TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سمندری جہاد کی فضیلت - سمندری جہاد کی فضیلت - The chapters on jihad - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 10 of The chapters on jihad in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 46 · 3 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ حَبَّانَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَبْتَسِمُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَعَا لَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَجَابَهَا مِثْلَ جَوَابِهِ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيَةً أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزَاتِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا الشَّامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ.
It was narrated from Anas bin Malik that his maternal aunt Umm Harim bint Milhan said: “The Messenger of Allah (ﷺ) slept near me one day, then he woke up smiling. I said: ‘O Messenger of Allah, what has made you smile?’ He said: ‘People of my nation who were shown to me (in my dream) riding across this sea like kings on thrones.’ I said: ‘Supplicate to Allah to make me one of them.’” So he prayed for her. Then he slept again, and did likewise, and she said the same as she said before, and he replied in the same manner. She said: “Pray to Allah to make me one of them,” and he said: “You will be one of the first ones.” He said: “Then she went out with her husband, ‘Ubadah bin Samit, as a fighter, the first time that the Muslims crossed the sea with Mu’awiyah bin Abu Sufyan. On their way back, after they had finished fighting, they stopped in Sham. An animal was brought near for her to ride it, but it threw her off, and she died.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز میرے قریب سوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے لائے گئے جو اس سمندر کے اوپر اس طرح سوار ہو رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں ، ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ سے آپ دعا کر دیجئیے کہ وہ مجھے بھی ان ہی لوگوں میں سے کر دے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرما دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سو گئے، پھر ویسے ہی ہوا، آپ اٹھے تو ہنستے ہوئے، اور ام حرام رضی اللہ عنہا نے وہی پوچھا جو پہلی بار پوچھا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہی جواب دیا جو پہلی بار دیا تھا، اس بار بھی انہوں نے عرض کیا: آپ اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ وہ مجھے بھی انہی لوگوں میں سے کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو ۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جہاد کے لیے نکلیں، یہ پہلا موقع تھا کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ مسلمان بحری جہاد پر گئے تھے چنانچہ جب لوگ جہاد سے لوٹ رہے تھے تو شام میں رکے، ام حرام رضی اللہ عنہا کی سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا، جس نے انہیں گرا دیا، اور وہ فوت ہو گئیں ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الجہاد ۳ (۲۷۸۸)،۸ (۲۷۹۹)،۶۳ (۲۸۷۷)،۷۵ (۲۸۹۴)،۹۳ (۲۹۲۴)، الاستئذان ۴۱ (۶۲۸۲)، التعبیر ۱۲ (۷۰۰۱)، صحیح مسلم/الإمارة ۴۹ (۱۹۱۲)، سنن ابی داود/الجہاد ۱۰ (۲۴۹۰،۲۴۹۲)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ۱۵ (۱۶۴۵)، سنن النسائی/الجہاد ۴۰ (۳۱۷۴)،(تحفة الأشراف:۱۸۳۰۷)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد ۱۸ (۳۹)، مسند احمد (۳/۲۶۴،۶/۳۶۱،۴۲۳،۴۳۵)، سنن الدارمی/الجہاد ۲۹ (۲۴۶۵)
Explanation
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کے کئی معجزے مذکور ہیں: ایک تو اس بات کی پیش گوئی کہ اسلام کی ترقی ہو گی، دوسرے مسلمان سمندر میں جا کر جہاد کریں گے، تیسرے ام حرام رضی اللہ عنہا بھی ان مسلمانوں کے ساتھ ہوں گی اور اس وقت تک زندہ رہیں گی، چوتھے پھر ام حرام رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو جائے گا اور دوسرے لشکر میں شریک نہیں ہو سکیں گی، یہ سب باتیں جو آپ ﷺ نے فرمائی تھیں پوری ہوئیں، اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی کھلی دلیلیں ہیں جو شخص نبی نہ ہو وہ ایسی صحیح پیشین گوئیاں نہیں کر سکتا، سب قوموں سے پہلے عرب کے مسلمانوں نے ہی سمندر میں بڑے بڑے سفر شروع کئے اور علم جہاز رانی میں وہ ساری قوموں کے استاد بن گئے، مگر افسوس ہے کہ گردش زمانہ سے اب یہ حال ہو گیا کہ عرب تمام علوم میں دوسر ی قوموں سے پیچھے رہ گئے ہیں، اور جو لوگ جاہل اور کم علم تھے یعنی یورپ کے لوگ وہ تمام جہاں کے لوگوں سے دنیاوی علوم و فنون میں سبقت لے گئے ہیں: «وتلك الأيام نداولها بين الناس» (سورة آل عمران: 140) اب بھی اگر مسلمانوں کی ترقی منظور ہے تو عربوں میں علوم اور فنون پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے، اور ان کو تمام جنگی علوم و فنون کی تعلیم دینا چاہئے، جب عرب پھر علوم میں ماہر ہو جائیں گے تو دنیا کی تمام اقوام کو ہلاکر رکھ دیں گے، یہ شرف اللہ تعالی نے صرف عربوں ہی کو دیا ہے۔ واضح رہے کہ ام حرام بنت ملحان انصاریہ رضی اللہ عنہا انس بن مالک کی خالہ ہیں، ان کی شادی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی جن کے ساتھ وہ اس جہاد میں شریک ہوئیں اور سمندر کا سفر کیا بعد میں ایک جانور کی سواری سے گر کر انتقال ہوا اور قبرص میں دفن ہوئیں، یہ جنگ عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں سن ۲۷ ہجری میں واقع ہوئی،ابوذر اور ابوالدرداء وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس جنگ میں شریک تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ فاختہ بنت قرظہ رضی اللہ عنہا بھی اس جنگ میں شریک تھیں۔
2776
Sahih
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ غَزْوَةٌ فِي الْبَحْرِ مِثْلُ عَشْرِ غَزَوَاتٍ فِي الْبَرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي يَسْدَرُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ .
