TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2461 - مکروہ مزارعت (بٹائی) کا بیان - The chapters on pawning - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
مکروہ مزارعت (بٹائی) کا بیان
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:‏‏‏‏ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ!، ‏‏‏‏‏‏أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ. إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اقْتَتَلَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنُكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَوْلَهُ:‏‏‏‏ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ .
Zaid bin Thabit said: “May Allah (SWT) forgive Rafi' bin Khadij. By Allah (SWT)! I have more knowledge of Ahadith than he does. Two men who had quarreled came to the Prophet (ﷺ) and he said: 'If this is your situation, do not lease farms,' and what Rafi' bin khadij heard was 'Do not lease farms.' ”
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو بخشے، اللہ کی قسم! یہ حدیث میں ان سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے، ان دونوں میں لڑائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا یہی حال ہے تو کھیتوں کو کرائے پہ نہ دیا کرو ، رافع رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا ہی سنا کہ کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو ۱؎۔
2461
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 3, Book 16, Hadith 2461 Arabic reference : Book 16, Hadith 2555
(غایة المرام:۳۶۶- الإرواء:۱۴۷۸ - ۱۴۷۹)
Conclusion
تخریج
«سنن ابی داود/البیوع ۳۱ (۳۳۹۰)، سنن النسائی/الأیمان المزارعة ۲ (۳۹۵۹)،(تحفة الأشراف:۳۷۳۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۱۸۲،۱۸۷)
Explanation
شرح و تفصیل
معلوم ہوا کہ ممانعت اس وقت ہو گی جب لڑائی اور جھگڑے کا سبب بنے، ورنہ ملطلقاً کھیت بٹائی پر دینے سے آپ ﷺ نے نہیں روکا ہے۔

Related Chapters

142
1
(12) CHAPTER. What conditions are disliked in share-cropping.
بٹائی میں کون سی شرطیں لگانا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
2
CHAPTER: Muzara’ah (Sharecropping).
باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔
Sunnan Nisai
4
(14)Chapter: What Has Been Related Regarding] What Is Disliked For One to use for Istinja
باب: کن کن چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Agriculture
باب: مزارعت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: About Share-Cropping
باب: مزارعت ہی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Intercede In Legal Punishments
باب: حد میں سفارش کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Eat Masburah
باب: بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Is Disliked For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Eat From The Sacrificial Meat Beyond Three Days.
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: About It being Disliked To Sell The Spoils Of War Until It Has Been Distributed
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Have Intercourse With Pregnant Female Prisoners
باب: حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Gesture With Hand When Giving Salam
باب: ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Return From A Night Journey to Ones Family At Night
باب: بیوی کے پاس سفر سے رات میں واپس آنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Say: Alaikas-Salam When Initiating The Greeting
باب: بات چیت کی ابتداء «علیک السلام» سے کہہ کر مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
17
باب: کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھ جانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
18
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
19
باب: پیٹ کے بل (اوندھے منہ) لیٹنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
20
باب: خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے
Jam e Tirmazi
21
باب: زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
22
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
23
بَاب الْمُسَاقَاة والمزارعة
مساقات اور مزارعت کا بیان
Mishkat
24
موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
25
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
Musnad Ahmad
26
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
27
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
28
ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
Musnad Ahmad
29
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
30
ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
Musnad Ahmad
31
حرام اور مکروہ نام
Musnad Ahmad
32
مساقات اور مزارعت کا بیان
Musnad Ahmad
33
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
Musnad Ahmad
34
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
35
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
Musnad Ahmad
36
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
Musnad Ahmad
37
خوابوں کی اقسام اور اس چیز کا بیان کہ مکروہ خواب دیکھنے والا کیا کرے
Musnad Ahmad
38
مردوں کے لئے مکروہ خوشبو کا بیان
Musnad Ahmad
39
سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
40
(19) CHAPTER. Whoever disliked to call the Maghrib prayer as the lsha prayer.
اس بارے میں جس نے مغرب کو عشاء کہنا مکروہ جانا
Sahih Bukhari
41
(32) CHAPTER. Whoever did not dislike to offer optional prayers except after the compulsory prayers of Asr and Fajr only.
اس شخص کی دلیل جس نے فقط عصر اور فجر کے بعد نماز کو مکروہ رکھا ہے
Sahih Bukhari
42
(39) CHAPTER. What is disliked about talking after the Isha prayer.
