The book of purification and its sunnah - طہارت اور اس کے احکام و مسائلت اور اس کے احکام و مسائل - Book 2 of Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Book 2 of Sunnan Ibn e Maja, with 88 chapters and 298 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
It was narrated that Safinah said:
The Messenger of Allah used to perform ablution with a Mudd (of water) and bath with a Sa'.
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو فرماتے تھے، اور ایک صاع پانی سے غسل ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الحیض ۱۰ (۳۲۶)، سنن الترمذی/الطہارة ۴۲ (۵۶)، (تحفة الأشراف: ۴۴۷۹)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ۴۴ (۹۲)، مسند احمد (۵/۲۲۲)، سنن الدارمی/الطہارة ۲۲ (۶۹۴)
Explanation
صاع : ایک معروف شرعی پیمانہ ہے، یہاں مراد صاع نبوی یا صاع مدنی ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل اوزان سے تقریباً ڈھائی کلو گرام ہوتا ہے، اور مد : جو صاع نبوی کا چوتھا حصہ ہوتا ہے، جس کا وزن موجودہ مستعمل وزن سے تقریباً چھ سو پچیس (۶۲۵) گرام کے قریب ہوتا ہے۔
Abdullah bin Muhammed bin 'Aqil bin Abu Talib narrated from his father that his grandfather said:
The Messenger of Allah said: 'A Mudd is sufficient for the ablution and a Sa' is sufficient for the bath.' A man said: 'It is not sufficient for us.' He (the narrator) said: It was sufficient for one who is better than you and had more hair meaning the Prophet.
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں ایک مد اور غسل میں ایک صاع پانی کافی ہے ، اس پر ایک شخص نے کہا: ہمیں اتنا پانی کافی نہیں ہوتا، تو انہوں نے کہا: تم سے بہتر ذات کو، اور تم سے زیادہ بالوں والے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کافی ہو جاتا تھا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۰۱۵، ومصباح الزجاجة: ۱۱۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۲۷۰)
Explanation
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے گویا یہ بتلایا کہ ایک مد اور ایک صاع پانی کا کافی نہ ہونا دو ہی وجہ سے ہو سکتا ہے، ایک تو احتیاط اور تقوی، دوسرے بالوں کی کثرت، تو اللہ تعالیٰ کے رسول تم سے زیادہ متقی اور محتاط تھے، اور آپ ﷺ کے بال بھی تم سے زیادہ تھے، جب آپ کو اتنا پانی کافی تھا تو تم کو کافی کیوں نہیں، سوائے اس کے کہ تم شکی مزاج ہو یا وسوسہ کا شکار، کوئی اور وجہ تو ہے نہیں۔
It was narrated that Usamah bin 'Umair Al-Hudhali said:
The Messenger of Allah said: 'Allah does not accept any prayer without purification and He does not accept any charity from Ghulul.' (Sahih) Another chain with similar wording.
اسامہ بن عمیر ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر وضو کے قبول نہیں فرماتا، اور نہ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated that Ibn 'Umar said:
The Messenger of Allah said: 'Allah does not accept any prayer without purification, and He does not accept any charity from ghulul.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر پاکی ( وضو ) کے اور کوئی بھی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں کرتا ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الطہارة ۲ (۲۲۴)، سنن الترمذی/الطہارة ۱ (۱)، (تحفة الأشراف: ۷۴۵۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/ ۲۰، ۳۹، ۵۱، ۵۷، ۷۳)
It was narrated that Anas bin Malik said:
I heard the Messenger of Allah say: 'Allah does not accept any prayer without purification, and He does not accept any charity from Ghulul.'
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر پاکی ( وضو ) کے اور کوئی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں فرماتا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ۸۵۲، ومصباح الزجاجة: ۱۱۲)
It was narrated that Abu Bakrah said:
The Messenger of Allah said: 'Allah does not accept any Salat (prayer) without purification, and He does not accept any charity from Ghulul.'
