TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2853 - CHAPTER: Regarding Hunting. - Game (kitab al-said) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 11 in this chapter
CHAPTER: Regarding Hunting.
باب: شکار کرنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ خُلَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا دَاوُدُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَقْتَفِي أَثَرَهُ الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَجِدُهُ مَيِّتًا وَفِيهِ سَهْمُهُ أَيَأْكُلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ إِنْ شَاءَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ يَأْكُلُ إِنْ شَاءَ .
Narrated Adi ibn Hatim: Messenger of Allah, one of us shoots at the game, and follows its mark for two or three days, and then finds it dead, and there is his arrow (pierced) in it, may he eat it? He said: Yes, if he wishes, or he said: he may eat if he wishes.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے شکار کو تیر مارتا ہے پھر اسے دو دو تین تین دن تک تلاش کرتا پھرتا ہے، پھر اسے مرا ہوا پاتا ہے، اور اس کا تیر اس میں پیوست ہوتا ہے تو کیا وہ اسے کھائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگر چاہے یا فرمایا: کھا سکتا ہے اگر چاہے ۔
2853
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 2853 In-book reference : Book 17, Hadith 10 English translation : Book 16, Hadith 2847
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۹۸۵۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصید ۸ (۵۴۸۵ تعلیقًا)

Related Chapters

80
1
(4) CHAPTER. A Muhrim should not help a non-Muhrim in the hunting of a game.
شکار کرنے میں احرام والا غیر محرم کی کچھ بھی مدد نہ کرے
Sahih Bukhari
2
(1) CHAPTER. The mentioning of Allah's Name while hunting.
شکار پر بسماللہ پڑھنا اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا کہ تم پر مردار کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔
Sahih Bukhari
3
(3) CHAPTER. The game killed by the broad side of Al-Mirad. (i.e., a sharp-edged piece of wood or a piece of wood provided with a sharp piece of iron for hunting).
جب بے پر کے تیر یا لکڑی کے عرض سے شکار مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
4
(4) CHAPTER. About hunting with a bow...
تیر کمان سے شکار کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
5
(6) CHAPTER. Whoever keeps a (pet) dog neither for hunting, nor for guarding livestock.
اس کے بیان میں جس نے ایسا کتا پالا جو نہ شکار کے لیے ہو اور نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ۔
Sahih Bukhari
6
(10) CHAPTER. What have been said about hunting.
شکار کرنے کو بطور مشغلہ اختیار کرنا ۔
Sahih Bukhari
7
Chapter: The prohibition of hunting game for the one who has entered Ihram for Hajj or for Umrah or for both
جس نے حج و عمرے کا الگ الگ یا اکٹھا احرام باندھا ہوا ہو اس کے لیے کسی کھائے جانے والے جانور کا شکار جو خشک زمین پر رہتا ہو یا بنیادی طور پر خشکی سے تعلق رکھتا ہوۃ ‘حرام ہے
Sahih Muslim
8
Chapter: The command to kill dogs, and its abrogation. The prohibition of keeping dogs, except for hunting, farming, (herding) livestock and the like
کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے
Sahih Muslim
9
Chapter: Hunting with trained dogs and arrows
باب: سدھائے ہوئے کتوں اور تیر اندازی کےذریعے سے شکار کرنے کاحکم
Sahih Muslim
10
Chapter: The permissibility of using things that help in hunting and pursuing the enemy, but throwing small pebbles is disliked
شکار میں اور دشمن(کو نشانہ بنانے) کے لئے کسی چیز سے مدد لینا جائز ہے۔اور کنکریاں مارنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
11
CHAPTER: Using A Dog For Hunting And Other Than That.
