TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2854 - CHAPTER: Regarding Hunting. - Game (kitab al-said) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 11 in this chapter
CHAPTER: Regarding Hunting.
باب: شکار کرنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أُرْسِلُ كَلْبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا سَمَّيْتَ فَكُلْ وَإِلَّا فَلَا تَأْكُلْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ لِنَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ عَلَيْهِ كَلْبًا آخَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تَأْكُلْ لِأَنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ .
Narrated Adi bin Hatim: I asked Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم about featherless arrow. He said: If it strikes with its end, eat, and if it strikes with the middle part of it, do not eat, for it died by a violent blow. I said: I set off my dog? He replies: If you mention Allah's name, eat, otherwise do not eat. If it eats any of it, do not eat, for it caught for itself. He asked: I set off my dog, and I find with it another dog ? He replied: Do not eat, because you mentioned Allah's name on your dog.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پر کے تیر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب وہ اپنی تیزی سے پہنچے تو کھاؤ ( یعنی جب وہ تیزی سے گھس گیا ہو ) ، اور جو تیر چوڑائی میں لگا ہو تو مت کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ کھایا ہوا ہے ۔ پھر میں نے کہا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں ( اس بارے میں کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب«بِسْمِ اللهِ» پڑھ کر چھوڑو تو کھاؤ، ورنہ نہ کھاؤ، اور اگر کتے نے اس میں سے کھایا ہو تو اس کو مت کھاؤ، اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے ۔ پھر میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں کہ دوسرا کتا بھی آ کر اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ( تب کیا کروں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مت کھاؤ، اس لیے کہ «بِسْمِ اللهِ» تم نے صرف اپنے ہی کتے پر کہا ہے ۔
2854
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 2854 In-book reference : Book 17, Hadith 11 English translation : Book 16, Hadith 2848
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الوضوء ۳۳ (۱۷۵)، البیوع ۳ (۲۰۵۴)، الصید ۲ (۵۴۷۶)، صحیح مسلم/ الصید ۱۹ (۱۹۲۹)، سنن النسائی/الصید ۷ (۴۲۷۷)، (تحفة الأشراف: ۹۸۶۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۸۰)، دی/ الصید ۱ (۲۰۴۵)

Related Chapters

80
1
(4) CHAPTER. A Muhrim should not help a non-Muhrim in the hunting of a game.
شکار کرنے میں احرام والا غیر محرم کی کچھ بھی مدد نہ کرے
Sahih Bukhari
2
(1) CHAPTER. The mentioning of Allah's Name while hunting.
شکار پر بسماللہ پڑھنا اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا کہ تم پر مردار کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔
Sahih Bukhari
3
(3) CHAPTER. The game killed by the broad side of Al-Mirad. (i.e., a sharp-edged piece of wood or a piece of wood provided with a sharp piece of iron for hunting).
جب بے پر کے تیر یا لکڑی کے عرض سے شکار مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
4
(4) CHAPTER. About hunting with a bow...
تیر کمان سے شکار کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
5
(6) CHAPTER. Whoever keeps a (pet) dog neither for hunting, nor for guarding livestock.
اس کے بیان میں جس نے ایسا کتا پالا جو نہ شکار کے لیے ہو اور نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ۔
Sahih Bukhari
6
(10) CHAPTER. What have been said about hunting.
شکار کرنے کو بطور مشغلہ اختیار کرنا ۔
Sahih Bukhari
7
Chapter: The prohibition of hunting game for the one who has entered Ihram for Hajj or for Umrah or for both
جس نے حج و عمرے کا الگ الگ یا اکٹھا احرام باندھا ہوا ہو اس کے لیے کسی کھائے جانے والے جانور کا شکار جو خشک زمین پر رہتا ہو یا بنیادی طور پر خشکی سے تعلق رکھتا ہوۃ ‘حرام ہے
Sahih Muslim
8
Chapter: The command to kill dogs, and its abrogation. The prohibition of keeping dogs, except for hunting, farming, (herding) livestock and the like
کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے
Sahih Muslim
9
Chapter: Hunting with trained dogs and arrows
باب: سدھائے ہوئے کتوں اور تیر اندازی کےذریعے سے شکار کرنے کاحکم
Sahih Muslim
10
Chapter: The permissibility of using things that help in hunting and pursuing the enemy, but throwing small pebbles is disliked
شکار میں اور دشمن(کو نشانہ بنانے) کے لئے کسی چیز سے مدد لینا جائز ہے۔اور کنکریاں مارنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
11
CHAPTER: Using A Dog For Hunting And Other Than That.
