Narrated Umm Habibah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone prays in a day and a night twelve rak'ahs voluntarily (supererogatory prayer), a house will be built from him in Paradise on account of these (rak'ahs).
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۱۵ (۷۲۸)، سنن النسائی/قیام اللیل ۵۷ (۱۸۰۲)، (تحفة الأشراف: ۱۵۸۶۰)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ۱۹۳ (۴۱۵)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۰۰ (۱۱۴۱)، مسند احمد (۶/۴۲۶، ۳۲۷)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۴۴ (۱۴۷۸) (صحیح)
Narrated Abdullah bin Shaqiq: I asked Aishah about the voluntary prayers offered by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. She replied: Before the noon prayer he would pray four rak'ahs in my house, then go out and lead the people in prayer, then return to my house and pray two rak'ahs. He would lead the people in the sunset prayer, then return to my house and pray two rak'ahs. Then he would lead the people in the night prayer, and enter my house and pray two rak'ahs. He would pray nine rak'ahs during the night, including witr (prayer). At night he would pray for a long time standing and for a long time sitting. When he recited the Quran while standing, he would bow and prostrate himself from the standing position, and when he recited while sitting, he would bow and prostrate himself from the sitting position, and when dawn came he prayed two rak'ahs, then he would come out and lead the people in the dawn prayer.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۱۶ (۷۳۰)، سنن الترمذی/الصلاة ۱۶۳ (۳۷۵)، ۴۱۰ (۴۳۶)، سنن النسائی/قیام اللیل ۱۸ (۱۶۴۷، ۱۶۴۸)، (تحفة الأشراف: ۱۶۲۰۷)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۴۰ (۱۲۲۸)، مسند احمد (۶/۳۰، ۲۱۶) (صحیح)
Narrated Abdullah bin Umar: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would pray two rak'ahs before and two after the noon prayer, two after the sunset prayer in his house, and two after the night prayer. He would not pray afte the Friday prayer till he departed. He would then pray two rak'ahs.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آ جاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة ۳۹ (۹۳۷)، صحیح مسلم/الجمعة ۱۸ (۸۸۲)، سنن النسائی/الجمعة ۴۲ (۱۴۲۸)، (تحفة الأشراف: ۸۳۴۳)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ۲۳ (۶۹)، مسند احمد (۲/۳۴) (صحیح)
Narrated Aishah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم never omitted four rak'ahs before the noon prayer, and two rak'ahs before the dawn prayer.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر ( کی فرض نماز ) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی ( فرض نماز ) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
Narrated Aishah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was more particular about observing the supererogatory rak'ahs before the dawn prayer than about observing any of the other supererogatory prayers.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں کی رکعتوں کا رکھتے تھے۔
Narrated Aishah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم would pray two rak'ahs before the dawn prayer lightly so much so that I would say: Did he recite Surah al-Fatihah in them.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ نے ان میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے؟
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم would recite in both rak'ahs of the dawn prayer: Say, O unbelievers and Say: He is Allah, the one
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۱۴ (۷۲۶)، سنن النسائی/الافتتاح ۳۹ (۹۴۶)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۰۲ (۱۱۴۸)، (تحفة الأشراف: ۱۳۴۳۸) (صحیح)
Narrated Bilal: Ziyadah al-Kindi reported on the authority of Bilal that he (Bilal) came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to inform him about the dawn prayer. Aishah kept Bilal engaged in a matter which she asked him till the day was bright and it became fairly light. Bilal then stood up and called him to prayer and called him repeatedly. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not yet come out. When he came out, he led the people in prayer and he (Bilal) informed him that Aishah had kept him engaged in a matter which she asked him till it became fairly light; hence he became late in reaching him (in time). He (Bilal) said: Messenger of Allah, the dawn became fairly bright. He said: If the dawn became brighter than it is now, I would pray them (the two rak'ahs of the sunnah prayer), offer them well and in a more beautiful manner.
عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی بات میں مشغول کر لیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہو گئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہو گئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا ، بلال نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو کافی صبح کر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہو جاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۲۰۴۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۴) (صحیح)
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not omit them (the two rak'ahs before the dawn prayer) even if you are driven away by the horses.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۱۵۴۸۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۴۰۵) (ضعیف) (اس کے راوی ابن سیلان لین الحدیث ہیں)
Narrated Abdullah bin Abbas: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to recite in both rak'ahs of the dawn prayer: Say: We believe in Allah and in the revelation given to us (3: 84). This is in the first rak'ah and in the second rak'ah (he recited): We believe in Allah and bear witness that we submit ourself (to Him). (3: 52).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ «آمنا بالله وما أنزل إلينا» ۱؎ والی آیت ہوتی، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں«آمنا بالله واشهد بأنا مسلمون» ۲؎ پڑھتے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۱۴(۷۲۷)، سنن النسائی/الافتتاح ۳۸ (۹۴۵)، (تحفة الأشراف: ۵۶۶۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۳۰، ۲۳۱) (صحیح)
Explanation
وضاحت: وضاحت : سورة البقرة: (۱۳۶) وضاحت: سورة آل عمران: (۵۲)
Narrated Abu Hurairah: That he heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم recite in both rak'ahs of the dawn: Say: We believe in Allah, and in the revelation given to us (3: 84). This is in the first rak'ah. In the second rak'ah he recited this verse: Our Lord, we have believed in what You have sent down, and we follow the Messenger, so write us down among those who bear witness. or he recited: Surely, we have sent you with the truth as a bringer of glad tidings, and a warner. And you will not be asked about the inhabitants of the Blazing Fire (2: 119). Al-Darawardi doubted (which of the verse he recited).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ «قل آمنا بالله وما أنزل علينا» ۱؎ اور دوسری رکعت میں «ربنا آمنا بما أنزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشاهدين» ۲؎ یا«إنا أرسلناك بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسأل عن أصحاب الجحيم» ۳؎ پڑھ رہے تھے اس میں دراوردی کو شک ہوا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۲۹۲۶) (حسن)
Explanation
وضاحت: وضاحت : سورة آل عمران : (۸۴) وضاحت: سورة آل عمران : (۵۳) وضاحت: سورة البقرة: (۱۱۹)
Narrated Abu Hurairah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If any of you prays two rak'ahs before the dawn prayer, he should lie at his right side. Marwan ibn al-Hakam said to him: Is it not enough that one of us walks to the mosque until he lies at his right side? According to the version of Ubaydullah, he (Abu Hurairah) replied: No. This statement (of Abu Hurairah) reached Ibn Umar. He said: Abu Hurairah exceed limits on himself. He was asked: Do you look askance at what he says? He replied: No, but he dared and we showed cowardice. This (criticism of Ibn Umar) reached Abu Hurairah. He said: What is my sin if I remembered and they forgot?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے ، اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا: کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کافی نہیں کہ وہ دائیں کروٹ لیٹے؟ عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: نہیں، تو پھر یہ خبر ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ نے ( کثرت سے روایت کر کے ) خود پر زیادتی کی ہے ( اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا بار ان پر ہو گا ) ، وہ کہتے ہیں: ابن عمر سے پوچھا گیا: جو ابوہریرہ کہتے ہیں، اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکار ہے؟ تو ابن عمر نے جواب دیا: نہیں، البتہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( روایت کثرت سے بیان کرنے میں ) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں، جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: اگر مجھے یاد ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة ۱۹۵ (۴۲۰)، (تحفة الأشراف: ۱۲۴۳۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۴۱۵) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ترمذی، ابن حبان (۲۴۵۹) اور عبدالحق اشبیلی وغیرہ نے اسے صحیح کہا ہے، بعض روایات سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ثابت ہے، دونوں روایتوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول وفعل دونوں نقل کیا ہے، جبکہ ابو صالح سمان راوی نے آپ سے قول نقل کیا ، اور اعمش نے ابو صالح سے امر (قول) یاد رکھا، اور ابن اسحاق نے فعل، اور ہر راوی نے جو بات یاد تھی روایت کی، اس طرح سے سبھوں نے صحیح نقل کیا ہے، اس طرح سے ابوہریرہ سے امر والی روایت کے محفوظ رکھنے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے فعل نبوی کے محفوظ ہونے کی بات میں تطبیق ہو جائے گی، ابوہریرہ کے بیان میں حدیث قولی کا مرفوع ہونا ثابت ہے، بعض اہل علم نے فعل رسول کو راجح قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: اعلام اہل العصر بأحکام رکعتی الفجر، للمحدث شمس الحق العظیم آبادی، وشیخ الاسلام ابن تیمیۃ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ، للفریوائی، وصحیح ابی داود للألبانی ۴؍ ۴۲۹)
Narrated Aishah: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished his prayer late in the night, he would see. If I was awake, he would talk to me. If I was sleeping, he would awaken me, and pray two rak'ahs, then he would lie down as long as the muadhdhin came to him and call him for the dawn prayer. Then he would pray two rak'ahs lightly and come out for prayer.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التھجد ۲۴ (۱۱۶۱)، ۲۵ (۱۱۶۲)، ۲۶ (۱۱۶۸)، صحیح مسلم/المسافرین ۱۷ (۷۴۳)، سنن الترمذی/الصلاة ۱۹۷ (۴۱۸)، (تحفة الأشراف: ۱۷۷۱۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۳۵)، وانظر ما یأتي برقم (۱۳۳۵) (صحیح) (فجر کی سنتوں سے پہلے لیٹنے یا بات کرنے والی روایت شاذ ہے، صحیح روایت یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد بات کرتے یا لیٹ جاتے، جیساکہ صحیحین کی روایتوں میں ہے)
Narrated Aishah, Ummul Muminin: When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prayed the two rak'ahs of the dawn prayer, he would lie down if I was asleep; in case I was awake, he would talk to me.
