TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کیا تین طلاق پائی ہوئی عورت نفقہ اور رہائش کی حقدار ہے؟۔ - کیا تین طلاق پائی ہوئی عورت نفقہ اور رہائش کی حقدار ہے؟۔ - The chapters on divorce - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 10 of The chapters on divorce in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 36 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏تَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً .
It was narrated that Abu Bakr bin Abu Jahm bin Sukhair Al-'Adawi said: I heard Fatimah bint Qais say that her husband divorced her ttree times, and the Messenger of Allah (ﷺ) did not say that she was entitled to accommodation and maintenance.
ابوبکر بن ابی جہم بن صخیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سکنیٰ ( جائے رہائش ) اور نفقہ کا حقدار نہیں قرار دیا ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/الطلاق ۶ (۱۴۸۰)، سنن الترمذی/النکاح ۳۸ (۱۱۳۵)، سنن النسائی/الطلاق ۱۵ (۳۴۴۷)،۷۲ (۳۵۸۱)،(تحفة الأشراف:۱۸۰۳۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۴۱۱)
Explanation
اہلحدیث کے نزدیک طلاق رجعی والی عورت کا نفقہ (خرچ) اور سکنی (رہائش) شوہر پر واجب ہے، اور جس کو طلاق بائنہ یعنی تین طلاق دی جائیں اس کے لئے نہ نفقہ ہے نہ سکنی، امام احمد، اسحاق، ابو ثور، ابو داود اور ان کے اتباع کا یہی مذہب ہے، اور بحر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما، حسن بصری، عطاء، شعبی، ابن ابی لیلیٰ، اوزاعی اور امامیہ کا قول بھی یہی نقل کیا گیا ہے، اسی طرح جس عورت کا شوہر وفات پا گیا ہو اس کے لئے بھی عدت میں نفقہ اور سکنی نہیں ہے، اہلحدیث کے نزدیک البتہ حاملہ ہو تو وضع حمل تک نفقہ اور سکنی واجب ہے خواہ وفات پائے ہوئے شوہر والی ہو یا طلاق بائن والی کیونکہ قرآن میں ہے: «وَإِن كُنَّ أُولاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» (سورة الطلاق: 6)۔
2035
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُغِيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ:‏‏‏‏ طَلَّقَنِي زَوْجِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا سُكْنَى لَكِ وَلَا نَفَقَةَ .
It was narrated that Sha'bi said: Fatimah bint Qais said: “My husband divorced me at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) three times. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'You have no right to accommodation or to maintenance.'”
شعبی کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میرے شوہر نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تین طلاقیں دے دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے نہ سکنی ( رہائش ) ہے، نہ نفقہ ( اخراجات ) ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/الطلاق ۶ (۱۴۸۰)، سنن الترمذی/الطلاق ۵ (۱۱۸۰)، سنن النسائی/الطلاق ۷ (۳۴۳۲)،(تحفة الأشراف:۱۸۰۲۵)
Explanation
اہلحدیث نے اس متفق علیہ حدیث سے دلیل لی ہے، صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ تیرے لئے نفقہ نہیں ہے مگر جب تو حاملہ ہو، جمہور کہتے ہیں کہ عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کا انکار کیا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنے رب کی کتاب اور نبی کی سنت ایک عورت کے قول سے نہیں چھوڑ سکتے، معلوم نہیں اس نے یاد رکھا، یا بھول گئی، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جب یہ بات پہنچی، تو انہوں نے کہا: تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ» (سورة الطلاق: 1) یہاں تک فرمایا: «لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا» (سورة الطلاق: 1) تین طلاق کے بعد کون سا امر پیدا ہو گا (یعنی رجوع کی امید نہیں تو نفقہ اور سکنی بھی واجب نہ ہو گا) اہل حدیث یہ بھی کہتے ہیں کہ امام احمد اور نسائی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: نفقہ اور سکنی اس عورت کے لئے ہے جس سے اس کا شوہر رجوع کر سکتا ہو اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ جب رجوع نہ کر سکتا ہو تو نہ نفقہ ہے نہ سکنی، اس کی سند میں مجالد بن سعید ہیں ان کی متابعت بھی ہوئی ہے اور وہ ثقہ ہیں تو اس کا حدیث کو مرفوع روایت کرنا مقبول ہو گا، اور قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں جو نفقہ اور سکنی کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں لیکن وہ سب مطلقہ رجعی سے متعلق ہیں جیسے: «لا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ» (سورة الطلاق: 1) اور «أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ» (سورة الطلاق: 6) اور «وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ» (سورة البقرة: 241) اور دلیل اس تخصیص کی فاطمہ بنت قیس کی حدیث ہے، اور یہ آیت: «لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا» (سورة الطلاق: 1) اور یہ آیت: «وَإِن كُنَّ أُولاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» (سورة الطلاق: 6) کیونکہ اس سے یہ نکلتا ہے کہ اگر حاملہ نہ ہوں تو ان کو خرچ دینا واجب نہیں، اور بیہقی میں جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ جس حاملہ عورت کا شوہر مر جائے اس کو نفقہ نہیں ہے، اس کے بارے میں ابن حجر نے کہا کہ محفوظ یہ ہے کہ یہ موقوف ہے، اور ابو حنیفہ نے کہا کہ وفات والی کے لئے سکنی نہیں ہے وہ جہاں چاہے عدت گزارے، اور مالک رحمہ اللہ نے کہا: اس کے لئے سکنی ہے، اور شافعی کے اس باب میں دو قول ہیں۔
2036
Sahih

Chapters

36
01
ہمیں سوید بن سعید نے بیان کیا۔
3 Hadith
02
سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان
4 Hadith
03
حاملہ عورت کو طلاق کیسے دی جائے؟۔
1 Hadith
04
جس نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
05
طلاق سے رجوع ہونے کا بیان
1 Hadith
06
حاملہ عورت کو طلاق دی جائے تو بچہ جنتے ہی وہ مطلقہ بائنہ ہو جائے گی
1 Hadith
07
حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد اس سے شادی جائز ہے
4 Hadith
08
شوہر کی وفات کے بعد بیوہ عدت کے دن کہاں گزارے؟۔
1 Hadith
09
کیا عورت عدت میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟۔
3 Hadith
10
کیا تین طلاق پائی ہوئی عورت نفقہ اور رہائش کی حقدار ہے؟۔
2 Hadith
11
طلاق کے وقت عورت کو کچھ دینے کا بیان
1 Hadith
12
مرد کہے کہ اس نے طلاق نہیں دی ہے (اور بیوی اس کا دعویٰ کرتی ہو) تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
13
ہنسی مذاق میں طلاق دینے یا نکاح کرنے یا رجوع کرنے کے احکام کا بیان
1 Hadith
14
دل میں طلاق دینے اور زبان سے کچھ نہ کہنے کے حکم کا بیان
1 Hadith
15
دیوانہ، نابالغ اور سوئے ہوئے شخص کی طلاق کے حکم کا بیان
2 Hadith
16
زبردستی یا بھول سے دی گئی طلاق کے حکم کا بیان
4 Hadith
17
نکاح سے پہلے دی گئی طلاق کے صحیح نہ ہونے کا بیان
3 Hadith
18
جن الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے ان کا بیان
1 Hadith
19
: بتہ یعنی بائن طلاق کا بیان
1 Hadith
20
مرد اپنی بیوی کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیدے
2 Hadith
21
(بغیر کسی شرعی سبب کے) عورت کا خلع کا مطالبہ مکروہ ہے
2 Hadith
22
شوہر نے عورت کو جو مال دیا ہے خلع کے بدلے وہ لے سکتا ہے
2 Hadith
23
خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان
1 Hadith
24
ایلاء کا بیان
3 Hadith
25
ظہار کا بیان
2 Hadith
26
ظہار کرنے والا کفارہ دینے سے پہلے جماع کر لے تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
27
لعان کا بیان
6 Hadith
28
عورت کو اپنے اوپر حرام کر لینے کے حکم کا بیان
2 Hadith
29
آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے
5 Hadith
30
لونڈی کی طلاق اور عدت کا بیان
2 Hadith
31
غلام کی طلاق کا بیان
1 Hadith
32
دو طلاق دینے کے بعد لونڈی کے خریدنے کا بیان
1 Hadith
33
ام ولد کی عدت کا بیان
1 Hadith
34
بیوہ عورت عدت کے دنوں میں زیب و زینت نہ کرے
1 Hadith
35
کیا شوہر کے علاوہ عورت دوسرے لوگوں کا سوگ منا سکتی ہے؟۔
3 Hadith
36
اگر باپ بیٹے کو کہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.