ہیں ۔ سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 6 اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں ، یعنی ہر ایک کو بتایا جائے کہ وہ دنیا میں کیا کر کے آیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے ۔ اگرچہ یہ دوسرے معنی بھی لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ کے لیے جاسکتے ہیں ، لیکن اللہ تعالی نے لِّيُرَوْا جَزٓاءَ اَعْمَالَهُمْ ( تاکہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے ) نہیں فرمایا ہے بلکہ لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ ( تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں ) فرمایا ہے ۔ اس لیے پہلے معنی ہی قابل ترجیح ہیں ، خصوصا جبکہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ کافر و مومن ، صالح و فاسق ، تابع فرمان اور نافرمان ، سب کو ان کے نامہ اعمال ضرور دیے جائیں گے ( مثال کے طور پر ملاحظۃ ہو الحاقہ آیات 19 و 25 ، اور الانشقاق ، آیات7 و 10 ) ظاہر ہے کہ کسی کو اس کے اعمال دکھانے ، اور اس کارنامہ اعمال اس کے حوالہ کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ علاوہ بریں زمین جب اپنے اوپر گزرے ہوئے حالات پیش کرے گی تو حق و باطل کی وہ کشمکش جو ابتدا سے برپا ہے اور قیامت تک برپا رہے گی ، اس کا پورا نقشہ بھی سب کے سامنے آجائے گا ، اور اس میں سب ہی دیکھ لیں گے کہ حق کے لیے کام کرنے والوں نے کیا کچھ کیا ، اور باطل کی حمایت کرنے والوں نے ان کے مقابلہ میں کیا کیا حرکتیں کیں ۔ بعید نہیں کہ ہدایت کی طرف بلانے والوں اور ضلالت پھیلانے والوں کی ساری تقریریں اور گفتگوئیں لوگ اپنے کانوں سے سن لیں ۔ دونوں طرف کی تحریروں اور لٹریچر کا پورا ریکارڈ جوں کا توں سب کے سامنے لاکر رکھ دیا جائے ۔ حق پرستوں باطل پرستوں کے ظلم ، اور دونوں گروہوں کے درمیان برپا ہونے والے معرکوں کے سارے مناظر میدان حشر کے حاضرین اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: واپس آنے سے مراد قبروں سے نکل کر میدانِ حشر کی طرف جانا بھی ہوسکتا ہے، اُس صورت میں اعمال دکھانے کا مطلب یہ ہوگا کہ اعمال نامہ دکھا دیا جائے گا۔ اور واپسی کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ حساب و کتاب سے فارِغ ہو کر مختلف حالتوں میں واپس آئیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال کا نتیجہ دکھادیا جائے۔ نیک لوگوں کو اپنی نیکیوں کا انعام دکھادیا جائے گا اور بُرے لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دکھادی جائے گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(99:6) یومئذ یصدر الناس اشتاتا لیرو اعمالہم : یومئذ۔ پہلے یومئذ سے بدل ہے۔ بمعنی اس روز۔ ان واقعات کے وقوع کے دن۔ یصدر مضارع واحد مذکر غائب صدر (باب نصر، ضرب) سے مصدر بمعنی لوٹنا۔ مڑنا۔ سینہ پر مارنا۔ پانی پی کر گھاٹ سے واپس ہونا۔ صادر۔ چشمہ سے پانی پی کر واپس آنے والا۔ اسم فاعل وارد کی ضد ہے۔ مصدر وہ اسم جس سے تمام افعال اور صفت کے صیغت مشتق ہوتے ہیں۔ اشتاتا۔ جدا جدا۔ طرح طرح۔ شت اور شتات کی جمع ہے ۔ اشتاتا فاعل ہے یصدر کے فاعل سے۔ لیروا۔ لام تعلیل کا ہے یروا ماضی جمع مذکر غائب رؤیۃ (باب فتح) مصدر سے کہ ان کو دکھائے جائیں۔ اعمالہم : مضاف الیہ۔ مل کر یروا کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ اس روز لوگ مختلف حالتوں میں پھر کر آئیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں۔ مطلب یہ کہ حساب کی پیشی کے بعد مقام حساب سے لوگ متفرق طور پر لوٹیں گے کچھ دائیں جانب سے جنت کو جائیں گے اور کچھ بائیں سمت کو دوزخ کی طرف ۔ یہ اس لئے کہ ان کو ان کے اعمال کی جزاوسزا دکھا دی جائے۔ یعنی جنت اور دوزخ کے اندر اپنے مقامات پر جاکر اتریں۔ (تفسیر مظہری)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یا یہ مطلب ہے کہ ’ حساب کتاب کی جرگہ سے جنت یا دوزخ کی طرف) پلٹیں گے۔ “ الگ الگ کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کوئی خوفزدہ ہوگا، کوئی بےخوف کسی کا رنگ اہل جنت کا یعنی سید ہوگا اور کسی کا ہل دوزخ کا یعنی سیاہ کوئی دائیں طرف چل رہا ہوگا اور کوئی بائیں طرف یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کافر ایک گروہ ہوں گے، مشرک ایک گروہ اور منافق ایک گروہ اسی طرح شرابی ایک گروہ ہوں گے، بدکار ایک گروہ چور ایک گرروہ وعلی ہذا القیاس۔5 تاکہ برے عمل والوں کی رسوائی ہو اور نیک عمل والوں کی سرخروئی

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : محشر کے میدان میں لوگوں کے اکٹھا ہونے کیا ہمیت اور ہر کسی کا اپنے اعمال کا سامنا کرنا۔ قرآن مجید اور حدیث رسول میں یہ بات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف جائیں گے۔ لوگوں کے جمع کرنے کے بارے میں قرآن مجید میں دو طرح کی آیات وارد ہوئی ہیں۔ ” جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تم گروہ در گروہ نکل آؤ گے۔ “ (النبا : ١٨) ” قیامت کے دن سب اکیلے اکیلے اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ “ (مریم : ٩٥) بظاہر ان آیات کے مفہوم میں تعارض اور تقابل نظر آتا ہے لیکن معمولی توجہ کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بات یوں سمجھ میں آتی ہے کہ قبروں سے لوگ اکیلے اکیلے اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور بھی ہر شخص اکیلا اکیلا ہی پیش کیا جائے گا۔ لیکن محشر کے میدان میں اکٹھا ہونے کے لیے کھربہا انسان گروہوں کی صورت میں جمع ہوں گے اور ہر شخص کے سامنے اس کا اعمالنامہ کھول کر رکھ دیا جائے گا۔ ” کتاب رکھی جائے گی آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ جو کچھ اس کتاب میں ہوگا وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے افسوس ! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے نہ چھوٹی بات چھوڑی ہے اور نہ بڑی بات چھوڑی ہے اس نے سب کچھ شمار کر رکھا ہے انھوں نے جو کچھ کیا تھا اسے حاضر پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ “ (الکہف : ٤٩) ” عبداللہ (رض) بن عیاش بن ابی ربیعہ کے غلام زیاد نے عبد اللہ (رض) بن عیاش کے سامنے حدیث بیان کی اس آدمی سے جس نے اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک آدمی آپ کے سامنے عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے دو غلام ہیں جو میرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، خیانت کرتے اور میری نافرمانی کرتے ہیں۔ میں انہیں پیٹتا ہوں اور گالیاں دیتا ہوں میرا معاملہ کیسا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس قدر تیری خیانت، تیری نافرمانی اور تیرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں اگر تیری ڈانٹ ڈپٹ ان کی غلطیوں سے کم ہوئی تو تجھے اجر عطا کیا جائے گا اور اگر برابرہوئی تو معاملہ یکساں ہے اور اگر ڈانٹ ان کی خطاؤں سے زیادہ ہوئی تو تیری نیکیوں میں کمی کی جائے گی یہ سن کر وہ شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے زاروقطار رونے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تو اللہ کی کتاب نہیں پڑھتا ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن ہم عدل و انصاف کا ترازو قائم کریں گے اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ نیکی اور برائی ایک رائی کے دانے کے برابر ہوئی ہم اسے بھی لے آئیں گے۔ ہم کافی ہیں حساب لینے والے۔ وہ آدمی کہنے لگا اے اللہ کے رسول میں اس سے بہتر سمجھتا ہوں کہ غلاموں کو آزاد کر دوں اور میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں میں نے انہیں آزاد کردیا۔ “ (رواہ احمد : مسند السیدۃ عائشۃ، قال الترمذی ہذا حدیث غریب) (وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بالْکَلِمَۃِ مِنْ رِضْوَان اللّٰہِ لاَ یُلْقِیْ لَھَا بَالًا یَرْفَعُ اللّٰہُ بِھَا دَرَجَاتٍ وَاِنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بالْکَلِمَۃِ مِنْ سَخَطِ اللَّہِ لَا یُلْقِی لَھَا بَالًا یَھْوِیْ بِھَا فِیْ جَھَنَّمَ ) (بخاری : باب حفظ اللسان) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ جب آدمی اللہ کی رضا کے لیے کوئی کلمہ زبان سے نکالتا ہے حالانکہ وہ اس کو معمولی سمجھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کلمہ کی وجہ سے اس کے درجات بلند فرماتا ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کی ناراضگی کی بات کرتا ہے اور وہ اسے معمولی سمجھتا ہے تو اس معمولی بات کی وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ “ مسائل ١۔ قیامت کے دن لوگ گروہوں کی شکل میں میں محشر کے میدان میں جمع کیے جائیں گے۔ ٢۔ لوگوں کو اس لیے محشر کے میدان میں جمع کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے اعمال اور ان کا انجام دیکھ لیں گے۔ ٣۔ جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اپنی نیکی دیکھ لے گا اور جس نے ذرّہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اپنی برائی کو اپنے سامنے پائے گا۔ تفسیر بالقرآن محشر کے میدان میں لوگوں کی حالت۔ ١۔ جب واقعہ ہوگی واقعہ ہونے والی۔ (الواقعہ : ١) ٢۔ جب زمین کو ہلا دیا جائے گا پوری طرح ہلا دینا۔ (الزلزال : ١) ٣۔ قیامت زمین و آسمانوں پر بھاری ہوگی۔ (الاعراف : ١٨٧) (الحج : ١) ٤۔ قیامت کے دن لوگ اڑتے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ (القارعہ : ٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ایک لمحہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ قبروں سے اٹھتے چلے آرہے ہیں۔ یومئذ .................... اشتاتا (6:99) ” اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے “۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مختلف گروہوں مختلف اطراف سے چلے آرہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ کانھم .................... منتشر ” گویا کہ یہ لوگ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس سے قبل انسان نے کبھی نہیں دیکھا ، یہ کہ لوگوں کی نسلیں ، اگلوں پچھلوں کی یہاں سے اور وہاں سے اٹھ رہی ہیں۔ جس طرح دوسری جگہ آیا۔ یوم تشقق .................... سراعا ” وہ دن جبکہ زمین پھٹے گی اور وہ اس میں سے تیزی تیزی سے نکل بھاگیں گے “۔ منظر یوں ہے کہ تاحد نظر انسان ہی انسان نظر آتے ہیں۔ جو قبروں سے اٹھ رہے ہیں اور تیزی سے بھاگ رہے ہیں۔ کسی طرف کسی کو توجہ نہیں ہے۔ آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں کچھ نہیں دیکھ رہے ہیں۔ نظریں اٹھی ہوئی ہیں۔ مھطعین ................ الداع ” پکارنے والے کی طرف سر اٹھائے تیزی سے دوڑ رہے ہیں “۔ گردنیں بلند کی ہوئی ، نظریں پھٹی ہوئی۔ لکل ........................ یغنیہ (37:80) ” ہر شخص کو اس دن بس اپنی پڑی ہوگی “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس کی تصویر کشی کسی انسانی زبان میں نہیں کی جاسکتی ۔ ” ہولناک “ اور ” خوفناک “ ،” حیرت زدہ کردینے والا “ اور ” مدہوش کردینے والا “۔ غرض یہ اور اس قسم کے تمام دوسرے الفاظ اس منظر کی تصویر کشی سے عاجز ہیں۔ ہاں صرف خیال وتصور کو ہم کسی قدر آگے بڑھا سکتے ہیں اور اس منظر کی تصویر کشی میں الفاظ کی بجائے خیال کی جو لانی ہوسکتی ہے۔ اپنی وسعت اور طاقت کے حدود کے اندر اندر۔ یومئذ ........................ اعمالھم (6:99) ” اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے ، تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں “۔ اور یہ پھر اس منظر سے بھی شدید تربات ہے۔ اف ، ان کے سامنے تو ان کے اعمال پیش ہورہے ہیں ! کیا یہ اپنے اعمال کا سامنا کرسکیں گے ؟ کیا اس سزا کا مقابلہ کرسکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لئے بعض اوقات خود اپنے اعمال کا مقابلہ نہایت ہی تلخ ہوتا ہے۔ انسان بعض اوقات خود اپنے اعمال کا سامنا کرنے سے بھاگتا ہے حالانکہ لوگوں کو انکا پہ نہیں ہوتا ، لیکن جب توبہ وندامت کے وقت خود انسان کے اعمال اس کے سامنے آکر کھڑے ہوتے ہیں تو وہ سخت نادام ہوتا ہے ، اپنی نفسیات ، اپنے ضمیر سے بھاگتا ہے ، چہ جائیکہ کھلی عدالت میں اسے پیش ہونا ہو اور سب کے سامنے اس پر فرد جرم لگتا ہو اور عدالت کا سربراہ رب ذوالجلال ہو جو جبار اور متکبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کو اس کا عمل دکھانا بھی دراصل ایک خوفناک سزا ہے ، صرف یہ بات کہ کوئی اپنا جتھا دیکھے اور جو کچھ اس نے کیا ہے اس کا سامنا کرے۔ خصوصاً ایسے اوقات میں جبکہ حساب و کتاب ایسا ہو کہ اس میں ذرہ ذرہ درج ہو ، نہ شر کا ذرہ چھوڑا گیا ہو اور نہ خیر کار کا ذرہ چھوڑا گیا ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ ﴾ (الآیۃ) قیامت کے دن پیشیوں اور حساب کتاب سے فارغ ہو کر لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کو واپس ہوں گے۔ متفرق جماعتوں میں بٹ کر چلیں گے ان میں سے جنت والے داہنے ہاتھ کو روانہ ہوجائیں گے اور دوزخ والے بائیں طرف کے راستہ پر چل پڑیں گے لفظ اشتاتا میں مختلف جماعتیں بیان کرنا مقصود ہے، یہ شتیت کی جمع ہے جو متفرق کے معنی میں آتا ہے اس کو سورة الروم میں ﴿وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ۠٠٠١٤﴾ میں بیان فرمایا ہے اور سورة الزمر کی آیات ﴿وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا ﴾ اور ﴿وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ ﴾ میں بیان فرمایا ہے وہ دن کیسا ہیبت ناک ہوگا جب ایمان و کفر کی بنیاد پر بٹوارہ ہوگا، دنیا میں جو مومن اور کافر، فاجر اور متقی ملے جلے رہتے تھے یہ مل جل کر رہنے کی حالت ختم کردی جائے گی اور ارشاد ہوگا ﴿وَ امْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ٠٠٥٩﴾ (اور اے مجرمو ! آج جدا ہوجاؤ) ۔ ﴿لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ﴾ میں بتادیا کہ میدان حشر سے آگے اپنے مقام میں جانے کے لیے جو روانگی ہوگی وہ اپنے اپنے اعمال کی جزا سزا دیکھنے کے لیے ہوگی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” یومئذ یصدر “ یہ ” اذا زلزلت الارض “ کی جزاء ہے۔ اشتاتا، متفرقین۔ اپنے اعمال کے اعتبار سے جدا جدا طبقوں اور جماعتوں میں بٹ کر حساب کتاب سے واپس ہوں گے کوئی خوش و خرم اور چمکتے چہرے کے ساتھ اور کوئی افسردہ سیاہ فام۔ ” لیروا اعمالہم “ مضاف محذوف ہے۔ ای جزاء اعمالہم (روح) تاکہ ان کو ان کے اعمال کا اجر وثواب دکھایا جائے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) اس دن لوگ مختلف جماعتیں بن کر موقف حساب سے واپس ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ یعنی ان کے اعمال کے ثمرات اور نتائج ان کو دکھائے جائیں مطلب یہ ہے کہ موقف حساب سے اس طرح لوٹیں گے کہ بعض جماعتیں دوزخیوں کی ہوں گی اور بعض اہل جنت کی ہونگی، دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں چلے جائیں گے تاکہ دوزخی اپنے اعمال کی پاداش بھگتیں اور اہل جنت جنت میں پہنچ کر اپنا صلہ پائیں۔ لیروا اعمالھم کا یہ مطلب ہے کہ جو کچھ دنیا میں کہا ہے اس کا پھل دیکھیں یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ قبروں سے نکل کر ان کی ٹولیاں بنادی جائیں۔ ایک ٹولی زانیوں کی ایک شرابیوں کی ایک ٹولی چوروں کی ایک بےنمازیوں کی ایک روز خوروں کی وغیرہ وغیرہ اور ان مختلف ٹولیوں کو گھیر کر موقف حساب میں لایا جائے جہاں ان کا حساب وکتاب ہو اور یہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال اور ان کی فہرستوں کو موقف حساب میں پہنچ کر دیکھیں۔ (واللہ اعلم)