TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3410 - CHAPTER: Regarding Musaqah. - Commercial transactions (kitab al-buyu) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
CHAPTER: Regarding Musaqah.
باب: مساقاۃ یعنی درختوں میں بٹائی کا بیان ۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِقْسَمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَ اشْتَرَطَ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَهْلُ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ مِنْكُمْ فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنَّ لَكُمْ نِصْفَ الثَّمَرَةِ وَلَنَا نِصْفٌ، ‏‏‏‏‏‏فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَزَرَ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ وَهُوَ الَّذِي يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فِي ذِهْ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فَأَنَا أَلِي حَزْرَ النَّخْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ .
Narrated Ibn Abbas: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم conquered Khaibar, and stipulated that all the land, gold and silver would belong to him. The people of Khaibar said: we know the land more than you ; so give it to us on condition that you should have half of the produce and we would have the half. He then gave it to them on that condition. When the time of picking the fruits of the palm-trees came, he sent Abdullah bin Rawahah to them, and he assessed the among of the fruits of the palm-trees. This is what the people of Madina call khars (assessment). He used to say: In these palm-trees there is such-and-such amount (of produce). They would say: You assessed more to us, Ibn Rawahah (than the real amount). He would say: I first take the responsibility of assessing the fruits of the palm-trees and give you half of (the amount) I said. They would say: This is true, and on this (equity) stand the heavens and the earth. We agreed that we should take (the amount which) you said.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا، اور یہ شرط لگا دی ( واضح کر دیا ) کہ اب زمین ان کی ہے اور جو بھی سونا چاندی نکلے وہ بھی ان کا ہے، تب خیبر والے کہنے لگے: ہم زمین کے کام کاج کو آپ لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں تو آپ ہمیں زمین اس شرط پہ دے دیجئیے کہ نصف پیداوار آپ کو دیں گے اور نصف ہم لیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر انہیں زمین دے دی، پھر جب کھجور کے توڑنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر کھجور کا اندازہ لگایا ( اسی کو اہل مدینہ «خرص» ( آنکنا ) کہتے ہیں ) تو انہوں نے کہا: اس باغ میں اتنی کھجوریں نکلیں گی اور اس باغ میں اتنی ( ان کا نصف ہمیں دے دو ) وہ کہنے لگے: اے ابن رواحہ! تم نے تو ہم پر ( بوجھ ڈالنے کے لیے ) زیادہ تخمینہ لگا دیا ہے، تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا ( اگر یہ زیادہ ہے ) تو ہم اسے توڑ لیں گے اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دیں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا یہی صحیح بات ہے، اور اسی انصاف اور سچائی کی بنا پر ہی زمین و آسمان اپنی جگہ پر قائم اور ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم راضی ہیں تمہارے آنکنے کے مطابق ہی ہم لے لیں گے۔
3410
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 3410 In-book reference : Book 23, Hadith 85 English translation : Book 22, Hadith 3403
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة ۱۸ (۱۸۲۰)، (تحفة الأشراف: ۶۴۹۴)

Related Chapters

193
1
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
CHAPTER: Muzara’ah (Sharecropping).
باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
Chapter: What Has Been Related That The Injuries Caused By The Animal Are Without Liability And The Khumus Is Due On Rikaz
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا​
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About: When The Night Advances And The Day Retreats, Then The Fasting Person Break The Fast
باب: جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Code Words
باب: شعار (یعنی جنگ میں کوڈ لفظ کے استعمال) کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Having Amicable Relations With People
باب: حسن معاشرت (یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے رہنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Among The Excellence Of A Person's Islam Is His Leaving What Does Not Concern Him
باب: لایعنی بات کے برے انجام کا بیان
Jam e Tirmazi
8
باب: جنت کے درختوں کا بیان
Jam e Tirmazi
9
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
10
باب: مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے
Jam e Tirmazi
11
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
Musnad Ahmad
12
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
Musnad Ahmad
15
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
17
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
18
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
Musnad Ahmad
19
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
20
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
Musnad Ahmad
21
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
Musnad Ahmad
22
بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
23
{لَمْ یَکُنْ…} یعنی سورۃ البینہ کی تفسیر سورۃ البیّنہ کی تفسیر اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
24
{اَلْہَاکُمْ} یعنی سورۃالتکاثر {ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ}کی تفسیر
Musnad Ahmad
25
نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
26
مچھلی والے یعنییونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
Musnad Ahmad
27
خطبۃ الحاجہ یعنی نکاح اور دیگر مواقع پر دئیے جانے والے خطبہ کے الفاظ وعبارات کا بیان
Musnad Ahmad
28
اصیرم بن عبدالاشھل یعنی عمرو بن ثابت بن وقش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
29
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
Musnad Ahmad
30
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
Musnad Ahmad
31
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
Musnad Ahmad
32
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
Musnad Ahmad
33
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
34
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
35
(5) CHAPTER. The Imam questioning his companions in order to test their knowledge.
استاد اپنے شاگردوں کا علم آزمانے کے لیے ان سے کوئی سوال کرے ۔ ( یعنی امتحان لینے کا بیان )
Sahih Bukhari
36
(12) CHAPTER. Whoever fixed a special day for giving (a religious talk) to the students.
اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے ( تو یہ جائز ہے ) یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
37
(44) CHAPTER. When a religious learned man is asked, “Who is the most learned person,” it is better for him to attribute or entrust absolute knowledge to Allah and to say, “Allah is the Most Learned (than anybody else) .”
اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کو ن سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کو ن سب سے بڑا عالم ہے ۔
Sahih Bukhari
38
(46) CHAPTER. To ask about a religious matter and to give a religious verdict (at Mina during Hajj) while doing the Ramy of Jimar (throwing of pebbles at the Jimar in Mina during Hajj).
رمی جمار ( یعنی حج میں پتھر پھینکنے ) کے وقت بھی مسئلہ پوچھنا جائز ہے
Sahih Bukhari
39
(48) CHAPTER. Whosoever left some optional things simply for the fear that some people may not be able to understand them and may fall into something more difficult.
اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس سے زیادہ سخت ( یعنی ناجائز ) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں
Sahih Bukhari
40
(5) CHAPTER. Fondling a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ کے ساتھ مباشرت کرنا ( یعنی جماع کے علاوہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز ہے )
Sahih Bukhari
41
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
42
(63) CHAPTER. To co-operate in building a mosque.
مسجد بنانے میں مدد کرنا ( یعنی اپنی جان و مال سے حصہ لینا کار ثواب ہے )
Sahih Bukhari
43
(4) CHAPTER. As-Salat (the prayer) is expiation (of sins).
اس بیان میں کہ گناہوں کے لیے نماز کفارہ ہے ( یعنی اس سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں )
Sahih Bukhari
44
(34) CHAPTER. To offer (the Asr prayers) earlier on a cloudy day.
بادل والے دنوں میں نماز کے لیے جلدی کرنا ( یعنی سویرے پڑھنا )
Sahih Bukhari
45
(39) CHAPTER. What is disliked about talking after the Isha prayer.
عشاء کی نماز کے بعد سمر یعنی دنیا کی باتیں کرنا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
46
(64) CHAPTER. The shortening and perfection of the prayer (by the Imam).
نماز مختصر اور پوری پڑھنا ( یعنی رکوع و سجود اچھی طرح کرنا )
Sahih Bukhari
47
(146) CHAPTER. Whoever considered that the first Tashah-hud is not compulsory. As the Prophet stood up after the second Raka (without sitting for Tashah-hud) and did not perform it.
