TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5294 - (24) CHAPTER. Using gestures to express the decision of divorcing and other matters. - The book of divorce. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 7 in this chapter
(24) CHAPTER. Using gestures to express the decision of divorcing and other matters.
اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے ؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ ، وَقَالَ بِيَدِهِ وَوَضَعَ أُنْمُلَتَهُ عَلَى بَطْنِ الْوُسْطَى وَالْخِنْصِرِ ، قُلْنَا : يُزَهِّدُهَا .
Narrated Abu Huraira: Abul Qasim (the Prophet ) said, There is an hour (or a moment) of particular significance on Friday. If it happens that a Muslim is offering a prayer and invoking Allah for some good at that very moment, Allah will grant him his request. (The sub-narrator placed the top of his finger on the palm of the other hand between the middle finger and the little one.)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن علقمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو مسلمان بھی اس وقت کھڑا نماز پڑھے اور اللہ سے کوئی خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور دے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس ساعت کی وضاحت کرتے ہوئے ) اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو درمیانی انگلی اور چھوٹی انگلی کے بیچ میں رکھا جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ اس ساعت کو بہت مختصر ہونے کو بتا رہے ہیں۔
5294
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

268
1
(8) CHAPTER. If a person speaks to a person offering Salat (prayer), and the latter beckons with his hand and listens.
اگر نمازی سے کوئی بات کرے اور وہ سن کر ہاتھ کے اشارے سے جواب دے تو نماز فاسد نہ ہوگی
Sahih Bukhari
2
(6) CHAPTER. What is said about manumission and divorce by mistake or forgetfulness. Manumission of slave should be for Allah's sake only.
اگر بھول چوک کر کسی کی زبان سے عتاق ( آزادی ) یا طلاق یا اور کوئی ایسی ہی چیز نکل جائے
Sahih Bukhari
3
(4) CHAPTER. If a Dhimmi or somebody else abuses the Prophet by playing upon words but not frankly, e.g., by saying, As-Samu Alaika.
اگر ذمی کافر یا کوئی اور اشارے کنائے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہے جیسے یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( السلامعلیکم کے بدلے ) السام علیک کہا کرتے تھے ۔
Sahih Bukhari
4
Chapter: The prohibition of divorcing a menstruating woman without her consent; If a man breaks this rule, it still counts as a divorce, and he should be ordered to take her back
حائضہ کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اور اگر کسینے (اس حکم کی )مخالفت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اسے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا
Sahih Muslim
5
Chapter: What Has Been Related About A Person Who Marries A Woman, Then Divorces Her Before Having Intercourse With Her: Can He Marry Her Daughter Or Not?
باب: جو کسی عورت سے شادی کرے پھر دخول سے پہلے ہی اسے طلاق دیدے تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟​
Jam e Tirmazi
6
Chapter: : What Has Been Related About One Who Divorced His Wife Three Times, Then She Married Someone Else, And He Divorced Her Before Having Intercourse With Her
باب: آدمی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر اس سے کوئی اور شادی کر کے دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے حکم کا بیان​
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What has been related about: The woman with three divorces gets no housing nor maintenance (from the husband)
باب: تین طلاق پائی عورت کو نہ رہنے کے لیے گھر ملے گا اور نہ کھانے پینے کا خرچہ
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What has been related about the man who thinks to himself about divorcing his wife
باب: جو شخص دل میں اپنی بیوی کی طلاق کا خیال لائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What has been related about a man whose father asks him to divorce (his wife)
باب: باپ لڑکے سے کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
10
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
11
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
Musnad Ahmad
12
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
13
(33) CHAPTER. To offer the missed Salat (prayers) and the like after the Asr prayer.
عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا
Sahih Bukhari
14
(5) CHAPTER. Mortgaging things to Jews and others.
یہود وغیرہ کے پاس کوئی چیز گروی رکھنا
Sahih Bukhari
15
(12) CHAPTER. Making peace with Al-Mushrikun (polytheists, pagans, idolaters, and disbelievers in the Oneness of Allah and in His Messenger Muhammad (p.b.u.h)) and the reconciliation with them by means of money or other means, and the sin of the person who does not fulfil the terms of the treaty.