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۱۷ (۷۴۳)، وفیہ ’’زیادہ بن سعد عن ابن أبي عتاب‘‘ بلا شک (تحفة الأشراف: ۱۷۷۰۷، ۱۷۷۳۲) (صحیح لغیرہ) ( حدیث نمبر ۱۳۳۶ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مجہول اور ایک مہبم ہے)
Narrated Abu Bakrah: I came out with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to offer the dawn prayer. When he passed by a sleeping man he called him for prayer or moved him with his foot. The narrator Ziyad said: This tradition has been reported to us by AbulFadl.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کے لیے نکلا، تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے۔ زیاد کی روایت میں «حدثنا أبو الفضل» کے بجائے «حدثنا أبو الفضيل»ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۰۳) (ضعیف) (اس کے راوی ابو الفضل انصاری مجہول ہیں)
Narrated Abdullah bin Sarjas: A man came while the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was leading the people in the dawn prayer. He prayed the two rak'ahs and then joined the congregational prayer led by the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. When he finished the prayer, the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: So-and-so, which was your real prayer, the one you prayed alone or the one offered with us ?
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایا: اے فلاں! تمہاری کون سی نماز تھی؟ آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی ۱؎؟ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۹ (۷۱۲)، سنن النسائی/الإمامة ۶۱ (۸۶۹)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۰۳ (۱۱۵۲)، (تحفة الأشراف: ۵۳۱۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۸۲) (صحیح)
Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلمas saying: When the iqamah is pronounced for prayer, no prayer is valid except the obligatory prayer.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہو جائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین ۹ (۷۱۰)، سنن الترمذی/الصلاة ۱۹۶ (۴۲۱)، سنن النسائی/الإمامة ۶۰ (۸۶۶)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۰۳ (۱۱۵۱)، (تحفة الأشراف: ۱۴۲۲۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۳۱، ۳۵۲، ۴۵۵، ۵۱۷، ۵۳۱)، دي /الصلاة ۱۴۹ (۱۴۸۸،۱۴۹۱) (صحیح)
Narrated Qays ibn Amr: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saw a person praying after the congregational prayer at dawn was over. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There are two rak'ahs of the dawn prayer (i. e. the prescribed rak'ahs). The man replied: I did not pray the two rak'ahs before the dawn prayer. Hence I offered them now. The Messenger of Allah kept silent.
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر دو ہی رکعت ہے ، اس شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة ۱۹۷ (۴۲۲)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۰۴(۱۱۵۴)، (تحفة الأشراف: ۱۱۱۰۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۴۴۷) (صحیح)
This tradition has also been transmitted by Ata bin Abi Rabah on the authority of Saad bin Saeed through a different chain of narrators. Abu Dawud said: Abd Rabbihi and Yahya bin Saeed also narrated this tradition from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم omitting the name of the Companion (mursal). Their grandfather Zaid prayed along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۱۱۱۰۲) (صحیح) (پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، لیکن زید کی بجائے، صحیح نام قیس ہے)
Narrated Umm Habibah: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone keeps on praying regularly four rak'ahs before and four after the noon prayer, he will not enter the Hell-fire. Abu Dawud said: Al-'Ala bin Al-Harith and Sulaiman bin Musa reported it from Makhul with his chain, similarly.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور بعد کی چار رکعتوں کی پابندی کرے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے علاء بن حارث اور سلیمان بن موسیٰ نے مکحول سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/قیام اللیل ۵۷ (۱۸۱۵)، (تحفة الأشراف: ۱۵۸۶۳)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ۱ ۲۰ (۴۲۷)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۰۸ (۱۱۶۰)، مسند احمد (۶/۳۲۶) (صحیح)