حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ .
Ibn Umar reported the Apostel of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Every intoxicant is forbidden. He who drinks wine in this world, and dies when he is addiction to it, will not drink it in the next.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۱؎، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا ( یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة ۸ (۲۰۰۳) سنن الترمذی/الأشربة ۱ (۱۸۶۱)، سنن النسائی/الأشربة ۴۶ (۵۶۷۶، ۵۶۷۷)، (تحفة الأشراف: ۷۵۱۶)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة ۱ (۵۵۷۵)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ۱ (۳۳۷۷)، مسند احمد (۲/۱۹، ۲۲، ۲۸، ۳۵، ۱۹۸، ۱۲۳) سنن الدارمی/الأشربة ۳ (۲۱۳۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بدمست کر دینے والی اور نشہ لانے والی چیزوں کو شراب کہا جاتا ہے اور یہ حرام ہے، یہ نشہ آور شراب کھجور سے ہو یا منقی، شہد، گیہوں اور جوار باجرہ سے، یا کسی درخت کا نچوڑا ہوا عرق ہو جیسے تاڑی یا کوئی گھاس ہو جیسے بھانگ وغیرہ۔
3679
Sahih