TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4311 - باب: معراض (آڑے نیزہ اور تیر) سے کئے گئے شکار کے حکم کا بیان۔ - The book of hunting and slaughtering - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
باب: معراض (آڑے نیزہ اور تیر) سے کئے گئے شکار کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقُتِلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ .
It was narrated that Ash-Sha bi said: I heard 'Adiyy bin Hatim say: 'I asked the Messenger of Allah about the Mirad and he said: If the sharp point hits 9the game) then eat, bu8t if the broad edge of it hits it, and it is killed, then it has been killed by a blow, so do not eat.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» ( آڑے نیزہ اور تیر ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب ( شکار میں ) «معراض» کی نوک لگے تو اسے کھاؤ اور جب آڑا «معراض» پڑے اور وہ ( شکار ) مر جائے تو وہ «موقوذہ» ۱؎ ہے، اسے مت کھاؤ“۔
4311
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4306 In-book reference : Book 42, Hadith 44 English translation : Vol. 5, Book 42, Hadith 4311
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4306
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۴۲۷۷
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : «موقوذہ» : چوٹ کھایا ہوا جانور، اس کا کھانا حرام ہے۔

Related Chapters

125
1
باب: معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کی نوک لگے ہوئے شکار کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Shoots Some Game Then He Loses Sight Of It
باب: آدمی شکار کو تیر مارے اور شکار غائب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
3
(3) CHAPTER. The game killed by the broad side of Al-Mirad. (i.e., a sharp-edged piece of wood or a piece of wood provided with a sharp piece of iron for hunting).
جب بے پر کے تیر یا لکڑی کے عرض سے شکار مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
4
Chapter: Hunting with trained dogs and arrows
باب: سدھائے ہوئے کتوں اور تیر اندازی کےذریعے سے شکار کرنے کاحکم
Sahih Muslim
5
CHAPTER: One Who Is Killed In A Fight Among People And His Killer Is Not Known.
باب: لوگوں کے درمیان ان دیکھے تیر سے مارے گئے شخص کا کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
6
تیر کمان سے شکار کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
7
Chapter: What Has Been Related About One Who Shoots Some Game, Then He Finds It Dead In The Water
باب: شکاری شکار پر تیر چلائے پھر اسے پانی میں مردہ پائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Dog Eating From The Game
باب: کتا شکار میں سے کھا لے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Game Killed By The Mir'ad
باب: بغیر پر کے تیر کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
10
فرع اور عتیرہ کے حکم اور ان سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
11
کتا شکار میں سے کھا لے تو اس کا حکم
Musnad Ahmad
12
معراض کے شکار کا بیان
Musnad Ahmad
13
(2) CHAPTER. The game killed by the Mirad.
بے پر کے تیر یعنی لکڑی گز وغیرہ سے شکار کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
14
(4) CHAPTER. About hunting with a bow...
تیر کمان سے شکار کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
15
(7) CHAPTER. If a hound eats (of the game).
جب کتا شکار میں سے خود کھا لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
16
Chapter: The command to kill dogs, and its abrogation. The prohibition of keeping dogs, except for hunting, farming, (herding) livestock and the like
کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے
Sahih Muslim
17
Chapter: If the game disappears, then is found afterwards
باب :جب شکار غائب(گم) ہوجائے،پھراسے پالے(تو کیاحکم ہے؟
Sahih Muslim
18
CHAPTER: When A Piece Is Cut From The Game.
باب: زندہ شکار ( جانور ) کے جسم سے کوئی حصہ کاٹ لیا جائے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
19
شکاری یا کھیت کی رکھوالی کرنے والے کتوں کے علاوہ دوسرے کتوں کو قتل کرنے کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
20
کتوں کے کیے ہوئے شکار کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
21
مجوسی کے کتے اور خالص کالے کتے کے شکار کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
22
اگر زخمی شکار رات بھر غائب رہ کر مل جائے تو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
23
ہتھیار کی چوڑان سے کیے ہوئے شکار کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
24
پانی پر تیرنے والے مردہ سمندری شکار کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
25
باب: محرم جب شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے تو کیا حکم ہے؟
Sunnan Nisai
26
باب: شکار کرتے وقت «بسم اللہ» پڑھنے کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
باب: سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
باب: غیر سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
باب: کتا شکار میں سے کچھ کھا لے تو کیا حکم ہے؟
Sunnan Nisai
30
باب: تیر کھا کر پانی میں گر جانے والے شکار کا بیان۔
Sunnan Nisai
31
باب: شکار تیر کھا کر غائب ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
Sunnan Nisai
32
باب: معراض کا شکار۔
Sunnan Nisai
33
Chapter: What Has Been Related About The Muhrim Eating Hunted Animals
باب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About: The Meat Of Game Is Disliked For You
باب: محرم کے لیے شکار کے گوشت کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Game Of The Sea For The Muhrim
باب: محرم کے لیے سمندر کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About A Badger Killed By A Muhrim
باب: محرم کے لکڑبگھا کو شکار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What has been related about: Your case is up to you
باب: بیوی سے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About What Is Eaten From The Game Caught By Dogs And What Is Not Eaten
باب: کتے کا کون سا شکار کھایا جائے اور کون سا نہ کھایا جائے؟
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Game Caught By A Zoroastrian's Dog
باب: مجوسی کے کتے کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Game Caught By Falcon's
باب: باز کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Eat Masburah
باب: بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Camels, Cows, And Sheep, When They Flee And Become Wild: Are They Shot With An Arrow Or Not ?