باب: شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
Chapter: What Has Been Related About The Muhrim Eating Hunted Animals
باب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About: The Meat Of Game Is Disliked For You
باب: محرم کے لیے شکار کے گوشت کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Game Of The Sea For The Muhrim
باب: محرم کے لیے سمندر کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About A Badger Killed By A Muhrim
باب: محرم کے لکڑبگھا کو شکار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: Permission Regarding The Price Of A Hunting Dog
باب: کتے کی قیمت کھانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About What Is Eaten From The Game Caught By Dogs And What Is Not Eaten
باب: کتے کا کون سا شکار کھایا جائے اور کون سا نہ کھایا جائے؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Game Caught By A Zoroastrian's Dog
باب: مجوسی کے کتے کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Game Caught By Falcon's
باب: باز کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Shoots Some Game Then He Loses Sight Of It
باب: آدمی شکار کو تیر مارے اور شکار غائب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About One Who Shoots Some Game, Then He Finds It Dead In The Water
باب: شکاری شکار پر تیر چلائے پھر اسے پانی میں مردہ پائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Dog Eating From The Game
باب: کتا شکار میں سے کھا لے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Game Killed By The Mir'ad
باب: بغیر پر کے تیر کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
24
بَاب الْحرم يجْتَنب الصَّيْد
محرم شکار کرنے سے اجتناب کرے
Mishkat
25
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
26
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
Musnad Ahmad
27
سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان
Musnad Ahmad
28
کتا شکار میں سے کھا لے تو اس کا حکم
Musnad Ahmad
29
معراض کے شکار کا بیان
Musnad Ahmad
30
(2) CHAPTER. If a Non-Muhrim hunts (an animal) and gives it as a present to a Muhrim, (it is permissible for) the latter to eat it.
اگر بے احرام والا شکار کرے اور احرام والے کو تحفہ بھیجے تو وہ کھا سکتا ہے
Sahih Bukhari
31
(3) CHAPTER. If the Muhrimun saw game and then laughed and a non-Muhrim understood (Why they laughed) (then their laughing is not to be considered as an intentional sign to draw the non-Muhrim's attention. Therefore they are allowed to eat the game).
احرام والے لوگ شکار دیکھ کر ہنس دیں اور بے احرام والا سمجھ جائے پھر شکار کرے تو وہ احرام والے بھی کھا سکتے ہیں
Sahih Bukhari
32
(5) CHAPTER. A Muhrim should not point at a game with the intention that a non-Muhrim may hunt it.
غیر محرم کے شکار کرنے کے لیے احرام والا شکار کی طرف اشارہ بھی نہ کرے
Sahih Bukhari
33
(9) CHAPTER. The game in the Haram (Sanctuary) should not be chased or disturbed.
حرم کے شکار ہانکے نہ جائیں
Sahih Bukhari
34
(5) CHAPTER. Accepting the gift of game.
شکار کا تحفہ قبول کرنا
Sahih Bukhari
35
(2) CHAPTER. The game killed by the Mirad.
بے پر کے تیر یعنی لکڑی گز وغیرہ سے شکار کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
36
(7) CHAPTER. If a hound eats (of the game).
جب کتا شکار میں سے خود کھا لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
37
(8) CHAPTER. If the hunter hits a game but does not catch it till two or three days have passed.
جب شکار کیا ہوا جانور شکاری کو دو یا تین دن کے بعد ملے تو دہ کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
38
(9) CHAPTER. If somebody finds another hound with the game (besides his hound).
شکاری جب شکار کے ساتھ دوسرا کتا پائے تو وہ کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
39
(11) CHAPTER. To hunt on mountains.
اس بیان میں کہ پہاڑوں پر شکار کرنا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
40
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “Lawful to you is (the pursuit of) water-game and its use for food... for the benefit of yourselves. … (V.5:96)
سورۃ المائدہ کی اس آیت کی تفسیر کہ ” حلال کیا گیا ہے تمہارے لیے دریا کا شکار کھانا “
Sahih Bukhari
41
Chapter: The sanctity of Makkah and the sanctity of its game, grasses, trees and lost property, except for the one who announces it, is forever
مکہ حرم ہے ‘اس میں شکار کرنا ‘اس کی گھاس اور درخت کا ٹنا اور اعلان کرنے والے کے سوا(کسی کا)یہاں سے کوئی پڑی ہوئی چیز اٹھانا ہمیشہ کے لیے حرام ہے
Sahih Muslim
42
Chapter: The virtue of Al-Madinah and the Prophet's Prayer for it to be blessed. Its sanctity and the sanctity of its game and trees. The Boundaries of its sanctuary
مدینہ کی فضیلت ‘اس میں برکت کےلیے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا ‘مدینہ کی حرمت ‘اس کے شکار اور اس کے درختوں کی حرمت اور حرم کی حدود کا بیان
Sahih Muslim
43
Chapter: If the game disappears, then is found afterwards
باب :جب شکار غائب(گم) ہوجائے،پھراسے پالے(تو کیاحکم ہے؟
Sahih Muslim
44
Chapter: The prohibition of eating any wild animal with Fangs and any bird with Talons
باب:کچلیوں والے ہر درندے اور پنجوں سے شکار کرنے والے ہر پرندے کو کھانے کی ممانعت
Sahih Muslim
45
CHAPTER: The Meat Of Game For The Muhrim.