باب: شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
Chapter: What Has Been Related About The Muhrim Eating Hunted Animals
باب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About: The Meat Of Game Is Disliked For You
باب: محرم کے لیے شکار کے گوشت کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Game Of The Sea For The Muhrim
باب: محرم کے لیے سمندر کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About A Badger Killed By A Muhrim
باب: محرم کے لکڑبگھا کو شکار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: Permission Regarding The Price Of A Hunting Dog
باب: کتے کی قیمت کھانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About What Is Eaten From The Game Caught By Dogs And What Is Not Eaten
باب: کتے کا کون سا شکار کھایا جائے اور کون سا نہ کھایا جائے؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Game Caught By A Zoroastrian's Dog
باب: مجوسی کے کتے کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Game Caught By Falcon's
باب: باز کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Shoots Some Game Then He Loses Sight Of It
باب: آدمی شکار کو تیر مارے اور شکار غائب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About One Who Shoots Some Game, Then He Finds It Dead In The Water
باب: شکاری شکار پر تیر چلائے پھر اسے پانی میں مردہ پائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Dog Eating From The Game
باب: کتا شکار میں سے کھا لے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Game Killed By The Mir'ad
باب: بغیر پر کے تیر کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
24
بَاب الْحرم يجْتَنب الصَّيْد
محرم شکار کرنے سے اجتناب کرے
Mishkat
25
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
26
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
Musnad Ahmad
27
سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان
Musnad Ahmad
28
کتا شکار میں سے کھا لے تو اس کا حکم
Musnad Ahmad
29
معراض کے شکار کا بیان
Musnad Ahmad
30
(2) CHAPTER. If a Non-Muhrim hunts (an animal) and gives it as a present to a Muhrim, (it is permissible for) the latter to eat it.
اگر بے احرام والا شکار کرے اور احرام والے کو تحفہ بھیجے تو وہ کھا سکتا ہے
Sahih Bukhari
31
(3) CHAPTER. If the Muhrimun saw game and then laughed and a non-Muhrim understood (Why they laughed) (then their laughing is not to be considered as an intentional sign to draw the non-Muhrim's attention. Therefore they are allowed to eat the game).
احرام والے لوگ شکار دیکھ کر ہنس دیں اور بے احرام والا سمجھ جائے پھر شکار کرے تو وہ احرام والے بھی کھا سکتے ہیں
Sahih Bukhari
32
(5) CHAPTER. A Muhrim should not point at a game with the intention that a non-Muhrim may hunt it.
غیر محرم کے شکار کرنے کے لیے احرام والا شکار کی طرف اشارہ بھی نہ کرے
Sahih Bukhari
33
(9) CHAPTER. The game in the Haram (Sanctuary) should not be chased or disturbed.
حرم کے شکار ہانکے نہ جائیں
Sahih Bukhari
34
(5) CHAPTER. Accepting the gift of game.
شکار کا تحفہ قبول کرنا
Sahih Bukhari
35
(2) CHAPTER. The game killed by the Mirad.
بے پر کے تیر یعنی لکڑی گز وغیرہ سے شکار کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
36
(7) CHAPTER. If a hound eats (of the game).
جب کتا شکار میں سے خود کھا لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
37
(8) CHAPTER. If the hunter hits a game but does not catch it till two or three days have passed.
جب شکار کیا ہوا جانور شکاری کو دو یا تین دن کے بعد ملے تو دہ کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
38
(9) CHAPTER. If somebody finds another hound with the game (besides his hound).
شکاری جب شکار کے ساتھ دوسرا کتا پائے تو وہ کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
39
(11) CHAPTER. To hunt on mountains.
