CHAPTER: Regarding The Statement Of Allah: And Tell The Believing Women To Lower Their Gaze. - باب: آیت کریمہ : «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر ۔ - Clothing (kitab al-libas) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 37 of Clothing (kitab al-libas) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Ibn Abbas: The verse: And say to the believing women that they should lower gaze was partly abrogated by the verse: Such elderly women as are past the prospect of marriage.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ( سورۃ النور: ۳۱ ) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو ( سورۃ النور: ۶۰ ) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۶۲۶۶)
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin: I was with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم while Maymunah was with him. Then Ibn Umm Maktum came. This happened when we were ordered to observe veil (purdah). The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Observe veil from him. We asked: Messenger of Allah! is he not blind? He can neither see us nor recognise us. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Are both of you blind? Do you not see him? Abu Dawud said: This was peculiar to the wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Do you not see that Fatimah daughter of Qays passed her waiting period with Ibn Umm Maktum. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to Fatimah daughter of Qays: Pass your waiting period with Ibn Umm Maktum, for he is a blind man. You can put off your clothes with him.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب ۲۹ (۲۷۷۸)، (تحفة الأشراف: ۱۸۲۲۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۲۹۶)
Narrated Amr bin Suhaib: On his father's authority, said that his grandfather reported the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you marries his male-slave to his slave-woman, he should not look at her private parts.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شادی کر دے تو پھر اس کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۸۷۴۲)
Narrated Amr bin Suhaib: On his father's authority, said that his grandfather reported the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you marries his female servant to his slave or to his employee, he should not look at her private part below the navel and above the knees. Abu Dawud said: The correct name is Sawwad bin Dawud al-Muzani al-Sairafi (and not Dawud bin Sawwad as mentioned in the chain). The narrator Waki misunderstood it.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۸۷۱۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۸۷)