باب: محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: Regarding Eating Of Locuts By A Muhrim.
باب: محرم کے لیے ٹڈی کا شکار جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: When A Piece Is Cut From The Game.
باب: زندہ شکار ( جانور ) کے جسم سے کوئی حصہ کاٹ لیا جائے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: On Following The Game.
باب: شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
49
اگر محرم شکار کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
50
محرم کو کون سا شکار منع ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

10
Sahih Muslim
3757
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَأَنَا أُرَى، أَنَّ عِنْدَهُ، مِنْهُ عِلْمًا ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لأُمِّهِ وَكَانَ أَوَّلَ رَجُلٍ لاَعَنَ فِي الإِسْلاَمِ - قَالَ - فَلاَعَنَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلاَلِ بْنِ أُمَيَّةَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ ‏.‏
Muhammad (one of the narrators) reported: I asked Anas b. Malik (Allah be pleased with him) knowing that he had a knowledge of (the case of li'an). He said: Hilal b. Umayya (Allah be pleased with him) accused his wife with the charge of fornication with Sharik b. Sahma, the brother of al-Bara'b Malik from the side of his mother. And he was the first person who invoked curse (li'an) in Islam. He in fact invoked curse upon her. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: See to her if she gives birth to a white-complexioned child having dark hair and bright eyes; he must be the son of Hilal b. Umayya; and if she gives birth to a child with dark eyelids, curly hair and lean shanks, he must be the offspring of Sharik b. Sahma. He said: I was informed that she gave birth to a child having dark eyelids, curly hair and lean shanks.
محمد سے روایت ہے میں نے انس بن مالک سے پوچھا یہ سمجھ کر کہ ان کو معلوم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہلال بن امیہ نے نسبت کی زنا کی اپنی بیوی کو شریک بن سحماء سے اور ہلالؓ بن امیہ براء بن مالکؓ کا مادری بھائی تھا ۔ اور اس نے سب سے پہلے لعان کیا اسلام میں ۔ راوی نے کہا پھر دونوں میاں بیوی نے لعان کیا تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اس عورت کو دیکھتے رہو اگر اس کا بچہ سفید رنگ کا ، سیدھے بال والا ، لال آنکھوں والا پیدا ہو تو وہ ہلال بن امیہؓ کا ہے اور جو سرمئی آنکھوں والا ، گھونگریالے بالوں والا ، پتلی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ۔ انسؓ نے کہا مجھ کو خبر پہنچی کہ اس عورت کا لڑکا سرمگیں آنکھ ، گھونگریالے بال اور پتلی پنڈلیوں والا پیدا ہوا ۔
Sahih Muslim
4792
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي، مِجْلَزٍ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ‏ ‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn 'Abdullah al-Bajali that the Messenger of Allah (ﷺ) said: One who is killed under the banner of a man who is blind (to his just cause), who raises the slogan of family or supports his own tribe, dies the death of one belonging to the days of Jahiliyya.
جندب بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا جو شخص اندھے جھندے کے تلے مارا جاوے اور وہ بلاتا ہو تعصب اور قومی طرفداری کی طرف یا مدد کرتا ہو قومی تعصب کی تو اس کا قتل جاہلیت کا سا ہوگا۔
Sunnan Abu Dawood
790
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَرَّةً:‏‏‏‏ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مَرَّةً:‏‏‏‏ الْعِشَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ نَافَقْتَ يَا فُلَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا نَافَقْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ جَاءَ يَؤُمُّنَا فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مُعَاذُ، ‏‏‏‏‏‏أَفَتَّانٌ أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏أَفَتَّانٌ أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏اقْرَأْ بِكَذَا، ‏‏‏‏‏‏اقْرَأْ بِكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ:‏‏‏‏ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى . فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ.
Jabir said: Muadh bin Jabal used to pray along with the prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم; then he returned and led us in prayer. Sometimes he (the narrator) said: then he returned and led his people in prayer. One night the prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم delayed the prayer. Sometimes he (the narrator) mentioned the word “the night prayer”. Then Muadh prayed along with the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, then returned to his people and led them in prayer, and recited surah al-baqrah. A mane turned aside and prayed alone. The people said to him: Have you become a hypocrite, so and so? He replied: I did not become a hypocrite. He then came to the prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and said (to him): Messenger of Allah. Muadh prays along with you and then returns and leads us in prayers. We look after camels used for watering and work for by day. De came to us leading us In prayer, and he recited Surah al-Baqrah (in prayer). He (the prophet) said: Muadh, are you a trouble maker? Recite such an d such ; recite such and such (surahs) The narrator Abu al-zubair said (recite) “Glorify the name of the most high lord” (surah lxxxvii. ) and “By the night when it covers over” (surah xcii. ) we mentioned this to Amr. He said I think he mentioned it (the names of some surahs).
