حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَاخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ جَمِيعًا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ .
It was narrated from Abu Hurairah that:
the Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah has forgiven my nation for what they think of to themselves, so long as they do not act upon it or speak of it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا اسے زبان سے نہ کہیں ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/العتق ۶ (۲۵۲۸)، الطلاق ۱۱ (۵۲۶۹)، الأیمان والنذور ۱۵ (۶۶۶۴)، صحیح مسلم/الإیمان ۵۸ (۱۲۷)، سنن ابی داود/الطلاق ۱۵ (۲۲۰۹)، سنن الترمذی/الطلاق ۸ (۱۱۸۳)، سنن النسائی/الطلاق ۲۲ (۳۴۶۴،۳۴۶۵)،(تحفة الأشراف:۱۲۸۹۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۹۸،۴۲۵،۴۷۴،۴۸۱،۴۹۱)
Explanation
دل میں اگر طلاق کا خیال گزرے لیکن زبان سے کچھ نہ کہے تو طلاق واقع نہ ہو گی، سب امور میں یہی حکم ہے جیسے عتاق، رجوع، بیع وشراء وغیرہ میں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ کا اگر کوئی ارادہ کرے لیکن ہاتھ پاؤں یا زبان سے اس کو نہ کرے تو لکھا نہ جائے گا، یعنی اس پر اس کی پکڑ نہ ہو گی، یہ اللہ تعالی کی اس امت پر عنایت ہے۔
2040
Sahih