TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6788 - (12) CHAPTER. Intercession is not recommended in the matter of legal punishment after the case has been filed with the authorities. - The book of al-hudud. - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
(12) CHAPTER. Intercession is not recommended in the matter of legal punishment after the case has been filed with the authorities.
جب حدی مقدمہ حاکم کے پاس پہنچ جائے پھر سفارش کرنا منع ہے بلکہ گناہ عظیم ہے ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمُ الْمَرْأَةُ الْمَخْزُومِيَّةُ الَّتِي سَرَقَتْ ، فَقَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ ، إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا ضَلَّ مَنْ قَبْلَكُمْ ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ ، وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ فِيهِمْ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَتْ ، لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا .
Narrated `Aisha: The Quraish people became very worried about the Makhzumiya lady who had committed theft. They said, Nobody can speak (in favor of the lady) to Allah's Apostle and nobody dares do that except Usama who is the favorite of Allah's Apostle. When Usama spoke to Allah's Apostle about that matter, Allah's Apostle said, Do you intercede (with me) to violate one of the legal punishment of Allah? Then he got up and addressed the people, saying, O people! The nations before you went astray because if a noble person committed theft, they used to leave him, but if a weak person among them committed theft, they used to inflict the legal punishment on him. By Allah, if Fatima, the daughter of Muhammad committed theft, Muhammad will cut off her hand.!
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک مخزومی عورت کا معاملہ جس نے چوری کی تھی، قریش کے لوگوں کے لیے اہمیت اختیار کر گیا اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ میں کون بات کر سکتا ہے اسامہ رضی اللہ عنہ کے سوا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیارے ہیں اور کوئی آپ سے سفارش کی ہمت نہیں کر سکتا؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم اللہ کی حدوں میں سفارش کرنے آئے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا ”اے لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس لیے گمراہ ہو گئے کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے تھے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا ہاتھ ضرور کاٹ ڈالتے۔
6788
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

367
1
CHAPTER: Pardoning in cases of hadd (punishment) that do not reach the sultan.
باب: حاکم تک پہنچنے سے پہلے حد کو نظرانداز کرنا جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
2
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Intercede In Legal Punishments
باب: حد میں سفارش کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
3
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
4
(34) CHAPTER. Whoever ordered somebody other than the ruler to carry out the legal punishment in the absence of the ruler.
جو شخص حاکم اسلام کے پاس نہ ہو ( کہیں اور ہو ) لیکن اس کو حد لگانے کے لیے حکم دیا جائے
Sahih Bukhari
5
(4) CHAPTER. To question the killer till he confesses; and confession is cases where Divinely prescribed punishment are imperative.
حاکم کا قاتل سے پوچھ گچھ کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار ( اثباب جرم کیلئے ) کافی ہے ۔
Sahih Bukhari
6
Chapter: What Has Been Related About Prompting In Cases Of The Legal Punishments
باب: حد والے جرم کی تحقیق میں تلقین کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Averting The Legal Punishments From The One Who Confessed If He Changes His Mind
باب: مجرم اپنے اقرار سے پھر جائے تو اس سے حد ساقط کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About: The Legal Punishments Are Atonement For Those Who Recieve Them
باب: حدود کا نفاذ سزا یافتہ کے گناہوں کا کفارہ ہے
Jam e Tirmazi
9
(13) CHAPTER. To depute a person to carry out a (legal) Allah's ordained punishment.
حد لگانے کے لیے کسی کو وکیل کرنا
Sahih Bukhari
10
(18)CHAPTER. Intercession for the reduction of debts.
قرض میں کمی کی سفارش کرنا
Sahih Bukhari
11
(20) CHAPTER. The defendant must take an oath in matters concerning property or legal punishments.
دیوانی اور فوجداری دونوں مقدموں میں مدعیٰ علیہ سے قسم لینا
Sahih Bukhari
12
(19) CHAPTER. It is recommended that something should be given in charity on behalf of a person who dies suddenly. And the execution of the vows of the deceased.