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے - ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے: عشاء دیر سے پڑھائی، چنانچہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں ( اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں ) معاذ نے آ کر ہماری امامت کی اور سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورۃ پڑھا کرو ۔ ابوزبیر نے کہا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) : تم «سبح اسم ربك الأعلى» ، «والليل إذا يغشى» پڑھا کرو ، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
829
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْزُرَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّكُمْ قَرَأَ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ قَالَ شُعْبَةُ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ قَوْلُ سَعِيدٍ أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ ذَاكَ إِذَا جَهَرَ بِهِ. قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِقَتَادَةَ:‏‏‏‏ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ كَرِهَهُ نَهَى عَنْهُ.
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم led (us) in the noon prayer, and a man came and recited behind him Glorify the name of thy Lord, the Most High (Surah 87). When he finished (the prayer), he said: Which of you recited? They (the people) said: A man (recited). He said: I knew that some one of you confused me in it (in the recitation of the Quran). Abu Dawud said: Abu al-Walid said in his version: Shubah said: I asked Qatadah: Did Saeed not say: Listen attentively to the Quran? He replied: (Yes), but that applies to prayer in which it (the Quran) is recited aloud. Ibn Kathir said in his version: I said to Qatadah: Perhaps he (the Prophet) disliked it (recitation). He said: If he had disliked it, he would have prohibited it.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی تو ایک شخص آیا اور اس نے آپ کے پیچھے «سبح اسم ربك الأعلى» کی قرآت کی، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم میں کس نے قرآت کی ہے؟ ، لوگوں نے کہا: ایک شخص نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے مجھے اشتباہ میں ڈال دیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالولید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا تو میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا سعید کا یہ کہنا نہیں ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم خاموش رہو؟ انہوں نے کہا: یہ حکم اس وقت ہے، جب قرآت جہر سے ہو۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے کہا: گویا آپ نے اسے ناپسند کیا تو انہوں نے کہا: اگر آپ کو یہ ناپسند ہوتا، تو آپ اس سے منع فرما دیتے ۱؎۔
Sunnan Abu Dawood
830
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُرَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَلَمَّا انْفَتَلَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّكُمْ قَرَأَ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ أَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا .
Imran bin Husain reported that the prophet of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم led them in the noon prayer. When he finished it, he said: Which of you did recite the surah “ Glorify the name of thy lord, the Most High” (Surah lxxxvii. ) A man said: I. He said: I knew that some one of you confused me in it (i. e in the recitation of the Quran).
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر پڑھائی، تو جب آپ پلٹے تو فرمایا: تم میں سے کس نے ( ہمارے پیچھے ) سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی ہے؟ ، تو ایک آدمی نے کہا: میں نے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے میرے دل میں خلجان ڈال دیا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
2798
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طُعْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَأَعْطَانِي عَتُودًا جَذَعًا،‏‏‏‏:‏‏‏‏ فَرَجَعْتُ بِهِ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ جَذَعٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ضَحِّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَضَحَّيْتُ بِهِ.
Narrated Zayd ibn Khalid al-Juhani: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم distributed sacrificial animals among his Companions. He gave me a kid (of less than a year). I took it to him and said: This is a kid. He said: Sacrifice it. so I sacrificed it.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں قربانی کے جانور تقسیم کئے تو مجھ کو ایک بکری کا بچہ جو جذع تھا ( یعنی دوسرے سال میں داخل ہو چکا تھا ) دیا، میں اس کو لوٹا کر آپ کے پاس لایا اور میں نے کہا کہ یہ جذع ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قربانی کر ڈالو ، تو میں نے اسی کی قربانی کر ڈالی۔
Sunnan Abu Dawood
2920
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ وُرِّثَ .
