حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَتْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غُسْلِهِ فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ، ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ .
Umm Hani' bint Abu Talib narrated that :
When it was the year of the Conquest (of Makkah), the Messenger of Allah got up to perform a bath and Fatimah screened him. Then he took his garment and wrapped himself in it (such that it became like the towel used to dry oneself).
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہانے کا ارادہ کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ پر پردہ کئے رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہا کر اپنا کپڑا لیا، اور اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الغسل ۲۱ (۲۸۰)، الصلاة ۴ (۳۵۷)، الأدب ۹۴ (۶۱۵۸)، صحیح مسلم/الحیض ۱۶ (۳۳۶)، المسافرین ۱۳ (۳۳۶)، سنن الترمذی/الاستئذان ۳۴ (۲۷۳۴)، سنن النسائی/الطہارة ۱۴۳ (۲۲۶)، (تحفة الأشراف: ۱۸۰۱۸)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ۸ (۲۷)، مسند احمد (۶/۳۴۱، ۳۴۲، ۳۴۳، ۴۲۳، ۴۲۵)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۵۱ (۱۴۹۳)
Explanation
یہ کپڑا بدن کا پانی خشک کرنے کے لئے تولئے کے طور پر تھا۔
465
Sahih