مشرکوں سے مال وغیرہ پرصلح کرنا ، لڑائی چھوڑ دینا ، اور جو کوئی عہد پورا نہ کرے اس کا گناہ
Sahih Bukhari
16
(39) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And remember Our slave Dawud (David), endued with power. Verily, he was ever oft-returning in all matters and in repentance (toward Allah)... (up to)... And sound judgement in speech and decision. (V.38:17-20)
اللہ پاک کا سورۃ ص میں فرمانا ‘ ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر ‘ وہ خدا کی طرف رجوع ہونے والا تھا ۔
Sahih Bukhari
17
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
Sahih Bukhari
18
(7) CHAPTER. The saying of a man to his brother (in Islam): Have a look at either of my wives (and if you wish), I will divorce her for you.
کسی شخص کا اپنے بھا ئی سے یہ کہنا کہ تم میری جس بیوی کو بھی پسند کر لو میں اسے تمہارے لئے طلاق دے دوں گا ۔ اس کو عبد الر حمٰن بن عوف نے بھی روایت کیا ہے ۔
Sahih Bukhari
19
(2) CHAPTER. If a woman is divorced during her menses, then that divorce is counted as one legal divorce.
اگر حائضہ کو طلاق دے دی جائے تو یہ طلاق شمار ہو گی یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
20
(3) CHAPTER. Whoever divorced (his wife), and should a man tell his wife face to face that she is divorced.
طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے ؟
Sahih Bukhari
21
(13) CHAPTER. Ash-Shiqaq (the breach between the man and his wife).
اگر لونڈی کسی کے نکاح میں ہو اس کے بعد بیچی جائے تو بیع سے طلاق نہ پڑے گی ۔
Sahih Bukhari
22
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
Sahih Bukhari
23
(52) CHAPTER. Taking a ring for stamping certain things or (for stamping) letters written to the people of the Scripture (Jews and Christians) and other people.
انگوٹھی کسی ضرورت سے مثلاً مہر کرنے کے لیے یا اہلکتاب وغیرہ کو خطوط لکھنے کے لیے بنانا
Sahih Bukhari
24
(11) CHAPTER. The inheritance of a woman and a husband along with the offspring and other relatives.
بیوی اور خاوند کو اولاد وغیرہ کے ساتھ کیا ملے گا
Sahih Bukhari
25
(41) CHAPTER. What is said regarding At-Tarid (i.e., roundabout way of saying something).
اشارے کنائے کے طور پر کوئی بات کہنا اس کو تعریض کہتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
26
(2) CHAPTER. Selling (one's property) under coercion or other circumstances to repay a debt or the like.
جس کے ساتھ زبرستی کی جائے یا اسی طرح کسی شخص کا بیچناحق وغیرہ کو مجبوری سے کوئی بیچ کھوچ کایا اور معاملہ کرے ۔
Sahih Bukhari
27
(53) CHAPTER. Is it legal for the Imam to forbid the criminals and those who commit sin to talk to or visit him, etc.?