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: When an infant has raised its voice (and then dies), it will be treated as an heir.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ آواز کرے تو وراثت کا حقدار ہو جائے گا ۱؎ ۔
Sunnan Abu Dawood
2988
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْجُرَيرِيَّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَعْبُدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِيعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ بَلَى قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا جَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ فِي يَدِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَ فِي نَحْرِهَا وَكَنَسَتَ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدَمٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَتْهُ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ حُدَّاثًا فَرَجَعَتْ فَأَتَاهَا مِنَ الْغَدِ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا كَانَ حَاجَتُكِ ؟ فَسَكَتَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ أَنَا أُحَدِّثُكَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ فِي يَدِهَا وَحَمَلَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا فَلَمَّا أَنْ جَاءَكَ الْخَدَمُ أَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَكَ فَتَسْتَخْدِمَكَ خَادِمًا يَقِيهَا حَرَّ مَا هِيَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اتَّقِي اللَّهَ يَا فَاطِمَةُ وَأَدِّي فَرِيضَةَ رَبِّكِ وَاعْمَلِي عَمَلَ أَهْلِكِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَخَذْتِ مَضْجَعَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ فَهِيَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Ibn A’bud said, Ali said to me “May I not narrate you about me and Fathimah daughter of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم? She was most favorite to him of his family. ” I said “Yes”. He said “She pulled the grinding stone with her hand so much that it affected her hand, she carried water in a water bag so much so that it affected the upper portion of her chest, she swept the house so much so that her clothes became dirty. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم acquired some slaves”. So I said “Would that you go to your father and ask him for a slave. She then came to him and found some people with him talking to him. She therefore returned. Next day she came again. He asked (her), what was your need? But she kept silence. So I said, I inform you, Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. She pulled grinding stone so much that it affected her hand, she carried water bag so much so that it affected the upper portion of her chest. When the slaves were brought to you I asked her to come to you and to ask you for a slave to save her from the exertion she is suffering. ” He said “Fear Allaah, Fathimah and perform the duty of your Lord and do the work of your family. ” When you go to bed say “Glory be to Allaah” thirty three times, “Praise be to Allaah” thirty three times, “Allaah is Most Great” thirty four times. This is hundred times. That will be better for you than a servant. She said “I am pleased with Allaah, Most High and with his Messenger صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. ”
ابن اعبد کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی جو آپ کو اپنے تمام کنبے والوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پیاری تھیں کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، آپ نے کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے، اور پانی بھربھر کر مشک لاتیں جس سے ان کے سینے میں درد ہونے لگا اور گھر میں جھاڑو دیتیں جس سے ان کے کپڑے خاک آلود ہو جاتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام اور لونڈیاں آئیں تو میں نے ان سے کہا: اچھا ہوتا کہ تم اپنے ابا جان کے پاس جاتی، اور ان سے اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیتی، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ آپ سے گفتگو کر رہے ہیں تو لوٹ آئیں، دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم کس ضرورت سے آئی تھیں؟ ، وہ چپ رہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان ( گٹھا ) پڑ گیا، مشک ڈھوتے ڈھوتے سینے میں درد رہنے لگا اب آپ کے پاس خادم آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جائیں، اور آپ سے ایک خادم مانگ کر لائیں، جس کے ذریعہ اس شدت و تکلیف سے انہیں نجات ملے جس سے وہ دو چار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ! اللہ سے ڈرو اور اپنے رب کے فرائض ادا کرتی رہو، اور اپنے گھر کے کام کیا کرو، اور جب سونے چلو تو ( ۳۳ ) بار سبحان اللہ، ( ۳۳ ) بار الحمدللہ، اور ( ۳۴ ) بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، یہ کل سو ہوئے یہ تمہارے لیے خادمہ سے بہتر ہیں ۱؎ ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش ہوں۔
Sunnan Abu Dawood
3463
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ أَبِي الْمِنْهَالِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، ‏‏‏‏‏‏وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، ‏‏‏‏‏‏إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ .
Narrated Ibn Abbas: When the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم came to Madina, they were paying one, two and three years in advance for fruits, so he said: Those who pay in advance for anything, must do for a specified measure and weight with a specified time fixed.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اس وقت لوگ پھلوں میں سال سال، دو دو سال، تین تین سال کی بیع سلف کرتے تھے ( یعنی مشتری بائع کو قیمت نقد دے دیتا اور بائع سال و دو سال تین سال کی جو بھی مدت متعین ہوتی مقررہ وقت تک پھل دیتا رہتا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھجور کی پیشگی قیمت دینے کا معاملہ کرے اسے چاہیئے کہ معاملہ کرتے وقت پیمانہ وزن اور مدت سب کچھ معلوم و متعین کر لے ۲؎ ۔