TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2084 - بیوہ عورت عدت کے دنوں میں زیب و زینت نہ کرے - The chapters on divorce - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
بیوہ عورت عدت کے دنوں میں زیب و زینت نہ کرے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَأُمَّ حَبِيبَةَ، ‏‏‏‏‏‏تَذْكُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنَةً لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَكْحَلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا .
It was narrated from Humaid bin Nafi' that: he heard Zainab the daughter of Umm Salamah narrating that she heard Umm Salamah and Umm Habibah mention that a woman came to the Prophet (ﷺ) and said that her daughter's husband had died, and she was suffering from an eye disease, and she wanted to apply kohl to her eyes (as a remedy). The Messenger of Allah (ﷺ) said: One of you would throw a she-camel's dropping when a year had passed (since the death of her husband. Rather it is four months and ten (days).
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہما ذکر کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر مر گیا ہے، اور اس کی بیٹی کی آنکھ دکھ رہی ہے وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے ( زمانہ جاہلیت میں ) تم سال پورا ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی اور اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے ۱؎۔
2084
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 3, Book 10, Hadith 2084 Arabic reference : Book 10, Hadith 2162
Conclusion
تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ۴۶ (۵۳۳۶)،۴۷ (۵۳۳۸)، الطب ۱۸ (۵۷۰۶)، صحیح مسلم/الطلاق ۹ (۱۴۸۸)، سنن ابی داود/الطلاق ۴۳ (۲۲۹۹)، سنن الترمذی/الطلاق ۱۸ (۱۱۹۷)، سنن النسائی/الطلاق ۵۵ (۳۵۳۰)،۶۷ (۳۵۶۸)،(تحفة الأشراف:۱۵۸۷۶ و۱۸۲۵۹)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ۳۵ (۱۰۱)، مسند احمد (۶/۳۲۵،۳۲۶)، سنن الدارمی/الطلاق ۱۲ (۲۳۳۰)
Explanation
شرح و تفصیل
جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک خراب اور تنگ کوٹھری میں چلی جاتی، اور برے سے برے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو لگاتی نہ زینت کرتی، کامل ایک سال تک ایسا کرتی، جب سال پورا ہو جاتا تو ایک اونٹنی کی مینگنی لاتی، عورت اس کو پھینک کر عدت سے باہر آتی، رسول اکرم ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جاہلیت کے زمانہ میں تو ایسی سخت تکلیف ایک سال تک سہتی تھیں، اب صرف چار مہینے دس دن تک عدت رہ گئی ہے، اس میں بھی زیب و زینت سے رکنا مشکل ہے، امام احمد اور اہلحدیث کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ سوگ والی عورت کو سرمہ لگانا کسی طرح جائز نہیں اگرچہ عذر بھی ہو، اور حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک عذر کی وجہ سے جائز ہے، بلاعذر جائز نہیں، اور شافعی نے کہا رات کو لگا لے اور دن کے وقت اس کو صاف کر ڈالے، تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ میں رہے، یعنی زیب و زینت نہ کرے۔

Related Chapters

742
1
باب: سوگ منانے والی مسلمان عورت عدت کے ایام میں زیب و زینت ترک کر دے گی، یہود یہ اور نصرانیہ عورت کیا کرے؟ اس سے کوئی غرض نہیں۔
Sunnan Nisai
2
(42) CHAPTER. The father or the guardian cannot give a virgin or matron in marriage without her consent.
باپ یا کوئی دوسراولیٰ کنواری یا بیوہ عورت کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
3
(101) CHAPTER. If somebody marries a virgin and he has already a matron wife (with him).
اگر کسی کے پاس ایک بیوہ عورت اس کے نکاح میں ہو پھر ایک کنواری سے بھی نکاح کرے تو جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
4
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
Sahih Bukhari
5
(47) CHAPTER. Can a mourning lady use kohl?
عورت عدت میں سرمہ کا استعمال نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
6
CHAPTER: Those Who Said: She Should Perform Ghusl Between The Days (Of Her Menses).