اگر کسی کو اچانک موت آ جائے تو اس کی طرف سے خیرات کرنا مستحب ہے اور میت کی نذروں کو پوری کرنا
Sahih Bukhari
13
(16) CHAPTER. The intercession of the Prophet for Barira's husband.
بریرہ رضیاللہعنہا کے شوہر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا ۔
Sahih Bukhari
14
(10) CHAPTER. To carry out the legal punishment; and to take revenge on those who transgress Allah's limits and boundaries.
حدود قائم کرنا اور اللہ کی حرمتوں کو جو کوئی توڑے اس سے بدلہ لینا ۔
Sahih Bukhari
15
(11) CHAPTER. To inflict the legal punishment on the noble and the weak people (impartially).
کوئی بلند مرتبہ شخص ہو یا کم مرتبہ سب پر برابر حد قائم کرنا ۔
Sahih Bukhari
16
(26) CHAPTER. If somebody commits a sin which is less than what deserve the legal punishment; and then informs the ruler, no punishment is to be inflicted on him after his repentance to Allah if he comes to the ruler with the intention of asking for a verdict about his sin.
جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں ( مثلاً اجنبی عورت کو بوسہ دیا یا اس سے مساس کیا )
Sahih Bukhari
17
(14) CHAPTER. Al-Qisas (Law of Equality in punishment) in cases of injury among men and women.
مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا
Sahih Bukhari
18
(19) CHAPTER. Whoever passed a judgement in the mosque and when the actual legal punishement was to be put to action,he ordered the guilty person to be taken outside the mosque so that the punishment might be carried out.
حدکا مقدمہ مسجد میں سننا پھر جب حد لگانے کا وقت آئے تو مجرم کو مسجد کے باہر لے جانا
Sahih Bukhari
19
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
Sahih Muslim
20
Chapter: The amount of water with which it is recommended to perform ghusl in the case of janabah; a man and woman washing from a single vessel; one of them washing with the left-over water of the other
غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا
Sahih Muslim
21
Chapter: If a fasting person is invited to eat and he does not want to break his fast, or someone insults him or argues with him, it is recommended for him to say: I am Fasting , and he should protect his fast from obscene speech, ignorance and the like
جب روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تور وہ (اپنے نفلی روزے کو)افطار نہ کرنا چاہے ‘یا اسے گالی دی جائے اور اس سے جگھڑا کیا جائے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں اور وہ اپنے روزے کو فحش گوئی اور جاہلانہ رویے سے پاک رکھے
Sahih Muslim
22
Chapter: It is recommended to apply perfume just before entering Ihram, and it is recommended to use Musk, and it does not matter if its glistening traces remain
احرام باندھنے سے زرا پہلے جسم پر خوشبو لگانا اور کستوری استعمال کرنا مستحب ہے اور اس کی چمک ‘یعنی جگمگاہٹ باقی رہ جانے میں کوئی حرج نہیں
Sahih Muslim
23
Chapter: The prohibition of a rich man delaying repayment. The validity of Hawalah (Transferal of Debts) and it is recommended to accept transferal of a debt if it is transferred to a rich man
مالدار کا ٹال مٹول کرنا حرام ہے ‘ِحوالہ (مقروض کی طرف سے اپنے ذمے قرض کو دوسرے کے ذمے )کرنا درست ہے جب (قرض )کسی (مالدار شخص )کے حوالے کیا جائے تو اسے قبول کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
24
Chapter: Delaying the Hadd punishment in the case of women who have just given birth
نفاس والی عورتوں کی حد مؤخر کرنا
Sahih Muslim
25
CHAPTER: Funeral Prayer For The One Who Was Executed As A Legal Punishment.
باب: جو شخص شرعی حد میں قتل کیا جائے اس کی نماز جنازہ ۔
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: Regarding interceding about a legal punishment.