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر پاکی ( وضو ) کے اور کوئی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں فرماتا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۱۶۶۸، ومصباح الزجاجة: ۱۱۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/ ۴۶)
Explanation
«غلول»: مال غنیمت میں خیانت کو کہتے ہیں، یہاں مطلق حرام مال مراد ہے، یعنی حرام مال سے دیا ہوا صدقہ اللہ کی رضامندی کا باعث نہیں ہوتا، اور نہ اس پر ثواب ملتا ہے۔
It was narrated from Muhammed bin Al-Hanafiyyah that his father said:
The Messenger of Allah said: 'The key to prayer is purification, its opening is to say 'Allahu Akbar' and its closing is to say As-salamu 'alaikum.'
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت ( وضو ) ہے، اور ( دوران نماز ممنوع چیزوں کو ) حرام کر دینے والی چیز تکبیر ( تحریمہ ) ہے، اور ( نماز سے باہر ) امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام ہے ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الطہارة ۳۱ (۶۱)، سنن الترمذی/الطہارة ۳ (۳)، (تحفة الأشراف: ۱۰۲۶۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۲۳)، سنن الدارمی/الطہارة ۲۱ (۷۱۳)
Explanation
تکبیر اولیٰ کہنے کے بعد وہ سارے افعال حرام ہو جاتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نماز میں حرام قرار دیا ہے، اور سلام پھیرنے کے بعد وہ سارے افعال حلال ہو جاتے ہیں، جنہیں نماز کے باہر اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that:
The Messenger of Allah said: The key to prayer is purification, its opening is to say Allahu Akbar and its closing is to say As-salamu 'alaikum.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی پاکی ( وضو ) ہے، اور اس کی منافی چیزیں پہلی تکبیر تحریمہ سے حرام ہو جاتی ہیں، اور اس ( یعنی نماز ) سے باہر امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام پھیرنا ہے ۱؎۔
«تحریم»: نماز کی حرمت میں دخول اور «تحلیل»: نماز کی حرمت سے خروج کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے، یعنی نماز میں داخلہ تکبیر ہی سے اور نماز سے خروج تسلیم ہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کا دروازہ بند ہوتا ہے بندہ اسے طہارت ہی سے کھول سکتا ہے، یعنی بغیر وضو اور طہارت کے نماز نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح نماز میں آدمی «اللہ اکبر» ہی کہہ کر داخل ہو سکتا ہے، اور «السلام علیکم» ہی کہہ کر اس سے باہر نکل سکتا ہے۔
It was narrated that Thawban said:
The Messenger of Allah said: 'Adhere to righteousness even though you will not be able to do all acts of virtue. Know that the best of your deeds is Salat (prayer) and that no one maintains his ablution except a believer.'
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو ۱؎، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکو گے، اور تم جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن کرتا ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۲۰۸۶، ومصباح الزجاجة: ۱۱۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۷۷، ۲۸۲)، سنن الدارمی/الطہارة ۲ (۶۸۱)
Explanation
راہ استقامت پر قائم رہو کا مطلب ہے کہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اسلام کے اوامر و نواہی پر جمے رہو، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے، اس لئے اس مرتبہ پر بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں کیونکہ یہ مشکل امر ہے۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:
The Messenger of Allah said: 'Adhere to righteousness even though you will not be able to do all acts of virtue. Know that among the best of your deeds is prayer and that no one maintains his ablution except a believer.'
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکتے، اور جان لو کہ تمہارا سب سے افضل عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۸۹۲۳، ومصباح الزجاجة: ۱۱۵)
It was narrated that Abu Umamah said, in a marfu' Hadith:
Adhere to righteousness and it is a blessing if you are able to do so. Know that the best of your deeds is prayer and that no one maintains his ablution except a believer.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم استقامت پر قائم رہو، اور کیا ہی بہتر ہے، اگر تم اس پر قائم رہ سکو، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۴۹۳۳، ومصباح الزجاجة: ۱۱۶)
It was narrated from Abu Malik Ash'ari that:
The Messenger of Allah said: Performing ablution properly is half of faith, saying Al-Hamdu Lillah fills the Scale (of good deeds), saying Subhan-Allah and Allahu Akbar fills the heavens and the earth, prayer is light, Zakat is proof, patience is brightness and the Qur'an is proof for you or against you. Every person goes out in the morning to sell his soul, so he either frees it or destroys it.'
