Muadhah (al-Adawiyyah) said: I asked Aishah: Would the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم fast three days every month ? She replied: Yes. I asked: Which days in the month he used to fast ? She replied: He did not care which days of the month he fasted.
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے پوچھا: مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصیام ۳۶ (۱۱۶۰)، سنن الترمذی/الصوم ۵۴ (۷۶۳)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۲۹ (۱۷۰۹)، (تحفة الأشراف: ۱۷۹۶۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۴۵) (صحیح)
Aishah said: When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered upon me, he would ask: Do you have food ? When we said: No, he would say: I am fasting. Waki added in his version: Another day when he entered upon us, we said: Messenger of Allah, some pudding (hair) has been presented to us and we have retained it for you. He said: Bring it to me. Talhah said: He fasted in the morning, but broke his fast (that day).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ جب میں کہتی: نہیں، تو فرماتے: میں روزے سے ہوں ، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیے میں ( کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا ) ملیدہ آیا ہے، اور اسے ہم نے آپ کے لیے بچا رکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاؤ اسے حاضر کرو ۔ طلحہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے سے ہو کر صبح کی تھی لیکن روزہ توڑ دیا۔
Narrated Umm Hani: On the days of the conquest of Makkah, when Makkah was captured, Fatimah came and sat on the left side of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and Umm Hani was on his right side. A slave-girl brought a vessel which contained some drink; she gave it to him and he drank of it. He then gave it to Umm Hani who drank of it. She said: Messenger of Allah, I have broken my fast; I was fasting. He said to her: Were you making atonement for something? She replied: No. He said: Then it does not harm you if it was voluntary (fast).
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ کا دن تھا، فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں دائیں جانب بیٹھی، اس کے بعد لونڈی برتن میں کوئی پینے کی چیز لائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، آپ نے اس میں سے نوش فرمایا، پھر مجھے دے دیا، میں نے بھی پیا، پھر میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی، میں نے روزہ توڑ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کسی روزے کی قضاء کر رہی تھیں؟ جواب دیا نہیں، فرمایا: اگر نفلی روزہ تھا تو تجھے کوئی نقصان نہیں ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۰۰۴)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ۳۴ (۷۳۲)، مسند احمد (۶/۳۴۲) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کی پچھلی روایت سے فجر ہی سے نیت کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور اس باب کی دونوں روایتوں سے عدم وجوب ! دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ حفصہ کی روایت فرض روزے سے متعلق ہے، اور باب کی دونوں روایتیں نفلی روزے سے متعلق ہیں، سیاق سے یہ صاف ظاہر ہے۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin: Some food was presented to me and Hafsah. We were fasting, but broke our fast. Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon us. We said to him: A gift was presented to us; we coveted it and we broke our fast. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There is no harm to you; keep a fast another day in lieu of it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں روزے سے تھیں، ہم نے روزہ توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو روزہ توڑ دیا ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۶۳۳۷)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ۳۶ (۷۳۵)، موطا امام مالک/الصیام ۱۸ (۵۰) (ضعیف) (اس کے راوی زُمَیل مجہول ہیں)
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: It is not allowable for a woman to keep (voluntary) fast when her husband is present without his permission, and she may not allow anyone to enter his house without his permission.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت روزہ نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ البیوع ۱۲ (۲۰۶۶)، النکاح ۸۴ (۵۱۹۲)، النفقات ۵ ۵۳۶۰)، صحیح مسلم/الزکاة ۲۶ (۱۰۲۶)، سنن الترمذی/الصوم ۶۵ (۷۸۲)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۵۳ (۱۷۶۱)، (تحفة الأشراف: ۱۴۶۹۵، ۱۴۷۹۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۶۱)، سنن الدارمی/الصوم ۲۰ (۱۷۶۱) (صحیح) دون ذکر رمضان
