حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ، لَرَجَمْتُ فُلَانَةَ، فَقَدْ ظَهَرَ فِيهَا الرِّيبَةُ فِي مَنْطِقِهَا وَهَيْئَتِهَا، وَمَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا .
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“If I were to stone anyone without proof, I would have stoned so-and-so, for there is obviously doubt concerning her speech, her appearance and those who enter upon her.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو فلاں عورت کو کرتا، اس لیے کہ اس کی بات چیت سے اس کی شکل و صورت سے اور جو لوگ اس کے پاس آتے ہیں اس سے اس کا فاحشہ ہونا ظاہر ہو چکا ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۸۷۷، ومصباح الزجاجة:۹۰۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق ۳۱ (۵۳۱۰)،۳۶ (۵۳۱۶)، الحدود ۴۳ (۶۸۵۶)، صحیح مسلم/اللعان ۱ (۱۴۹۷)، سنن النسائی/الطلاق ۳۶ (۳۴۹۷)، مسند احمد (۱/۳۳۵،۳۵۷،۳۶۵)
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی عورت کا فاحشہ ہونا معلوم ہو، تو بھی اس کو زنا کی حد نہیں لگا سکتے جب تک کہ اس کی طرف سے جرم کا اعتراف و اقرار نہ ہو، یا چار آدمیوں کی گواہی کا ثبوت نہ ہو۔
2559
Sahih