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل وضو کرنا نصف ایمان ہے ۱؎، اور «الحمد لله» میزان کو ( ثواب سے ) بھر دیتا ہے، اور «سبحان الله»، «الله أكبر» آسمان و زمین کو ( ثواب سے ) بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے، اور زکاۃ برہان ( دلیل و حجت ) ہے، اور صبر ( دل کی ) روشنی ہے، اور قرآن دلیل و حجت ہے، ہر شخص صبح کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کو بیچنے والا ہوتا ہے، پھر وہ یا تو اسے ( جہنم سے ) آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کر دیتا ہے ۔
Takhreej
«سنن النسائی/الزکاة ۱ (۲۴۳۹)، (تحفة الأشراف: ۱۲۱۶۳)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ۱ (۲۲۳)، سنن الترمذی/الدعوات ۸۶ (۳۵۱۷)، مسند احمد (۵/۳۴۲، ۳۴۳)، سنن الدارمی/الطہارة ۲ (۶۷۹)
Explanation
وضو نصف (آدھا) ایمان ہے کیونکہ اس سے ظاہری طہارت حاصل ہوتی ہے، اور یہ طہارت نماز کے لئے شرط ہے اس لئے اسے آدھے ایمان یا آدھی نماز سے تعبیر کیا گیا اور باطنی طہارت ایمان و اقرار توحید سے حاصل ہوتی ہے، زکاۃ کی ادائیگی سے ایمان کی سچائی کا پتہ چلتا ہے، صبر باعث نور و ضیاء ہے، اور ممکن ہے صبر سے مراد یہاں روزہ ہو، کیونکہ شہوات کے توڑنے میں اس کی تاثیر قوی ہے، اور یہ دل کی نورانیت کا باعث ہوتا ہے، قرآن پر عمل کرنے سے نجات، اور اس کو چھوڑ دینے سے ہلاکت کا قوی اندیشہ ہے، ہر شخص اپنے کردار و عمل سے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لگا کر اس کو عذاب سے آزاد کرانے والا ہے، یا شیطان کی فرمانبرداری سے اس کے عذاب میں گرفتار کرنے والا ہے، اس حدیث سے حمد باری تعالیٰ اور تسبیح و تحمید کی فضیلت بھی معلوم ہوئی کہ اس کے اجر و ثواب سے اعمال کی میزان بھاری ہو جائے گی۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
The Messenger of Allah said: 'When anyone of you performs ablution and does it well, then he comes to the mosque for no other purpose than prayer, he does not take one step but Allah will raise him one degree (in status) thereby, and remove one sin from him thereby, until he enters the mosque.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی وضو کرتا ہے، اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، اور اس کے گھر سے نکلنے کا سبب صرف نماز ہی ہوتی ہے، تو اس کے ہر قدم کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۲۵۵۲ (ألف)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصلاة ۸۷ (۴۷۷)، سنن ابی داود/الصلاة ۵۲ (۵۶۴)، مسند احمد (۲/۲۵۲، ۴۷۵)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۷۷۴)
It was narrated from 'Abdullah As-Sunabihi that:
The Messenger of Allah said: Whoever performs ablution and rinses his mouth and nose, his sins will exit through his mouth and nose. When he washes his face, his sins will exit from his face, even from beneath his eyelids. When he washes his hands, his sins will exit from his hands. When he wipes his head, his sins will exit from his head, and even from his ears. When he washes his feet, his sins will exit from his feet, even from beneath his toenails. Then his prayer and walking towards the mosque will earn extra merit for him.
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تو اس کے گناہ ناک اور منہ سے نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنا منہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے منہ سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں پاؤں سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، اور اس کی نماز اور مسجد کی جانب اس کا جانا ثواب مزید کا باعث ہوتا ہے ۱؎
Takhreej
«سنن النسائی/الطہارة ۸۵ (۱۰۳)، (تحفة الأشراف: ۹۶۷۷)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ۶ (۳۰)، مسند احمد (۴/۳۴۸، ۳۴۹)
Explanation
اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں کیونکہ کبائر (گناہ کبیرہ) بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے، اسی طرح حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سے متعلق گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک ان کے حقوق کی ادائیگی نہ کر دی جائے، یا ان سے معاف نہ کرا لیا جائے، نیز اس حدیث سے گھر سے وضو کر کے مسجد میں جانے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
It was narrated that 'Amr bin 'Abasah said:
The Messenger of Allah said: 'When a person performs ablution and washes his hands, his sins exit through his hands. When he washes his face, his sins exit through his face. When he washes his forearms and wipes his head, his sins exit though his forearms and head. When he washes his feet, his sins exit through his feet.'
