CHAPTER: Concession For Giving All The Property As Sadaqah - باب: سارا مال صدقہ کرنے کی اجازت کا بیان ۔ - Zakat (kitab al-zakat) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 40 of Zakat (kitab al-zakat) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Abu Hurairah reported I asked Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, What kind of sadaqah is most excellent? He replied What a man with little property can afford to give; and begin with those for whom you are responsible.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال والے کا تکلیف اٹھا کر دینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :۱۴۸۱۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۵۸) (صحیح)
Narrated Umar ibn al-Khattab: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded us one day to give sadaqah. At that time I had some property. I said: Today I shall surpass Abu Bakr if I surpass him any day. I, therefore, brought half my property. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم asked: What did you leave for your family? I replied: The same amount. Abu Bakr brought all that he had with him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم asked him: What did you leave for your family? He replied: I left Allah and His Messenger for them. I said: I shall never compete you in anything.
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا: اگر میں کسی دن ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہو گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ ، میں نے کہا: اسی قدر یعنی آدھا مال، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ ، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں۱؎، تب میں نے ( دل میں ) کہا: میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔
وضاحت: ۱؎ : گذشتہ باب کی حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سارا مال اللہ کی راہ میں دینے سے اللہ کے رسول نے روکا ہے، جب کہ باب کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری دولت اللہ کی راہ میں دے دی، اور یہ بات آپ کی فضیلت و بزرگی کا باعث بھی بنی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ممانعت کا حکم ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے اعتماد اور توکل میں کمزوری ہو، اور وہ مال دینے کے بعد مفلسی سے گھبرائیں اور ندامت و شرمندگی محسوس کریں، لیکن اس کے برخلاف اگر کسی شخص کے اندر ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا جذبہ، اللہ کی ذات پر اعتماد و توکل ہو تو اس کے لئے اس کام میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث خیر و برکت ہو گا، ان شاء اللہ۔