TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3392 - CHAPTER: Muzara’ah (Sharecropping). - Commercial transactions (kitab al-buyu) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 5 in this chapter
CHAPTER: Muzara’ah (Sharecropping).
باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ. ح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلَاهُمَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّفْظُ لِلْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍعَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْيَاءَ مِنِ الزَّرْعِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَهْلَكُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْلَمُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْلَمُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَهْلَكُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا شَيْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ . وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ قُتَيْبَةُ:‏‏‏‏ عَنْ حَنْظَلَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَنْظَلَةَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ.
Narrated Hanzlah bin Qais al-Ansari: I asked Rafi bin Khadij about the lease of land for gold and silver (i. e. for dinars and dirhams). There is no harm in it, for the people used to let out land in the time of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم for what grew by the current of water and at the banks of streamlets and at the places of cultivation. So sometimes this (portion) perished and that (portion) was saved, and sometimes this remained intact and that perished. There was no (form of) lease among the people except this. Therefore, he forbade it. But if there is something which is secure and known, then there is no harm in it. The tradition of Ibrahim is more perfect. Qutaibah said: from Hanzalah on the authority of Rafi . Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Yahya bin Saeed from Hanzalah.
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے ( یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا ) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔
3392
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 3392 In-book reference : Book 23, Hadith 67 English translation : Book 22, Hadith 3386
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحرث ۷ (۲۳۲۷)، ۱۳ (۲۳۳۳)، ۱۹ (۲۳۴۶)، الشروط ۷ (۲۷۲۲)، صحیح مسلم/البیوع ۱۹ (۱۵۴۷)، سنن النسائی/المزارعة ۲ (۳۹۳۰، ۳۹۳۱، ۳۹۳۲، ۳۹۳۳)، سنن ابن ماجہ/الرھون ۹ (۲۴۵۸)، (تحفة الأشراف: ۳۵۵۳)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض ۱ (۱)، مسند احمد (۳/۴۶۳، ۴/۱۴۰، ۱۴۲)

Related Chapters

317
1
مزارعت (زمین کو پیدا وار کی متعین مقدار کے عوض )اور مؤاجرت (نقدی کے عوض کرائے پر دینے )کا حکم
Sahih Muslim
2
بیع مزابنہ (یعنی درخت کے اوپر کچے پھل کو سوکھے پھل کے بدلے بیچنے) اور بیع محاقلہ (یعنی غلہ کے بدلے زمین دینے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
3
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
4
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
5
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
6
تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی پر محمول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
8
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
9
(60) CHAPTER. An-Najsh and whoever said: A bargain carried out in such a way (Najsh) is not valid.
نجش یعنی دھوکا دینے کے لیے قیمت بڑھانا کیسا ہے ؟ اور بعض نے کہا یہ بیع ہی جائز نہیں
Sahih Bukhari
10
(22) CHAPTER. If somebody rents land and he or the owner of the land dies (will the contract be cancelled)?
اگر کوئی زمین کو ٹھیکہ پر لے پھر ٹھیکہ دینے والا یا لینے والا مرجائے
Sahih Bukhari
11
(14) CHAPTER. The Auqaf ( i.e., endowments) of the companions of the Prophet and the land of Kharaj (Zakat), the contract of share-cropping and other agreements of the companions.
صحابہ کرام کے اوقاف ، خراجی زمین اور اس کی بٹائی کا بیان
Sahih Bukhari
12
زمین کو غلہ کے عوض بٹائی پر دینا
Sahih Muslim
13
CHAPTER: Allocation Of Land.
باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: Saying ' If Allah Wills' When Swearing An Oath.
باب: قسم میں استثناء یعنی «إن شاء الله» کہہ دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: Regarding Mukhabarah.
باب: مخابرہ ( یعنی مزارعت ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
16
CHAPTER: Regarding Musaqah.
باب: مساقاۃ یعنی درختوں میں بٹائی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of Artificially Inflating Prices.
