TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3551 - CHAPTER: Life-Long Gift. - Wages (kitab al-ijarah) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 5 in this chapter
CHAPTER: Life-Long Gift.
باب: عمر بھر کے لیے عطیہ دینا جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ .
Narrated Jabir ibn Abdullah: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If anyone is given life-tenancy, it belongs to him and to his descendants. His descendants who inherit him will inherit from it.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے عمر بھر کے لیے کوئی چیز دی گئی تو وہ اس کی ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے اولاد کی ہو گی ۱؎، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے ۔
3551
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 3551 In-book reference : Book 24, Hadith 136 English translation : Book 23, Hadith 3544
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/ العمری (۳۷۷۱)، (تحفة الأشراف: ۲۳۹۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۰۲، ۳۰۴، ۳۶۰، ۳۹۳، ۳۹۹)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : امام مالک کے نزدیک موہوب لہ کے مرنے کے بعد موہوب واہب کے پاس واپس آ جائے گی اس لئے کہ اس نے منفعت کا اختیار دیا تھا نہ کہ اس چیز کا مالک بنا دیا تھا۔

Related Chapters

958
1
Chapter: The 'Umra (Lifelong Gift)
کسی کو عمر بھر کےلیے(عطیہ )دینا
Sahih Muslim
2
Chapter: What Has Been Related About A LifeLong Gift (Al-'Umra)
باب: عمریٰ کا بیان
Jam e Tirmazi
3
CHAPTER: Life-Long Gift With Mention Of Descendants.
باب: کوئی چیز کسی کو دے کر یہ کہنا کہ یہ چیز تمہاری اور تمہارے اولاد کے لیے ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
4
Chapter: What Has Been Related About The Believer's Long Life
باب: مومن کے حق میں لمبی عمر کے بہتر ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
(37) CHAPTER. If somebody gives another person a horse (as a gift) then the rule is the same as that concerning the Umra or Sadaqa (i.e., the giver has no right to claim restitution).
جب کوئی کسی شخص کو گھوڑا سواری کے لیے ہدیہ کر دے تو وہ عمریٰ اور صدقہ کی طرح ہوتا ہے ( کہ اسے واپس نہیں لیا جا سکتا ) لیکن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ واپس لیا جا سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
6
(8) CHAPTER. The statement of the Prophet to Abu Burda: “Slaughter a kid as a sacrifice (of Eid-ul-Adha), but it will not be sufficient for anybody else after you.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضیاللہعنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کمعمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی ۔
Sahih Bukhari
7
(26) CHAPTER. The invocation of the Prophet on behalf of his servant that he may have a long life and a big fortune.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم ( حضرت انس رضیاللہعنہ ) کے لئے لمبی عمر کی اور مال کی زیادتی کی دعا فرمائی
Sahih Bukhari
8
(5) CHAPTER. If somebody reaches sixty years of age, he has no right to ask Allah for a new lease of life (to make up for his past shortcomings), for Allah says: ...Did We not give you lives long enough, so that whoever would receive admonition - could receive it? And the warner (of Allah) came to you... (V.35:37)
جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا
Sahih Bukhari
9
Chapter: It Is Permissible For A Blind Man To Call The Adhan So long As There Is A Man With Him Who Sees
نابینا کے ساتھ بینا موجود ہو تو اس کا اذان دینا جائز ہے
Sahih Muslim
10
Chapter: The Congregation Appointing Someone To Lead Them If The Imam Is Delayed And If There Is No Fear Of Negative Repercussions
جب امام کی آمد میں تاخیر ہو جائے اور کسی دوسرے کو آگے کرنے میں فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی کو جماعت کے لیے آگے کر دینا (جائز ہے)
Sahih Muslim
11
Chapter: Gifts are permissible for the Prophet (saws) and Banu Hashim and Banu Al-Muttalib, even if the giver acquired it by way of charity. When the receipient takes possession of Charity, it is no longer described as charity, and it is permissible for anyone for whom charity is otherwise unlawful
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ‘بنو ہاشم ‘اور بنو مطلب کے لیے تحفہ قبول کرنے کا جواز
Sahih Muslim
12
Chapter: Prohibition of Fasting for a lifetime for the one who will be harmed by that or who will neglect other duties, or does not break his fast on the two 'Ids or during the days of At-Tashriq; It is better to fast alternate days
اس شخص کے لیے سال بھر کے روزے رکھنے کی ممانعت جسے اس سےنقصان پہنچنے یا وہ اس کی وجہ سے کسی حق کو ضائع کرے ‘یا عید ین اور ایام تشریق کاٰ روزہ بھی نہ چھوڑے ‘اور ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
13
Chapter: What one who has entered Ihram for Hajj or Umrah is permitted to wear, and what is not permissible, and perfume is forbidden for him
حج یا عمرے کا احرام باندھنے والے کے لیے کیا پہننا جائز ہے اور کیا ممنوع ؟نیز اس کےلیے خوشبو کا استعمال ممنوع ہے
Sahih Muslim
14
Chapter: It is permissible for the one who emigrated from Makkah to stay there for three days after completing Hajj and 'Umrah, and no more than that
مکہ سے ہجرت کرجانے والوں کےلیےحج و عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد وہاں تین دن ٹھہرنا جائز ہے ‘زیادہ نہیں
Sahih Muslim
15
CHAPTER: A Gift (Al-Hadiyyah) For Helping Someone.