باب: شرعی حدود کو ختم کرنے کے لیے سفارش نہیں کی جا سکتی ۔
Sunnan Abu Dawood
27
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Times In Which Marriage Is Recommended
باب: ان اوقات کا بیان جن میں نکاح کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Averting Legal Punishments
باب: حد کے دفع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Establishing Legal Punishments Upon The Slave Girl
باب: لونڈیوں پر حد جاری کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Legal Punishment For The Drunkard
باب: شرابی کی حد کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Legal Punishment For The Sahir
باب: جادوگر کی سزا کا بیان
Jam e Tirmazi
33
حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
34
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
Musnad Ahmad
35
امت کا ایک گروہ، جو عذاب کا مستحق ہو گا،لیکن جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے حق میں سفارش کر دینا، اور ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جہنم سے نکالنا، جن کو بعد میں بھی جہنمی ہی کہا جائے گا
Musnad Ahmad
36
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
Musnad Ahmad
37
(9) CHAPTER. The Statement of the Prophet : It is probable that a person who receives a piece of information indirectly may comprehend it better than he who has heard it directly from its source.”
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( حدیث ) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ ( حدیث کو ) یاد رکھ لیتا ہے ۔
Sahih Bukhari
38
(5) CHAPTER. Tayammum is for the hands and the face.
اس بارے میں کہ تیمم میں صرف منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کرنا کافی ہے
Sahih Bukhari
39
(21) CHAPTER. To exhort one to give in charity and to intercede for the same purpose.
لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا
Sahih Bukhari
40
(64) CHAPTER. The invoking and supplicating Allah of the Imam for the one who gives in charity.
امام ( حاکم ) کی طرف سے زکوٰۃ دینے والے کے حق میں دعائے خیر و برکت کرنا
Sahih Bukhari
41
(61) CHAPTER. Whoever pointed towards the Corner (Black Stone) on coming in front of it (while performing Tawaf).
حجراسود کے سامنے پہنچ کر اس کی طرف اشارہ کرنا ( جب چومنا نہ ہو سکے )
Sahih Bukhari
42
(16) CHAPTER. Not to go to one's family on arrival at one's town, at night.
آدمی جب اپنے شہر میں پہنچے تو گھر میں رات کو نہ جائے
Sahih Bukhari
43
(10) CHAPTER. As-Saum (the fasting) (is recommended) for those who fear committing illegal sexual acts, i.e., those who are unmarried.
جو کنوارا ہو اور زنا سے ڈرے تو وہ روزہ رکھے
Sahih Bukhari
44
(7) CHAPTER. It is a permissible for one to give a gift to a deputy (of some people) or to their intercessor.
اگر کوئی چیز کسی قوم کے وکیل یا سفارشی کو ہبہ کی جائے تو درست ہے
Sahih Bukhari
45
(11) CHAPTER. Whoever announced the Luqata in public and did not hand it over to the ruler.
لقطہٰ کو بتلانا لیکن حاکم کے سپرد نہ کرنا
Sahih Bukhari
46
(3) CHAPTER. Manumitting slaves at the time of eclipses, or on the appearance of some of other signs of Allah, is recommended.
سورج گرہن اور دوسری نشانیوں کے وقت غلام آزاد کرنا مستحب ہے
Sahih Bukhari
47
(18) CHAPTER. If somebody gives somebody else a present, or promises to give him a present, and one of them dies before the gift reaches the other person.
اگر ہبہ یا ہبہ کا وعدہ کر کے کوئی مر جائے اور وہ چیز موہوب لہ ( جس کو ہبہ کی گئی اس ) کو نہ پہنچی ہو ۔
Sahih Bukhari
48
(9) CHAPTER. The conditions which are not permissible in the legal punishments prescribed by Allah.
جو شرطیں حدود اللہ میں جائز نہیں ہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
49
(108) CHAPTER. Listening to and obeying the Imam (i.e., Muslim ruler) (if he abides by Allah's Orders).
امام ( بادشاہ یا حاکم ) کی اطاعت کرنا
Sahih Bukhari
50
(149) CHAPTER. One should not to punish (anybody) with Allah's punishment.
