CHAPTER: Fatihatil-Kitab (The Opening Of The Book). - باب: سورۃ الفاتحہ کی فضیلت کا بیان ۔ - Prayer (kitab al-salat): detailed injunctions about witr - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 15 of Prayer (kitab al-salat): detailed injunctions about witr in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: All praise be to Allah, the Lord of the Universe (1) is the epitome or basis of the Quran, the epitome or basis of the Book, and the seven oft-repeated verses.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الحمد لله رب العالمين» ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ۱؎ ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن ۳ (۴۷۰۴)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ۱ (۲۸۲۵)، وتفسیر القرآن ۱۶ (۳۱۲۴)، (تحفة الأشراف:۱۳۰۱۴)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ۲۶ (۹۱۵)، مسند احمد (۲/۴۴۸)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ۱۲ (۳۴۱۷) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : سبع اس لئے کہ اس میں سات آیتیں ہیں اور مثانی اس لئے کہ وہ ہر نماز میں دہرائی جاتی ہیں۔
Abu Saeed bin al-Mu'alla said that when he was praying the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم passed by him and he called him. He said: I prayed ant then I came to him. He asked: What prevented you from answering me ? He replied: I was praying. He said: Has not Allah said: O you who believe, respond to Allah and the Messenger when he calls you to that which gives you life ? (8: 24) Let me teach you the greatest surah from the Quran or in the Quran (the narrator Khalid doubted) before I leave the mosque. I said: (I shall memorize) your saying. He said: It is: Praise be to Allah, the Lord of the Universe which is the seven oft-repeated verses, and the mighty Quran.
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں بلایا، میں ( نماز پڑھ کر ) آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟ ، عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: اے مومنو! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں، جس میں تمہاری زندگی ہے میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورۃ سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے ) تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورۃ «الحمد لله رب العالمين» ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر الفاتحة ۱ (۴۴۷۴)، وتفسیر الأنفال ۳ (۴۶۴۸)، وتفسیر الحجر ۳ (۴۷۰۳)، وفضائل القرآن ۹ (۵۰۰۶)، سنن النسائی/الافتتاح ۲۶ (۹۱۴)، سنن ابن ماجہ/الأدب ۵۲ (۳۷۸۵)، (تحفة الأشراف:۱۲۰۴۷)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ۷ (۳۷)، مسند احمد (۳/۴۵۰، ۴/۲۱۱)، سنن الدارمی/الصلاةٔ ۱۷۲ (۱۵۳۳)، وفضائل القرآن ۱۲ (۳۴۱۴) (صحیح)