باب: کام نکالنے کے لیے ہدیہ دینا اور کام نکال دینے پر لینا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
16
عمریٰ (عمر بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز دینے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
17
Chapter: (What Has Been Reported About) For Whom The Zakat Is Lawful
باب: زکاۃ کس کے لیے جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About: For Whom Charity Is Not Lawful
باب: زکاۃ لینا کس کس کے لیے جائز نہیں؟
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About What Is Not Allowed For The Muhrim To Wear
باب: محرم کے لیے جن چیزوں کا پہننا جائز نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Gifts And Equality Between Children
باب: عطیہ دینے اور اولاد کے درمیان برابری کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Minhah (Giving A Gift)
باب: عطیہ دینے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About 'The Lifespan Of (The Individuals) In This Ummah Is Between Sixty And Seventy [Years]
باب: امت محمدیہ کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
23
بَاب مِمَّن لَا تحل لَهُ الصَّدَقَة
کس کو صدقہ دینا جائز نہیں
Mishkat
24
بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ
سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز
Mishkat
25
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَالِ وَالْعُمُرِ لِلطَّاعَةِ
اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان
Mishkat
26
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
27
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
Musnad Ahmad
28
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
29
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
Musnad Ahmad
30
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
Musnad Ahmad
31
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
32
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
Musnad Ahmad
33
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
Musnad Ahmad
34
عمری اور رقبی کے جائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
35
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
Musnad Ahmad
36
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
37
خواتین کو سونے کے زیورات سے منع کرنے اور ان کے لیے چاندی کے جائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
38
خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ تبوک کے لیے خصوصی اہتمام اور اس کے لیے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عطیہ کا بیان
Musnad Ahmad
40
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
Musnad Ahmad
41
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
Musnad Ahmad
42
(12) CHAPTER. Whoever fixed a special day for giving (a religious talk) to the students.
اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے ( تو یہ جائز ہے ) یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
43
(23) CHAPTER. To give a religious verdict while riding an animal or standing on anything else.
جانور وغیرہ پر سوار ہو کر فتویٰ دینا جائز ہے
Sahih Bukhari
44
(40) CHAPTER. The knowledge and its teaching and preaching at night.
اس بیان میں کہ رات کو تعلیم دینا اور وعظ کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
45
(52) CHAPTER. Teaching religious knowledge and giving religious verdicts in a mosque.
مسجد میں علمی مذاکرہ کرنا اور فتوی دینا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
46
(16) CHAPTER. Getting water carried by somebody else for purification (washing one's private parts).
کسی شخص کے ہمراہ اس کی طہارت کے لیے پانی لے جانا جائز ہے
Sahih Bukhari
47
(17) CHAPTER. To carry an Anaza (spear-headed stick) along with the water for washing the private parts after answering the call of nature.
استنجاء کے لیے پانی کے ساتھ نیزہ ( بھی ) لے جانا ثابت ہے ۔
Sahih Bukhari
48
(43) CHAPTER. The performance of ablution by a man along with his wife. The utilization of water remaining after a woman has performed ablution.
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ وضو کرنا اور عورت کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
49
(15) CHAPTER. To rub the hair thoroughly (while taking a bath) till one feels that one has made his skin wet (underneath the hair) and then one pours water over it.