باب: اونٹ، گائے اور بکری بدک کر وحشی بن جائیں تو انہیں تیر سے مارا جائے گا یا نہیں؟
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Fara' And The 'Atirah
باب: فرع اور عتیرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Archery In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں تیر پھینکنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
بَاب فِي العتيرة
عتیرہ کا بیان
Mishkat
46
بَاب الْحرم يجْتَنب الصَّيْد
محرم شکار کرنے سے اجتناب کرے
Mishkat
47
عیدین کے دن امام کے سامنے برچھی یا نیزہ گاڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
48
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
49
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
Musnad Ahmad
50
عقیقہ، فرع اور عتیرہ کی حقیقت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

305
Sahih Muslim
4974
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: «إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، فَلَا تَأْكُلْ» وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ»، قُلْتُ: فَإِنْ وَجَدْتُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ، فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ؟ قَالَ: «فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ
Adi b. Hatim reported that he asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about (hunting) with the help of an arrow having a stub end. He said: If it strikes (the game) with its point, then eat, but if it strikes flatly and it dies, that is Waqidh (beaten into death), do not eat that. I asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about (hunting with the help of) dogs, whereupon he said. When you send your dog (for hunting) reciting the name of Allah, then eat (the game), but if some part of it is eaten (by the dogs, then do not eat that, for it (your dog) has caught that (the-game) for itself. I (again) said: If I find along with my dog another dog, and do not know which of (the dogs) has caught (the game). then (what should I do)? Thereupon he ('Allah's Messenger) said: Then don't eat that, for you recited the name of Allah on your dog and not on the other one.
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ ابی سفر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نےفرمایا : " جب اس نے اپنے ( چھیدنے والے ) تیز حصے کے ذریعے سے نشانہ بنایا ہوتو کھا لو اور اگر اپنی چوڑائی سے نشانہ بنا کر ماردیا ہو ۔ تووہ چوٹ لگنے سے مرا ہوا ( شکار ) ہے ، اسے نہ کھاؤ ۔ " اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے ( شکار پر ) اپناکتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھا لو ، اگر کتے نے اس ( شکار ) میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو مت کھاؤ ، کیونکہ کتے نے اس ( شکار ) کو اپنے لئے پکڑا ہے ۔ " میں نے کہا اگر میں اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو بھی دیکھوں اور مجھے پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے؟آپ نے فرمایا : " پھر تم نہ کھاؤ ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے ، دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی ۔ "
Sahih Muslim
4976
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، وَعَنْ نَاسٍ، ذَكَرَ شُعْبَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ بِمِثْلِ ذَلِكَ
This hadith has been transmitted on the authority of 'Adi b. Hatim with a slight variation of words.
غندر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے ، انھوں نے اور کچھ دیگر لوگوں نے جن کا شعبہ نے ذکر کیا ، شعبی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کےمتعلق سوا ل کیا ، اسی کے مانند ۔
Sahih Muslim
4975
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
Adi b. Hatim reported: I asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about Mi'rad (i. e. hunting with the help of arrow having a stub end, and he stated the same (as we find in the previous hadith).
ابن علیہ نے کہا : مجھے شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سےخبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوا ل کیا ، پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
Sahih Muslim
4980
وحَدَّثَنَا مَحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ
This hadith has been narrated oif the authority of 'Adi b. Hatim through another chain of transmitters.
حکم نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
Sunnan Abu Dawood
2854
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أُرْسِلُ كَلْبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا سَمَّيْتَ فَكُلْ وَإِلَّا فَلَا تَأْكُلْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ لِنَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ عَلَيْهِ كَلْبًا آخَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تَأْكُلْ لِأَنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ .
Narrated Adi bin Hatim: I asked Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم about featherless arrow. He said: If it strikes with its end, eat, and if it strikes with the middle part of it, do not eat, for it died by a violent blow. I said: I set off my dog? He replies: If you mention Allah's name, eat, otherwise do not eat. If it eats any of it, do not eat, for it caught for itself. He asked: I set off my dog, and I find with it another dog ? He replied: Do not eat, because you mentioned Allah's name on your dog.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پر کے تیر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب وہ اپنی تیزی سے پہنچے تو کھاؤ ( یعنی جب وہ تیزی سے گھس گیا ہو ) ، اور جو تیر چوڑائی میں لگا ہو تو مت کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ کھایا ہوا ہے ۔ پھر میں نے کہا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں ( اس بارے میں کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب«بِسْمِ اللهِ» پڑھ کر چھوڑو تو کھاؤ، ورنہ نہ کھاؤ، اور اگر کتے نے اس میں سے کھایا ہو تو اس کو مت کھاؤ، اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے ۔ پھر میں نے پوچھا: میں اپنے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں کہ دوسرا کتا بھی آ کر اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ( تب کیا کروں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مت کھاؤ، اس لیے کہ «بِسْمِ اللهِ» تم نے صرف اپنے ہی کتے پر کہا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
3897
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ مَرَّ قَالَ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ.
Kharijah bin al-Salt quoted his parental uncle as saying that he passed (some people): He recited Surat al-Fatihah over him for three days morning and evening. Whenever he finished it, he collected some of his saliva and spat it out, and he seemed as if he were set free from a bond. They gave him something as payment. He then came to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He then transmitted the rest of the tradition to the same effect as Musaddad narrated.
خارجہ بن صلت سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ( کچھ لوگوں پر سے ) گزرے ( ان میں ایک دیوانہ شخص تھا ) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورۃ فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کر دیتے، پھر وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔
Sunnan Abu Dawood
3901
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنْ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُودِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْنَا:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءُوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمْتُهَا أَجْمَعُ بُزَاقِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتْفُلُ فَكَأَنَّمَا نَشَطَ مِنْ عِقَالٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَا حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُلْ فَلَعَمْرِي مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ .
Narrated Alaqah ibn Sahar at-Tamimi: We proceeded from the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and came to a clan of the Arabs. They said: We have been told that you have brought what is good from this man. Have you any medicine or a charm, for we have a lunatic in chains? We said: Yes. Then they brought a lunatic in chains. He said: I recited Surat al-Fatihah over him for three days, morning and evening. Whenever I finished it, I would collect my saliva and spit it out, and he seemed as if he were set free from a bond. He said: They gave me some payment, but I said: No, not until I ask the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He (the Prophet) said: Accept it, for, by my life, some accept it for a worthless charm, but you have done so for a genuine one.
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے اور عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے تو وہ لوگ کہنے لگے: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اس شخص کے پاس سے آ رہے ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا منتر ہے؟ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، ہم نے کہا: ہاں، تو وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا لے کر آئے، میں اس پر تین دن تک سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرتا رہا، وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی قید سے چھوٹ گیا ہو، پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت دی، میں نے کہا: میں نہیں لوں گا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: کھاؤ، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو جھوٹا منتر کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز منتر کر کے کھایا ہے ۔
Sunnan Nisai
3606
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَغْنَمُ .
It was narrated that 'Urwah said that he heard the Messenger of Allah say: Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection: Reward and spoils of war.
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”گھوڑے کی پیشانی سے قیامت تک کے لیے خیر وابستہ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت بھی“۔
Sunnan Nisai
4277
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْغَيْلَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أُرْسِلُ كَلْبِي ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَوَجَدْتَ مَعَهُ غَيْرَهُ فَلَا تَأْكُلْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ .
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: I asked the Messenger of Allah: 'I release my dog. He said: 'If you release your dog and mention the name of Allah, then eat. But it he has eaten some of it, the do not eats, for the caught it for himself. If you release your dog then you find another dog with it, then do not eat, for you said the name of Allah over your dog, and not over any other.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو تو اسے ( شکار کو ) کھاؤ اور اگر اس نے اس ( شکار ) میں سے کچھ کھایا ہو تو تم اسے نہ کھاؤ، اس لیے کہ اسے اس کتے نے اپنے لیے شکار کیا ہے، اور جب تم اپنے کتے کو چھوڑو پھر اس کے ساتھ اس کے علاوہ ( کوئی کتا ) پاؤ تو اس شکار کو مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے «بسم اللہ» صرف اپنے کتے پر پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں۔