CHAPTER: The Prohibition Of Specifying Friday For Fasting. - باب: جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرنا منع ہے ۔ - Fasting (kitab al-siyam) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 50 of Fasting (kitab al-siyam) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: None of you must fast on Friday unless he fasts the day before or the day after.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی جمعہ کو روزہ نہ رکھے سوائے اس کے کہ ایک دن پہلے یا بعد کو ملا کر رکھے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصیام ۲۴ (۱۱۴۴)، سنن الترمذی/الصوم ۴۲ (۷۴۳)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۳۷ (۱۷۲۳)، (تحفة الأشراف: ۱۲۵۰۳)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ۶۳(۱۹۸۵)، مسند احمد (۲/۴۵۸) (صحیح)
Narrated As-Samma sister of Abdullah ibn Busr: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not fast on Saturday except what has been made obligatory on you; and if one of you can get nothing but a grape skin or a piece of wood from a tree, he should chew it.
عبداللہ بن بسر سلمی مازنی رضی اللہ عنہما اپنی بہن مّاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض روزے کے علاوہ کوئی روزہ سنیچر ( ہفتے ) کے دن نہ رکھو اگر تم میں سے کسی کو ( اس دن کا نفلی روزہ توڑنے کے لیے ) کچھ نہ ملے تو انگور کا چھلکہ یا درخت کی لکڑی ہی چبا لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ منسوخ حدیث ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصوم ۴۳ (۷۴۴)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۳۸ (۱۷۲۶)، (تحفة الأشراف: ۱۵۹۱۰، ۱۸۹۶۴، ۱۹۲۵۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۳۶۸)، سنن الدارمی/الصوم ۴۰ (۱۷۹۰) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سنیچر کو روزہ کے لئے مخصوص کر دے، کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، اس تأویل کی صورت میں امام ابوداود کا اسے منسوخ کہنا درست نہیں ہے، اور کسی صورت میں اس حدیث میں اور اگلے باب کی حدیث ( اور اس دن کے صیام نبوی کی احادیث) میں کوئی تعارض نہیں باقی رہ جاتا، کہ روزہ رکھنے کی صورت میں اس دن کو مخصوص نہیں کیا گیا، ( ملاحظہ ہو: تہذیب السنن لابن القیم ۳؍ ۲۹۷- ۳۰۱، و زاد المعاد۱؍۲۳۷- ۲۳۸، وصحیح ابی داود ۷؍۱۸۰)