بالوں کا خلال کرنا اور جب یقین ہو جائے کہ کھال تر ہو گئی تو اس پر پانی بہا دینا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
50
(48) CHAPTER. If somebody is leading the Salat (prayer) and (in the meanwhile) the first (usual) Imam comes, the Salat is valid whether the former retreats or does not retreat.
ایک شخص نے امامت شروع کر دی پھر پہلا امام آ گیا اب پہلا شخص ( مقتدیوں میں ملنے کے لیے ) پیچھے سرک گیا یا نہیں سرکا ، بہرحال اس کی نماز جائز ہو گی اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

261
Sahih Muslim
204
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَذَكَرَ النُّهْبَةَ وَلَمْ يَقُلْ ذَاتَ شَرَفٍ،
Muhammad b. Mihran narrates this hadith on the authority of Abu Huraira and made mention of plundering but did not talk of (a thing) having value.
اوزاعی نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن مسیب ، ابو سلمہ اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے اور انہوں نے ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی جس طرح عقیل نےزہری سے حدیث بیان کی اور اس میں ’’لوٹ ‘ ‘ کا تذکرہ کیا لیکن ’’قدر وقیمت والی چیز ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔
Sunnan Ibn e Maja
2909
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكِ دَيْنٌ قَضَيْتِهِ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that his brother Fadl was riding behind the Messenger of Allah (ﷺ) in the morning of sacrifice (i.e., the 10th of Dhul-Hijjah), when a woman from Khath’am came and said: “O Messenger of Allah, the command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but my father is an old man and cannot ride. May I perform Hajj on his behalf?” He said: “Yes, because if your father owed a debt you would pay it off.”
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضہ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس لیے کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے چکاتیں نا ؟ ۱؎۔
Sunnan Nisai
204
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِيالنُّعْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو مُعَيْدٍ وَهُوَ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ امْرَأَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَهِيَ أُخْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَدْبَرَتِ الْحَيْضَةُ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَقْبَلَتْ فَاتْرُكِي لَهَا الصَّلَاةَ . قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ أَحْيَانًا فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ وَهِيَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى أَنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَخْرُجُ فَتُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَمْنَعُهَا ذَلِكَ مِنَ الصَّلَاةِ.
It was narrated that 'Aishah said: Umm Habibah bint Jahsh- the wife of 'Abdur-Rahman bin 'Awf and the sister of Zainab bint Jahsh - suffered Istihadah (non-mentrual vaginal bleeding). She said: She consulted the Messenger of Allah (ﷺ) and the Messenger of Allah (ﷺ) said to her: 'That is not menstruation, rather that is a vein. When you period goes, perform Ghusl and pray, and when it comes, stop praying (for that period).' 'Aishah said: She used to perform Ghusl for every prayer and pray. Sometimes she would perform Ghusl in a washtub in the room of her sister Zainab when she was with the Messenger of Allah (ﷺ) and the water would turn red with blood, then she would go out and pray with the Messenger of Allah (ﷺ). That did not stop her from praying.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا - بنت جحش جو ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں - کو استحاضہ کا خون آیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:  یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون )  ہے، تو جب حیض بند ہو جائے تو غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور جب وہ آ جائے تو اس کی وجہ سے نماز ترک کر دو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں ۱؎ اور نماز پڑھتی تھیں، اور کبھی کبھی اپنی بہن زینب رضی اللہ عنہا کے کمرے میں ایک ٹب میں غسل کرتیں، اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی، پھر وہ نکلتیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتیں، اور یہ  ( خون )  انہیں نماز سے نہیں روکتا۔
Sunnan Nisai
557
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا .
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever catches up with a Rak'ah of the prayer has caught up with it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی ۔
Sunnan Nisai
3773
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا هِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ .
(A different chain) from Al-Awza'i, from Az-Zuhri, from 'Urwah and Abu Salamah, from Jabir, who said: The Messenger of Allah said: 'Umra (a lifelong gift) belongs to the one to whom it was given; it belongs to him and to his descendants, and is inherited by those who inherit from him.'
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ اس کا ہے جس کے لیے عمریٰ کیا گیا، یہ ( زندگی بھر ) اس کا رہے گا، اور ( مرنے کے بعد ) اس کی اولاد کا ہو گا، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس کے وارث ہوں گے“۔
Jam e Tirmazi
129
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ ابْنَةُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، ‏‏‏‏‏‏أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، ‏‏‏‏‏‏فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي ،‏‏‏‏ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ. قَالَ قُتَيْبَةُ:‏‏‏‏ قَالَ اللَّيْثُ:‏‏‏‏ لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَتْهُ هِيَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ،‏‏‏‏ وَرَوَى الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ،‏‏‏‏ وَعَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ.