Narrated Abu Saeed al-Khudri: A woman came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم while we were with him. She said: Messenger of Allah, my husband, Safwan ibn al-Mu'attal, beats me when I pray, and makes me break my fast when I keep a fast, and he does not offer the dawn prayer until the sun rises. He asked Safwan, who was present, about what she had said. He replied: Messenger of Allah, as for her statement he beats me when I pray , she recites two surahs (during prayer) and I have prohibited her (to do so). He (the Prophet) said: If one surah is recited (during prayer), that is sufficient for the people. (Safwan continued: ) As regards her saying he makes me break my fast, she dotes on fasting; I am a young man, I cannot restrain myself. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said on that day: A woman should not fast except with the permission of her husband. (Safwan said: ) As for her statement that I do not pray until the sun rises, we are a people belonging to a class, and that (our profession of supplying water) is already known about us. We do not awake until the sun rises. He said: When you awake, offer your prayer.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور روزہ رکھتی ہوں تو روزہ تڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔ صفوان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ نماز پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے ( دو دو سورتیں پڑھنے سے ) منع کر رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے ۔ صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے روزہ افطار کرا دیتا ہوں تو یہ روزہ رکھتی چلی جاتی ہے، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ( نفل روزہ ) نہ رکھے ۔ رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے نماز نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی جاگو نماز پڑھ لیا کرو ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۴۰۱۲)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ۵۳ (۱۷۶۲)، مسند احمد (۳/۸۰، ۸۴)، سنن الدارمی/الصوم ۲۰ (۱۷۶۰) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے یہ معلوم ہوا کہ گویا آپ شرعی طور پر اس بات میں معذور تھے ، اور یہ واقعہ کبھی کبھار کا ہی ہو سکتا ہے ، جس کو مسئلہ بنا کر ان کی بیوی نے عدالت نبوی میں پیش کیا۔ صحابی رسول کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ قصداً و عمداً وہ نماز میں تساہلی کرے گا ، رات بھر کی محنت و مزدوری کے بعد آدمی تھک کر چور ہو جاتا ہے ، اور فطری طور پر آخری رات کی نیند سے خود سے یا جلدی بیدار ہونا مشکل مسئلہ ہے ، اگر کبھی ایسی معذوری ہو جائے تو بیداری کے بعد نماز ادا کر لی جائے ، ایک بات یہ بھی واضح رہے کہ صفوان اور ان کے خاندان کے لوگ گہری نیند اور تاخیر سے اٹھنے کی عادت میں مشہور تھے ، جیسا کہ زیر بحث حدیث میں صراحت ہے ، نیز مسند احمد میں صفوان کا قول ہے کہ : میں گہری نیند والا ہوں ، اور ایسے خاندان سے ہوں جو اپنی گہری نیند کے بارے میں مشہور ہیں ( ۳؍۸۴- ۸۵ )۔ نیز مسند احمد میں ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ کن وقتوں میں نماز مکروہ ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فجر کے بعد نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل آئے ، جب سورج نکل آئے تو نماز پڑھو ... ( ۵ ؍۳۱۲ ) ۔ چنانچہ غزوات میں اپنی اسی عادت کی بنا پر قافلہء مجاہدین میں سب سے بعد میں لوگوں کے گرے پڑے سامان سمیٹ کر قافلہ سے مل جاتے ( ملاحظہ ہو واقعہ إفک جو کہ غزوہ بنی مصطلق میں ہوا ) ۔ یہ بھی واضح رہے کہ فجر میں مسلسل غیر حاضری کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مخفی نہیں رہ سکتا ، بلکہ یہ حرکت تو منافقین سے سرزد ہوتی تھی ، اور صحابہ کرام کے بارے میں یا صفوان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you receives an invitation (for a meal), he should accept it. If he isn to fasting, he should eat, and if he is fasten, he should pray. Hisham said: The word salat means to pray (for him to Allah). Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Hafs bin Ghiyath from Hisham.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو اس کے حق میں دعا کر دے ۔ ہشام کہتے ہیں: «صلاۃ» سے مراد دعا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۴۵۷۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۴۲)، سنن الدارمی/الصوم ۳۱ (۱۷۷۸) (صحیح)
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you receives an invitation (for a meal), he should accept it. If he isn to fasting, he should eat, and if he is fasten, he should pray. Hisham said: The word salat means to pray (for him to Allah). Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Hafs bin Ghiyath from Hisham.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہنا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الصیام ۲۸ (۱۱۵۰)، سنن الترمذی/الصوم ۶۴ (۷۸۱)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۴۷ (۱۷۵۰)، (تحفة الأشراف: ۱۳۶۷۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۴۲)، دی/المناسک ۳۱ (۱۷۷۸) (صحیح)
Abu Hurairah reported Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you is invited (to a meal), and he is fasting, he should say that he is fasting.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہنا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الصیام ۲۸ (۱۱۵۰)، سنن الترمذی/الصوم ۶۴ (۷۸۱)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۴۷ (۱۷۵۰)، (تحفة الأشراف: ۱۳۶۷۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۴۲)، دی/المناسک ۳۱ (۱۷۷۸) (صحیح)
Aishah said: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to observe retirement (Itikaf) to the mosque during the last ten days of Ramadan till Allah took him, and then his wives observed retirement to the mosque after his death.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول وفات تک رہا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔
Narrated Ubayy ibn Kab: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan. One year he did not observe Itikaf. When the next year came, he observed Itikaf for twenty nights (i. e. days).