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ وضو کرتا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے ہاتھوں سے جھڑ جاتے ہیں، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے چہرے سے جھڑ جاتے ہیں، اور جب اپنے بازو دھوتا ہے اور سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ بازوؤں اور سر سے جھڑ جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے پاؤں سے جھڑ جاتے ہیں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۷۶۳)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ۵۲ (۸۳۲)، سنن النسائی/الطہارة ۱۰۸ (۱۴۷)، مسند احمد (۴/۱۱۲، ۱۱۳، ۱۱۴)
Abdullah bin Mas'ud said:
It was said: 'O Messenger of Allah, how will you recognize those whom you have not seen of your Ummah?' He said: 'From the blazes of their foreheads and feet, like horses with black and white traces (which make them distinct from others) which are the traces of ablution.' (Hasan) Another chain with similar wording.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو قیامت کے دن کیسے پہچانیں گے جن کو آپ نے دیکھا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانی، ہاتھ اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۹۲۲۵، ومصباح الزجاجة: ۱۱۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۴۰۳، ۴۵۱، ۴۵۳)
Explanation
یہ حدیث اس بات کی صریح علامت ہے کہ صحابہ کرام رسول اکرم ﷺ کو ہر وقت، ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں سمجھتے تھے، اور خود رسول اللہ کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا، ورنہ صحابہ یہ سوال کیوں کرتے اور آپ جواب یہ کیوں دیتے؟
Humran the freed slave of 'Uthman bin 'Affan said:
I saw 'Uthman bin 'Affan sitting in Maqa'id. He called for water and he performed ablution, the he said: 'I saw the Messenger of Allah sitting in this place where I am sitting, performing ablution as I have done. Then he said: Whoever performs ablution as I have done, his previous sins will be forgiven. And the Messenger of Allah said: And do not be conceited (due to this great virtue). (Sahih) Another chain with similar wording.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مسجد کے قریب چبوترے پہ بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے وضو کا پانی منگایا، اور وضو کیا، پھر کہنے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی بیٹھنے کی جگہ پر دیکھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس بشارت سے دھوکے میں نہ آ جانا ( کہ نیک اعمال چھوڑ دو ) ۔
Takhreej
«سنن النسائی/الطہارة ۶۸ (۸۴)، (تحفة الأشراف: ۹۷۹۲، ومصباح الزجاجة: ۱۱۸)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ۲۴ (۱۵۹)، ۲۸ (۱۶۴)، الصوم ۲۷ (۱۹۳۴)، صحیح مسلم/الطہارة ۳ (۲۲۶)، سنن ابی داود/الطہارة ۵۰ (۱۰۶) موطا امام مالک/الطہارة ۶ (۲۹)، مسند احمد (۱/۶۶)، سنن الدارمی/الطہارة ۲۷ (۷۲۰)، (اور ان میں «ولا تغتروا» کا لفظ نہیں ہے)
It was narrated that Hudhaifah said:
Whenever the Messenger of Allah got up for prayer at night to pray Tahajjud (night optional prayer), he would clean his mouth with the tooth stick.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے تو مسواک سے دانت و منہ صاف کرتے ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الوضوء ۷۳ (۲۴۵)، الجمعة ۸ (۸۸۹)، التھجد ۹ (۱۱۳۶)، صحیح مسلم/الطہارة ۱۵ (۲۵۵)، سنن ابی داود/الطہارة ۳۰ (۵۵)، سنن النسائی/الطہارة ۲ (۲)، (تحفة الأشراف: ۳۳۳۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۸۲، ۳۹۰، ۳۹۷، ۴۰۲، ۴۰۷)، سنن الدارمی/الطہارة ۲۰ (۷۱۲)