Aishah narrated: Umm Habibah hint Jahsh sought a verdict from Allah's Messenger. She said 'I suffer from persistent bleeding such that I do not become pere. Shall I give up the Salat?' He said: 'No, that is only a blood vessel. So perform Ghusl then pray.' So she would perform Ghusl for each prayer.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا اور کہا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں۔ تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو محض ایک رگ ہے، لہٰذا تم غسل کرو پھر نماز پڑھو“، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابن شہاب زہری نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ام حبیبہ رضی الله عنہا کو ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، بلکہ یہ ایسا عمل تھا جسے وہ اپنے طور پر کیا کرتی تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نیز یہ حدیث زہری سے «عن عمرة عن عائشہ» کے طریق سے بھی روایت کی جاتی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، ۲- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے وقت غسل کرے گی۔
Jam e Tirmazi
256
قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وأبي هريرةَ، ‏‏‏‏‏‏وأبي حُمْيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأبي أُسَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وسَهْلِ بن سعدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وأبي قتادةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأبي موسى الأشعري، ‏‏‏‏‏‏وجابرِ، ‏‏‏‏‏‏وعُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا يَقُولُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ ابْنُ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأَبُو هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٌ وَابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنَ التَّابِعِينَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ،‏‏‏‏ وَعَطَاءٌ،‏‏‏‏ وَطَاوُسٌ،‏‏‏‏ وَمُجَاهِدٌ،‏‏‏‏ وَنَافِعٌ،‏‏‏‏ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَالِكٌ،‏‏‏‏ وَمَعْمَرٌ،‏‏‏‏ وَالْأَوْزَاعِيُّ،‏‏‏‏ وَابْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ قَدْ ثَبَتَ حَدِيثُ مَنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْآمُلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يَرَى رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ مَعْمَرٌ يَرَى رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وسَمِعْت الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ بْنُ هَارُونَ،‏‏‏‏ وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِذَا افْتَتَحُوا الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعُوا وَإِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ.
Salim narrated: Same as 255 (above) with a different chain
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، وائل بن حجر، مالک بن حویرث، انس، ابوہریرہ، ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، ابوقتادۃ، ابوموسیٰ اشعری، جابر اور عمیر لیثی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر بن عبداللہ، ابوہریرہ، انس، ابن عباس، عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم وغیرہ شامل ہیں اور تابعین میں سے حسن بصری، عطاء، طاؤس، مجاہد، نافع، سالم بن عبداللہ، سعید بن جبیر وغیرہ کہتے ہیں، اور یہی مالک، معمر، اوزاعی، ابن عیینہ، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: جو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کی حدیث ( دلیل ) صحیح ہے، پھر انہوں نے بطریق زہری روایت کی ہے، ۵- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے“ والی ثابت نہیں ہے، ۶- مالک بن انس نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے، ۷- عبدالرزاق کا بیان ہے کہ معمر بھی نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے، ۸- اور میں نے جارود بن معاذ کو کہتے سنا کہ ”سفیان بن عیینہ، عمر بن ہارون اور نضر بن شمیل اپنے ہاتھ اٹھاتے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے“۔
Jam e Tirmazi
1102
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ فِيهِ اخْتِلَافٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاق. وَقَدْ رُوِيَ عن يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا. وَرَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى وَلَا يَصِحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏عِنْدِي أَصَحُّ لِأَنَّ سَمَاعَهُمْ مِنْ أَبِي إِسْحَاق فِي أَوْقَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيُّ أَحْفَظَ وَأَثْبَتَ مِنْ جَمِيعِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ رِوَايَةَ هَؤُلَاءِ عِنْدِي أَشْبَهُ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيَّ سَمِعَا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي إِسْحَاق فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ مَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَسْأَلُ أَبَا