اللہ کے عذاب ( آگ ) سے کسی کو عذاب نہ کرنا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,684
Jam e Tirmazi
242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ بِاللَّيْلِ كَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَشْهَرُ حَدِيثٍ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أَخَذَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ بِمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تُكُلِّمَ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَتَكَلَّمُ فِي عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ لَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ.
Abu Sa'eeed Al Khudri narrated: When Allah;s Messenger stood for Salat during the night, he would say the Takbir (Allahu Akbar), then say: (Subhanaka Allahumma wa bihamdika wa Tabarakasmuka wa Ta'ala Jadduka wa la ilaha ghairuk.) 'Glorious You are O Allah, and with Your praise, and blesses is Your Name, and exalted is Your majesty, and none has the right to be worshipped but You' Then he would say: (A'udhu Bilahi As-Sami'il-Alimi min Ash-Shaitanir-Rajimi, min Hamzihi Wa Nafkhihi wa Nafthihi.) 'Allah is undoubtedly the greatest.' (Allahu Akbaru Kabira). Then he would say: 'I seek refuge in Allah the All-Hearing, the All-Knowing, from the cursed Shaitan, from his madness, his arrogance, and his poetry.'
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! پاک ہے تو ہر عیب اور ہر نقص سے، سب تعریفیں تیرے لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ پڑھتے پھر «الله أكبر كبيرا» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے پھر «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» ”میں اللہ سمیع و علیم کی شیطان مردود سے، پناہ چاہتا ہوں، اس کے وسوسوں سے، اس کے کبر و نخوت سے اور اس کے اشعار اور جادو سے“ کہتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ، عبداللہ بن مسعود، جابر، جبیر بن مطعم اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں ابوسعید کی حدیث سب سے زیادہ مشہور ہے، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کو اختیار کیا ہے، رہے اکثر اہل علم تو ان لوگوں نے وہی کہا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے تھے ۲؎ اور اسی طرح عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما سے مروی ہے۔ تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ۴- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔ یحییٰ بن سعید راوی حدیث علی بن علی رفاعی کے بارے میں کلام کرتے تھے۔ اور احمد کہتے تھے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
Jam e Tirmazi
466
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَمِعْت أَبَا دَاوُدَ السِّجْزِيَّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَذْكُرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ ضَعَّفَ 72 عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْكُوفَةِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يُوتِرُ الرَّجُلُ إِذَا ذَكَرَ وَإِنْ كَانَ بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري.
Zaid bin Aslam narrated from his father that: the Prophet said: Whoever sleeps past his Al-Witr then let him pray it in the morning.
زید بن اسلم (مرسلاً) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وتر پڑھے بغیر سو جائے، اور جب صبح کو اٹھے تو پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۲- میں نے ابوداود سجزی یعنی سلیمان بن اشعث کو سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ان کے بھائی عبداللہ میں کوئی مضائقہ نہیں، ۳- میں نے محمد ( محمد بن اسماعیل بخاری ) کو ذکر کرتے سنا، وہ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) سے روایت کر رہے تھے کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ( ان کے بھائی ) عبداللہ بن زید بن اسلم ثقہ ہیں، ۴- کوفہ کے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آدمی وتر پڑھ لے جب اسے یاد آ جائے، گو سورج نکلنے کے بعد یاد آئے۔ یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں ۲؎۔
Jam e Tirmazi
2556
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ فِي الْغُرْفَةِ كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الشَّرْقِيَّ أَوِ الْكَوْكَبَ الْغَرْبِيَّ الْغَارِبَ فِي الْأُفُقِ وَالطَّالِعَ فِي تَفَاضُلِ الدَّرَجَاتِ ،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُولَئِكَ النَّبِيُّونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَأَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said: Indeed, the people of Paradise shall see the upper chamber like they see the eastern star, or the western star, disappearing in the far edge of the sky, or ascending due to the differences in levels. They said: Are those the Prophets? He said: Yes. By the One in Whose Hand is my soul, and groups who had faith in Allah and His Messenger, and believed in the Messengers.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرق مراتب کے باوجود ایک دوسرے کو جنتی اسی طرح نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی ستارہ نظر آتا ہے، جو افق میں نکلنے اور ڈوبنے والا ہے“۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ انبیاء ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2992