باب: مستحاضہ عورت استحاضہ کے دنوں میں غسل کرے ۔
Sunnan Abu Dawood
7
(91)Chapter: [What Has Been Related] About The Man Who Seeks The Warmth Of A Woman After Performing Ghusl
باب: غسل کرنے کے بعد مرد عورت سے چمٹ کر گرمی حاصل کرے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
8
(94)Chapter: What Has Been Related About The Mustahadah Performing Wudu For Every Prayer
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے
Jam e Tirmazi
9
(96)Chapter: What Has Been Related About Al-Mustahadah That She Is To Perform Ghusl For Every Salat
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About A Woman Spending From Her Husband's House
باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Woman Who Menstruated Makes Up The Fasts But Not The Salat
باب: حائضہ عورت روزہ کی قضاء کرے گی نماز کی نہیں
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Which Rites Are Carried Out By The Menstruating Woman
باب: حائضہ عورت حج کے کون کون سے مناسک ادا کرے؟
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About A Person Who Marries A Woman, Then Divorces Her Before Having Intercourse With Her: Can He Marry Her Daughter Or Not?
باب: جو کسی عورت سے شادی کرے پھر دخول سے پہلے ہی اسے طلاق دیدے تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟​
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related (About A Man) Who Captures A Slave Woman That Has A Husband, Is It Lawful For Him To Have Relations With Her?
باب: اگر کوئی شخص جہاد میں کسی عورت کو قید کرے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What has been related about a man who sees a woman and becomes fascinated with her
باب: آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے پسند آ جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What has been related about: No woman should ask for the divorce of her sister
باب: عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What has been related about the pregnant woman who gives birth after her husband dies
باب: شوہر کی وفات کے بعد بچہ جننے والی عورت کی عدت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What has been related about the 'Iddah of a woman whose husband dies
باب: شوہر کی موت پر عورت کی عدت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What is reported on where the widow observes her 'Iddah
باب: شوہر کی وفات کے بعد عورت عدت کہاں گزارے؟
Jam e Tirmazi
20
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
21
زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
Musnad Ahmad
22
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
Musnad Ahmad
23
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
Musnad Ahmad
24
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
Musnad Ahmad
25
اس عورت کا بیان کہ جو مسلمان ہو کر شادی کر لے اور پھر اس کا خاوند اسلام قبول کرے، تو وہ اسی کی طرف لوٹائی جائے گی
Musnad Ahmad
26
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
Musnad Ahmad
27
حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
Musnad Ahmad
28
عورت کے لیے اس لباس کی ممانعت کا بیان، جو اس کے بدن کو واضح کرے یا جس کی وجہ سے مردوں سے تشبیہ لازم آئے
Musnad Ahmad
29
(6) CHAPTER. A menstruating woman should leave observing Saum (fasting).
اس بارے میں کہ حائضہ عورت روزے چھوڑ دے ( بعد میں قضاء کرے )
Sahih Bukhari
30
(12) CHAPTER. Putting perfume by women at the time of taking a bath after finishing from the menses.
عورت حیض کے غسل میں خوشبو استعمال کرے
Sahih Bukhari
31
(20) CHAPTER. There is no Salat (prayer) to be offered by a menstruating woman in lieu of the missed Salat during her menses.
اس بارے میں کہ حائضہ عورت نماز قضاء نہ کرے
Sahih Bukhari
32
(1) CHAPTER. The two Eid and sprucing oneself up on them.
دونوں عیدوں اور ان میں زیب و زینت کرنے کا بیان
Sahih Bukhari
33
(2) CHAPTER. A menstruating woman is permitted to comb the hair of a Mu'takif (i.e., a man in I'tikaf).
اگر حیض والی عورت اس مرد کے سر میں کنگھی کرے جو اعتکاف میں ہو
Sahih Bukhari
34
(15) CHAPTER. It is permissible for a women to giving gifts to somebody other than her husband.
اگر عورت اپنے خاوند کے سوا اور کسی کو کچھ ہبہ کرے یا غلام لونڈی آزاد کرے اور ہبہ کے وقت اس کا خاوند موجود ہو ، تو یہ ہبہ جائز ہے
Sahih Bukhari
35
(10) CHAPTER. The marrying of matrons (divorced or widowed ladies).
بیوہ عورتوں کا بیان ۔
Sahih Bukhari
36
(46) CHAPTER. None should ask for the hand of a lady who is already engaged to his brother (Muslim), but one should wait till the first suitor marries her or leaves her.
کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے ۔
Sahih Bukhari
37
(78) CHAPTER. The attendance and serving of the lady (bride) herself for the men at (her) marriage party.