اس شخص کی دلیل جو پہلے تشہد کو ( چار رکعت یا تین رکعت نماز میں ) واجب نہیں جانتا ( یعنی فرض ) کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں ۔
Sahih Bukhari
48
(2) CHAPTER. The Salat-ul-Khauf (fear prayers) (can be offered) while standing or riding.
خوف کی نماز پیدل اور سوار رہ کر پڑھنا قرآن شریف میں رجالا راجل کی جمع ہے ( یعنی پاپیادہ )
Sahih Bukhari
49
(6) CHAPTER. Istisqa (i.e. to offer a two Raka Salat (prayer) and then invoke Allah for rain) in the main mosque (of the town).
جامع مسجد میں استسقاء یعنی پانی کی دعا کرنا
Sahih Bukhari
50
(9) CHAPTER. Whoever thought it sufficient to invoke Allah for rain in the Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer).
پانی کی دعا کرنے میں جمعہ کی نماز کو کافی سمجھنا ( یعنی علیحدہ استسقاء کی نماز نہ پڑھنا اور اس کی نیت کرنا یہ بھی استسقاء کی ایک شکل ہے )
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

856
Sunnan Ibn e Maja
1820
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِقْسَمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلَّ صَفْرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْضَاءَ يَعْنِي الذَّهَبَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفِضَّةَ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ:‏‏‏‏ نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكُمْ نِصْفُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ، ‏‏‏‏‏‏بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ النَّخْلَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي يَدْعُونَهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فِي ذَا كَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فَأَنَا أَحْزِرُ النَّخْلَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَ بِالَّذِي قُلْتَ.
Ibn Abbas narrated that: when the Prophet conquered Khaibar, he stipulated that the land, and all the yellow and white, meaning gold and silver belonged to him. The people of Khaibar said to him: “We know the land better, so give it to us so that we may work the land, and you will have half of its produce and we will have half.” He maintained that, he gave it to them on that basis. When the time for the date harvest came, he sent Ibn Rawahah to them. He assesses the date palms, and he said: “For this tree, such and such (amount).” They said: “You are demanding too much of us, O Ibn Rawahah!” He said: “This is my assessment and I will give you half of what I say.” They said: “This is fair, and fairness is what haven and earth are based on.” They said: “We Agree to take (accept) what you say.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا، تو آپ نے ان سے شرط لے لی کہ زمین آپ کی ہو گی، اور ہر صفراء اور بیضاء یعنی سونا و چاندی بھی آپ ہی کا ہو گا، اور آپ سے خیبر والوں نے کہا: ہم یہاں کی زمین کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں یہ دے دیجئیے، ہم اس میں کھیتی کریں گے، اور جو پھل پیدا ہو گا وہ آدھا آدھا کر لیں گے، اسی شرط پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین ان کے حوالے کر دی، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے کھجور کا تخمینہ لگایا، جس کو اہل مدینہ «خرص» کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اس میں اتنا اور اتنا پھل ہے، یہودی یہ سن کر بولے: اے ابن رواحہ! آپ نے تو بہت بڑھا کر بتایا، ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے میں کھجوریں اتروا کر انہیں جمع کر لیتا ہوں اور جو اندازہ میں نے کیا ہے اس کا آدھا تم کو دے دیتا ہوں، یہودی کہنے لگے: یہی حق ہے، اور اسی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں، ہم آپ کے اندازے کے مطابق حصہ لینے پر راضی ہیں ۱؎۔
Silsila Sahih
263
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِيْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَدِيثَهُ مِنْ فِيهِ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا فَارِسِيًّا مِنْ أَهْلِ أَصْبَهَانَ مِنْ أَهْلِ قَرْيَةٍ مِّنْهَا يُقَالُ لَهَا (جَيٌّ) وَكَانَ أَبِي دِهْقَانُ قَرْيَتِهِ وَكُنْتُ أَحَبَّ خَلْقِ اللهِ إِلَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ حُبُّهُ إِيَّايَ حَتَّى حَبَسَنِي فِي بَيْتِهِ أَيْ مُلَازِمَ النَّارِ كَمَا تُحْبَسُ الْجَارِيَةُ وَأَجْهَدْتُّ فِي الْمَجُوسِيَّةِ حَتَّى كُنْتُ قَاطنَ النَّارِ الَّذِي يُوقِدُهَا لَا يَتْرُكُهَا تَخْبُو سَاعَةً قَالَ: وَكَانَتْ لِأَبِي ضَيْعَةٌ عَظِيمَةٌ قَالَ: فَشُغِلَ فِي بُنْيَانٍ لَّهُ يَوْمًا فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَّ! إِنِّي شُغِلْتُ فِي بُنْيَانٍ هَذَا الْيَوْمَ عَنْ ضَيْعَتِي فَاذْهَبْ فَاطَّلِعْهَا وَأَمَرَنِي فِيهَا بِبَعْضِ مَا يُرِيدُ فَخَرَجْتُ أُرِيدُ ضَيْعَتَهُ فَمَرَرْتُ بِكَنِيسَةٍ مِّنْ كَنَائِسِ النَّصَارَى فَسَمِعْتُ أَصْوَاتَهُمْ فِيهَا وَهُمْ يُصَلُّونَ وَكُنْتُ لَا أَدْرِي مَا أَمْرُ النَّاسِ لِحَبْسِ أَبِي إِيَّايَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا مَرَرْتُ بِهِمْ وَسَمِعْتُ أَصْوَاتَهُمْ دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ أَنْظُرُ مَا يَصْنَعُونَ قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبَتنِي صَلَاتُهُمْ وَرَغِبْتُ فِي أَمْرِهِمْ وَقُلْتُ: هَذَا وَاللهِ خَيْرٌ مِّنَ الدِّينِ الَّذِي نَحْنُ عَلَيْهِ فَوَاللهِ مَا تَرَكْتُهُمْ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَرَكْتُ ضَيْعَةَ أَبِي وَلَمْ آتِهَا فَقُلْتُ: لَهُمْ أَيْنَ أَصْلُ هَذَا الدِّينِ؟ قَالُوا: بِالشَّامِ قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى أَبِي وَقَدْ بَعَثَ فِي طَلَبِي وَشَغَلْتُهُ عَنْ عَمَلِهِ كُلِّهِ قَالَ: فَلَمَّا جِئْتُهُ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! أَيْنَ كُنْتَ؟ أَلَمْ أَكُنْ عَهِدْتُ إِلَيْكَ مَا عَهِدْتُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَتِ! مَرَرْتُ بِنَاسٍ يُّصَلُّونَ فِي كَنِيسَةٍ لَّهُمْ فَأَعْجَبَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ دِينِهِمْ فَوَاللهِ مَازِلْتُ عِنْدَهُمْ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! لَيْسَ فِي ذَلِكَ الدِّينِ خَيْرٌ دِينُكَ وَدِينُ آبَائِكَ خَيْرٌ مِّنْهُ قَالَ: قُلْتُ: كَلَّا وَاللهِ إِنَّهُ خَيْرٌ مِّنْ دِينِنَا قَالَ: فَخَافَنِي فَجَعَلَ فِي رِجْلَيَّ قَيْدًا ثُمَّ حَبَسَنِي فِي بَيْتِهِ قَالَ: وَبَعَثَتْ إِلَيَّ النَّصَارَى فَقُلْتُ لَهُمْ: إِذَا قَدِمَ عَلَيْكُمْ رَكْبٌ مِنَ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنَ النَّصَارَى فَأَخْبِرُونِي بِهِمْ قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ رَكْبٌ مِنَ الشَّامِ تُجَّارٌ مِنَ النَّصَارَى قَالَ: فَأَخْبَرُونِي بِهِمْ قَالَ: فَقُلْتُ: لَهُمْ إِذَا قَضَوْا حَوَائِجَهُمْ وَأَرَادُوا الرَّجْعَةَ إِلَى بِلَادِهِمْ فَآذِنُونِي بِهِمْ، فَلَمَّا أَرَادُوا الرَّجْعَةَ إِلَى بِلَادِهِمْ أَخْبَرُونِي بِهِمْ فَأَلْقَيْتُ الْحَدِيدَ مِنْ رِجْلَيَّ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَمَّا قَدِمْتُهَا قُلْتُ: مَنْ أَفْضَلُ أَهْلِ هَذَا الدِّينِ قَالُوا: الْأَسْقُفُّ فِي الْكَنِيسَةِ قَالَ: فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ رَغِبْتُ فِي هَذَا الدِّينِ وَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ أَخْدُمُكَ فِي كَنِيسَتِكَ وَأَتَعَلَّمُ مِنْكَ وَأُصَلِّي مَعَكَ قَالَ: فَادْخُلْ فَدَخَلْتُ مَعَهُ قَالَ: فَكَانَ رَجُلَ سَوْءٍ يَأْمُرُهُمْ بِالصَّدَقَةِ وَيُرَغِّبُهُمْ فِيهَا فَإِذَا جَمَعُوا إِلَيْهِ مِنْهَا أَشْيَاءَ اكْتَنَزَهُ لِنَفْسِهِ وَلَمْ يُعْطِهِ الْمَسَاكِينَ حَتَّى جَمَعَ سَبْعَ قِلَالٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّوَرِقٍ قَالَ وَأَبْغَضْتُهُ بُغْضًا شَدِيدًا لِّمَا رَأَيْتُهُ يَصْنَعُ ثُمَّ مَاتَ فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ النَّصَارَى لِيَدْفِنُوهُ فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّ هَذَا كَانَ رَجُلَ سَوْءٍ يَأْمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ وَيُرَغِّبُكُمْ فِيهَا فَإِذَا جِئْتُمُوهُ بِهَا اكْتَنَزَهَا لِنَفْسِهِ وَلَمْ يُعْطِ الْمَسَاكِينَ مِنْهَا شَيْئًا قَالُوا: وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ؟ قَالَ قُلْتُ: أَنَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِهِ قَالُوا: فَدُلَّنَا عَلَيْهِ قَالَ: فَأَرَيْتُهُمْ مَّوْضِعَهُ قَالَ: فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهُ سَبْعَ قِلَالٍ مَّمْلُوءَةٍ ذَهَبًا وَّوَرِقًا قَالَ فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا: وَاللهِ لَا نَدْفِنُهُ أَبَدًا فَصَلَبُوهُ ثُمَّ رَجَمُوهُ بِالْحِجَارَةِ ثُمَّ جَاءُوا بِرَجُلٍ آخَرَ فَجَعَلُوهُ بِمَكَانِهِ قَالَ: يَقُولُ سَلْمَانُ فَمَا رَأَيْتُ رَجُلًا لَا يُصَلِّي الْخَمْسَ أَرَى أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْهُ أَزْهَدُ فِي الدُّنْيَا وَلَا أَرْغَبُ فِي الْآخِرَةِ وَلَا أَدْأَبُ لَيْلًا وَنَهَارًا مِّنْهُ قَالَ: فَأَحْبَبْتُهُ حُبًّا لَّمْ أُحِبَّهُ مَنْ قَبْلَهُ وَأَقَمْتُ مَعَهُ زَمَانًا ثُمَّ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنِّي كُنْتُ مَعَكَ وَأَحْبَبْتُكَ حُبًّا لَّمْ أُحِبَّهُ مَنْ قَبْلَكَ وَقَدْ حَضَرَكَ مَا تَرَى مِنْ أَمْرِ اللهِ فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! وَاللهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا الْيَوْمَ عَلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ لَقَدْ هَلَكَ النَّاسُ وَبَدَّلُوا وَتَرَكُوا أَكْثَرَ مَا كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلًا ‘‘الرمل’’ وَهُوَ فُلَانٌ فَهُوَ عَلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ فَالْحَقْ بِهِ قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغُيِّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ الْمَوْصِلِ فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنَّ فُلَانًا أَوْصَانِي عِنْدَ مَوْتِهِ أَنْ أَلْحَقَ بِكَ وَأَخْبَرَنِي أَنَّكَ عَلَى أَمْرِهِ قَالَ: فَقَالَ لِي: أَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ فَوَجَدْتُهُ خَيْرَ رَجُلٍ عَلَى أَمْرِ صَاحِبِهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَّاتَ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنَّ فُلَانًا أَوْصَى بِي إِلَيْكَ وَأَمَرَنِي بِاللُّحُوقِ بِكَ وَقَدْ حَضَرَكَ مِنْ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا تَرَى فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ أَيْ بُنَيَّ! وَاللهِ مَا أَعْلَمُ رَجُلًا عَلَى مِثْلِ مَا كُنَّا عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلاً بِنَصِيبِينَ وَهُوَ فُلَانٌ فَالْحَقْ بِهِ وَقَالَ فَلَمَّا مَاتَ وَغُيِّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ نَصِيبِينَ فَجِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِي وَمَا أَمَرَنِي بِهِ صَاحِبِي قَالَ: فَأَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ فَوَجَدْتُهُ عَلَى أَمْرِ صَاحِبَيْهِ فَأَقَمْتُ مَعَ خَيْرِ رَجُلٍ فَوَاللهِ مَا لَبِثَ أَنْ نَّزَلَ بِهِ الْمَوْتُ فَلَمَّا حُضرَ قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ! إِنَّ فُلَانًا كَانَ أَوْصَى بِي إِلَى فُلَانٍ ثُمَّ أَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَيْكَ فَإِلَى مَنْ تُوصِي؟ بِي وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ أَيْ بُنَيَّ وَاللهِ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا بَقِيَ عَلَى أَمْرِنَا آمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ إِلَّا رَجُلًا بِعَمُّورِيَّةَ فَإِنَّهُ بِمِثْلِ مَا نَحْنُ عَلَيْهِ فَإِنْ أَحْبَبْتَ فَأْتِهِ قَالَ: فَإِنَّهُ عَلَى أَمْرِنَا قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ وَغُيِّبَ لَحِقْتُ بِصَاحِبِ عَمُّورِيَّةَ وَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ: أَقِمْ عِنْدِي فَأَقَمْتُ مَعَ رَجُلٍ عَلَى هَدْيِ أَصْحَابِهِ وَأَمْرِهِمْ قَالَ وَاكْتَسَبْتُ حَتَّى كَانَ لِي بَقَرَاتٌ وَّغُنَيْمَةٌ قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ بِهِ أَمْرُ اللهِ فَلَمَّا حُضِرَ قُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ إِنِّي كُنْتُ مَعَ فُلَانٍ فَأَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَى فُلَانٍ وَأَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَى فُلَانٍ ثُمَّ أَوْصَى بِي فُلَانٌ إِلَيْكَ فَإِلَى مَنْ تُوصِي بِي؟ وَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! مَا أَعْلَمُهُ أَصْبَحَ عَلَى مَا كُنَّا عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ آمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ وَلَكِنَّهُ قَدْ أَظَلَّكَ زَمَانُ نَبِيٍّ هُوَ مَبْعُوثٌ بِدِينِ إِبْرَاهِيمَ يَخْرُجُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ مُهَاجِرًا إِلَى أَرْضٍ بَيْنَ حَرَّتَيْنِ بَيْنَهُمَا نَخْلٌ بِهِ عَلَامَاتٌ لَا تَخْفَى يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَلْحَقَ بِتِلْكَ الْبِلَادِ فَافْعَلْ قَالَ: ثُمَّ مَاتَ وَغُيِّبَ فَمَكَثْتُ فِي عَمُّورِيَّةَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ أَمْكُثَ ثُمَّ مَرَّ بِي نَفَرٌ مِنْ كَلْبٍ تُجَّارًا فَقُلْتُ لَهُمْ: تَحْمِلُونِي إِلَى أَرْضِ الْعَرَبِ وَأُعْطِيكُمْ بَقَرَاتِي هَذِهِ وَغُنَيْمَتِي هَذِهِ قَالُوا: نَعَمْ فَأَعْطَيْتُهُمُوهَا وَحَمَلُونِي حَتَّى إِذَا قَدِمُوا بِي وَادِي الْقُرَى ظَلَمُونِي فَبَاعُونِي مِنْ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَبْدًا فَكُنْتُ عِنْدَهُ وَرَأَيْتُ النَّخْلَ وَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ الْبَلَدَ الَّذِي وَصَفَ لِي صَاحِبِي وَلَمْ يَحِقَّ لِي فِي نَفْسِي فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ قَدِمَ عَلَيْهِ ابْنُ عَمٍّ لَّهُ مِنَ الْمَدِينَةِ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَابْتَاعَنِي مِنْهُ فَاحْتَمَلَنِي إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا فَعَرَفْتُهَا بِصِفَةِ صَاحِبِي فَأَقَمْتُ بِهَا وَبَعَثَ اللهُ رَسُولَهُ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ مَا أَقَامَ لَا أَسْمَعُ لَهُ بِذِكْرٍ مَّعَ مَا أَنَا فِيهِ مِنْ شُغْلِ الرِّقِّ ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَاللهِ إِنِّي لَفِي رَأْسِ عَذْقٍ لِسَيِّدِي أَعْمَلُ فِيهِ بَعْضَ الْعَمَلِ وَسَيِّدِي جَالِسٌ إِذْ أَقْبَلَ ابْنُ عَمٍّ لَّهُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: فُلَانُ قَاتَلَ اللهُ! بَنِي قَيْلَةَ وَاللهِ إِنَّهُمْ الْآنَ لَمُجْتَمِعُونَ بِقُبَاءَ عَلَى رَجُلٍ قَدِمَ عَلَيْهِمْ مِنْ مَّكَّةَ الْيَوْمَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَخَذَتْنِي الْعُرَوَاءُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَني سَأَسْقُطُ عَلَى سَيِّدِي قَالَ: وَنَزَلْتُ عَنِ النَّخْلَةِ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِابْنِ عَمِّهِ: ذَلِكَ مَاذَا تَقُولُ؟ مَاذَا تَقُولُ؟ قَالَ: فَغَضِبَ سَيِّدِي فَلَكَمَنِي لَكْمَةً شَدِيدَةً ثُمَّ قَالَ مَا لَكَ وَلِهَذَا؟ أَقْبِلْ عَلَى عَمَلِكَ قَالَ: قُلْتُ: لَا شَيْءَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَثْبِتَ عَمَّا قَالَ: وَقَدْ كَانَ عِنْدِي شَيْءٌ قَدْ جَمَعْتُهُ فَلَمَّا أَمْسَيْتُ أَخَذْتُهُ ثُمَّ ذَهَبْتُ بِه إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ وَهُوَ بِقُبَاءَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ وَّمَعَكَ أَصْحَابٌ لَّكَ غُرَبَاءُ ذَوُو حَاجَةٍ وَّهَذَا شَيْءٌ كَانَ عِنْدِي لِلصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُكُمْ أَحَقَّ بِهِ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالَ: فَقَرَّبْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا وَأَمْسَكَ يَدَهُ فَلَمْ يَأْكُلْ قَالَ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَذِهِ وَاحِدَةٌ ثُمَّ انْصَرَفْتُ عَنْهُ فَجَمَعْتُ شَيْئًا وَّتَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِلَى الْمَدِينَةِ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أَكْرَمْتُكَ بِهَا قَالَ: فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنْهَا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا مَعَهُ قَالَ: فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَاتَانِ اثْنَتَانِ ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ وَهُوَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ: وَقَدْ تَبِعَ جَنَازَةً مِّنْ أَصْحَابِهِ عَلَيْهِ شَمْلَتَانِ لَهُ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ اسْتَدَرْتُ أَنْظُرُ إِلَى ظَهْرِهِ هَلْ أَرَى الْخَاتَمَ الَّذِي وَصَفَ لِي صَاحِبِي؟ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ اسْتَدَرْتُهُ عَرَفَ أَنِّي أَسْتَثْبِتُ فِي شَيْءٍ وُّصِفَ لِي قَالَ: فَأَلْقَى رِدَاءَهُ عَنْ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ فَعَرَفْتُهُ فَانْكَبَبْتُ عَلَيْهِ أُقَبِّلُهُ وَأَبْكِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: تَحَوَّلْ فَتَحَوَّلْتُ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ حَدِيثِي كَمَا حَدَّثْتُكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَنْ يَسْمَعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ شَغَلَ سَلْمَانَ الرِّقُّ حَتَّى فَاتَهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ بَدْرٌ وَّأُحُدٌ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: كَاتِبْ يَا سَلْمَانُ فَكَاتَبْتُ صَاحِبِي عَلَى ثَلَاثِ مِائَةِ نَخْلَةٍ أُحْيِيهَا لَهُ بِالْفَقِيرِ وَبِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَعِينُوا أَخَاكُمْ فَأَعَانُونِي بِالنَّخْلِ الرَّجُلُ بِثَلَاثِينَ وَدِيَّةً وَالرَّجُلُ بِعِشْرِينَ وَالرَّجُلُ بِخَمْسَ عَشْرَةَ وَالرَّجُلُ بِعَشْرٍ يَعْنِي الرَّجُلُ بِقَدْرِ مَا عِنْدَهُ حَتَّى اجْتَمَعَتْ لِي ثَلَاثُ مِائَةِ وَدِيَّةٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: اذْهَبْ يَا سَلْمَانُ! فَفَقِّرْ لَهَا فَإِذَا فَرَغْتَ فَأْتِنِي أَكُونُ أَنَا أَضَعُهَا بِيَدَيَّ فَفَقَّرْتُ لَهَا وَأَعَانَنِي أَصْحَابِي حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ مِنْهَا جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَعِي إِلَيْهَا فَجَعَلْنَا نُقَرِّبُ لَهُ الْوَدِيَّ وَيَضَعُهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِيَدِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ مَا مَاتَتْ مِنْهَا وَدِيَّةٌ وَّاحِدَةٌ فَأَدَّيْتُ النَّخْلَ وَبَقِيَ عَلَيَّ الْمَالُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِمِثْلِ بَيْضَةِ الدَّجَاجَةِ مِنْ ذَهَبٍ مِّنْ بَعْضِ الْمَغَازِي فَقَالَ مَا فَعَلَ الْفَارِسِيُّ الْمُكَاتَبُ؟ قَالَ: فَدُعِيتُ لَهُ فَقَالَ: خُذْ هَذِهِ فَأَدِّ بِهَا مَا عَلَيْكَ يَا سَلْمَانُ فَقُلْتُ: وَأَيْنَ تَقَعُ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ مِمَّا عَلَيَّ؟ قَالَ: خُذْهَا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُؤَدِّي بِهَا عَنْكَ قَالَ: فَأَخَذْتُهَا فَوَزَنْتُ لَهُمْ مِّنْهَا وَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَأَوْفَيْتُهُمْ حَقَّهُمْ وَعُتِقْتُ فَشَهِدْتُّ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ الْخَنْدَقَ ثُمَّ لَمْ يَفُتْنِي مَعَهُ مَشْهَدٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سےمروی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنی آپ بیتی خود سنائی کہنے لگے : میں اصبہان کی ایک بستی میں جسے ‘‘جئی’’ کہا جاتا تھا کا رہنے والا ایک فارسی شخص تھا، میرے والد اپنی بستی کے کسان تھے ، میں انہیں سب سے زیادہ محبوب تھا، وہ مجھ سے اسی طرح محبت کرتے رہے حتی کہ انہوں نے مجھے اس طرح اپنے گھر میں روک لیا یعنی آگ کا رکھوالا بنا کر جس طرح لڑکی کو روکا جاتا ہے۔ میں نے مجوسیت میں بہت محنت کی حتی کہ میں آگ کا مستقل نگران بن گیا جو آگ کو ایک گھڑی بجھنے نہیں دیتا تھا، میرے والدکی بہت بڑی جاگیر تھی ایک دن وہ گھر کے کام کاج میں مصروف تھے، مجھ سے کہنے لگے بیٹے آج میں گھر میں کام میں مصروف ہوں آپ جاگیر کا چکر لگا آؤ اور کچھ باتوں کا کہا، میں ان کے کام سے نکلا ،میں عیسائیوں کے ایک کلیسے کے پاس سے گزرا میں نے ان کی آواز سنی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں لوگوں کے معاملات کو نہیں جانتا تھا کیونکہ میرے والد نے مجھے گھر تک محدود رکھا تھا۔جب میں ان کے پاس سے گذرا اور ان کی آوازیں سنیں تو ان کے پاس چلا گیا، تاکہ دیکھوں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھے ان کی نماز اچھی لگی، اور ان کے معاملےمیں دلچسپی ہونے لگی، میں کہنے لگا واللہ! یہ اس دین سے بہتر ہے جس پر ہم ہیں، واللہ! میں نے غروب آفتاب تک انہیں نہیں چھوڑا اور والد کے کہنے کے مطابق جاگیر پر بھی نہیں گیا۔ میں نے ان سے کہا: اس دین کی اصل کہاں ہے؟ وہ کہنے لگے شام میں ،پھر میں اپنے والد کے پاس آنے لگا جو میری تلاش میں چند لوگ بھیج چکے تھے۔ میں نے ان کو ان کے کام سے بھی مصروف کردیا تھا۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا بیٹے کہاں تھے؟ ، کیا میں نے تمہیں کام سے نہیں بھیجا تھا ؟ میں نے کہا: ابا جان! میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو اپنے کلیسےمیں نماز پڑھ رہے تھے، میں نے ان کا طریقہ دیکھا تو مجھے بہت اچھا لگا ،میں سورج غروب ہونے تک انکے پاس ہی تھا۔ انہوں نے کہا: بیٹے ! اس دین میں کوئی خیر نہیں ،تمہارا اور تمہارے آباء کا دین اس سے بہتر ہے ، میں نے کہا : ہر گز نہیں اللہ کی قسم! وہ ہمارے دین سے بہتر ہے۔ وہ میرے بارے میں خوف زدہ ہو گیا (کہ کہیں میں ان کا دین نہ قبول کرلوں) اور میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں پھر مجھے اپنے گھر میں قید کر دیا۔ عیسائیوں نے میرے پاس پیغام بھیجا تو میں نے کہا کہ جب تمہارے پاس شام کے عیسائی تاجروں کا قافلہ آئے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب ان کے پاس شام کے عیسائی تاجروں کا قافلہ آیا تو انہوں نے مجھےاطلاع دی ،میں نے کہا جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر جانے لگیں تب مجھے خبر دینا پھر جب وہ واپس جانے لگے تو انہوں نے مجھے بتایا میں نے اپنے پاؤں سے بیڑیاں نکالیں اور ان کے ساتھ شام آگیا جب میں شام پہنچا تو میں نے کہا: اس دین کے ماننے والوں میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا کنیسا کا پادری۔ میں اس کے پاس آیا اور کہا: مجھے اس دین کا شوق ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ کنیسا مین آپ کے ساتھ رہوں کنیسا میں آپ کی خدمت کروں۔ آپ سے تعلیم حاصل کروں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھو ں اس نے کہا: آجاؤ، میں اس کے ساتھ اندر چلاگیا ، وہ ایک برا آدمی تھا۔ لوگوں کو صدقے کی ترغیب دیتا تھا جب لوگ صدقے کی چیزیں جمع کر کے اس کے پاس لاتے تو اپنے پاس محفوظ کر لیتا اور مسکینوں کو اس میں سے کوئی چیز نہ دیتا۔ حتی کہ اس نے سونے چاندی کے سات مٹکے بھر لئے ۔ اسے ایسا کرتے دیکھ کر مجھے اس پر سخت غصہ آیا۔ پھر وہ مرگیا ، عیسائی اسے دفنانے کے لئے جمع ہو ئے میں نے ان سے کہا: یہ ایک برا آدمی تھا، یہ تمہیں صدقے کا حکم اور ترغیب دیتا تھا جب تم صدقہ اس کے پاس لاتے تو اپنے لئے رکھ لیتا اور مساکین کو اس میں سے کوئی چیز نہ دیتا۔ لوگوں نے کہا: یہ بات تمہیں کس نے بتائی؟ میں نے کہا: میں تمہیں اس کے خزانے تک لے چلتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے تم اس کا خزانہ ہمیں دکھاؤ، میں نے اس کے خزانے کی جگہ انہیں دکھائی انہوں نے وہاں سے سونے چاندی کے بھرے ہوئے سات مٹکے نکالے۔ جب انہوں نے وہ مٹکے دیکھے تو کہا: واللہ ہم تو اسے کبھی بھی دفن نہیں کریں گے۔ لوگوں نے اسے سولی پرچڑھا دیا۔ پھر اسے پتھروں سے رجم کر دیا۔ پھر ایک دوسرے آدمی کو لا کر اس کی جگہ مقرر کر دیا۔ میں نےپانچ نمازیں نہ پڑھنے والوں میں سے (یعنی مسلمانوں کے علاوہ) ایسا کوئی آدمی نہیں دیکھا، دنیا میں انتہائی بے رغبت ،آخرت کی طرف رغبت رکھنے والا، دن اوررات عبادت میں انتہائی محنت کرنے والا۔میں اس سے اتنی محبت کرنے لگا کہ اس سے پہلے کسی سے نہ کی تھی، میں کافی عرصہ اس کے ساتھ رہا، جب وہ فوت ہونے لگا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! میں تمہارے ساتھ رہا اور تم سے اتنی محبت کی جتنی پہلے کسی سے نہ کی تھی۔ اور اب آپ کے لئے اللہ کا حکم آپہنچا ہے۔ اب کس شخص کی طرف جانے کا مجھے حکم دیتے ہیں؟ اور میرے لئے اب کیا حکم ہے؟ اس نے کہا: بیٹے ! واللہ آج کے دن میں کسی کو اس دین پر نہیں دیکھتا جس پر میں ہوں، لوگ ہلاک ہوگئے اور انہوں نے دین میں تبدیلیاں کرلیں اور ان اکثر چیزوں کو چھوڑ دیا جن پر اسلاف تھے، سوائے ایک شخص کے جو(موصل)میں ہے۔ اس کا خاص نام بتایا، وہ اسی دین پر ہے جس پر میں ہوں اس سے جا کر موا۔ جب وہ مر گیا اوراسے دفنا دیا گیا تو میں(موصل) والے شخص کے پاس پہنچ گیا۔ اور اس سے کہا: اے فلاں ،فلاں شخص نے اپنی موت کے وقت مجھے وصیت کی تھی کہ میں تم سے ملوں اور اس نے مجھے بتایا تھا کہ تم اس کے دین پر ہو۔ اس نے مجھے کہا: ٹھیک ہے میرے پاس قیام کرو، میں اس کے پاس ٹھہرا رہا میں نے اسے بھی اپنے ساتھی کے دین پر عمل کرنے والا بہترین آدمی پایا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کی موت کا وقت آگیا جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! فلاں شخص نے مجھے تمہاری طرف بھیجا تھا اور اب تمہارے پاس بھی اللہ کا حکم آگیا ہے، آپ مجھے کس شخص کی طرف جانے کی وصیت کرتے ہیں اور مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ اس نے کہا: بیٹے ! واللہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس دین پر ہو جس پر ہم تھے سوائے ایک شخص کے جو(نصیبین) میں ہے۔ فلاں نام ہے اس سے جا ملو۔ جب وہ مرگیا اور اسے دفنا دیا گیا تو میں(نصیبین ) والے سے جا ملا۔ میں اس کے پاس آیا اور اپنا واقعہ بتایا اور میرے ساتھی نے مجھے جو حکم دیا تھا۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے میرے پاس ٹھہرو ۔ میں نے اس کے پاس قیام کیا اور اسے بھی اپنے دونوں ساتھیوں کے دین پر پایا۔ میں نے ایک بہتر شخص کے ساتھ قیام کیا واللہ ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کی موت کا وقت بھی آگیا ۔جب اس کی موت کا وقت آیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! فلاں شخص نے مجھے فلاں کی طرف وصیت کی، پھر اس نے مجھے تمہاری طرف وصیت کی تم کس شخص کی طرف جانے کی وصیت کرتے ہو؟ اور مجھے کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا: بیٹے ! واللہ میرے علم میں نہیں کہ ہمارے دین پر کوئی شخص باقی ہے جس کے بارے میں تمہیں کہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ سوائے ایک آدمی کے جو عموریہ میں ہے، وہ شخص ہمارے دین پر ہے۔ اگر تمہیں پسند ہو تو اس کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ ہمارے دین پر ہے۔ جب وہ مر گیا اور اسے دفنا دیا گیا تو میں عموریہ والے کے پاس چلا گیا اور اپنا واقعہ بتلایا۔ اس نے کہا: میرے پاس قیام کر لو، میں اس شخص کے پاس ٹھہرا رہا جو اپنے ساتھیوں کے دین اور طریقے پر تھا۔ میں نے کمائی بھی کی حتی کہ میری کچھ گائیں اور مال ہو گیا۔ پھر اس پر بھی اللہ کا حکم نازل ہو گیا، جب اس کی موت کا وقت آگیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں میں فلاں کے پاس تھا ،اس نے مجھے فلاں کے پاس جانے کی وصیت کی ،اس نے مجھے کسی اور کے پاس جانے کی وصیت کی، پھر اس نے مجھے تمہاری طرف جانے کی وصیت کی ۔تم مجھے کس کی طرف آنے کی وصیت کرتے ہو؟ اور مجھے کیا حکم دیتےہو؟ اس نے کہا: بیٹے! اب ایسا وقت آگیا ہے کہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو ہمارے دین پر ہو جس کے بارے میں میں تمہیں کہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ، لیکن اب ایک نبی کے مبعوث ہونے کا وقت قریب ہے، جو دین ابراہیم کے ساتھ مبعوث ہوگا، عرب کی سر زمین میں اس کا ظہور ہوگا، دو پہاڑوں کے درمیان والی جگہ کی طرف ہجرت کرے گا، جس میں کھجوریں ہیں، اس میں ایسی علامات ہیں جو مخفی نہیں،تحفہ قبول کرے گا، صدقہ نہیں کھائے گا، اس کے کاندھوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی، اگر تم میں اتنی طاقت ہے کہ اس سے جا ملو تو ایسا کر گزرو۔ پھر وہ مر گیا اور اسے دفنا دیا گیا جب تک اللہ نے چاہا میں (عموریہ) میں ٹھہرا رہا، پھر بنو کلب کا ایک تجارتی قافلہ میرے پاس سے گزراتو میں نے ان سے کہا: تم مجھے سر زمین عرب تک لے چلو ، میں اپنی ساری گائیں اور بکریاں تمہیں دے دوں گا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں نے انہیں ساری گائیں اور بکریاں دے دیں اور انہوں نے مجھے سوار کر لیا ،حتی کہ جب وادی قریٰ میں پہنچے تو مجھ پر ظلم کرتے ہوئے ایک یہودی شخص کے ہاتھ غلام بنا کر بیچ دیا ،میں اس کے پاس ٹھہرا رہا ، میں نے کھجوریں دیکھیں، مجھے امید تھی کہ یہ وہی شہر ہے جس کے بارے میں مجھے میرے ساتھی نے بتایا تھا ، لیکن ابھی مجھے پختہ یقین نہیں تھا، میں اس یہودی کے پاس ہی تھا کہ بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والا اس کے چچا کا بیٹا مدینے سے اس کے پاس آیا اور اس سے مجھے خرید لیا ، اور مدینے لے آیا ۔ واللہ جب میں نے وہ علاقہ دیکھا تو اپنے ساتھی کے بتائے ہوئے وصف کی بنا پر اسے پہچان لیا۔ میں وہیں ٹھہرا رہا ، اللہ نے اپنے رسول کو مکہ میں مبعوث کر دیا ، اور وہ مکہ میں قیام پذیر رہا جب تک اللہ نے چاہا میں غلامی کی مصیبت میں ہونے کی وجہ سے اس کا تذکرہ نہیں سن سکا۔ پھر اس نے مدینے کی طرف ہجرت کی ۔ واللہ میں ایک کھجور کی چوٹی پر چڑھا کوئی کام کر رہا تھا، میرا مالک نیچے بیٹھا ہوا تھا، اچانک اس کے چچا کا بیٹا اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گاو اور کہنے لگا: اللہ بنی قیلہ کو برباد کرے وہ اس وقت(قباء) میں اس شخص کے پاس جمع ہو رہے ہیں جو آج مکہ سے آیا ہے، ان کا خیال ہے کہ وہ نبی ہے۔جب میں نے یہ بات سنی تو مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی ،حتی کہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں اپنے مالک کے اوپر گر جاؤں گا۔ میں نیچے اترا اور اس کے چچا کے بیٹے سے پوچھنے لگا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ تم کیا کہہ رہےتھے؟ میرا مالک غصے ہوگیا اورایک شدید قسم کا گھونسہ رسید کردیا پھر کہنے لگا:تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اپنے کا م پر توجہ دو، میں نے کہا: کچھ نہیں میں تو ویسے ہی یہ بات پوچھ رہا تھا۔ میرے پاس کچھ سامان تھا جو میں نے جمع کیا تھا ، شام ہوئی تو میں وہ سامان لے کر رسول اللہ ﷺکے پاس پہنچا آپ قبا میں تھے ، میں آپ کے پاس آیا تو کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے غریب حاجتمند ساتھی ہیں، میرے پاس یہ کچھ سامان صدقے کے لئے ہے، تو میرے خیال میں آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؟ میں نےوہ سامان آپ کی طرف بڑھا دیا۔ رسول اللہ ﷺنے اپنے صحابہ سے کہا: کھاؤاور اپنا ہاتھ روک لیا، آپ نے اس میں سے نہیں کھایا۔ میں نے اپنے دل میں کہا : یہ پہلی نشانی ہے۔ پھر میں واپس لوٹ آیا اور کچھ چیزیں جمع کیں رسول اللہ ﷺمدینے آگئے میں آپ کے پاس آیا اور کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے ، یہ آپ کے لئے تحفہ ہے، رسول اللہ ﷺنے اس میں سے کھا لیا اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تو انہوں نے بھی اس میں سے کھا لیا ،میں نے اپنے دل میں کہا: یہ دوسری نشانی ہے۔ پھر میں رسول اللہ ﷺکے پاس آیا آپ بقیع الغرقد میں تھے اور اپنے کسی صحابی کے جنازے میں شریک تھے ۔آپ کے اوپر دو چادریں تھیں اورآپ صحابہ میں بیٹھےتھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا، پھر میں گھوما، آپ کی پشت کی طرف آکر دیکھا کہ کیا میں وہ مہر دیکھ سکتا ہوں جو میرے ساتھی نے مجھے بتائی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺنے مجھے اس طرح گھومتے دیکھا تو جان گئے کہ میں ایسی چیز کا ثبوت تلاش کر رہا ہوں جو مجھے بیان کی گئی ہے۔ آپ نے اپنی کمر سے چادر گرادی میں نے اس مہر کی طرف دیکھا تو پہچان گیا، میں اس سے چمٹ گیا اسے بوسہ دینے لگا اور ساتھ ساتھ رونے لگا۔ رسول اللہ ﷺنے مجھ سے کہا کہ پیچھے ہو جاؤ۔ میں اس سے ہٹ گیا اور آپ کو اپنی داستان سنائی جس طرح اے ابن عباس: میں نے آپ کو سنائی ہے رسول اللہ ﷺکو یہ بات پسند آئی کہ میں اپنی داستان آپ کے صحابہ کو سناؤں، اس کے بعد سلمان غلام ہی رہے ،غلامی کی وجہ سے غزوہ بدر و احد میں شریک نہ ہو سکے ، پھر رسول اللہ ﷺنے مجھ سے کہا: سلمان! مکاتبت کر لو۔ میں نے اپنے مالک سے پانی کے راستے پر تین سو کھجور کے درخت لگانے اور چالیس اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کرو، لوگوں نے کھجور کے درختوں کے پنیری کے ساتھ میری مدد کی، کوئی آدمی تیس کھجوریں ، کوئی آدمی بیس، کوئی پندرہ ، کوئی دس لے آیا یعنی جس آدمی کی جتنی استطاعت تھی اس نے میری مدد کی ،حتی کہ میرے لئے تین سو کھجور کی پنیری گئی۔ جمع ہوگئیں، رسول اللہ ﷺنے مجھ سے کہا: سلمان جاؤ ان کے لئے گڑھے کھودو، جب گڑھے کھود کر فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس آجانا ،میں انہیں اپنے ہاتھ سے رکھوں گا۔ میں نے ان کے لئے گڑھے کھودے، میرے ساتھیوں نے میری مدد کی ،جب میں ان سے فارغ ہو گیا تو آپ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو رسول اللہ ﷺمیرے ساتھ نکل پڑے۔ ہم کھجور کے پودے آپ کے قریب کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺانہیں اپنے ہاتھ سے رکھنے لگے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے، ان میں سے ایک پودا بھی نہیں مر جھایا، میں نے وہ کھویریں اسے دے دیں باقی مال میرے ذمے رہا۔ رسول اللہ ﷺکے پاس مرغی کے انڈے کے برابر سونے کی ڈلی کسی معرکے میں سے آئی تو آپ نے فرمایا: فارسی کا کیا حال ہے؟ مجھے بلایا گیا، آپ نے فرمایا: یہ پکڑو اور تم پر جو ہے اسے ادا کردو۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول !مجھ پر جو رقم ہے یہ اس کے برابر کہاں پہنچ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسے لے لو اللہ عزوجل اس کے ذریعے تمہاری رقم ادا کردے گا۔ میں نے وہ ڈلی لے لی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے، اس ڈل سے میں نے ان کو چالیس اوقیے وزن کرکے دئیے۔ میں نے ان کا حق انہیں ادا کیا ، مجھے آزاد کر دیا گیا پھر میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ خندق میں حاضر ہوا اس کے بعد پھر کسی معرکہ میں بھی پیچھے نہیں رہا۔
Jam e Tirmazi
187
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ . قَالَ:‏‏‏‏ فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ مَا أَرَادَ بِذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ. وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ،‏‏‏‏ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وقد روي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ هَذَا
Ibn Abbas said: Allah's Messenger combined the Zuhr and Asr (prayers), and the Maghrib and Isha (prayers) in Al-Madinah, without being in a state of fear, nor due to rain.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بارش ۱؎ کے مدینے میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ۲؎۔ ابن عباس رضی الله عنہما سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کیا منشأ تھی؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشأ یہ تھی کہ آپ اپنی امت کو کسی پریشانی میں نہ ڈالیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے، ابن عباس رضی الله عنہما سے اس کے خلاف بھی مرفوعاً مروی ہے ۳؎۔
Jam e Tirmazi
251
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ حَفِظْنَا سَكْتَةً، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبْنَا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ بِالْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبَ أُبَيٌّ أَنْ حَفِظَ سَمُرَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سَعِيدٌ:‏‏‏‏ فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ:‏‏‏‏ مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ:‏‏‏‏ وَإِذَا قَرَأَ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ أَنْ يَسْكُتَ حَتَّى يَتَرَادَّ إِلَيْهِ نَفَسُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏يَسْتَحِبُّونَ لِلْإِمَامِ أَنْ يَسْكُتَ بَعْدَمَا يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَبَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَحْمَدُ وَإِسْحَاق وَأَصْحَابُنَا.
Al-Hasan narrated that : Samurah said: there are two pauses that I preserved from Allah's Messenger. But Imran bin Husain rejected that and said: We preserved one pause. So we wrote to Ubayy bin Ka'b in Al-Madinah. Ubayy wrote that Samurah was correct. Sa'eed said: We said to Qatadah: 'What are those two pauses?' He said: 'When he entered into his Salat, and when he finished his recitation.' Then he (Qatadah) said after that: 'And when he recited (Nor those who went astray.)' And he said: 'He liked to pause when he finished the recitation until he caught his breath.'