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، ایک سال ( کسی وجہ سے ) اعتکاف نہیں کر سکے تو اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رات کا اعتکاف کیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ۵۸ (۱۷۷۰)، (تحفة الأشراف: ۱۶۵۳۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۱۴۱) (صحیح)
Aishah said: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم intended to observe Itikaf, he prayed the fajr prayer and then entered his place of seclusion. Once he intended to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan. She said: He ordered to pitch a tent for him, and it was pitched. She said: The other wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم also ordered to pitch tents for them and they were pitched. When he offered the fajr prayer, he saw the tents, and said: What is this ? Did you intend to do an act of virtue ? She said: He then ordered to demolish his tent, and it was demolished. Then his wives also ordered to demolish their tents and they were demolished. He then postponed Itikaf till the first ten days, that is of Shawwal. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Ibn Ishaq and al-Auzai from Yahya bin Saeed in a similar manner, and Malik narrated it from Yahya bin Saeed, saying: He observed Itikaf during twenty days of Shawwal.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاعتکاف ۶ (۲۰۳۳)، ۷ (۲۰۳۴)، ۱۴ (۲۰۴۱)، ۱۸ (۲۰۴۵)، صحیح مسلم/الاعتکاف ۲ (۱۱۷۲)، سنن الترمذی/الصوم ۷۱ (۷۹۱)، سنن النسائی/المساجد ۱۸ (۷۱۰)، سنن ابن ماجہ/الصوم ۵۹ (۱۷۷۱)، (تحفة الأشراف: ۱۷۹۳۰)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف ۴ (۷)، مسند احمد (۶/۸۴، ۲۲۶) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : استفہام انکاری ہے یعنی اس کام سے تم سب کے پیش نظر نیکی نہیں ہے، غیرت کی وجہ سے یہ کام کر رہی ہو۔
Ibn Umar said: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan. Nafi said: Abdullah (bin Umar) showed me the place in the mosque where Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to observe Itikaf.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاعتکاف ۱ (۲۰۲۵) (دون قولہ : قال نافع۔۔۔)، صحیح مسلم/الاعتکاف ۱ (۱۷۷۱)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۶۱ (۱۷۷۳)، (تحفة الأشراف: ۸۵۳۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۳۳) (صحیح)
Abu Hurairah said: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to observe Itikaf during ten days of Ramadan every year. But when the year in which he died, he observed Itikaf for twenty days.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاعتکاف ۱۷ (۲۰۴۴)، فضائل القرآن ۷ (۴۹۹۸)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۵۸ (۱۷۶۹)، (تحفة الأشراف: ۱۲۸۴۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۸۱، ۳۳۶، ۳۵۵، ۴۱۰)، سنن الدارمی/الصوم ۵۵ (۱۸۲۰) (حسن صحیح)
Aishah said: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم observed Itikaf, he would put his head near me, and I would comb it. and he entered the house only to fulfill human needs (i. e. to urinate or to relieve himself).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو ( مسجد ہی سے ) اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے۔
A similar tradition has been transmitted by Aishah from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators. Abu Dawud said: And Yunus also narrated in a similar way from al-Zuhri, and no one supported Malik in his narration from Urwah from Umrah ; and Mamar, Ziyad bin Sad and others have also narrated it from al-Zuhri from Urwah on the authority of Aishah.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الاعتکاف ۳ (۲۰۲۹)، صحیح مسلم/الحیض ۳ (۲۹۷)، سنن الترمذی/الصیام ۸۰ (۸۰۵)، سنن النسائی/ الکبری/ الاعتکاف (۳۳۷۵)، سنن ابن ماجہ/الصوم ۶۳ (۱۷۷۶)، (تحفة الأشراف: ۱۶۵۷۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۸) (صحیح)
Aishah said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to observe Itikaf in the mosque and put his head near me through the opening of the apartment, and I would wash his head. Musaddad said: And I would comb it while I was menstruating.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی، کنگھی کر دیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۶۸۷۰) (صحیح)
Safiyyah said: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was observing Itikaf (in the mosque), I would come to him to visit him. I had a talk with him and then stood up. I then returned and he (the Prophet) also stood up to accompany me (to my house). Her dwelling place was in the house of Usamah bin Zaid. Two men from the Ansar (helpers) passed (by him at the moment). When they saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, they walked quickly. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Be at ease, she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Be glory to Allah, Messenger of Allah! He said: Satan runs in man like blood. I feared he might inspire something in your mind, or he said: evil (the narrator doubted).
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، ( اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی ) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہے ( ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے ) ، وہ بولے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! ( آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ ( یا کہا: کوئی شر ) نہ ڈال دے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاعتکاف ۱۱ (۲۰۳۸)، ۱۲ (۲۰۳۹)، بدء الخلق ۱۱ (۳۲۸۱)، الأحکام ۲۱ (۷۱۷۱)، صحیح مسلم/السلام ۹ (۲۱۷۵)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۶۵ (۱۷۷۹)، (تحفة الأشراف: ۱۵۹۰۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۵۶، ۲۸۵، ۳۰۹، ۶/۳۳۷)، سنن الدارمی/الصوم ۵۵ (۱۸۲۱)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (۴۹۹۴) (صحیح)
According to the version of Al Nufaili, Aishah said “The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to pass by a patient while he was observing I’tikaf (in the mosque) but he passed as usual and did not stay asking about him. ” According to the version of Ibn Isa she said “The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم would visit a patient while he was observing I’tikaf. ”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۷۵۱۵) (ضعیف) (اس کے راوی لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)