عشاء کی نماز کے بعد سمر یعنی دنیا کی باتیں کرنا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
43
(9) CHAPTER. It is disliked to carry arms on Eid and in the Haram (sanctuary).
عید کے دن اور حرم کے اند ر ہتھیار باندھنا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
44
(18) CHAPTER. It is disliked to exaggerate extremely in matters of worship.
عبادت میں بہت سختی اٹھانا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
45
(19) CHAPTER. It is disliked for a person to leave offering the night SaIat after he has been used to (offering) it.
جو شخص رات کو عبادت کیا کرتا تھا وہ اگر اسے چھوڑ دے تو اس کی یہ عادت مکروہ ہے
Sahih Bukhari
46
(33) CHAPTER. What (sort of) wailing over a deceased is disliked.
میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
47
(61) CHAPTER. What is disliked of establishing places for worship (mosques) over the graves.
قبروں پر مسجد بنانا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
48
(66) CHAPTER. Whoever saw a string or something like that during the Tawaf and disliked it and cut it.
جب طواف میں کسی کو باندھا دیکھے یا کوئی اور مکروہ چیز تو اس کو کاٹ سکتا ہے
Sahih Bukhari
49
(27) CHAPTER. What is disapproved of as regards giving oaths (swearing) while selling.
خریدوفروخت میں قسم کھانا مکروہ ہے
Sahih Bukhari
50
(40) CHAPTER. The trade of cloth, the wearing of which is considered undesireable both for men and women.
ان چیزوں کی سوداگری جن کا پہننا مردوں اور عورتوں کے لیے مکروہ ہے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

3,565
Sunnan Nisai
3959
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:‏‏‏‏ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا كَانَا رَجُلَيْنِ اقْتَتَلَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنُكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ . فَسَمِعَ قَوْلَهُ:‏‏‏‏ لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ .
It was narrated that 'Urwah bin Az-Zubair said: Zaid bin Thabit said: 'May Allah forgive Rafi' bin Khadij. By Allah, I have more knowledge of the Hadith than him. We were two men who fought and the Messenger of Allah said: If this is how it is between you, then do not lease land. And he only heard the words: Do not lease land.'
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی مغفرت فرمائے۔ اللہ کی قسم! میں یہ حدیث ان سے زیادہ جانتا ہوں، دو آدمی جھگڑ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اگر تمہارا یہ حال ہے تو تم کھیتوں کو کرائے پر مت دیا کرو ، تو رافع نے آپ کا صرف یہ قول سن لیا کہ  کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو ۔
Jam e Tirmazi
3592
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، ‏‏‏‏‏‏وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَجِبْتُ لَهَا فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ . قَالَ ابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ هُوَ حَجَّاجُ بْنُ مَيْسَرَةَ الصَّوَّافُ،‏‏‏‏ وَيُكْنَى:‏‏‏‏ أَبَا الصَّلْتِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
Ibn `Umar [may Allah be pleased with him] said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when a man among the people said: ‘Allah is most exceedingly great, and praise is due to Allah, abundantly, and glory to Allah morning and night (Allāhu akbaru kabīran wal-ḥamdulillāhi kathīran wa subḥānallāhi bukratan wa aṣīlā).’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Who is the one who said such and such?’ So a man among the people said: ‘Me, O Messenger of Allah (ﷺ).’ He said: ‘I was amazed at it. The gates of heaven opened up for it.’” Ibn `Umar said: “I have not abandoned them since I heard [them] from the Messenger of Allah (ﷺ).”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۱؎، اسی دوران ایک شخص نے کہا: «الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ”اللہ بہت بڑائی والا ہے، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سنا تو ) پوچھا: ”ایسا ایسا کس نے کہا ہے؟“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے کہا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”میں اس کلمے کو سن کر حیرت میں پڑ گیا، اس کلمے کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے“۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے میں نے ان کا پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- حجاج بن ابی عثمان یہ حجاج بن میسرہ صواف ہیں، ان کی کنیت ابوصلت ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ فائدہ ۱؎: ”نماز پڑھ رہے تھے“ سے مراد: ہم لوگ نماز شروع کر چکے تھے، اتنے میں وہ آدمی آیا اور دعا ثناء کی جگہ اس نے یہی کلمات کہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تقریر ( تصدیق ) کر دی، تو گویا ثناء کی دیگر دعاؤں کے ساتھ یہ دعا بھی ایک ثناء ہے، امام نسائی دعا ثناء کے باب ہی میں اس حدیث کو لاتے ہیں، اس لیے بعض علماء کا یہ کہنا کہ «سبحانک اللہم …» کے سواء ثنا کی بابت منقول ساری دعائیں سنن و نوافل سے تعلق رکھتی ہیں، صحیح نہیں ہے۔
Jam e Tirmazi
3545