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( نماز میں ) دو سکتے ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیا ہے، اس پر عمران بن حصین رضی الله عنہ نے اس کا انکار کیا اور کہا: ہمیں تو ایک ہی سکتہ یاد ہے۔ چنانچہ ( سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں ) ہم نے مدینے میں ابی بن کعب رضی الله عنہ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ نے ( ٹھیک ) یاد رکھا ہے۔ سعید بن ابی عروبہ کہتے ہیں: تو ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: جب نماز میں داخل ہوتے ( پہلا اس وقت ) اور جب آپ قرأت سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد کہا اور جب «ولا الضالين» کہتے ۱؎ اور آپ کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ جب آپ قرأت سے فارغ ہوں تو تھوڑی دیر چپ رہیں یہاں تک کہ سانس ٹھہر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ وہ امام کے لیے نماز شروع کرنے کے بعد اور قرأت سے فارغ ہونے کے بعد ( تھوڑی دیر ) چپ رہنے کو مستحب جانتے ہیں۔ اور یہی احمد، اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
519
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِ:‏‏‏‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ. عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ:‏‏‏‏ كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
Ubaidullah bin Abi Rafi the freed slave of Allah's Messenger said: Marwan left Abu Hurairah in charge of Al-Madinah and he went to Makkah. So Abu Hurairah led us in Salat in Friday, reciting Surah Al-Jumuah (in the first Rak'ah) and in the second prostration (Rak'ah): When the hypocrites come to you. Ubaidullah said: So I caught up with Abu Hurairah and said to him: 'You recited two Surah that Ali recited in Al-Kufah. Abu Hurairah said: 'Indeed I heard Allah's Messenger reciting them.'
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں: مروان نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو مدینے میں اپنا نائب مقرر کیا اور وہ خود مکہ کی طرف نکلے، ابوہریرہ رضی الله عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو انہوں نے ( پہلی رکعت میں ) سورۃ الجمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں «إذا جاءك المنافقون»،‏‏‏‏ عبیداللہ کہتے ہیں: تو میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: آپ نے دو ایسی سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی رضی الله عنہ کوفہ میں پڑھتے ہیں، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے ان دونوں سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، نعمان بن بشیر اور ابوعنبہ خولانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جمعہ کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
Jam e Tirmazi
536
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ فِي الْأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَدِّ كَثِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَاب عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَاسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ. وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ نَحْوَ هَذِهِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق. وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ فِي التَّكْبِيرِ فِي الْعِيدَيْنِ:‏‏‏‏ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ يَبْدَأُ بِالْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا مَعَ تَكْبِيرَةِ الرُّكُوعِ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.
Kathir bin Abdullah narrated from this father, from his grandfather: The Prophet said the Takbir in the first (Rak'ah) sever (times) before the recitation, and in the last, five (times) before the recitation.
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- کثیر کے دادا کی حدیث حسن ہے اور یہ سب سے اچھی روایت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں روایت کی گئی ہے۔ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے مدینے میں اسی طرح یہ نماز پڑھی، ۵- اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۶- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عیدین کی تکبیروں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ نو تکبیریں ہیں۔ پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہے ۱؎ اور دوسری رکعت میں پہلے قرأت کرے پھر رکوع کی تکبیر کے ساتھ چار تکبیریں کہے ۲؎ کئی صحابہ کرام سے بھی اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ اہل کوفہ کا بھی قول یہی ہے اور یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
546
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سمعا أنس بن مالك، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Anas bin Malik narrated: We prayed Zuhr as four with the Prophet in Al-Madinah, and Asr as two Rak'ah in Dhil-Hulaifah.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں چار رکعتیں پڑھیں ۱؎ اور ذی الحلیفہ ۲؎ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
547
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ibn Abbas narrated: The Prophet went from Al-Madinah to Makkah, not fearing anyone except Allah the Lord of the worlds, and he prayed two Rak'ah.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، آپ کو سوائے اللہ رب العالمین کے کسی کا خوف نہ تھا۔ ( اس کے باوجود ) آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
548
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَنَسٍ:‏‏‏‏ كَمْ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عَشْرًا. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَقَامَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ تِسْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ فَنَحْنُ إِذَا أَقَمْنَا مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَ عَشْرَةَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ زِدْنَا عَلَى ذَلِكَ أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَقَامَ عَشْرَةَ أَيَّامٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وَرُوِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَقَامَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَقَامَ أَرْبَعًا صَلَّى أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْهُ ذَلِكَ قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ خِلَافَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ بَعْدُ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ فَذَهَبُوا إِلَى تَوْقِيتِ خَمْسَ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ:‏‏‏‏ إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ:‏‏‏‏ إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ أَرْبَعَةٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وَأَمَّا إِسْحَاق فَرَأَى أَقْوَى الْمَذَاهِبِ فِيهِ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لِأَنَّهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَأَوَّلَهُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ تِسْعَ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ الْمُسَافِرَ يَقْصُرُ مَا لَمْ يُجْمِعْ إِقَامَةً وَإِنْ أَتَى عَلَيْهِ سِنُونَ.
Yahya bin Abi Ishaq Al-Hadrami narrated : that Anas bin Malik said: We went with the Messenger of Allah from Al-Madinah to Makkah, and he prayed two Rak'ah. He said: I said to Anas: 'How long did Messenger of Allah stay in Makkah?' He said: 'Ten (days).'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کتنے دن رہے، انہوں نے کہا دس دن ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ابن عباس رضی الله عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ اپنے سفر میں انیس دن ٹھہرے اور دو رکعتیں ادا کرتے رہے۔ ابن عباس کہتے ہیں، چنانچہ جب ہم انیس دن یا اس سے کم ٹھہرتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ اور اگر اس سے زیادہ ٹھہرتے تو پوری پڑھتے، ۴- علی رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جو دس دن ٹھہرے وہ پوری نماز پڑھے، ۵- ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جو پندرہ دن قیام کرے وہ پوری نماز پڑھے۔ اور ان سے بارہ دن کا قول بھی مروی ہے، ۶- سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جب چار دن قیام کرے تو چار رکعت پڑھے۔ ان سے اسے قتادہ اور عطا خراسانی نے روایت کیا ہے، اور داود بن ابی ہند نے ان سے اس کے خلاف روایت کیا ہے، ۷- اس کے بعد اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہو گیا۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ پندرہ دن کی تحدید کی طرف گئے اور ان لوگوں نے کہا کہ جب وہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کر لے تو پوری نماز پڑھے، ۸- اوزاعی کہتے ہیں: جب وہ بارہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھے، ۹- مالک بن انس، شافعی، اور احمد کہتے ہیں: جب چار دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھے، ۱۰- اور اسحاق بن راہویہ کی رائے ہے کہ سب سے قوی مذہب ابن عباس کی حدیث ہے، اس لیے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، پھر یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ اس پر عمل پیرا رہے جب وہ انیس دن ٹھہرتے تو نماز پوری پڑھتے۔ پھر اہل علم کا اجماع اس بات پر ہو گیا کہ مسافر جب تک قیام کی نیت نہ کرے وہ قصر کرتا رہے، اگرچہ اس پر کئی سال گزر جائیں ۲؎۔