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهُ شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ مِنْ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ قُولُوا:‏‏‏‏ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:‏‏‏‏ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ سورة البقرة آية 285 لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286 قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286 قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا سورة البقرة آية 286، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ فَعَلْتُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَآدَمُ بْنُ سُلَيْمَانَ يُقَالُ هُوَ وَالِدُ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
Narrated Ibn 'Abbas: When this Ayah was revealed: And whether you disclose what is in yourselves or conceal it, Allah will call you to account for it (2:284). Somethings entered their hearts that had not entered before. So they mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said: 'Say: We hear and we obey. So Allah put faith into their hearts and Allah Blessed and Most High revealed the Ayah: The Messenger believes in what has been sent down to him from his Lord, and (so do) the believers (and) Allah does not burden a soul beyond what it can bear, for it is what it has earned and against it is what it has wrought. Our Lord! Punish us not if we forget or fall into error (2:286). He said: 'I have done so (as requested).' Our Lord! Lay not upon us a burden like that which You did upon those before us. He said: ['I have done so (as requested).'] Our Lord! Put not a burden upon us greater than we have strength for. Pardon us and grant us forgiveness. Have mercy on us (2:286). He said: 'I have done so (as requested).'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله» نازل ہوئی تو لوگوں کے دلوں میں ایسا خوف و خطر پیدا ہوا جو اور کسی چیز سے پیدا نہ ہوا تھا۔ لوگوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تو آپ نے فرمایا: ” ( پہلے تو ) تم «سمعنا وأطعنا» کہو یعنی ہم نے سنا اور ہم نے بے چون و چرا بات مان لی، ( چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کہا ) تو اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔ اور اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں «آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه والمؤمنون» سے لے کر آخری آیت «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا»،‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے ایسا کر دیا ( تمہاری دعا قبول کر لی ) “ «ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا» ”ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا“، اللہ نے فرمایا: ”میں نے تمہارا کہا کر دیا“، «ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا» ”اے اللہ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کی طاقت ہم میں نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما“، اللہ نے فرمایا: ”میں نے ایسا کر دیا ( یعنی تمہاری دعا قبول کر لی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابن عباس رضی الله عنہما سے دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
3299
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوانِيُّ المعنى واحد، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ رَجُلًا قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ تَظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَرَقًا مِنْ أَنْ أُصِيبَ مِنْهَا فِي لَيْلَتِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَتَابَعَ فِي ذَلِكَ إِلَى أَنْ يُدْرِكَنِي النَّهَارُ وَأَنَا لَا أَقْدِرُ أَنْ أَنْزِعَ، ‏‏‏‏‏‏فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَهُ بِأَمْرِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ لَا نَفْعَلُ، ‏‏‏‏‏‏نَتَخَوَّفُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ أَوْ يَقُولَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخَرَجْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْتَ بِذَاكَ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَنَا بِذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْتَ بِذَاكَ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَنَا بِذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْتَ بِذَاكَ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَنَا بِذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَأَنَا ذَا فَأَمْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي صَابِرٌ لِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَعْتِقْ رَقَبَةً ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ عُنُقِي بِيَدِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَمْلِكُ غَيْرَهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صُمْ شَهْرَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشَى مَا لَنَا عَشَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ عَنْكَ مِنْهَا وَسْقًا سِتِّينَ مِسْكِينًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اسْتَعِنْ بِسَائِرِهِ عَلَيْكَ وَعَلَى عِيَالِكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ، ‏‏‏‏‏‏وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَادْفَعُوهَا إِلَيَّ فَدَفَعُوهَا إِلَيَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ لَمْ يَسْمَعْ عِنْدِي مِنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيُقَالُ سَلَمَةُ بْنُ صَخْرٍ سَلْمَانُ بْنُ صَخْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَهِيَ امْرَأَةُ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ.
