TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4975 - Chapter: Hunting with trained dogs and arrows - The book of hunting , salughter and what may be eaten - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 13 in this chapter
Chapter: Hunting with trained dogs and arrows
باب: سدھائے ہوئے کتوں اور تیر اندازی کےذریعے سے شکار کرنے کاحکم
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
Adi b. Hatim reported: I asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about Mi'rad (i. e. hunting with the help of arrow having a stub end, and he stated the same (as we find in the previous hadith).
ابن علیہ نے کہا : مجھے شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سےخبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوا ل کیا ، پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
4975
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

44
1
Chapter: The command to kill dogs, and its abrogation. The prohibition of keeping dogs, except for hunting, farming, (herding) livestock and the like
کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے
Sahih Muslim
2
سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان
Musnad Ahmad
3
(3) CHAPTER. The game killed by the broad side of Al-Mirad. (i.e., a sharp-edged piece of wood or a piece of wood provided with a sharp piece of iron for hunting).
جب بے پر کے تیر یا لکڑی کے عرض سے شکار مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
4
(4) CHAPTER. About hunting with a bow...
تیر کمان سے شکار کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
5
باب: سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
باب: غیر سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
Chapter: What Has Been Related About What Is Eaten From The Game Caught By Dogs And What Is Not Eaten
باب: کتے کا کون سا شکار کھایا جائے اور کون سا نہ کھایا جائے؟
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Killing Dogs
باب: کتوں کو مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
Musnad Ahmad
10
(4) CHAPTER. A Muhrim should not help a non-Muhrim in the hunting of a game.
شکار کرنے میں احرام والا غیر محرم کی کچھ بھی مدد نہ کرے
Sahih Bukhari
11
(78) CHAPTER. Exhortation to archery (i.e., arrow throwing).
تیراندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں
Sahih Bukhari
12
(1) CHAPTER. The mentioning of Allah's Name while hunting.
شکار پر بسماللہ پڑھنا اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا کہ تم پر مردار کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔
Sahih Bukhari
13
(6) CHAPTER. Whoever keeps a (pet) dog neither for hunting, nor for guarding livestock.
اس کے بیان میں جس نے ایسا کتا پالا جو نہ شکار کے لیے ہو اور نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ۔
Sahih Bukhari
14
(10) CHAPTER. What have been said about hunting.
شکار کرنے کو بطور مشغلہ اختیار کرنا ۔
Sahih Bukhari
15
Chapter: The prohibition of hunting game for the one who has entered Ihram for Hajj or for Umrah or for both
جس نے حج و عمرے کا الگ الگ یا اکٹھا احرام باندھا ہوا ہو اس کے لیے کسی کھائے جانے والے جانور کا شکار جو خشک زمین پر رہتا ہو یا بنیادی طور پر خشکی سے تعلق رکھتا ہوۃ ‘حرام ہے
Sahih Muslim
16
Chapter: The virtue of Shooting and Encouragement to learn it, and criticism of the one who learns it and then forgets it
تیر اندازی کی فضیلت اور اس کی تلقین ‘جس نے اسے سیکھ کر بھلا دیا اس کی مذمت
Sahih Muslim
17
Chapter: The permissibility of using things that help in hunting and pursuing the enemy, but throwing small pebbles is disliked
شکار میں اور دشمن(کو نشانہ بنانے) کے لئے کسی چیز سے مدد لینا جائز ہے۔اور کنکریاں مارنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
18
CHAPTER: Regarding Shooting.
باب: تیر اندازی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
19
CHAPTER: Using A Dog For Hunting And Other Than That.
باب: شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: Regarding Hunting.
باب: شکار کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: The braying of donkeys and barking of dogs.
باب: گدھوں کا رینکنا اور کتوں کا بھونکنا ۔
Sunnan Abu Dawood
22
اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
23
Chapter: A person who has arrows should carry them by their heads
تیر کا پیکان ہاتھ میں لے کر نکلنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
24
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر اندازی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: غیر سدھائے ہوئے گھوڑوں کی گھڑ دوڑ میں مسابقت کی حد کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
Chapter: Permission Regarding The Price Of A Hunting Dog
باب: کتے کی قیمت کھانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
27
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
29
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
Musnad Ahmad
30
پرورش میں والدین کے تنازعہ اور اختلاف کے وقت بچے کے سلسلے میں قرعہ اندازی کرنے اور سن تمیز تک پہنچنے کی صورت میں اس کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
31
(2) CHAPTER. The order of following the funeral procession.