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ وَأَظُنُّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَوْ أَحَدُهُمَا . قًالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ أَخُو إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فِي الْمَجْلِسِ أَجْزَأَ عَنْهُ مَا كَانَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “May the man before whom I am mentioned - and he does not send Salat upon me - be humiliated. And may a man upon whom Ramadan enters and then passes, before he is forgiven, be humiliated. And may a man whose parents reached old age in his presence, and they were not a cause for his entrance to Paradise, be humiliated.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ شخص مجھ پر درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا ہو اور وہ دونوں اسے ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے کی وجہ سے جنت کا مستحق نہ بنا سکے ہوں“، عبدالرحمٰن ( راوی ) کہتے ہیں: میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے دونوں ماں باپ کہا۔ یا یہ کہا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی بڑھاپے میں پایا ( اور ان کی خدمت کر کے اپنی مغفرت نہ کر الی ہو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ربعی بن ابراہیم اسماعیل بن ابراہیم کے بھائی ہیں اور یہ ثقہ ہیں اور یہ ابن علیہ ۱؎ ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مجلس میں آدمی ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو درود بھیج دے تو اس مجلس میں چاہے جتنی بار آپ کا نام آئے ایک بار درود بھیج دینا ہر بار کے لیے کافی ہو گا ( یعنی ہر بار درود بھیجنا ضروری نہ ہو گا ) ۔
Jam e Tirmazi
3593
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَهُ أَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ عَادَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ الْكَلَامِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا اصْطَفَى اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Dharr narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) visited him, or that Abu Dharr visited the Messenger of Allah (ﷺ), and said: “May my father and my mother be ransomed for you, O Messenger of Allah (ﷺ)! Which speech is most beloved to Allah [the Mighty and Sublime]?” So he said: “That which Allah selected for His angels (to say): ‘Glory to my Lord, and with His praise. Glory to my Lord, and with His praise (Subḥāna rabbī wa biḥamdihi, subḥāna rabbī wa biḥamdihi).’”
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت کی ( یہاں راوی کو شبہ ہو گیا ) یا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کی، تو انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اے اللہ کے رسول! کون سا کلام اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کلام جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایا ہے ( اور وہ یہ ہے ) «سبحان ربي وبحمده سبحان ربي وبحمده» ”میرا رب پاک ہے اور تعریف ہے اسی کے لیے، میرا رب پاک ہے اور ہر طرح کی حمد اسی کے لیے زیبا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3650
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ .
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-five years old.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
3657
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَائِشَةَ:‏‏‏‏ أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَسَكَتَتْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah bin Shaqiq: I said to 'Aishah: 'Which of the Companions of the Prophet (ﷺ) were the most beloved to the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'Abu Bakr.' I said: 'Then who?' She said: 'Then Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah.' He said: I said: 'Then who?'' He said: Then she was silent.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: صحابہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ انہوں نے کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا: پھر کون؟ تو وہ خاموش رہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sahih Bukhari
6899
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ مِنْ آلِ أَبِي قِلَابَةَ ،حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْ ، فَدَخَلُوا ، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ ؟ ، قَالَ : نَقُولُ : الْقَسَامَةُ الْقَوَدُ بِهَا حَقٌّ ، وَقَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ ، قَالَ لِي : مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ ؟ ، وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ ، فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ : عِنْدَكَ رُءُوسُ الْأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ مُحْصَنٍ بِدِمَشْقَ أَنَّهُ قَدْ زَنَى لَمْ يَرَوْهُ ، أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ ، أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ وَلَمْ يَرَوْهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : فَوَاللَّهِ مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ : رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ فَقُتِلَ ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ ، أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَطَعَ فِي السَّرَقِ ، وَسَمَرَ الْأَعْيُنَ ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ ، فَقُلْتُ : أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ : أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ ، فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَفَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، قَالُوا : بَلَى ، فَخَرَجُوا ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَصَحُّوا ، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأُدْرِكُوا ، فَجِيءَ بِهِمْ ، فَأَمَرَ بِهِمْ ، فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا ، قُلْتُ : وَأَيُّ شَيْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ ، ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ ، وَقَتَلُوا ، وَسَرَقُوا ، فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ : وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، فَقُلْتُ : أَتَرُدُّ عَلَيَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ ، قَالَ ، لَا ، وَلَكِنْ جِئْتَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ ، وَاللَّهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ ، قُلْتُ : وَقَدْ كَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ، فَقُتِلَ ، فَخَرَجُوا بَعْدَهُ ، فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَاحِبُنَا كَانَ تَحَدَّثَ مَعَنَا ، فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بِمَنْ تَظُنُّونَ أَوْ مَنْ تَرَوْنَ قَتَلَهُ ؟ قَالُوا : نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِ فَدَعَاهُمْ ، فَقَالَ : أَنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : أَتَرْضَوْنَ نَفَلَ خَمْسِينَ مِنَ الْيَهُودِ مَا قَتَلُوهُ ؟ ، فَقَالُوا : مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ ثُمَّ يَنْتَفِلُونَ ، قَالَ : أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةَ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ؟ ، قَالُوا : مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ ، فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ ، قُلْتُ : وَقَدْ كَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْيَمَنِ بِالْبَطْحَاءِ ، فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ ، فَقَتَلَهُ ، فَجَاءَتْ هُذَيْلٌ ، فَأَخَذُوا الْيَمَانِيَّ ، فَرَفَعُوهُ إِلَى عُمَرَ بِالْمَوْسِمِ ، وَقَالُوا : قَتَلَ صَاحِبَنَا ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ ، فَقَالَ : يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوهُ ، قَالَ : فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا ، وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنَ الشَّأْمِ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ ، فَافْتَدَى يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ ، فَأَدْخَلُوا مَكَانَهُ رَجُلًا آخَرَ ، فَدَفَعَهُ إِلَى أَخِي الْمَقْتُولِ ، فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ ، قَالُوا : فَانْطَلَقَا وَالْخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِنَخْلَةَ أَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ ، فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الْجَبَلِ ، فَانْهَجَمَ الْغَارُ عَلَى الْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا ، فَمَاتُوا جَمِيعًا ، وَأَفْلَتَ الْقَرِينَانِ وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ ، فَكَسَرَ رِجْلَ أَخِي الْمَقْتُولِ ، فَعَاشَ حَوْلًا ثُمَّ مَاتَ ، قُلْتُ : وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلًا بِالْقَسَامَةِ ، ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَ مَا صَنَعَ ، فَأَمَرَ بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا ، فَمُحُوا مِنَ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّأْمِ .
Narrated Abu Qilaba: Once `Umar bin `Abdul `Aziz sat on his throne in the courtyard of his house so that the people might gather before him. Then he admitted them and (when they came in), he said, What do you think of Al-Qasama? They said, We say that it is lawful to depend on Al-Qasama in Qisas, as the previous Muslim Caliphs carried out Qisas depending on it. Then he said to me, O Abu Qilaba! What do you say about it? He let me appear before the people and I said, O Chief of the Believers! You have the chiefs of the army staff and the nobles of the Arabs. If fifty of them testified that a married man had committed illegal sexual intercourse in Damascus but they had not seen him (doing so), would you stone him? He said, No. I said, If fifty of them testified that a man had committed theft in Hums, would you cut off his hand though they did not see him? He replied, No. I said, By Allah, Allah's Apostle never killed anyone except in one of the following three situations: (1) A person who killed somebody unjustly, was killed (in Qisas,) (2) a married person who committed illegal sexual intercourse and (3) a man who fought against Allah and His Apostle and deserted Islam and became an apostate. Then the people said, Didn't Anas bin Malik narrate that Allah's Apostle cut off the hands of the thieves, branded their eyes and then, threw them in the sun? I said, I shall tell you the narration of Anas. Anas said: Eight persons from the tribe of `Ukl came to Allah's Apostle and gave the Pledge of allegiance for Islam (became Muslim). The climate of the place (Medina) did not suit them, so they became sick and complained about that to Allah's Apostle. He said (to them ), Won't you go out with the shepherd of our camels and drink of the camels' milk and urine (as medicine)? They said, Yes. So they went out and drank the camels' milk and urine, and after they became healthy, they killed the shepherd of Allah's Apostle and took away all the camels. This news reached Allah's Apostle , so he sent (men) to follow their traces and they were captured and brought (to the Prophet). He then ordered to cut their hands and feet, and their eyes were branded with heated pieces of iron, and then he threw them in the sun till they died. I said, What can be worse than what those people did? They deserted Islam, committed murder and theft. Then 'Anbasa bin Sa`id said, By Allah, I never heard a narration like this of today. I said, O 'Anbasa! You deny my narration? 