کیا امام کے لیے جائز ہے کہ وہ مجرموں اور گنہگاروں کو اپنے ساتھ بات چیت کرنے اور ملاقات وغیرہ کرنے سے روک دے ۔
Sahih Bukhari
28
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “Not for you (O Muhammad (p.b.u.h.), but for Allah) is the decision…” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان سورۃ آلعمران میں کہ اے پیغمبر ! تجھ کو اس کام میں کوئی دخل نہیں آخر آیت تک ۔
Sahih Bukhari
29
47جس شخص کی فضیلت جو خود قرآن کے ساتھ(اس کی تلاوت کرتے ہوئے)قیام کرتا ہے اور (دوسروں کو)اس کی تعلیم دیتا ہے اور اس انسان کی فضیلت جس نے فقہ وغیرہ پر مشتمل حکمت (سنت )سیکھی ‘اس پر عمل کیا اور اس کی تعلیم دی
Sahih Muslim
30
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
Sahih Muslim
31
Chapter: The Prohibition Of Using Vessels Of Gold And Silver For Drinking Etc., For Men And Women
پینے (کھانے ،کچھ رکھنے) وغیرہ کے لیے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہے
Sahih Muslim
32
Chapter: The Prohibition Of Wearing A Garment Of Falsehood Etc., And Pretending To Have That Which Has Not Been Given To One
لباس وغیرہ میں مکر اور جو عطا نہیں کیا گیا خود کو اس سے سیر ہوجانے والا ظاہر کرنا ممنوع ہے
Sahih Muslim
33
Chapter: It Is Recommend To Lower One's Voice When Saying Remembrance, Except In The Cases Where It Is Commanded To Raise The Voice Such As The Talbiyah Etc. It Is Recommend To Say A Great Deal, There Is No Power And No Strength Except With Allah
ذکر میں آواز دھیمی رکھنا مستحب ہے، سوائے ان مقامات کے جہاں شریعت میں اس کے لیے آواز بلند کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، مثلا: تلبیہ (حج) وغیرہ اور لا حول ولا قوة الا بالله کثرت سے کہنا مستحب ہے
Sahih Muslim
34
CHAPTER: Regarding The Sunnah For Divorcing Slaves.
باب: غلام کی طلاق میں سنت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: Regarding Divorcing By Mistake.
باب: غصہ کی حالت میں طلاق دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
Sunnan Ibn e Maja
37
کیا تین طلاق پائی ہوئی عورت نفقہ اور رہائش کی حقدار ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
38
اگر باپ بیٹے کو کہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو تو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
39
باب: حالت حیض میں مرد عورت کو طلاق دیدے تو کیا کرے۔
Sunnan Nisai
40
باب: عدت کا لحاظ کیے بغیر طلاق دے دینے پر کیا اس طلاق کا شمار ہو گا؟
Sunnan Nisai
41
Chapter: What Has Been Related About Charity On What Is Watered By Rivers Or Otherwise
باب: نہر وغیرہ سے سینچائی کر کے پیدا کی گئی فصل کی زکاۃ کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What has been related about the Sunnah divorce
باب: مسنون طلاق کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What has been related about a man who divorces his wife irrevocably
باب: آدمی کے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتہ) دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What has been related about: There is no divorce before marriage
باب: نکاح سے پہلے طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What has been related about: Divorce for a slave woman is twice
باب: لونڈی کے لیے دو ہی طلاق ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What has been related about seriousness and jest regarding divorce
باب: سنجیدگی سے اور ہنسی مذاق میں طلاق دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What has been related about: No woman should ask for the divorce of her sister
باب: عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What has been related about the divorce pronounced by the Ma'tuh person
باب: پاگل اور دیوانے کی طلاق کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: The revelation of Allah's saying: Divorce is two times
باب: طلاق سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related Aout The Severity Of Lying And False Speech
باب: جھوٹ اور جھوٹی گواہی وغیرہ پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

17
Sahih Bukhari
6400
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ ، وَقَالَ بِيَدِهِ ، قُلْنَا : يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا .
Narrated Abu Huraira: Abu-l-Qasim (the Prophet) said, On Friday there is a particular time. If a Muslim happens to be praying and invoking Allah for something good during that time, Allah will surely fulfill his request. The Prophet pointed out with his hand. We thought that he wanted to illustrate how short that time was.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، انہیں ایوب نے خبر دی، انہیں محمد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان اس حال میں پا لے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو جو بھلائی بھی وہ مانگے گا اللہ عنایت فرمائے گا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور ہم نے اس سے یہ سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھڑی کے مختصر ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
Sahih Muslim
1970
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَقَالَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا
Abu Huraira reported Abu'l-Qasim (the kunya of the Holy Prophet) ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is a time on Friday at which no Muslim would stand and pray and beg Allah for what Is good but He would give it to him; and he pointed with his hand that (this time) is short and narrow.