إِسْحَاق:‏‏‏‏ أَسَمِعْتَ أَبَا بُرْدَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَلَّ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى أَنَّ سَمَاعَ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ وَإِسْرَائِيلُ هُوَ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏ثَبْتٌ فِي أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق الَّذِي فَاتَنِي، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا لَمَّا اتَّكَلْتُ بِهِ عَلَى إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ كَانَ يَأْتِي بِهِ أَتَمَّ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ هُوَ حَدِيثٌ عِنْدِي حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ ثُمَّ لَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ فَأَنْكَرَهُ فَضَعَّفُوا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَجْلِ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ:‏‏‏‏ وَسَمَاعُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ لَيْسَ بِذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا صَحَّحَ كُتُبَهُ عَلَى كُتُبِ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا سَمِعَ مِنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَضَعَّفَ يَحْيَى رِوَايَةَ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ فِي هَذَا الْبَابِ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَشُرَيْحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا يَقُولُ:‏‏‏‏ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Aishah narrated that: The Messenger of Allah said: Whichever woman married without the permission of her Wali her marriage is invalid, her marriage is invalid, her marriage is invalid. If he entered into her, then the Mahr is for her in lieu of what he enjoyed from her private part. If they disagree, then the Sultan is the Wali for one who has no Wali.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس نے اس سے دخول کر لیا ہے تو اس کی شرمگاہ حلال کر لینے کے عوض اس کے لیے مہر ہے، اور اگر اولیاء میں جھگڑا ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری، اور کئی حفاظ حدیث نے اسی طرح ابن جریج سے روایت کی ہے، ۳- ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی ( پچھلی ) حدیث میں اختلاف ہے، اسے اسرائیل، شریک بن عبداللہ، ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اور اسباط بن محمد اور زید بن حباب نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۵- اور ابوعبیدہ حداد نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اس میں انہوں نے ابواسحاق کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۶- نیز یہ حدیث یونس بن ابی اسحاق سے بھی روایت کی گئی ہے انہوں نے بسند «أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۷- اور شعبہ اور سفیان ثوری بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“، اور سفیان ثوری کے بعض تلامذہ نے بسند «سفيان عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى» روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں کی روایت، جنہوں نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ابواسحاق سبیعی سے ان لوگوں کا سماع مختلف اوقات میں ہے اگرچہ شعبہ اور ثوری ابواسحاق سے روایت کرنے والے تمام لوگوں سے زیادہ پختہ اور مضبوط حافظہ والے ہیں پھر بھی ان لوگوں ( یعنی شعبہ و ثوری کے علاوہ دوسرے رواۃ ) کی روایت اشبہ ( قریب تر ) ہے۔ اس لیے کہ شعبہ اور ثوری دونوں نے یہ حدیث ابواسحاق سے ایک ہی مجلس میں سنی ہے، ( اور ان کے علاوہ رواۃ نے مختلف اوقات میں ) اس کی دلیل شعبہ کا یہ بیان ہے کہ میں نے سفیان ثوری کو ابواسحاق سے پوچھتے سنا کہ کیا آپ نے ابوبردہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شعبہ اور ثوری کا مکحول سے اس حدیث کا سماع ایک ہی وقت میں ہے۔ اور ابواسحاق سبیعی سے روایت کرنے میں اسرائیل بہت ہی ثقہ راوی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ مجھ سے ثوری کی روایتوں میں سے جنہیں وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں، کوئی روایت نہیں چھوٹی، مگر جو چھوٹی ہیں وہ صرف اس لیے چھوٹی ہیں کہ میں نے اس سلسلے میں اسرائیل پر بھروسہ کر لیا تھا، اس لیے کہ وہ ابواسحاق کی حدیثوں کو بطریق اتم بیان کرتے تھے۔ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث: ”بغیر ولی کے نکاح نہیں“ میرے نزدیک حسن ہے۔ یہ حدیث ابن جریج نے بطریق: «سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم»،‏‏‏‏ نیز اسے حجاج بن ارطاۃ اور جعفر بن ربیعہ نے بھی بطریق: «الزهري، عن عروة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ نیز زہری نے بطریق: «هشام بن عروة، عن أبيه عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی کے مثل روایت کی ہے۔ بعض محدثین نے زہری کی روایت میں ( جسے انہوں نے بطریق: «عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ) کلام کیا ہے، ابن جریج کہتے ہیں: پھر میں زہری سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن جریج سے اس بات کو اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کے علاوہ کسی اور نے نہیں نقل کیا ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں: اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کا سماع ابن جریج سے نہیں ہے، انہوں نے اپنی کتابوں کی تصحیح عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد کی ان کتابوں سے کی ہے جنہیں عبدالمجید نے ابن جریج سے سنی ہیں۔ یحییٰ بن معین نے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کی روایت کو جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے ضعیف قرار دیا ہے۔ ۸- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «لا نكاح إلا بولي» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ”پر ہے جن میں عمر، علی، عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ بھی شامل ہیں، اسی طرح بعض فقہائے تابعین سے مروی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں۔ ان میں سعید بن مسیب، حسن بصری، شریح، ابراہیم نخعی اور عمر بن عبدالعزیز وغیرہ ہیں۔ یہی سفیان ثوری، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
2549
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،‏‏‏‏ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سَعِيدٌ:‏‏‏‏ أَفِيهَا سُوقٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ ثُمَّ يُؤْذَنُ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا فَيَزُورُونَ رَبَّهُمْ وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ وَيَتَبَدَّى لَهُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَتُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُمْ وَمَا فِيهِمْ مِنْ دَنِيٍّ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا يُرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ بِأَفْضَلَ مِنْهُمْ مَجْلِسًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ؟ قُلْنَا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَذَلِكَ لَا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ وَلَا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا حَاضَرَهُ اللَّهُ مُحَاضَرَةً حَتَّى يَقُولَ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَتَذْكُرُ يَوْمَ قُلْتَ:‏‏‏‏ كَذَا وَكَذَا ؟ فَيُذَكِرُهُ بِبَعْضِ غَدْرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ بَلَى فَبِسَعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغَتْ بِكَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ غَشِيَتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى:‏‏‏‏ قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حَفَّتْ بِهِ الْمَلَائِكَةُ فِيهِ مَا لَمْ تَنْظُرُ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ وَلَمْ تَسْمَعَ الْأَذَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا لَيْسَ يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى، ‏‏‏‏‏‏وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَخَيَّلَ إِلَيْهِ مَا هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَتَتَلَقَّانَا أَزْوَاجُنَا فَيَقُلْنَ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا وَأَهْلًا لَقَدْ جِئْتَ وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ شَيْئًا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
Hasan bin 'Atiyyah narrated from Sa'eed bin Al-Musayyab, that he met Abu Hurairah, and Abu Hurairah said: I supplicate Allah to bring you and I together in the market of Paradise. So Sa'eed said: Is there a market in it? He said: Yes, the messenger of Allah (s.a.w) informed me that: 'When the people of Paradise enter it, they shall take their places according to the virtue of their deeds. Then permission shall be granted to them to visit their Lord, for the length of a Friday from the days of the world. He shall present for them His Throne and He shall manifest the gardens of Paradise. Then lofty seats of light shall be erected for them, and lofty saets of pearl, and lofty seats or corundum, and lofty seats of peridots, and lofty seats of gold, and lofty seats of silver. And the lowest of them- and there is none of them that is low- shall sit upon a dune of musk and camphor, and they shall not regard those upon the chairs as having a better sitting place than them.' Abu Hurairah said: I said: 'O Messenger of Allah, and will we see our Lord?' He (S.a.w) said: 'Yes.