اس بیان میں کہ پہاڑوں پر شکار کرنا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
40
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “Lawful to you is (the pursuit of) water-game and its use for food... for the benefit of yourselves. … (V.5:96)
سورۃ المائدہ کی اس آیت کی تفسیر کہ ” حلال کیا گیا ہے تمہارے لیے دریا کا شکار کھانا “
Sahih Bukhari
41
Chapter: The sanctity of Makkah and the sanctity of its game, grasses, trees and lost property, except for the one who announces it, is forever
مکہ حرم ہے ‘اس میں شکار کرنا ‘اس کی گھاس اور درخت کا ٹنا اور اعلان کرنے والے کے سوا(کسی کا)یہاں سے کوئی پڑی ہوئی چیز اٹھانا ہمیشہ کے لیے حرام ہے
Sahih Muslim
42
Chapter: The virtue of Al-Madinah and the Prophet's Prayer for it to be blessed. Its sanctity and the sanctity of its game and trees. The Boundaries of its sanctuary
مدینہ کی فضیلت ‘اس میں برکت کےلیے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا ‘مدینہ کی حرمت ‘اس کے شکار اور اس کے درختوں کی حرمت اور حرم کی حدود کا بیان
Sahih Muslim
43
Chapter: If the game disappears, then is found afterwards
باب :جب شکار غائب(گم) ہوجائے،پھراسے پالے(تو کیاحکم ہے؟
Sahih Muslim
44
Chapter: The prohibition of eating any wild animal with Fangs and any bird with Talons
باب:کچلیوں والے ہر درندے اور پنجوں سے شکار کرنے والے ہر پرندے کو کھانے کی ممانعت
Sahih Muslim
45
CHAPTER: The Meat Of Game For The Muhrim.
باب: محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: Regarding Eating Of Locuts By A Muhrim.
باب: محرم کے لیے ٹڈی کا شکار جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: When A Piece Is Cut From The Game.
باب: زندہ شکار ( جانور ) کے جسم سے کوئی حصہ کاٹ لیا جائے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: On Following The Game.
باب: شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
49
اگر محرم شکار کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
50
محرم کو کون سا شکار منع ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

305
Sahih Muslim
4974
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: «إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، فَلَا تَأْكُلْ» وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ»، قُلْتُ: فَإِنْ وَجَدْتُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ، فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ؟ قَالَ: «فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ
Adi b. Hatim reported that he asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about (hunting) with the help of an arrow having a stub end. He said: If it strikes (the game) with its point, then eat, but if it strikes flatly and it dies, that is Waqidh (beaten into death), do not eat that. I asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about (hunting with the help of) dogs, whereupon he said. When you send your dog (for hunting) reciting the name of Allah, then eat (the game), but if some part of it is eaten (by the dogs, then do not eat that, for it (your dog) has caught that (the-game) for itself. I (again) said: If I find along with my dog another dog, and do not know which of (the dogs) has caught (the game). then (what should I do)? Thereupon he ('Allah's Messenger) said: Then don't eat that, for you recited the name of Allah on your dog and not on the other one.
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ ابی سفر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نےفرمایا : " جب اس نے اپنے ( چھیدنے والے ) تیز حصے کے ذریعے سے نشانہ بنایا ہوتو کھا لو اور اگر اپنی چوڑائی سے نشانہ بنا کر ماردیا ہو ۔ تووہ چوٹ لگنے سے مرا ہوا ( شکار ) ہے ، اسے نہ کھاؤ ۔ " اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے ( شکار پر ) اپناکتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھا لو ، اگر کتے نے اس ( شکار ) میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو مت کھاؤ ، کیونکہ کتے نے اس ( شکار ) کو اپنے لئے پکڑا ہے ۔ " میں نے کہا اگر میں اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو بھی دیکھوں اور مجھے پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے؟آپ نے فرمایا : " پھر تم نہ کھاؤ ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے ، دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی ۔ "
Sahih Muslim
4976
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، وَعَنْ نَاسٍ، ذَكَرَ شُعْبَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ بِمِثْلِ ذَلِكَ
This hadith has been transmitted on the authority of 'Adi b. Hatim with a slight variation of words.
غندر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے ، انھوں نے اور کچھ دیگر لوگوں نے جن کا شعبہ نے ذکر کیا ، شعبی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کےمتعلق سوا ل کیا ، اسی کے مانند ۔
Sunnan Nisai
4311
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقُتِلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ .
It was narrated that Ash-Sha bi said: I heard 'Adiyy bin Hatim say: 'I asked the Messenger of Allah about the Mirad and he said: If the sharp point hits 9the game) then eat, bu8t if the broad edge of it hits it, and it is killed, then it has been killed by a blow, so do not eat.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» ( آڑے نیزہ اور تیر ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب ( شکار میں ) «معراض» کی نوک لگے تو اسے کھاؤ اور جب آڑا «معراض» پڑے اور وہ ( شکار ) مر جائے تو وہ «موقوذہ» ۱؎ ہے، اسے مت کھاؤ“۔
Sahih Muslim
4975
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
Adi b. Hatim reported: I asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about Mi'rad (i. e. hunting with the help of arrow having a stub end, and he stated the same (as we find in the previous hadith).