جنازہ میں شریک ہونے کاحکم
Sahih Bukhari
32
(58) CHAPTER. A seller should not urge somebody (in case of optional sale) to cancle a bargain the latter has already agreed upon with another seller so as to sell him his own goods; and a buyer should not urge the seller to cencle a barbain already agreed upon with another buyer so as to buy the goods himself, unless they are given permission in both cases, or the bargains are cancelled with the willingness of both the seller and the buyer.
کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بیع میں دخل اندازی نہ کرے اور اپنے بھائی کے بھاؤ لگاتے وقت اس کے بھاؤ کو نہ بگاڑے جب تک وہ اجازت نہ دے یا چھوڑ نہ دے
Sahih Bukhari
33
(30) CHAPTER. Drawing lots to solve problems.
مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کرنا
Sahih Bukhari
34
(10) CHAPTER. Allah's Statement: “Intoxicants (all kinds of alcoholic drinks), gambling, Al-Ansab and Al-Azlam (arrows for seeking luck or a decision) are an abomination of Satan's handiwork... (V.5:90)
آیت ( ( انما الخمر والمیسر والانصاب ) ) الخ کی تفسیر
Sahih Bukhari
35
(18) CHAPTER. (About the instruments) that cause the blood (of slaughter animals) to gush out, e.g., of cane, granite stone, or iron.
بانس ، سفید دھاردار اور لوہار جو خون بہادے اس کاحکم کیا ہے ؟
Sahih Bukhari
36
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Intoxicants (all kind of alcoholic drinks), gambling, Al-Ansab and Al-Azlam (arrows for seeking luck or decision) are an abomination of Shaitan's (satan) handiwork. So avoid (strickly all) that (abomination) in order that you may be sucessful... (V.5:90)
اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ المائدہ ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
37
Chapter: The ruling on semen
منی کاحکم
Sahih Muslim
38
Chapter: The ruling on coitus interrupts ('Azl)
عزل (انزال کے وقت علیحدہ ہو جانے کےبارے میں)شریعت کاحکم
Sahih Muslim
39
Chapter: It Is Disliked To Take Dogs And Bells On A Journey
سفر میں گھنٹی اور کتا (ساتھ ) رکھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
40
Chapter: Verification Of Hadith And The Ruling On Writing Down Knowledge
حدیث کے بارے میں احتیاط وتحقیق اور علم کی کتابت کاحکم
Sahih Muslim
41
CHAPTER: Regarding The Price Of Dogs.
باب: کتے کی قیمت لینا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
42
Chapter: Passing Judgment By Casting Lots
قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
43
اذان دینے کے لیے قرعہ اندازی کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
باب: کسی لڑکے کے نسبت کے بارے میں جھگڑا ہو جائے تو قرعہ اندازی کی جائے گی اور زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث میں شعبی کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

109
Sahih Muslim
4974
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: «إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، فَلَا تَأْكُلْ» وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ»، قُلْتُ: فَإِنْ وَجَدْتُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ، فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ؟ قَالَ: «فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ
Adi b. Hatim reported that he asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about (hunting) with the help of an arrow having a stub end. He said: If it strikes (the game) with its point, then eat, but if it strikes flatly and it dies, that is Waqidh (beaten into death), do not eat that. I asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about (hunting with the help of) dogs, whereupon he said. When you send your dog (for hunting) reciting the name of Allah, then eat (the game), but if some part of it is eaten (by the dogs, then do not eat that, for it (your dog) has caught that (the-game) for itself. I (again) said: If I find along with my dog another dog, and do not know which of (the dogs) has caught (the game). then (what should I do)? Thereupon he ('Allah's Messenger) said: Then don't eat that, for you recited the name of Allah on your dog and not on the other one.