شادی میں عورت مردوں کا کامکاج خوداپنی ذات سے کرے تو کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
38
(102) CHAPTER. If somebody marryies a matron and he has already a virgin wife (with him).
کنواری بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی نے بیوہ عورت سے شادی کی تو کوئی گناہ نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
39
(112) CHAPTER. A man should not stay with a woman in seclusion unless he is a Dhu-Mahram (a person who is legally not allowed to marry that woman, e.g. her father or brother, etc.). (And it is unlawful for one) to enter upon a woman whose husband is absent.
محرم کے سوا کوئی غیر مردکسی غیر عورت کے ساتھ تنہائی نہ اختیار کرے ۔
Sahih Bukhari
40
(113) CHAPTER. What is allowed (as regards) a private meeting between a man and a woman when they are not secluded from the people.
اگر لوگوں کی موجودگی میں ایک مرد دوسری ( غیر محرم ) عورت سے تنہائی میں کچھ بات کرے تو جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
41
(119) CHAPTER. A woman should not look at or touch the body of another woman to describe her to her husband.
ایک عورت دوسری عورت سے ( بے ستر ہو کر ) نہ چمٹے اس لئے کہ اس کا حال اپنے خاوند سے بیان کرے ۔
Sahih Bukhari
42
(123) CHAPTER. The woman (whose husband is absent for a long time) should shave her pubic hair, and those whose hair is unkempt should comb their hair.
جب خاوند سفر سے آئے تو عورت استرہ لے اور بالوں میں کنگھی کرے
Sahih Bukhari
43
(124) CHAPTER. “And not to reveal their adornments except to their husbands,…” (V.24:31)
اللہ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا کہ ولا یبدین زینتھن ( الایۃ ) یعنی اور عورتیں اپنے زینت اپنے شوہر کے سوا کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں ۔
Sahih Bukhari
44
(19) CHAPTER. Marrying Al-Mushrikat (pagan ladies) who had embraced Islam; and their Idda.
اسلام قبول کرنے والی مشرک عورتوں سے نکاح اور ان کی عدت کا بیان ۔
Sahih Bukhari
45
(28) CHAPTER. The man should start the process of Lian.
لعان کی ابتداء مرد کرے گا ( پھر عورت ) ۔
Sahih Bukhari
46
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
Sahih Bukhari
47
(5) CHAPTER. The expenditure of a woman whose husband is away from her, and the expenditure of her child.
کسی عورت کا شوہر اگر غائب ہو تو اس کی عورت کیونکرخرچ کرے اور اولاد کے خرچ کا بیان ۔
Sahih Bukhari
48
(9) CHAPTER. If a man does not provide for his family, then the wife can take of his wealth what is sufficient for her needs and the needs of her children and the amount should be just and reasonable.
اگر مرد خرچ نہ کرے تو عورت اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے اتنے لے سکتی ہے جو دستور کے مطابق اس کے لیے اور اس کے بچوں کے لیے کافی ہو ۔
Sahih Bukhari
49
(8) CHAPTER. The kindness shown by a lady who has a husband, to her mother.
اگر خاوند والی مسلمان عورت اپنے کافر ماں کے ساتھ نیک سلوک کرے
Sahih Bukhari
50
(25 ) CHAPTER. The one who looks after and works for a widow.
بیوہ عورتوں کی پرورش کرنے والے کا ثواب
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

9
Jam e Tirmazi
1197
قَالَتْ قَالَتْ زَيْنَبُ، وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ:‏‏‏‏ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا أَفَنَكْحَلُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا . ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ زَيْنَبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، ‏‏‏‏‏‏تَتَّقِي فِي عِدَّتِهَا الطِّيبَ، ‏‏‏‏‏‏وَالزِّينَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Humaid bin Nafi narrated that : Zainab said: And I heard my mother, Umm Salamah said: 'A woman came to the Messenger of Allah and she said: O Messenger of Allah! My daughter's husband died, and she is suffering from an eye ailment, so can she use Kohl? the Messenger of Allah said: No two or three time. Each time (she asked) he said no. Then he said: It is just a mater of four months and ten (days). During Jahliyyah one of you would throw a clump of camel dung when one year passed.