ایوب نے محمد سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بیشک جمعے کے دن میں ایک گھڑی ہے کوئی مسلمان بھی کھڑا نماز پڑھتے ہو ئے اس کی موافقت کر لیتا ( اسے پالیتا ) ہے ( اور ) اللہ تعا لیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اسے وہی ( خیر ) عطا کر دیتا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہا تھ سے اس کے قلیل اور کم ہو نے کو بیان کیا ۔
Sunnan Nisai
1433
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا،‏‏‏‏ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ،‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ رَبَاحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا أَيُّوبَ بْنَ سُوَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ حَدَّثَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ وَأَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
It was narrated that Abu Hurairah said: Abu Al-Qasim (ﷺ) said: 'On Friday, there is an hour when, if a Muslim slave stands in prayer and asks Allah (SWT) for something at that time, He will give it to him.' He was reducing it: lessening it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جمعہ والے دن ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ اسے نماز میں کھڑا پا لے، پھر اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے، تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دے گا ، اور آپ اسے ہاتھ کے اشارے سے کم کر کے بتا رہے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن  ( نسائی )  کہتے ہیں: ہم کسی کون ہیں جانتے جس نے اس حدیث کو عن معمر، عن الزهري، عن سعيد  ( المقبري )  کے طریق سے روایت کیا ہو، سوائے رباح کے، البتہ ایوب بن سوید نے اس کو عن يونس، عن الزهري، عن سعيد وأبي سلمة کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن ایوب بن سوید متروک الحدیث ہے۔
Jam e Tirmazi
491
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَعْلَمُ بِتِلْكَ السَّاعَةِ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي بِهَا وَلَا تَضْنَنْ بِهَا عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هِيَ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ كَيْفَ تَكُونُ بَعْدَ الْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَتِلْكَ السَّاعَةُ لَا يُصَلَّى فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ قُلْتُ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَهُوَ ذَاكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ أَخْبِرْنِي بِهَا وَلَا تَضْنَنْ بِهَا عَلَيَّ لَا تَبْخَلْ بِهَا عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَالضَّنُّ الْبُخْلُ، ‏‏‏‏‏‏وَالظَّنِينُ الْمُتَّهَمُ.
Abu Hurairah narrated: Allah's Messenger said: The best day that the sun has risen upon is Friday. On it Adam was created, on it he entered Paradise, and on it, he was sent down from it. And in it there is an hour in which the Muslim worshipper would not stand in Salat, asking Allah for anything except that He would give it to him.' Abu Hurairah said: I met Abdullah bin Salam, and I mentioned this Hadith to him. He said: 'I am more knowledgeable about that hour.' So I said: 'Inform me about it, and do not keep any of it from me.' He said: 'It is after al-Asr until the sun has set.' I said: 'How can it be after Al-Asr when Allah's Messenger said: ' the Muslim worshipper would not stand in Salat.' And that is a time that prayer is not performed in? So Abdullah bin Salam said: 'Didn't Allah's Messenger say: Whoever sat in a gathering awaiting the Salat then he is in Salat ? I said: 'Of course.' He said: 'Then that is it.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کیے گئے، اسی دن وہ جنت میں داخل کیے گئے، اسی دن وہ جنت سے ( زمین پر اتارے گئے ) اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جسے مسلم بندہ نماز کی حالت میں پائے اور اللہ سے اس میں کچھ طلب کرے تو اللہ اسے ضرور عطا فرمائے گا، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں یہ گھڑی اچھی طرح جانتا ہوں، میں نے کہا: مجھے بھی اس کے بارے میں بتائیے اور اس سلسلہ میں مجھ سے بخل نہ کیجئے، انہوں نے کہا: یہ عصر کے بعد سے لے کر سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، اس پر میں نے کہا: یہ عصر کے بعد کیسے ہو سکتی ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اسے مسلمان بندہ حالت نماز میں پائے اور یہ وقت ایسا ہے جس میں نماز نہیں پڑھی جاتی؟ تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں کسی جگہ بیٹھا رہے تو وہ بھی نماز ہی میں ہوتا ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور فرمایا ہے تو انہوں نے کہا: تو یہی مراد ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- اور آپ کے اس قول «أخبرني بها ولا تضنن بها علي» کے معنی ہیں اسے مجھے بتانے میں بخل نہ کیجئے، «ضنّ» کے معنی بخل کے ہیں اور «ظنين» کے معنی، متہم کے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3339