Salamah bin Sakhr Al Ansari said: “I was a man who had an issue with intercourse with a women that none other than me had. When (the month of) Ramadan entered, I pronounced Zihar upon my wife (to last) until the end of Ramadan, fearing that I might have an encounter with her during the night, and I would continue doing that until daylight came upon me, and I would not be able to stop. One night while she was serving me, something of her became exposed for me, so I rushed myself upon her. When the morning came I went to my people to inform them about what happened to me. I said: ‘Accompany me to the Messenger of Allah to inform him about my case.’ They said: ‘No by Allah! We shall not do that, we feat that something will be revealed about us in the Qur’an, or the Messenger of Allah might say something about us, the disgrace of which will remain upon us. But you do and do whatever you want.’” He said: “So I left and I went to the Messenger of Allah, and informed him of my case. He said: ‘You are the one who did that?” I said: ‘I am the one.’ He said: ‘You are the one who did that?” I said: ‘I am the one.’ He said: ‘You are the one who did that?” I said: ‘I am the one, it is before you, so give me Allah’s judgment, for I shall be patient with that.’ He said: ‘Free a slave.’” He said: “I struck the sides of my neck with me hands, and said: ‘No by the One Who sent you with the Truth! I possess nothing besides it.’ He said: ‘Then fast for two months’ I said: ‘O Messenger of Allah! Did this occur to me other than when I was fasting?’ He said: ‘Then feed sixty poor people.’ I said: ‘By the One Who sent you with the Truth! We have spent these nights of ours hungry without an evening meal.’ He said: ‘Go to the one with the charity from Banu Ruzaiq, tell him to give it to you, then feed a Wasq of it, on your behalf, to sixty poor people. Then help yourself and your dependants with the remainder of it.’” He said: “I returned to my people and said: ‘I found dejection and bad ideas with you, and I found liberalness and blessing with the Messenger of Allah. He ordered me to take your charity, so give it to me.’ So they gave it to me.”
سلمہ بن صخر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے عورت سے جماع کی جتنی شہوت و قوت ملی تھی ( میں سمجھتا ہوں ) اتنی کسی کو بھی نہ ملی ہو گی، جب رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے اس ڈر سے کہ کہیں میں رمضان کی رات میں بیوی سے ملوں ( صحبت کر بیٹھوں ) اور پے در پے جماع کئے ہی جاؤں کہ اتنے میں صبح ہو جائے اور میں اسے چھوڑ کر علیحدہ نہ ہو پاؤں، میں نے رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے بیوی سے ظہار ۱؎ کر لیا، پھر ایسا ہوا کہ ایک رات میری بیوی میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک مجھے اس کی ایک چیز دکھائی پڑ گئی تو میں ( اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا ) اسے دھر دبوچا، جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں اپنے حال سے باخبر کیا، میں نے ان سے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو تاکہ میں آپ کو اپنے معاملے سے باخبر کر دوں، ان لوگوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم نہ جائیں گے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے متعلق قرآن ( کوئی آیت ) نازل نہ ہو جائے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات نہ کہہ دیں جس کی شرمندگی برقرار رہے، البتہ تم خود ہی جاؤ اور جو مناسب ہو کرو، تو میں گھر سے نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ کو اپنی بات بتائی، آپ نے فرمایا: ”تم نے یہ کام کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے ایسا کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے ایسا کیا ہے آپ نے ( تیسری بار بھی یہی ) پوچھا: ”تو نے یہ بات کی ہے“، میں نے کہا: جی ہاں، مجھ سے ہی ایسی بات ہوئی ہے، مجھ پر اللہ کا حکم جاری و نافذ فرمائیے، میں اپنی اس بات پر ثابت و قائم رہنے والا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو“، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اپنی اس گردن کے سوا کسی اور گردن کا مالک نہیں ہوں ( غلام کیسے آزاد کروں ) آپ نے فرمایا: ”پھر دو مہینے کے روزے رکھو“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جو پریشانی و مصیبت لاحق ہوئی ہے وہ اسی روزے ہی کی وجہ سے تو لاحق ہوئی ہے، آپ نے فرمایا: ”تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو“، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! ہم نے یہ رات بھوکے رہ کر گزاری ہے، ہمارے پاس رات کا بھی کھانا نہ تھا، آپ نے فرمایا: ”بنو زریق کے صدقہ دینے والوں کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں صدقہ کا مال دے دیں اور اس میں سے تم ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو اپنے کفارہ کے طور پر کھلا دو اور باقی جو کچھ بچے وہ اپنے اوپر اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو، وہ کہتے ہیں: پھر میں لوٹ کر اپنی قوم کے پاس آیا، میں نے کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی، بدخیالی اور بری رائے و تجویز پائی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کشادگی اور برکت پائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارا صدقہ لینے کا حکم دیا ہے تو تم لوگ اسے مجھے دے دو، چنانچہ ان لوگوں نے مجھے دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: سلیمان بن یسار نے میرے نزدیک سلمہ بن صخر سے نہیں سنا ہے، سلمہ بن صخر کو سلمان بن صخر بھی کہتے ہیں، ۳- اس باب میں خولہ بنت ثعلبہ سے بھی روایت ہے، اور یہ اوس بن صامت کی بیوی ہیں ( رضی الله عنہما ) ۔
Jam e Tirmazi
3369
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ، ‏‏‏‏‏‏فَخَلَقَ الْجِبَالَ، ‏‏‏‏‏‏فَعَادَ بِهَا عَلَيْهَا فَاسْتَقَرَّتْ، ‏‏‏‏‏‏فَعَجِبَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ شِدَّةِ الْجِبَالِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْجِبَالِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمِ، ‏‏‏‏‏‏الْحَدِيدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمِ، ‏‏‏‏‏‏النَّارُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمِ، ‏‏‏‏‏‏الْمَاءُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمِ، ‏‏‏‏‏‏الرِّيحُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمِ، ‏‏‏‏‏‏ابْنُ آدَمَ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Anas bin Malik narrated that: The Prophet said: “When Allah created the earth, it started shaking. So He created the mountains, and said to them: ‘Upon it’ so it began to settle. The angels were amazed at the strength of the mountains, so they said: ‘O Lord! Is there among your creatures one who is more severe than the mountains?’ He said: ‘Yes. Iron.’ They said: ‘O Lord! Then is there anything among your creatures that is more severe than that iron?’ He said: ‘Yes. Fire.’ S they said: ‘O Lord! Is there anything among your creatures that is more severe than fire?’ He said: ‘Yes. Water.’ They said: ‘O Lord! Is there anything among your creatures that is more severe than water?’ He said: ‘Yes. Wind.’ They said: ‘O Lord! Is there anything among your creatures more severe than wind?’ He said: ‘Yes. The son of Adam. He gives charity with his right hands, while hiding it from his left.’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے زمین بنائی تو وہ ہلنے لگی چنانچہ اللہ نے پہاڑ بنائے اور ان سے کہا: اسے تھامے رہو، تو زمین ٹھہر گئی، ( اس کا ہلنا و جھکنا بند ہو گیا ) فرشتوں کو پہاڑوں کی سختی و مضبوطی دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! کیا آپ کی مخلوق میں پہاڑ سے بھی زیادہ ٹھوس کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، لوہا ہے“، انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں لوہے سے بھی طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، آگ ہے“، انہوں نے کہا: اے میرے رب! کیا آپ کی مخلوق میں آگ سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، پانی ہے“، انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں پانی سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، ہوا ہے“، انہوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں ہوا سے بھی زیادہ طاقتور کوئی مخلوق ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، ابن آدم ہے جو اپنے داہنے سے اس طرح صدقہ دیتا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہونے پاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3682
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ ،‏‏‏‏ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ فِيهِ عُمَرُ،‏‏‏‏ أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ ابْنُ الْخَطَّابِ فِيهِ شَكَّ خَارِجَةُ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوِ مَا قَالَ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَخَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.
