حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي هَيَّاجٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي عَلِيٌّ، قَالَ لِي: أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! أَنْ لَا أَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتُهُ .
Narrated Abu Hayyaj al-Asadi: Ali said to me: I am sending you on the same mission as the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent me that I should not leave a high grave without leveling it and an image without obliterating it.
ابوہیاج حیان بن حصین اسدی کہتے ہیں مجھے علی رضی اللہ عنہ نے بھیجا اور کہا کہ میں تمہیں اس کام پر بھیجتا ہوں جس پر مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا، وہ یہ کہ میں کسی اونچی قبر کو برابر کئے بغیر نہ چھوڑوں، اور کسی مجسمے کو ڈھائے بغیر نہ رہوں ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز ۳۱ (۹۶۹)، سنن الترمذی/الجنائز ۵۶ (۱۰۴۹)، سنن النسائی/الجنائز ۹۹ (۲۰۳۳)، (تحفة الأشراف: ۱۰۰۸۳)وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۹۶، ۸۹، ۱۱۱، ۱۲۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مراد کسی ذی روح کا مجسمہ ہے، اس روایت سے قبر کو اونچا کرنے یا اس پر عمارت بنانے کی ممانعت نکلتی ہے۔
3218
Sahih