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْيَوْمُ الْمَوْعُودُ:‏‏‏‏ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْيَوْمُ الْمَشْهُودُ:‏‏‏‏ يَوْمُ عَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّاهِدُ:‏‏‏‏ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللَّهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَسْتَعِيذُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ. وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مَنِ الْأَئِمَّةِ عَنْهُ.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: “Al-Yawmul-Maw’ud (the Promised Day) is the Day of Resurrection, and Al-Yawmul-Mashhud (the Attended Day) is the Day of Arafah, and Ash-Shahid (the witness) is Friday.” He said: “The sun does not rise nor set, upon a day that is more virtuous than it. In it, there is an hour in which no believing worshipper makes a supplication to Allah for good, except that Allah answers it for him, and he does not seek Allah’s aid for something, except that He aids him in it.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی کی کنیت ابوعبدالعزیز ہے، ان کے بارے میں ان کے حافظہ کے سلسلے میں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے کلام کیا ہے، شعبہ، ثوری اور کئی اور ائمہ نے ان سے روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۴- ہم اسے صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ موسیٰ بن عبیدہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف ٹھہرایا ہے۔
Mishkat
1357
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاه. وَزَاد مُسلم: «وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ» . وَفِي رِوَايَةِ لَهُمَا قَالَ: «إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِم يُصَلِّي يسْأَل لاله يخرا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاه»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ جب کوئی مسلمان بندہ اس گھڑی میں اللہ سے کوئی خیر طلب کرتا ہے تو اللہ اسے وہی چیز عطا فرما دیتا ہے ۔‘‘ امام مسلم ؒ نے اضافہ نقل کیا ہے فرمایا :’’ وہ مختصر گھڑی ہے ۔‘‘ صحیحین کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جب مسلمان ٹھیک اس گھڑی میں نماز کے دوران یا نماز کی جگہ نماز کے انتظار میں بیٹھ کر اللہ سے کوئی خیر طلب کرتا ہے تو اللہ اسے وہی چیز عطا کر دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Mishkat
1362
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَوْمُ الْمَوْعُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَالْيَوْمُ الْمَشْهُودُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّاهِدُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْهُ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللَّهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ وَلَا يَسْتَعِيذُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعَاذَهُ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ وَهُوَ يضعف
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یوم موعود سے یوم قیامت ، یوم مشہود سے یوم عرفہ اور شاہد سے جمعہ کا دن مراد ہے ۔ وہ تمام ایام سے افضل ہے ۔ اس میں اللہ سے کوئی خیر طلب کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے ۔ اور وہ (بندہ مؤمن) جس چیز سے پناہ طلب کرتا ہے تو وہ اسے اس سے پناہ دے دیتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی اور امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور یہ صرف موسی بن عبیدہ کے واسطہ سے معروف ہے ، جبکہ وہ ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔
Sahih Bukhari
935
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ فِيهِ : سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle (p.b.u.h) talked about Friday and said, There is an hour (opportune time) on Friday and if a Muslim gets it while praying and asks something from Allah, then Allah will definitely meet his demand. And he (the Prophet) pointed out the shortness of that time with his hands.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے امام مالک رحمہ اللہ سے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے ذکر میں ایک دفعہ فرمایا کہ اس دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان بندہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی چیز اللہ پاک سے مانگے تو اللہ پاک اسے وہ چیز ضرور دیتا ہے۔ ہاتھ کے اشارے سے آپ نے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے۔
Sahih Muslim
1969
و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ زَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is a time on Friday at which no Muslim servant would pray and would ask Allah for a thing (that is good) but He would give it to him. Qutaiba pointed with the help of his hand that it (the time) is short.
یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس انھوں نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کا ذکر کرتے ہو ئے فر ما یا : "" اس میں ایک گھڑی ہے اس ( گھڑی ) کی موافقت کرتے ہو ئے کو ئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہو ئے اللہ تعا لیٰ سے جو کچھ بھی مانگتا ہے اللہ تعا لیٰ اسے عطا کر دیتا ہے ۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارا فر ما کر اس گھڑی کے قلیل ہو نے کو واضح کیا ۔