حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ، فَيُصَابُ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، قَالَ: هُمْ مِنْهُمْ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:
“Sa’b bin Jaththamah said: ‘The Prophet (ﷺ) was asked about the polytheists who are attacked at night, and their women and children are killed.’ He said: ‘They are from among them.’”
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مشرکین کی آبادی پر شبخون مارتے ( رات میں حملہ کرتے ) وقت عورتیں اور بچے بھی قتل ہو جائیں گے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی انہیں میں سے ہیں ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الجہاد ۱۴۶ (۳۰۱۲)، صحیح مسلم/الجہاد ۹ (۱۷۸۵)، سنن الترمذی/السیر ۱۹ (۱۵۷۰)، سنن ابی داود/الجہاد ۱۲۱ (۲۶۷۲)،(تحفة الأشراف:۴۹۳۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۸،۷۱،۷۲،۷۳)
Explanation
یہ آمادئہ جنگ اور دشمنی پر اصرار کرنے والے اور اسلام کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگانے والوں پر رات کے حملہ کا مسئلہ ہے، جن تک اسلام کی دعوت سالہا سال تک اچھی طرح سے پہنچانے کا انتظام کیا گیا، اب آخری حربہ کے طور پر ان کے قلع قمع کا ہر دروازہ کھلا ہوا ہے، اور ان کے ساتھ رہنے والی آبادی میں موجود بچوں اور عورتوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو یہ بدرجہ مجبوری ہے اس لئے کوئی حرج نہیں ہے۔
2839
Sahih