Narrated Nafi': from Ibn 'Umar, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Allah has put the truth upon the tongue and in the heard of 'Umar. He said: And Ibn 'Umar said: 'No affair occurred among the people, except that they said something about it, and 'Umar said something about it' or he said - Ibn Al-Khattab - Kharijah (one of the narrators) had a doubt about it - except that the Qur'an was revealed in line with what 'Umar had said.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے“۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ( راوی خارجہ کو شک ہو گیا ہے ) بھی رائے دی ہو، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق عمر رضی الله عنہ کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں، ۳- اس باب میں فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
3712
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا،‏‏‏‏ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَمَضَى فِي السَّرِيَّةِ،‏‏‏‏ فَأَصَابَ جَارِيَةً،‏‏‏‏ فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ،‏‏‏‏ وَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا رَجَعُوا مِنَ السَّفَرِ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى رِحَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ،‏‏‏‏ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالُوا، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ،‏‏‏‏ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
Narrated 'Imran bin Husain: that the Messenger of Allah (ﷺ) dispatched an army and he put 'Ali bin Abi Talib in charge of it. He left on the expedition and he entered upon a female slave. So four of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) scolded him, and they made a pact saying: [If] we meet the Messenger of Allah (ﷺ) we will inform him of what 'Ali did. When the Muslims returned from the journey, they would begin with the Messenger of Allah (ﷺ) and give him Salam, then they would go to their homes. So when the expedition arrived, they gave Salam to the Prophet (ﷺ), and one of the four stood saying: O Messenger of Allah! Do you see that 'Ali bin Abi Talib did such and such. The Messenger of Allah (ﷺ) turned away from him. Then the second one stood and said as he said, and he turned away from him. Then the third stood before him, and said as he said, and he turned away from him. Then the fourth stood and said as they had said. The Messenger of Allah (ﷺ) faced him, and the anger was visible on his face, he said: What do you want from 'Ali?! What do you want from 'Ali?! Indeed 'Ali is from me, and I am from him, and he is the ally of every believer after me.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( لشکر ) روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر علی رضی الله عنہ کو مقرر کیا، چنانچہ وہ اس سریہ ( لشکر ) میں گئے، پھر ایک لونڈی سے انہوں نے جماع کر لیا ۱؎ لوگوں نے ان پر نکیر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار آدمیوں نے طے کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ہم ملیں گے تو علی نے جو کچھ کیا ہے اسے ہم آپ کو بتائیں گے، اور مسلمان جب سفر سے لوٹتے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے اور آپ کو سلام کرتے تھے، پھر اپنے گھروں کو جاتے، چنانچہ جب یہ سریہ واپس لوٹ کر آیا اور لوگوں نے آپ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی تو آپ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیر لیا، پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی ظاہر تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ۱؎ اور وہ دوست ہیں ہر اس مومن کا جو میرے بعد آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Mishkat
2418
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» . فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: لَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي لستُ بمجنون
سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمی نبی ﷺ کی موجودگی میں گالی گلوچ کرنے لگے جبکہ ہم آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور ان میں سے ایک سخت غصے کی حالت میں دوسرے کو گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر وہ اس کلمہ کو پڑھ لے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا ، وہ کلمہ یہ ہے : میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ صحابہ ؓ نے اس آدمی سے کہا : کیا تم نبی ﷺ کی بات نہیں سن رہے ؟ اس نے کہا : میں دیوانہ نہیں ہوں ! متفق علیہ ۔