(تیسری حدیث یہ ہے) زینب کہتی ہیں میں نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے، اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اس کو سرمہ لگا دیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“۔ دو یا تین مرتبہ اس عورت نے آپ سے پوچھا اور آپ نے ہر بار فرمایا: ”نہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ” ( اب تو اسلام میں ) عدت چار ماہ دس دن ہے، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے ( فوت شدہ شوہر والی بیوہ ) عورت سال بھر کے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زینب کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری کی بہن فریعہ بنت مالک، اور حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم کا اسی پر عمل ہے کہ جس عورت کا شوہر مر گیا ہو وہ اپنی عدت کے دوران خوشبو اور زینت سے پرہیز کرے گی۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
Sahih Muslim
3727
قَالَتْ زَيْنَبُ: سَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا، أَفَنَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا» - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ: لَا - ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ
This hadith has been narated with the same chain of transrmitters except with a small change of words (and that is): They sent him to Umm Salama, but no mention was made of Kuraib.
زینب رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں ، ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے ۔ اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے ۔ کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں " دو یا تین بار ( پوچھا گیا ) ہر بار آپ فرماتے : " نہیں ۔ " پھر فرمایا : " یہ تو صرف چار ماہ دس دن ہیں ، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے ایک عورت ( پورا ) ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی
Sahih Muslim
3733
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ تَذْكُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ بِنْتًا لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَكْحُلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ»
Zainab bint Abu Salama reported: Umm Salama and Umm Habiba (Allah be pleased with them) were talking with each other (and saying) that a woman came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and mentioned to him that her daughter had lost her husband, and her eyes were sore and she wnted to use collyrium, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: One among you used to throw dung at the end of a year, and now (this abstinence from adornment) is only for four months and ten days.
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہی تھیں ، وہ دونوں یہ بتا رہی تھیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اس کی ایک بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے ، اس کی آنکھ میں تکلیف ہو گئی ہے وہ چاہتی ہے کہ اس میں سرمہ لگائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ تم میں سے کوئی عورت ( پورا ) سال گزرنے پر لید پھینکا کرتی تھی ، اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں
Sunnan Nisai
3563
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ زَيْنَبُ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَتْ زَيْنَبُ:‏‏‏‏ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ دَعَتْ بِطِيبٍ وَمَسَّتْ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمّ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَتْ زَيْنَبُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏تَقُولُ:‏‏‏‏ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا، ‏‏‏‏‏‏أَفَأَكْحُلُهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ حُمَيْدٌ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ:‏‏‏‏ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ ؟ قَالَتْ زَيْنَبُ:‏‏‏‏ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَخْرُجُ، ‏‏‏‏‏‏فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَتُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَالِكٌ:‏‏‏‏ تَفْتَضُّ تَمْسَحُ بِهِ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَالِكٌ:‏‏‏‏ الْحِفْشُ الْخُصُّ.
It was narrated from Humaid bin Nafi' that Zainab bint Abi Salamah told him these three Hadiths. Zainab said: I entered upon Umm Habibah, the wife of the Prophet, when her father Abu Sufyan bin Harb died. Umm Habibah called for some perfume and put some on a young girl, then she put some on her cheeks. Then she said: 'By Allah, I do not have any need for perfume but I heard the Messenger of Allah say: It is not permissible for any woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband, (for whom the mourning period is) four months and ten days.'