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ ابی سفر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نےفرمایا : " جب اس نے اپنے ( چھیدنے والے ) تیز حصے کے ذریعے سے نشانہ بنایا ہوتو کھا لو اور اگر اپنی چوڑائی سے نشانہ بنا کر ماردیا ہو ۔ تووہ چوٹ لگنے سے مرا ہوا ( شکار ) ہے ، اسے نہ کھاؤ ۔ " اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے ( شکار پر ) اپناکتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھا لو ، اگر کتے نے اس ( شکار ) میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو مت کھاؤ ، کیونکہ کتے نے اس ( شکار ) کو اپنے لئے پکڑا ہے ۔ " میں نے کہا اگر میں اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو بھی دیکھوں اور مجھے پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے؟آپ نے فرمایا : " پھر تم نہ کھاؤ ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے ، دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی ۔ "
Sahih Bukhari
2559
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ فُلَانٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, If somebody fights (or beats somebody) then he should avoid the face.
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن فلاں (ابن سمعان) نے خبر دی، انہیں سعید مقبری نے، انہیں ان کے باپ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور (دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ہمام سے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی کسی سے جھگڑا کرے تو چہرے ( پر مارنے ) سے پرہیز کرے۔“
Sahih Muslim
782
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ يَحْيَى: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Abu Ayyub reported that he had heard like this from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
ابوسلمہ نے عطاء بن یسار کےبجائے عروہ بن زبیر سے اور انہوں نےابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے خبر دی کہ انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ۔
Sahih Muslim
1559
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ، بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ
A hadith like this has been transmitted by Khufaf b. Ima' except this that he did not mention (these words): cursing of unbelievers got a sanctions.
عمران کے بجائے ) عبدالرحمان بن حرملہ نے حنظلہ بن علی بن اسقع سے اور انھوں نے حضرت خفاف بن ایماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اسی کے مانند روایت کی ، سوائے اس کے کہ انھوں نے ’’کافروں پر اسی کے سبب لعنت کی گئی ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔
Sahih Muslim
4977
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: «مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ»، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: «مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ أَخْذُهُ، فَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا آخَرَ، فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ، فَلَا تَأْكُلْ، إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ
Adi b. Hatim reported: I asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about hunting the game with the help of Mi'rad, whereupon he said: If it strikes (the game) with its point, then eat it, but if it strikes flat, that is (the game is) beaten (into death), (then do not eat that) 'Adi further said: I asked him about hunting with the help of a dog, whereupon he said: If that (the dog) catches it (the game) for you and does not eat out of that, then you eat (the game) for Dhakat (slaughtering) of that is its being caught by it (by the dog). But if you find another dog besides it, and you fear that that dog (the second one) had caught it (the game) along with that (your dog) and killed it. then don't eat; for you recited the name of Allah on your dog and did not recite that on the other one (which joined your dog incidentally).
۔ عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں زکریا نے عامر ( شعبی ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لاٹھی کی لوہے والی طرف لگے تو کھا لے اور جب لکڑی والی طرف لگے اور مر جائے ، تو وہ وقیذ ہے ( یعنی موقوذہ ہے جو پتھر یا لکڑی سے مارا جائے اور وہ قرآن پاک میں حرام ہے ) اس کو مت کھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنا کتا چھوڑے ، تو کھا لے لیکن اگر کتا شکار میں سے کھا لے تو مت کھا کیونکہ اس نے اپنے لئے شکار کیا ۔ میں نے کہا کہ اگر میں اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤں اور یہ معلوم نہ ہو کہ کس کتے نے پکڑا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو مت کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ کہی تھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی ۔
Sunnan Abu Dawood
1078
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرٌو، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ . قَالَ عَمْرٌو:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ حَبَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ. قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيه، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْيُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Muhammad ibn Yahya ibn Habban: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: What is the harm if any of you has two garments, if he can provide them, for Friday (prayer) in addition to the two garments for his daily work? Amr reported from Ibn Habib from Musa ibn Saad from Ibn Habban from Ibn Salam who heard this (tradition) from the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم on the pulpit. Abu Dawud said: This tradition has been reported by Yusuf bin Abdullah bin Salam from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم through a different chain of narrators.
محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میسر ہو سکے تو تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے جمعہ کے لیے بنا رکھے ۱؎ ۔ عمرو کہتے ہیں: مجھے ابن ابوحبیب نے خبر دی ہے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے ابن حبان سے، ابن حبان نے ابن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے منبر پر فرماتے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہب بن جریر نے اپنے والد سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، یحییٰ نے یزید بن ابوحبیب سے، انہوں نے موسیٰ بن سعد سے، موسیٰ بن سعد نے یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
5176
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ وَجَدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْتُ وَلَمْ أُسَلِّمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْ:‏‏‏‏ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ،‏‏‏‏ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَمْرٌو:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ صَفْوَانَ بِهَذَا أَجْمَعَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُدَ:‏‏‏‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ يَحْيَى أَيْضًا:‏‏‏‏ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ الْحَنْبَلِ أَخْبَرَهُ.
Narrated Kaladah ibn Hanbal: Safwan ibn Umayyah sent him with some milk, a young gazelle and some small cucumbers to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم when he was in the upper part of Makkah. I entered but I did not give a salutation. He said: Go back and say: Peace be upon you ! This happened after Safwan ibn Umayyah and embraced Islam. Amr said: Ibn Safwan told me all this on the authority of Kaladah ibn Hanbal, and he did not say: I heard it from him. Abu Dawud said: Yahya bin Habib said: Umayyah bin Safwan. He did not say: I heard from Kaladah bin Hanbal. Yahya also said: Amr bin Abdullah bin Safwan told him that Kaladah bin al-Hanbal told him.
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ کر ( باہر ) جاؤ اور ( پھر سے آ کر ) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کا ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
3214
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَنِ الصَّيْدِ بِالْمِعْرَاضِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذ .
It was narrated that ‘Adi bin Hatim said: “I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about hunting with Mi’rad. He said: ‘Whatever it struck with its sharp edge, then eat it, but what is struck with its side is something that has been killed by a violent blow.’”
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تیر کی نوک سے مرے اسے کھاؤ، اور جو اس کے عرض ( چوڑان ) سے مرے وہ مردار ہے ۔
Sunnan Nisai
4041
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَرِضُوا،‏‏‏‏ فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقَاحٍ لِيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانُوا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَمَدُوا إِلَى الرَّاعِي غُلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَتَلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَاقُوا اللِّقَاحَ، ‏‏‏‏‏‏فَزَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ عَطِّشْ مَنْ عَطَّشَ آلَ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ ، ‏‏‏‏‏‏فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ،‏‏‏‏ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ،‏‏‏‏ وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ . إِلَّا أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ اسْتَاقُوا إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ.
It was narrated that Sa'eed bin Al-Musayyab said: Some 'Arab people came to the Messenger of Allah [SAW] and accepted Islam, then they became sick. The Messenger of Allah [SAW] sent them to some milk camels to drink their milk. While they were with them, they attacked the herdsman, who was a slave of the Messenger of Allah [SAW], and killed him. They drove off the camels, and claimed that the Messenger of Allah [SAW] had said: 'O Allah, make thirsty the one who makes the family of Muhammad thirsty tonight.' The Messenger of Allah [SAW] sent (men) after them, and they were caught. Then he had their hands and feet cut off, and their eyes gouged out. Some of them (the narrators) added more than others, except that in his narration of this Hadith, Mu'awiyah said: They drove them off to the land of Shirk.
تابعی سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ کچھ عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، پھر وہ بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان کا دودھ پیئں۔ وہ انہیں اونٹنیوں میں رہے، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام چرواہے پر نیت خراب کی اور اسے قتل کر دیا اور اونٹنیاں ہانک لے گئے، لوگوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی: «اللہم عطش من عطش آل محمد الليلة»  اے اللہ! اسے پیاسا رکھ جس نے محمد کے گھر والوں کو اس رات پیاسا رکھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ بھیجے۔ جب وہ گرفتار کر لیے گئے تو آپ نے ان کے ہاتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں۔ راویوں میں سے بعض دوسرے سے کچھ زیادہ بیان کرتے ہیں، سوائے معاویہ کے، انہوں نے اس حدیث میں کہا ہے کہ وہ ہانک کر مشرکوں کی زمین کی طرف لے گئے۔