TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وادیوں سے آنے والے پانی کا استعمال کیسے کیا جائے - وادیوں سے آنے والے پانی کا استعمال کیسے کیا جائے - The chapters on pawning - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 21 of The chapters on pawning in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 25 · 4 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ:‏‏‏‏ سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرَّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ، ‏‏‏‏‏‏فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ يَا زُبَيْرُ! اسْقِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ الزُّبَيْرُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65.
It was narrated from 'Abdullah bin Zubair that : a man from among the Ansar had a dispute with Zubair in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning the streams of the Harrah with which he irrigated his palm trees. The Ansari said: “Let the water flow,” but he refused. So they referred their dispute to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Irrigate (your trees) O Zubair, then let the water flow to your neighbor.” The Ansari became angry and said: “O Messenger of Allah (ﷺ), is it because he is your cousin (son of your paternal aunt)?” The expression of the Messenger of Allah (ﷺ) changed, then he said: “O Zubair, irrigate (your trees) then retain the water until it reaches the walls.” Zubair said: “I think this Verse was revealed concerning that: “But no, by your Lord, they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them, and find in themselves no resistance against your decisions, and accept (them) with full submission [1].'” (Sahih) [1] An-Nisa 4.65
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حرہ کے نالے کے سلسلے میں جس سے لوگ کھجور کے درخت سیراب کرتے تھے، ( ان کے والد ) زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا، انصاری کہہ رہا تھا: پانی کو چھوڑ دو کہ آگے بہتا رہے، زبیر رضی اللہ عنہ نہیں مانے ۲؎بالآخر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر ( پانی روک کر ) اپنے درختوں کو سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو، انصاری نے یہ سنا تو ناراض ہو گیا اور بولا: اللہ کے رسول! وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! اپنے درختوں کو سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک بھر جائے ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم، میں سمجھتا ہوں کہ آیت کریمہ: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» ( سورة النساء: 65 ) سو قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوش نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ، اسی معاملہ میں اتری ہے۔
Takhreej
«انظر حدیث رقم:(۱۵)
Explanation
انصاری کا نام اطب تھا، انہوں نے ناسمجھی کی بنیاد پر نبی اکرم ﷺ کی شان میں ایسی بات کہہ دی، کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایسا گستاخانہ جملہ نبی اکرم ﷺ کی شان میں کہے تو وہ کافر ہو جائے گا، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ کافر تھا، لیکن یہ قول مرجوح ہے، واللہ اعلم ۲؎: کیونکہ ان کا باغ نہر کی جانب اونچائی پر تھا اور انصاری کا ڈھلان پر جس سے زبیر رضی اللہ عنہ کے باغ سے سارا پانی بہہ کر نکل جا رہا تھا۔
2480
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ الْأَعْلَى فَوْقَ الْأَسْفَلِ، ‏‏‏‏‏‏يَسْقِي الْأَعْلَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُرْسِلُ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ .
It was narrated that Tha'labah bin Abu Malik said: “The Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the stream of Mahzur that the higher ground took precedence over the lower, so the higher ground should be irrigated until the water reached the ankles, then it should be released to those who were lower.
ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالہ کے سلسلہ میں یہ فیصلہ کیا کہ اوپری حصہ نچلے حصہ سے برتر ہے، جس کا کھیت اونچائی پر ہو، پہلے سینچ لے، اور ٹخنوں تک پانی اپنے کھیت میں بھر لے، پھر پانی کو اس شخص کے لیے چھوڑ دے جس کا کھیت نشیب ( ترائی ) میں ہو ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۰۷۴، ومصباح الزجاجة:۸۷۳)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة ۳۱ (۳۶۳۹)
Explanation
وہ بھی اپنے کھیت میں اتنا ہی پانی بھر کر تیسرے کی طرف چھوڑ دے جو اس سے نیچے علاقہ میں ہو،اسی طرح اخیر کیفیت تک عمل کیا جائے۔
2481
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَضَى فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ أَنْ يُمْسِكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسِلَ الْمَاءَ .
It was narrated from 'Amr bin Shu`aib, from his father, from his grandfather, that : the Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the stream of Mahzur that the water should be retained until it reached the ankles, then released.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی ٹخنوں تک روک لیا جائے، پھر اسے چھوڑ دیا جائے۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الاقضیة ۳۱ (۳۶۳۹)،(تحفة الأشراف:۸۷۳۵)
2482
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغَلِّسِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَضَى فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّيْلِ أَنَّ الْأَعْلَى فَالْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ وَكَذَلِكَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْحَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ .
It was narrated from 'Ubadah bin Samit that : the Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the irrigation of palm trees from streams, that the higher ground should be irrigated before the lower, and that the water should be allowed to reach the ankles, then released to flow the nearest lower ground, and so on, until all the fields were watered or until the water ran out.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کھجور کے درختوں کو نالہ سے سینچنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ جس کا باغ اونچائی پر ہو، پہلے وہ اپنے باغ کو ٹخنوں تک پانی سے بھر لے، پھر پانی کو نیچے کی طرف جو اس کے قریب ہے اس کے لیے چھوڑ دے، اسی طرح سلسلہ بہ سلسلہ سیراب کیا جائے، یہاں تک کہ باغات سینچ کر ختم ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۰۶۶، ومصباح الزجاجة:۸۷۴)
2483
Zaeef

Chapters

25
01
حدثنا ابوبکر بن أبی شیبہ
4 Hadith
02
رہن کے جانور پر سواری کرنا اور اس کا دودھ دوہنا جائز ہے
1 Hadith
03
رہن چھڑانے سے روکا نہیں جا سکتا
1 Hadith
04
مزدور کی اجرت کا بیان
2 Hadith
05
صرف خوراکی پر مزدور رکھنے کا بیان
2 Hadith
06
ایک ڈول پانی کھینچنے پر ایک عمدہ کھجور لینے کی شرط لگانے کا بیان
3 Hadith
07
تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کھیت کو بٹائی پر دینے کا بیان
4 Hadith
08
زمین کرایہ پر دینے کا بیان
3 Hadith
09
خالی زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کی رخصت کا بیان
3 Hadith
10
مکروہ مزارعت (بٹائی) کا بیان
3 Hadith
11
تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی کی رخصت کا بیان۔
1 Hadith
12
تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی کی رخصت کا بیان
2 Hadith
13
غلہ کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کا بیان
1 Hadith
14
بلا اجازت دوسرے کی زمین میں کھیتی کرنے کا بیان
1 Hadith
15
کھجور اور انگور کی کھیتی کو بٹائی پر دینے کا معاملہ
3 Hadith
16
کھجور کے درخت میں پیوند کاری کا بیان
2 Hadith
17
تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت کا بیان
3 Hadith
18
نہروں اور چشموں کو جاگیر میں دینے کا بیان
1 Hadith
19
پانی بیچنے کی ممانعت
2 Hadith
20
ضرورت سے زائد پانی سے روکنا تاکہ وہاں کی گھاس بھی روک لے منع ہے
2 Hadith
21
وادیوں سے آنے والے پانی کا استعمال کیسے کیا جائے
4 Hadith
22
پانی کی تقسیم کا بیان
2 Hadith
23
کنویں کی چوحدی (رقبہ) کا بیان
2 Hadith
24
درخت کی چوحدی (رقبہ) کا بیان
2 Hadith
25
جو شخص جائیداد بیچ ڈالے اور اس سے دوسری جائیداد نہ خریدے تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.