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ ( آنے والی ) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس ( تعزیت میں ) گئی، ( میں نے دیکھا کہ ) انہوں نے خوشبو منگوائی، ( پہلے ) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت اور خواہش نہ تھی مگر ( میں نے یہ بتانے کے لیے لگائی ہے کہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے انتقال کرنے پر، کہ اس پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ( اس لیے میں اپنے والد کے مر جانے پر تین دن کے بعد سوگ نہیں منا رہی ہوں ) ۔ ۲- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ) کہتی ہیں: جب ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی کا انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے خود لگایا پھر ( مسئلہ بتانے کے لیے ) کہا: قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ( و اعلان کرتے ) ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ۳- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ ) کہتی ہیں: میں نے ( ام المؤمنین ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر انتقال کر گیا ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”ارے یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں ( جاہلیت میں کیا ہوتا تھا وہ بھی دھیان میں رہے ) زمانہ جاہلیت میں تمہاری ( بیوہ ) عورت ( سوگ کا ) سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا عورت کا شوہر جب انتقال کر جاتا تھا تو اس کی بیوی تنگ و تاریک جگہ ( چھوٹی کوٹھری ) میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی چیز کو ہاتھ لگاتی۔ ( سال پورا ہو جانے کے بعد ) پھر کوئی جانور گدھا، بکری یا چڑیا اس کے پاس لائی جاتی اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے بھی وہ رگڑتی ( دبوچتی ) وہ ( مر کر ہی چھٹی پاتا ) مر جاتا، پھر وہ اس تنگ تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی ( اس طرح وہ گویا اپنی نحوست دور کرتی ) ، اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ جو چاہے استعمال کی اجازت ملتی۔ مالک کہتے ہیں: «تفتض» کا مطلب «تمسح به» کے ہیں ( یعنی اس سے رگڑتی ) ۔ محمد بن سلمہ مالک کہتے ہیں: «حفش»،‏‏‏‏ «خص» کو کہتے ہیں ( یعنی بانس یا لکڑی کا جھونپڑا ) ۔
Sunnan Nisai
3570
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ مَعْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَعْيَنَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ خِفْتُ عَلَى عَيْنِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَهِيَ تُرِيدُ الْكُحْلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ:‏‏‏‏ مَا رَأْسُ الْحَوْلِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا هَلَكَ زَوْجُهَا عَمَدَتْ إِلَى شَرِّ بَيْتٍ لَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى إِذَا مَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ، ‏‏‏‏‏‏خَرَجَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَرَمَتْ وَرَاءَهَا بِبَعْرَةٍ.
It was narrated from Zainab bint Abi Salamah, from Umm Salamah that a woman from the Quraish came to the Messenger of Allah and said: My daughter's husband has died, and I am worried about her eyes; she needs kohl. He said: One of you used to throw a piece of dung after a year had passed. Rather it (the mourning period) is four months and ten days. I (the narrator) said to Zainab: What does 'after a year had passed' mean? She said: During the Jahiliyyah, if a woman's husband died she would go to the worst room she had and stay there, then, when a year had passed, she would come out and throw a piece of dung behind her.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ قریش کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے اور میں ڈرتی ہوں کہ اس کی آنکھیں کہیں خراب نہ ہو جائیں۔ اس کا مقصد تھا کہ آپ اسے سرمہ لگانے کی اجازت دے دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کوئی بھی عورت ( جو سوگ منا رہی ہوتی تھی ) سوگ کے سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں“ ( یہ بھی تم لوگوں سے گزارے نہیں جاتے ) “۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے زینب سے پوچھا «رأس الحول» ( سال بھر کے بعد ) کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا جاہلیت میں ہوتا یہ تھا کہ جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو وہ عورت اپنے گھروں میں سے سب سے خراب ( بوسیدہ ) گھر میں جا بیٹھتی تھی، جب اس کا سال پورا ہو جاتا تو وہ اس گھر سے نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی تھی۔
Mishkat
3329
وَعَن أُمِّ سلمةَ قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا أَفَنَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: «لَا» قَالَ: «إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وعشرٌ وَقد كَانَت إِحْدَاهُنَّ فِي الجاهليَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ»
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے ، اور اس کی آنکھ میں تکلیف ہے ، کیا میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ دو بار یا تین بار ، آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے :’’ نہیں ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (عدت) چار ماہ دس دن ہے ، جبکہ دور جاہلیت میں تم میں سے ہر کوئی سال کے اختتام پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی ۔‘‘ (ایک سال بعد عدت ختم ہوتی تھی) متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
5335
قَالَتْ زَيْنَبُ : وَسَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا ، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا ، أَفَتَكْحُلُهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ : لَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ . قَالَ حُمَيْدٌ : فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ : وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ؟
Zainab further said: I want to Zainab bint Jahsh when her brother died. She asked for perfume and used some of it and said, By Allah, I am not in need of perfume, but I have heard Allah's Apostle saying on the pulpit, 'It is not lawful for a lady who believes in Allah and the last day to mourn for more than three days except for her husband for whom she should mourn for four months and ten days.'
زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے بعد میں ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں اس وقت گئی جب ان کے بھائی کا انتقال ہوا۔ انہوں نے بھی خوشبو منگوائی اور استعمال کیا کہا کہ واللہ! مجھے خوشبو کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے سنا ہے کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، صرف شوہر کے لیے چار مہینے دس دن کا سوگ ہے۔
Sahih Muslim
3728
قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ، وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَيْنَبُ: «كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا، وَلَا شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ - حِمَارٍ، أَوْ شَاةٍ، أَوْ طَيْرٍ - فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ، فَتُعْطَى بَعْرَةً، فَتَرْمِي بِهَا، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ
Zainab (bint Abu Salama) (Allah be pleased with her) reported: I went to Umm Habiba, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), when her father Abu Sufyan had died. Umm Habiba sent for a perfume having yellowness in it or something else like it, and she applied it to a girl and then rubbed it on her cheeks and then said: By Allah, I need no perfume but for the fact that I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say on the pulpit: It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter to mourn for the dead beyond three days, but (in case of the death) of the husband it is permissible for four months and ten days. Zainab said: I then visited Zainab hint Jahsh (Allah be pleased with her) when her brother died and she sent for perfume and applied it and then said: By Allah, I don't feel any need for the perfume but that I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say on the pulpit: It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafbler to mourn the dead beyond three days except in case of her husband (for whom she can mourn) for four months and ten days. Zainab (Allah be pleased with her) said: I heard my mother Umm Salama (Allah be pleased with her) as saying: A woman came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger. I have a daughter whose husband has died and there has developed some trouble in her eye; should we apply collyrium to it? Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: No (repeating it twice or thrice, saying only, NO all the time). Then he said: It is only four mouths and ten days, whereas in the preIslamic period none of you threw away the dung until one year had passed. Humaid said: I said to Zainab: What is this throwing of dung until a year is passed? Zainab said: When the husband of a woman died, she went into a hut and put on her worst clothes, and did not apply perfume or something like it until a year was over. Then an animal like a donkey, or a goat, or a bird was brought to her and she rubbed her hand over it, and it so happened that one on which she rubbed her hand died. She then came out of her house and she was given dung and she threw it and then she made use of anything like perfume or something else as she liked.
حمید نے کہا : میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا : ایک سال گزرنے پر مینگنی پھینکنا کیا ہے؟ زینب نے جواب دیا : ( جاہلیت میں ) جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جاتا تھا تو وہ ایک ( دڑبہ نما ) انتہائی تنگ جھونپڑی میں چلی جاتی ، اپنے بدترین کپڑے پہن لیتی اور کوئی خوشبو وغیرہ استعمال نہ کرتی حتی کہ ( اسی حالت میں ) سال گزر جاتا ، پھر اس کے پاس کوئی جانور گدھا ، بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا ، تو وہ اسے اپنی شرمگاہ سے ملتی ، کم ہی ہوتا کہ وہ کسی کو ملتی تو وہ زندہ رہتا ( سخت تعفن اور جراثیم وغیرہ کی بنا پر بیمار ہو کر مر جاتا ) پھر وہ باہر نکلتی تو اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ ( اپنے آگے یا پیچھے ) پھینکتی ، پھر اس کے بعد خوشبو وغیرہ جو وہ چاہتی استعمال کرتی
Sunnan Nisai
3568
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَهُوَ ابْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ حُمَيْدٌ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ ابْنَتِي رَمِدَتْ، ‏‏‏‏‏‏أَفَأَكْحُلُهَا ؟ وَكَانَتْ مُتَوَفًّى عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَتْ:‏‏‏‏ إِنِّي أَخَافُ عَلَى بَصَرِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا سَنَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَرْمِي عَلَى رَأْسِ السَّنَةِ بِالْبَعْرَةِ .
Zainab bint Abi Salamah narrated that her mother Umm Salamah said: A woman from the Quraish came and said: 'O Messenger of Allah, my daughter's eyes are inflamed; shall I apply kohl to her?' (The daughter's) husband had died so (the Prophet) said: 'Not until four months and ten days (have passed).' Then she said: 'I fear for her sight.' He said: 'No, not until four months and ten days (have passed). During the Jahiliyyah one of you would mourn for her husband for a year, then when one year had passed she would throw a piece of dung.'
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش کی ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہے اور وہ اپنے شوہر کے مرنے کا سوگ منا رہی ہے تو کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا دوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا چار مہینے دس دن نہیں ٹھہر سکتی؟“ اس عورت نے پھر کہا: مجھے اس کی بینائی کے جانے کا خوف ہے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں، چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے نہیں لگا سکتی، زمانہ جاہلیت میں تمہاری ہر عورت اپنے شوہر کے مرنے پر سال بھر کا سوگ مناتی تھی پھر سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