حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ .
Narrated Abdullah bin Umar: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: It is the duty of a Muslim man who has something which is to be given as bequest not to have it for two nights without having his will written regarding it.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ہو مناسب نہیں ہے کہ اس کی دو راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کی لکھی ہوئی وصیت اس کے پاس موجود نہ ہو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الوصایا ۱ (۱۶۲۷)، (تحفة الأشراف:۷۹۴۴، ۸۱۷۶)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوصایا ۱ (۲۷۳۸)، سنن الترمذی/الجنائز ۵ (۹۷۴)، والوصایا ۳ (۲۱۱۹)، سنن النسائی/الوصایا ۱ (۳۶۴۵)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ۲ (۲۶۹۹)، موطا امام مالک/الوصایا ۱ (۱)، مسند احمد (۲/۴، ۱۰، ۳۴، ۵۰، ۵۷،۸۰، ۱۱۳)، سنن الدارمی/الوصایا ۱ (۳۲۱۹ )
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اگر کسی شخص کے ذمہ کوئی ایسا واجبی حق ہے جس کی ادائیگی ضروری ہے مثلاً قرض و امانت وغیرہ تو ایسے شخص پر وصیت واجب ہے اور اگر اس کے ذمہ کوئی واجبی حق نہیں ہے تو وصیت مستحب ہے۔
2862
Sahih