حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ: مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسِفٍ .
Narrated Ubayd ibn Khalid as-Sulami,: A man from the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, said: The narrator Saad ibn Ubaydah narrated sometimes from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and sometimes as a statement of Ubayd (ibn Khalid): The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Sudden death is a wrathful catching.
صحابی رسول عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (راوی نے ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً، پھر ایک بار عبید سے موقوفاً روایت کیا) اچانک موت افسوس کی پکڑ ہے ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۹۷۴۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۲۴، ۴/۲۱۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی اللہ کے غضب کی علامت ہے، کیونکہ اس میں بندے کو مہلت نہیں ملتی کہ وہ اپنے سفر آخرت کا سامان درست کر سکے، یعنی توبہ و استغفار، وصیت یا کوئی عمل صالح کر سکے۔
3110
Sahih