[He said: ] Do you doubt [concerning] seeing the sun, or the moon on a night when it is full?' We said: 'No.' He said: 'Likewise, you will not doubt concerning seeing your Lord. And they shall not remain in that meeting any man except Allah shall give him a lecture until he says to a man from among them: O so-and – so son of so - and – so, do you remember the day when you said such-and-such.” And He will remind him of some of his betrayals in the world, so he will say: “O my Lord, did you not forgive me?” So He will say: “Indeed! It is by the vastness of My Forgiveness that you reached this station of yours.” So while they are engaged in this they shall be covered by a cloud that shall rain upon them a perfume, the like of whose smell they have not smelled, ever. And our Lord [Blessed and Exalted is He] shall say: “Arise to what I have prepared for you of generosity, and take whatever you desire.” Then, we will come to a market which the angels will have already surrounded. [In it] shall be what no eyes have seen the like of, nor ears have heard of, nor ever has it occurred in the hearts (of men). And there shall be carried to us whatever we desire. There shall be not be anything sold or bought in this market, and, in that market, the people of Paradise shall meet one another.' He said: 'So the person of high rank shall come and meet the one below him in rank- and there is none among them that is low- so he shall be impressed by the clothes he sees on him, their discussion shall not come to an end until he shall imagine upon himself what is more beautiful than it, and that is because it is not fitting for anyone to feel regret therein. Then we will return to our places and our wives shall meet us saying: “Welcome and greetings, you have come, and you have beauty greater than what you parted us with.” So we will say: “Indeed we sat today with our Lord, the Powerful, and it is fitting that we should return with what we have returned with.'” (Da'if)
سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملے تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تم کو جنت کے بازار میں اکٹھا کرے۔ سعید بن مسیب نے کہا: کیا اس میں بازار بھی ہے؟ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: ہاں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو وہ اس میں اپنے اعمال کے مطابق اتریں گے، پھر دنیا کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کے برابر انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت کریں گے، ان کے لیے عرش ظاہر ہو گا اور جنت کے ایک باغ میں نظر آئے گا، پھر ان کے لیے نور کے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زمرد کے منبر، سونے کے منبر، اور چاندی کے منبر رکھے جائیں گے، ان کے ادنیٰ درجہ والے حالانکہ ان میں کوئی بھی ادنیٰ نہیں ہو گا مشک اور کافور کے ٹیلے پر بیٹھیں گے اور دوسرے منبر والوں کے بارے میں یہ نہیں خیال کریں گے کہ وہ ان سے اچھی جگہ بیٹھے ہیں۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، کیا تم سورج اور چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں دھکم پیل کیے جاتے ہو؟“ ہم نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تم اپنے رب کا دیدار کرنے میں دھکم پیل نہیں کرو گے، اور اس مجلس میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہو گا جس کے روبرو اللہ تعالیٰ گفتگو نہ کرے، حتیٰ کہ ان میں سے ایک آدمی سے کہے گا: اے فلاں بن فلاں! کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب تم نے ایسا ایسا کیا تھا؟ پھر اسے اس کے بعض گناہ یاد دلائے گا جو دنیا میں اس نے کیے تھے تو وہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے معاف نہیں کر دیا؟ اللہ تعالیٰ کہے گا: کیوں نہیں؟ میری مغفرت کے سبب ہی تم اس مقام پر ہو۔ وہ سب اسی حال میں ہوں گے کہ اوپر سے انہیں ایک بدلی ڈھانپ لے گی اور ان پر ایسی خوشبو برسائے گی کہ اس طرح کی خوشبو انہیں کبھی نہیں ملی ہو گی اور ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کہے گا: اس کرامت اور انعام کی طرف جاؤ جو ہم نے تمہارے لیے تیار کر رکھی ہے، اور اس میں سے جو چاہو لو، چنانچہ ہم ایک ایسے بازار میں آئیں گے جسے فرشتے گھیرے ہوں گے اس میں ایسی چیزیں ہوں گی کہ اس طرح نہ کبھی آنکھوں نے دیکھی ہو گی نہ کانوں نے سنا ہو گا اور نہ کبھی دلوں میں اس کا خیال آیا ہو گا، ہم جو چاہیں گے ہمارے پاس لایا جائے گا، اس میں خرید و فروخت نہیں ہو گی اور اسی بازار میں جنتی ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے“، آپ نے فرمایا: ”ایک بلند مرتبہ والا آدمی اپنے سے کم رتبہ والے کی طرف متوجہ ہو گا اور اس سے ملاقات کرے گا ( حالانکہ حقیقت میں اس میں سے کوئی بھی کم مرتبے والا نہیں ہو گا ) تو اسے ( ادنیٰ مرتبے والے کو ) اس کا لباس دیکھ کر عجیب سا لگے گا پھر اس کی آخری گفتگو ختم بھی نہیں ہو گی کہ اسے محسوس ہو گا کہ اس کا لباس اس سے بھی اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ جنت میں کسی کا مغموم ہونا مناسب نہیں ہے۔ پھر ہم ( جنتی ) اپنے گھروں کی طرف واپس جائیں گے اور اپنی بیویوں سے ملیں گے تو وہ کہیں گی: خوش آمدید! آپ ایسا حسن و جمال لے کر آئے ہیں جو اس سے کہیں بہتر ہے جب آپ ہم سے جدا ہوئے تھے، تو وہ آدمی کہے گا: آج ہم اپنے رب جبار کے ساتھ بیٹھے تھے اور ہمارا حق ہے کہ ہم اسی طرح لوٹیں جس طرح لوٹے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ـ سوید بن عمرو نے بھی اوزاعی سے اس حدیث کا بعض حصہ روایت کیا ہے۔