'Anbasa said, No, but you have related the narration in the way it should be related. By Allah, these people are in welfare as long as this Sheikh (Abu Qilaba) is among them. I added, Indeed in this event there has been a tradition set by Allah's Apostle. The narrator added: Some Ansari people came to the Prophet and discussed some matters with him, a man from amongst them went out and was murdered. Those people went out after him, and behold, their companion was swimming in blood. They returned to Allah's Apostle and said to him, O Allah's Apostle, we have found our companion who had talked with us and gone out before us, swimming in blood (killed). Allah's Apostle went out and asked them, Whom do you suspect or whom do you think has killed him? They said, We think that the Jews have killed him. The Prophet sent for the Jews and asked them, Did you kill this (person)? They replied, No. He asked the Al-Ansars, Do you agree that I let fifty Jews take an oath that they have not killed him? They said, It matters little for the Jews to kill us all and then take false oaths. He said, Then would you like to receive the Diya after fifty of you have taken an oath (that the Jews have killed your man)? They said, We will not take the oath. Then the Prophet himself paid them the Diya (Blood-money). The narrator added, The tribe of Hudhail repudiated one of their men (for his evil conduct) in the Pre-lslamic period of Ignorance. Then, at a place called Al-Batha' (near Mecca), the man attacked a Yemenite family at night to steal from them, but a. man from the family noticed him and struck him with his sword and killed him. The tribe of Hudhail came and captured the Yemenite and brought him to `Umar during the Hajj season and said, He has killed our companion. The Yemenite said, But these people had repudiated him (i.e., their companion). `Umar said, Let fifty persons of Hudhail swear that they had not repudiated him. So forty-nine of them took the oath and then a person belonging to them, came from Sham and they requested him to swear similarly, but he paid one-thousand Dirhams instead of taking the oath. They called another man instead of him and the new man shook hands with the brother of the deceased. Some people said, We and those fifty men who had taken false oaths (Al-Qasama) set out, and when they reached a place called Nakhlah, it started raining so they entered a cave in the mountain, and the cave collapsed on those fifty men who took the false oath, and all of them died except the two persons who had shaken hands with each other. They escaped death but a stone fell on the leg of the brother of the deceased and broke it, whereupon he survived for one year and then died. I further said, `Abdul Malik bin Marwan sentenced a man to death in Qisas (equality in punishment) for murder, basing his judgment on Al-Qasama, but later on he regretted that judgment and ordered that the names of the fifty persons who had taken the oath (Al-Qasama), be erased from the register, and he exiled them in Sham.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبشر اسماعیل بن ابراہیم الاسدی نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے آل ابوقلابہ کے غلام ابورجاء نے بیان کیا اس نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن دربار عام کیا اور سب کو اجازت دی۔ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا: قسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کسی نے کہا کہ قسامہ کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے پوچھا: ابوقلابہ! تمہاری کیا رائے ہے؟ اور مجھے عوام کے ساتھ لا کھڑا کر دیا۔ میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! آپ کے پاس عرب کے سردار اور شریف لوگ رہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہو گی اگر ان میں سے پچاس آدمی کسی دمشقی کے شادی شدہ شخص کے بارے میں زنا کی گواہی دیں جبکہ ان لوگوں نے اس شخص کو دیکھا بھی نہ ہو کیا آپ ان کی گواہی پر اس شخص کو رجم کر دیں گے۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر انہیں ( اشراف عرب ) میں سے پچاس افراد حمص کے کسی شخص کے متعلق چوری کی گواہی دے دیں اس کو بغیر دیکھے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا، پس اللہ کی قسم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے سوا قتل نہیں کرایا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی کو ظلماً قتل کیا ہو اور اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو۔ تیسرا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ہو اور اسلام سے پھر گیا ہو۔ لوگوں نے اس پر کہا، کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملہ میں ہاتھ پیر کاٹ دئیے تھے اور آنکھوں میں سلائی پھروائی تھی اور پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سناتا ہوں۔ مجھ سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہنکا لے گئے۔ اس کی اطلاع جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا اور آخر وہ مر گئے۔ میں نے کہا کہ ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے اسلام سے پھر گئے اور قتل کیا اور چوری کی۔ عنبہ بن سعید نے کہا میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کہا: عنبہ! کیا تم میری حدیث رد کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے یہ حدیث واقعہ کے مطابق بیان کر دی ہے۔ واللہ! اہل شام کے ساتھ اس وقت تک خیر و بھلائی رہے گی جب تک یہ شیخ ( ابوقلابہ ) ان میں موجود رہیں گے۔ میں نے کہا کہ اس قسامہ کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ انصار کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی پھر ان میں سے ایک صاحب ان کے سامنے ہی نکلے ( خیبر کے ارادہ سے ) اور وہاں قتل کر دئیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ بھی گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ خون میں تڑپ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور اچانک وہ ہمیں ( خیبر میں ) خون میں تڑپتے ملے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور پوچھا کہ تمہارا کس پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے پھر آپ نے یہودیوں کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کیا تم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ نے فرمایا، کیا تم مان جاؤ گے اگر پچاس یہودی اس کی قسم لیں کہ انہوں نے مقتول کو قتل نہیں کیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ لوگ ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم سب کو قتل کرنے کے بعد پھر قسم کھا لیں ( کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم بھی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس سے خون بہا دیا ( ابوقلابہ نے کہا کہ ) میں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو اپنے میں سے نکال دیا تھا پھر وہ شخص بطحاء میں یمن کے ایک شخص کے گھر رات کو آیا۔ اتنے میں ان میں سے کوئی شخص بیدار ہو گیا اور اس نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہذیل کے لوگ آئے اور انہوں نے یمنی کو ( جس نے قتل کیا تھا ) پکڑا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حج کے زمانہ میں اور کہا کہ اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ یمنی نے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب ہذیل کے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ انہوں نے اسے نکالا نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی پھر انہیں کے قبیلہ کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قسم کھائے لیکن اس نے اپنی قسم کے بدلہ میں ایک ہزار درہم دے کر اپنا پیچھا قسم سے چھڑا لیا۔ ہذلیوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا پھر وہ مقتول کے بھائی کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم پچاس جنہوں نے قسم کھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو بارش نے انہیں آیا۔ سب لوگ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اور غار ان پچاسوں کے اوپر گر پڑا۔ جنہوں نے قسم کھائی تھی اور سب کے سب مر گئے۔ البتہ دونوں ہاتھ ملانے والے بچ گئے۔ لیکن ان کے پیچھے سے ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس سے مقتول کے بھائی کی ٹانگ ٹوٹ گئی اس کے بعد وہ ایک سال اور زندہ رہا پھر مر گیا۔ میں نے کہا کہ عبدالملک بن مروان نے قسامہ پر ایک شخص سے قصاص لی تھی پھر اسے اپنے کئے ہوئے پر ندامت ہوئی اور اس نے ان پچاسوں کے متعلق جنہوں نے قسم کھائی تھی حکم دیا اور ان کے نام رجسٹر سے کاٹ دئیے گئے پھر انہوں نے شام بھیج دیا۔
Sahih Muslim
141
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ»، وَلَمْ يَذْكُرْ «مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ»
It is narrated on the authority of Umar b. Hani with the same chain of transmitters with the exception of these words: Allah would make him (he who affirms these truths) enter Paradise through one of the eight doors which he would like.
عمیر بن ہانی سے ( عبد الرحمٰن بن یزید ) ابن جابر کے بجائے اوزاعی کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی گئی ہے ، البتہ انہوں نے اس طرح کہا : ’’ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ، اس کے عمل جیسے بھی ہوں ۔ ‘ ‘ اور ’’ اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سےچاہے گا ( داخل کر دے گا ) ‘ ‘ کا ذکر نہیں کیا ۔
Sahih Muslim
1345
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ أَوِ الصَّلَوَاتِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
Abu Zubair reported: I heard Abdullah b. Zubair addressing (people) on the pulpit and saying: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) pronounced salutation at the end of the prayer or prayers, and then he made a mention of the hadith as transmitted by Hisham b. 'Urwa.
ہشام کے بجائے ) حجاج بن ابی عثمان نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے ابو زبیر نے حدیث بیان کی کہا : میں نے عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ اس منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نماز یا نمازوں کے آخر میں سلام پھیرنے کے بعد کہا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ہشام بن عروہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