TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جس نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں اس کے حکم کا بیان - جس نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں اس کے حکم کا بیان - The chapters on divorce - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 4 of The chapters on divorce in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 36 · 1 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ:‏‏‏‏ حَدِّثِينِي عَنْ طَلَاقِكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَجَازَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
It was narrated that 'Amir Sha'bi said: I said to Fatimah bint Qais: 'Tell me about your divorce.' She said: 'My husband divorced me three times when he was leaving for Yemen, and the Messenger of Allah (ﷺ) allowed that. '
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ مجھ سے اپنی طلاق کے بارے میں بیان کریں، تو انہوں نے کہا: میرے شوہر نے یمن کے سفر پر نکلتے وقت مجھے تین طلاق دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز رکھا ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/الطلاق ۶ (۱۴۸۰)، سنن ابی داود/الطلاق)۳۹ (۲۲۹۱)، سنن الترمذی/الطلاق ۵ (۱۱۸۰)، سنن النسائی/الطلاق ۷ (۳۴۳۲)،(تحفة الأشراف:۱۸۰۲۵)
Explanation
اس حدیث سے جمہور علماء و فقہاء نے دلیل لی ہے کہ اگر کوئی ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو تینوں پڑ جائیں گی، اس مسئلہ میں تین مذہب اور ہیں، ایک یہ کہ کچھ نہیں پڑے گا، نہ ایک نہ تین، کیونکہ اس طرح طلاق دینا بدعت اور حرام ہے، اس مذہب کو ابن حزم نے امام احمد سے بھی نقل کیا ہے، اور کہا کہ روافض کا بھی یہی مذہب ہے، واضح رہے کہ تابعین کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے۔ اور اہل بیت سے امام باقر، امام صادق اور ناصر کا بھی یہی مذہب ہے،اور ابوعبید اور بعض ظاہریہ بھی اسی کے قائل ہیں، کیونکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ طلاق بدعی نہیں پڑتی اور یہ بھی بدعی ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر عورت مدخولہ ہے تو تینوں پڑ جائیں گی اور مدخولہ نہیں ہے تو ایک پڑے گی، ایک جماعت کا یہ قول ہے جیسے ابن عباس اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ۔ تیسرے یہ کہ ایک طلاق رجعی پڑے گی خواہ عورت مدخولہ ہو یا نہ ہو، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا صحیح ترین مذہب یہی ہے، اور ابن اسحاق، عطاء، عکرمہ اور اکثر اہل بیت اسی کے قائل ہیں، سارے مذاہب میں یہ صحیح ہے، امام شوکانی نے اس مسئلے پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے، اور چاروں مذاہب کے دلائل بیان کر کے اخیر قول کو ترجیح دی ہے، اور اس دور میں اس مسئلہ کو اختلافی قرار دیا ہے۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے یہ صحیح اور ثابت ہے کہ تین طلاق ایک ہی بار دینے سے ایک ہی طلاق پڑتی تھی عہد نبوت میں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں، اور شروع خلافت عمر رضی اللہ عنہ میں، اور عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سزا دینے کے لئے یہ فتوی دیا کہ تینوں طلاقیں پڑ جائیں گی، اور یہ ان کا اجتہاد ہے، جو اوروں پر حجت نہیں ہو سکتا، خصوصاً نبی کریم ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فتوی ان کے اجتہاد سے رد نہیں ہو سکتا، اور ابن القیم نے اغاثۃ اللہفان میں اس مسئلہ میں طویل کلام کیا ہے، اور ثابت کیا ہے کہ اس صورت میں ایک ہی طلاق پڑے گی، امام شوکانی کہتے ہیں: ابوموسی اشعری، ابن عباس، طاؤس، عطاء، جابر بن زید، احمد بن عیسی، عبد اللہ بن موسی، علی اور زید بن علی سے ایسا ہی منقول ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم دونوں اسی طرف گئے ہیں، اور ابن مغیث نے کتاب الوثائق میں علی، ابن مسعود، عبدالرحمن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنہم اور مشائخ قرطبہ کی جماعت سے ایسا ہی نقل کیا ہے، اور ابن منذر نے اصحاب ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسا ہی روایت کیا ہے کہ اس باب میں جو حدیثیں آئی ہیں ان سب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث زیادہ صحیح ہے،جو صحیح مسلم میں ہے کہ تین طلاقیں نبی کریم ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور شروع عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ایک طلاق شمار ہوتی تھیں، جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور لوگوں نے پے در پے طلاق دینا شروع کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے تینوں طلاق کو ان پر نافذ کردیا۔ علامہ ابن القیم نے اس مسئلہ کی تحقیق میں کتاب و سنت اور لغت اور صحابہ کے عمل سے دلیل لی، پھر کہا کہ اللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ اور لغت اور عرف اسی پر دلالت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے خلیفہ اور صحابہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بھی تین برس تک لوگ اسی پر چلتے رہے، اگر کوئی ان کا شمار کرے تو ہزار سے زیادہ ان کی تعداد ہو گی، کسی نے اقرار کیا، کسی نے سکوت اختیار کیا، اور بعضوں نے جو کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے پھر لوگوں نے انہی کے فتوی پر اجماع کر لیا،تو یہ ثابت نہیں، ہر زمانہ میں علماء اسی عہد اول کے فتوی پر فتوی دیتے رہے، امت کے عالم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مروی حدیث کے مطابق فتوی دیا، اس کو حماد بن زید نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ جب کسی نے ایک ہی دفعہ میں کہا: تجھ کو تین طلاق ہیں، تو ایک ہی طلاق پڑے گی، اور زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے بھی ایسا ہی فتوی دیا، یہ ابن وضاح نے نقل کیا ہے، اور تابعین میں سے عکرمہ، طاؤس نے ایسا ہی فتوی دیا اور تبع تابعین میں سے محمد بن اسحاق اور خلاس بن عمرو الہجری نے ایسا ہی فتوی دیا اور اتباع تبع تابعین میں داود بن علی اور ان کے اکثر اصحاب نے ایسا ہی فتوی دیا ہے، غرض یہ کہ ہر زمانہ میں علماء اور ائمہ اس قول کے موافق فتویٰ دیتے رہے، اور یہ قول بالاجماع متروک نہیں ہوا، اور کیونکر ہو سکتا ہے جب کتاب و سنت اور قیاس اور اجماع قدیم سے یہی ثابت ہے، اور اس کے بعد کسی اجماع نے اس کو باطل نہیں کیا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مصلحت سے اس کے خلاف رائے تجویز کی اور ان کا یہ فیصلہ کسی دوسرے پر حجت نہیں ہو سکتا، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ جب صحیح حدیث مل جائے تو اس پر عمل کرے اور اس کے خلاف کسی کے فتوی اور کسی کا قیاس قبول نہ کرے، خواہ وہ کوئی ہو، اور اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے إعلام الموقعين، إغاثة اللهفان، رسالہ شوکانی، نیل الاوطار، مسک الختام، سنن ابن ماجہ مع حاشیہ مولانا وحیدالزمان حیدرآبادی کی طرف رجوع کیجئے، نیز تسمية المفتين کے نام سے ایک رسالہ اردو میں ترجمہ کر کے شائع کیا ہے جس میں قدیم و جدید علماء کی ایک بڑی تعداد کا ذکر ہے جو تین طلاقوں کو ایک قرار دیتی ہے۔ (فریوائی)
2024
Zaeef

Chapters

36
01
ہمیں سوید بن سعید نے بیان کیا۔
3 Hadith
02
سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان
4 Hadith
03
حاملہ عورت کو طلاق کیسے دی جائے؟۔
1 Hadith
04
جس نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
05
طلاق سے رجوع ہونے کا بیان
1 Hadith
06
حاملہ عورت کو طلاق دی جائے تو بچہ جنتے ہی وہ مطلقہ بائنہ ہو جائے گی
1 Hadith
07
حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد اس سے شادی جائز ہے
4 Hadith
08
شوہر کی وفات کے بعد بیوہ عدت کے دن کہاں گزارے؟۔
1 Hadith
09
کیا عورت عدت میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟۔
3 Hadith
10
کیا تین طلاق پائی ہوئی عورت نفقہ اور رہائش کی حقدار ہے؟۔
2 Hadith
11
طلاق کے وقت عورت کو کچھ دینے کا بیان
1 Hadith
12
مرد کہے کہ اس نے طلاق نہیں دی ہے (اور بیوی اس کا دعویٰ کرتی ہو) تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
13
ہنسی مذاق میں طلاق دینے یا نکاح کرنے یا رجوع کرنے کے احکام کا بیان
1 Hadith
14
دل میں طلاق دینے اور زبان سے کچھ نہ کہنے کے حکم کا بیان
1 Hadith
15
دیوانہ، نابالغ اور سوئے ہوئے شخص کی طلاق کے حکم کا بیان
2 Hadith
16
زبردستی یا بھول سے دی گئی طلاق کے حکم کا بیان
4 Hadith
17
نکاح سے پہلے دی گئی طلاق کے صحیح نہ ہونے کا بیان
3 Hadith
18
جن الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے ان کا بیان
1 Hadith
19
: بتہ یعنی بائن طلاق کا بیان
1 Hadith
20
مرد اپنی بیوی کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیدے
2 Hadith
21
(بغیر کسی شرعی سبب کے) عورت کا خلع کا مطالبہ مکروہ ہے
2 Hadith
22
شوہر نے عورت کو جو مال دیا ہے خلع کے بدلے وہ لے سکتا ہے
2 Hadith
23
خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان
1 Hadith
24
ایلاء کا بیان
3 Hadith
25
ظہار کا بیان
2 Hadith
26
ظہار کرنے والا کفارہ دینے سے پہلے جماع کر لے تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
27
لعان کا بیان
6 Hadith
28
عورت کو اپنے اوپر حرام کر لینے کے حکم کا بیان
2 Hadith
29
آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے
5 Hadith
30
لونڈی کی طلاق اور عدت کا بیان
2 Hadith
31
غلام کی طلاق کا بیان
1 Hadith
32
دو طلاق دینے کے بعد لونڈی کے خریدنے کا بیان
1 Hadith
33
ام ولد کی عدت کا بیان
1 Hadith
34
بیوہ عورت عدت کے دنوں میں زیب و زینت نہ کرے
1 Hadith
35
کیا شوہر کے علاوہ عورت دوسرے لوگوں کا سوگ منا سکتی ہے؟۔
3 Hadith
36
اگر باپ بیٹے کو کہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.