باب: نجش : یعنی دوسرے خریداروں کو دھوکہ دینے کے لیے دام بڑھانا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
18
حوالہ (یعنی قرض کو دوسرے کے ذمہ کر دینے) کا بیان ؎
Sunnan Ibn e Maja
19
تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کھیت کو بٹائی پر دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
20
زمین کرایہ پر دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
21
خالی زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کی رخصت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
22
مکروہ مزارعت (بٹائی) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
23
غلہ کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
24
کھجور اور انگور کی کھیتی کو بٹائی پر دینے کا معاملہ
Sunnan Ibn e Maja
25
جو لوگ کہتے ہیں کہ حج کا فسخ یعنی اس کو عمرہ میں تبدیل کر دینے کا حکم صحابہ کے لیے خاص تھا ان کی دلیل
Sunnan Ibn e Maja
26
Chapter: Enjoining what is good and forbidding what is evil
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
27
باب: اوپر والے ہاتھ (یعنی دینے والے) کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔
Sunnan Nisai
29
(112)Chapter: What Has Been Related About Urine That Touches The Ground
باب: جس زمین پر پیشاب لگ جائے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Placing The Hands and Planting The Feet During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے اور دونوں پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About 'All Of The Earth Is A Masjid, Except For The Graveyard And Washroom'
باب: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے علاوہ پوری زمین سجدہ گاہ ہے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related That The Injuries Caused By The Animal Are Without Liability And The Khumus Is Due On Rikaz
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا​
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About: When The Night Advances And The Day Retreats, Then The Fasting Person Break The Fast
باب: جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Leveling The Grave
باب: قبروں کو زمین کے برابر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Land That Is Owned By Partners When One Of Them Wants To Sell His Share
باب: مشترکہ زمین جس کا حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About One Who Farms A Prople's Land Without Their Permission
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Mentioned About Reviving Barren Land
باب: غیر آباد زمین آباد کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Agriculture
باب: مزارعت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: About Share-Cropping
باب: مزارعت ہی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Code Words
باب: شعار (یعنی جنگ میں کوڈ لفظ کے استعمال) کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Having Amicable Relations With People
باب: حسن معاشرت (یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے رہنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
42
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What has been Related About The Earth Swallowing
باب: زمین دھنسنے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What has been Related About The Inhabitants of Ash-Sham
باب: سر زمین شام کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Signs Of The Occurrence Of The Transformation And The Collapse Of The Earth
باب: زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کی علامت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: Among The Excellence Of A Person's Islam Is His Leaving What Does Not Concern Him
باب: لایعنی بات کے برے انجام کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: The Hadith:
باب: زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی
Jam e Tirmazi
48
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
49
باب: مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About: Allah Has Angels Who Go About On The Earth
باب: زمین میں اللہ کے گھومنے پھرنے والے فرشتے ہیں
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Sahih Muslim
3952
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ، فَلَا بَأْسَ بِهِ
Hanzala b. Qais al-Ansri reported: I asked Rafi' b. Khadij about the renting of land for gold and silver, whereupon he said: There is no harm in it for the people let out land situated near canals and at the ends of the streamlets or portion of fields. (But it so happened) that at times this was destroyed and that was saved. whereas (on other occasions) this portion was saved and the other was destroyed and thus no rent was payable to the people (who let out lands) but for this one (which was saved). It was due to this that he (the Holy Prophet) prohibited it. But if there is something definite and reliable (e. g. money). there is no harm in it.
اوزاعی نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حنظلہ بن قیس انصاری نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی ( دینار اور درہم ) کے عوض زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ( امر واقع یہ ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لوگ نہروں کی زمین ، چھوٹے نالوں کے کناروں کی زمین اور ( متعین مقدار میں ) فصل کی کچھ اشیاء کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے ۔ کبھی یہ ( حصہ ) تباہ ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ تباہ ہو جاتا ، لوگوں میں بٹائی ( کرائے پر دینے ) کی صرف یہی صورت تھی ، اسی لیے اس سے منع کیا گیا ، البتہ معلوم اور محفوظ چیز جس کی ادایگی کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں
Sunnan Nisai
3930
أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالدِّينَارِ،‏‏‏‏ وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَاجِرُونَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ،‏‏‏‏ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ . وَافَقَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ عَلَى إِسْنَادِهِ،‏‏‏‏ وَخَالَفَهُ فِي لَفْظِهِ.
It was narrated that Hanzalah bin Qais Al-Ansari said: I asked Rafi' bin Khadij about leasing land in return for Dinars and silver. He said: 'There is nothing wrong with that. During the time of the Messenger of Allah they used to rent land to one another in return for what grew on the banks of streams and where the springs emerged - some areas of which might give good produce and some might give none at all - and the people did not lease land in any other way. So that was forbidden. But as for leases where the return is known and guaranteed, there is nothing wrong with that.'
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے دینار اور چاندی کے بدلے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ اس پیداوار کے بدلے کرائے دیا کرتے تھے جو کیاریوں اور نالیوں کے اوپر پیدا ہوتی ہے، تو کبھی اس جگہ پیداوار ہوتی اور دوسری جگہ نہیں ہوتی اور کبھی یہاں نہیں ہوتی اور دوسری جگہ ہوتی، لوگوں کا بٹائی پر دینے کا یہی طریقہ ہوتا، اس لیے اس پر زجر و توبیخ ہوئی۔ رہی معین چیز  ( پر بٹائی )  جس کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مالک بن انس نے بھی اوزاعی کی سند میں  ( چچا کے نہ ذکر کرنے میں ) موافقت کی ہے لیکن الفاظ میں مخالفت کی ہے۔
Sahih Muslim
3925
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ ابْنُ عِيسَى: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَلْيُمْسِكْهَا
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported: We used to get land (on rent) during the lifetime of Allah's Messeuge, ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with a share of one-third or one-fourth (of the produce from the land irrigated) with the help of canals. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up (to address) and said: HRe who has land should cultivate it, and if he does not cultivate it, he should lend it to his brother, and if he does not lend it to his brother, he should then retain it.
ہشام بن سعد نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوزبیر مکی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض ، نالوں ( کے کناروں کی پیداوار ) کے عوض زمین لیتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے ۔ " اگر وہ خود اسے کاشت نہیں کرتا تو اپنے بھائی کوعاریتا دے دے ، اگر وہ اسے اپنے بھائی کو بھی نہیں دیتا تو اس کو اپنے پاس رکھ لے