ابن علیہ نے کہا : مجھے شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سےخبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوا ل کیا ، پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
Sunnan Abu Dawood
3420
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ فَأَتَوْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّكَ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَارْقِ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَوْهُ بِرَجُلٍ مَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَقَاهُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَكُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَفَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَهُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كُلْ فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةٍ بَاطِلٍ، ‏‏‏‏‏‏لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةٍ حَقٍّ .
Kharijah bin al-Salt quoted his paternal uncle as saying that he passed by a clan (of the Arab) who came to him and said: You have brought what is good from this man. Then they brought a lunatic in chains. He recited Surat al-Fatihah over him three days, morning and evening. When he finished, he collected his saliva and then spat it out, (he felt relief) as if he were set free from a bond. They gave him something (as wages). He then came to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and mentioned it to him. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Accept it, for by my life, some accept it for a worthless charm, but you have done so far a genuine one.
خارجہ بن صلت کے چچا علاقہ بن صحار تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ آدمی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس سے بھلائی لے کر آئے ہیں، تو ہمارے اس آدمی کو ذرا جھاڑ پھونک دیں، پھر وہ لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے ایک پاگل لے کر آئے، تو انہوں نے اس پر تین دن تک صبح و شام سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جب وہ اسے ختم کرتے تو ( منہ میں ) تھوک جمع کرتے پھر تھو تھو کرتے، پھر وہ شخص ایسا ہو گیا، گویا اس کی گرہیں کھل گئیں، ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بے دھڑک ) کھاؤ، قسم ہے ( یعنی اس ذات کی جس کے اختیار میں میری زندگی ہے ) لوگ تو جھوٹا منتر پڑھ کر کھاتے ہیں، آپ تو سچا منتر پڑھ کر کھا رہے ہیں ۔
Sunnan Abu Dawood
3897
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ مَرَّ قَالَ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ.
Kharijah bin al-Salt quoted his parental uncle as saying that he passed (some people): He recited Surat al-Fatihah over him for three days morning and evening. Whenever he finished it, he collected some of his saliva and spat it out, and he seemed as if he were set free from a bond. They gave him something as payment. He then came to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He then transmitted the rest of the tradition to the same effect as Musaddad narrated.
خارجہ بن صلت سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ( کچھ لوگوں پر سے ) گزرے ( ان میں ایک دیوانہ شخص تھا ) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورۃ فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کر دیتے، پھر وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔
Sunnan Abu Dawood
3901
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنْ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُودِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْنَا:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءُوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمْتُهَا أَجْمَعُ بُزَاقِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتْفُلُ فَكَأَنَّمَا نَشَطَ مِنْ عِقَالٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَا حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُلْ فَلَعَمْرِي مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ .
Narrated Alaqah ibn Sahar at-Tamimi: We proceeded from the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and came to a clan of the Arabs. They said: We have been told that you have brought what is good from this man. Have you any medicine or a charm, for we have a lunatic in chains? We said: Yes. Then they brought a lunatic in chains. He said: I recited Surat al-Fatihah over him for three days, morning and evening. Whenever I finished it, I would collect my saliva and spit it out, and he seemed as if he were set free from a bond. He said: They gave me some payment, but I said: No, not until I ask the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He (the Prophet) said: Accept it, for, by my life, some accept it for a worthless charm, but you have done so for a genuine one.
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے اور عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے تو وہ لوگ کہنے لگے: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اس شخص کے پاس سے آ رہے ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا منتر ہے؟ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، ہم نے کہا: ہاں، تو وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا لے کر آئے، میں اس پر تین دن تک سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرتا رہا، وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی قید سے چھوٹ گیا ہو، پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت دی، میں نے کہا: میں نہیں لوں گا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: کھاؤ، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو جھوٹا منتر کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز منتر کر کے کھایا ہے ۔
Sunnan Nisai
1920
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ. ح وأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ،‏‏‏‏ وَقَالَ عَمْرٌو:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ .
It was narrated from Abu Sa'eed that a funeral passed by the Messenger of Allah and he stood up. (One of the narrators) 'Amr said: If a funeral passed by the Messenger of Allah he would stand up.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ ( لے کر ) گزرے، تو آپ کھڑے ہو گئے، اور عمرو بن علی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے۔
Sunnan Nisai
3606
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَغْنَمُ .
It was narrated that 'Urwah said that he heard the Messenger of Allah say: Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war.
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”گھوڑے کی پیشانی سے قیامت تک کے لیے خیر وابستہ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت بھی“۔