It was narrated from Abu Darda’ that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A military expedition by sea is like ten expeditions by land. The one who suffers from seasickness is like one who gets drenched in his own blood in the cause of Allah.”
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بحری ( سمندری ) جہاد دس بری جہادوں کے برابر ہے، اور سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے خون میں لوٹ رہا ہو ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۰۰۱، ومصباح الزجاجة:۹۸۴)
2777
Zaeef
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ الشَّامِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْسُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ شَهِيدُ الْبَحْرِ مِثْلُ شَهِيدَيِ الْبَرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي الْبَرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا بَيْنَ الْمَوْجَتَيْنِ كَقَاطِعِ الدُّنْيَا فِي طَاعَةِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ بِقَبْضِ الْأَرْوَاحِ إِلَّا شَهِيدَ الْبَحْرِ فَإِنَّهُ يَتَوَلَّى قَبْضَ أَرْوَاحِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَيَغْفِرُ لِشَهِيدِ الْبَرِّ الذُّنُوبَ كُلَّهَا إِلَّا الدَّيْنَ، ‏‏‏‏‏‏وَلِشَهِيدِ الْبَحْرِ الذُّنُوبَ وَالدَّيْنَ .
It was narrated that Sulaim bin ‘Amr said: I heard Abu Umamah saying: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “The martyr at sea is like two martyrs on land, and the one who suffers seasickness is like one who gets drenched in his own blood on land. The time spent between one wave and the next is like a lifetime spent in obedience to Allah. Allah has appointed the Angel of Death to seize souls, except for the martyr at sea, for Allah Himself seizes their souls. He forgives the martyrs on land for all sins except debt, but (He forgives) the martyr at sea all his sins and his debt.”
ابواسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: سمندر کا شہید خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے، سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ خشکی میں اپنے خون میں لوٹنے والے کی مانند ہے، اور ایک موج سے دوسری موج تک جانے والا اللہ کی اطاعت میں پوری دنیا کا سفر کرنے والے کی طرح ہے، اللہ تعالیٰ نے روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت ( عزرائیل ) کو مقرر کیا ہے، لیکن سمندر کے شہید کی جان اللہ تعالیٰ خود قبض کرتا ہے، خشکی میں شہید ہونے والے کے قرض کے علاوہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، لیکن سمندر کے شہید کے قرض سمیت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۸۷۲، ومصباح الزجاجة:۹۸۵)
2778
Zaeef

Chapters

46
01
اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت
2 Hadith
02
اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت
3 Hadith
03
مجاہد کو سامان جہاد فراہم کرنے کی فضیلت
2 Hadith
04
اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
2 Hadith
05
جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان
2 Hadith
06
جو شخص عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
07
اللہ کے راستے میں مورچہ بندی کی فضیلت
3 Hadith
08
اللہ کی راہ میں پہرہ داری اور تکبیر کی فضیلت
3 Hadith
09
عام اعلان جہاد کے وقت فوراً نکلنے کا بیان
4 Hadith
10
سمندری جہاد کی فضیلت
3 Hadith
11
دیلم کا ذکر اور قزوین کی فضیلت
2 Hadith
12
ماں باپ کی زندگی میں جہاد کرنے کا حکم
2 Hadith
13
جہاد کی نیت کا بیان
3 Hadith
14
اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے رکھنے کا ثواب
6 Hadith
15
اللہ کی راہ میں لڑنے کا ثواب
6 Hadith
16
اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت
5 Hadith
17
شہادت کی انواع و اقسام کا بیان
2 Hadith
18
اسلحہ کا بیان
6 Hadith
19
اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان
5 Hadith
20
(جنگ میں) بڑے اور چھوٹے جھنڈوں کے استعمال کا بیان
3 Hadith
21
جنگ میں حریر و دیبا (ریشمی کپڑوں) کے پہننے کا بیان
2 Hadith
22
جنگ میں عمامہ (پگڑی) پہننے کا بیان۔
2 Hadith
23
جنگ میں خرید و فروخت کا بیان
1 Hadith
24
غازیوں کو الوداع کہنے (رخصت کرنے) کا بیان
3 Hadith
25
سریہ (فوجی دستوں) کا بیان
3 Hadith
26
کفار و مشرکین کی ہانڈیوں (برتنوں) میں کھانے کا بیان
2 Hadith
27
جنگ میں کفار و مشرکین سے مدد لینے کا بیان
1 Hadith
28
جنگ میں دھوکہ اور فریب کا بیان۔
2 Hadith
29
دشمن کو دعوت مبارزت دینے (مقابلے کے لیے للکارنے) اور سامان جنگ لوٹنے کا بیان
4 Hadith
30
دشمن پر حملہ کرنے، شبخون (رات میں چھاپہ) مارنے، ان کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے احکام کا بیان
4 Hadith
31
دشمن کی سر زمین کو آگ لگانے کا بیان
3 Hadith
32
(جنگی) قیدیوں کو فدیہ میں دینے کا بیان
1 Hadith
33
دشمن نے مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیا پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے اور وہی مال ان کے ہاتھ لگ گیا تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
34
مال غنیمت میں خیانت اور چوری کا بیان۔
3 Hadith
35
مال غنیمت میں سے ہبہ کرنے کا بیان۔
3 Hadith
36
مال غنیمت کی تقسیم کا بیان
1 Hadith
37
مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں غلام اور عورتوں کی شرکت
2 Hadith
38
مجاہدین کو امام اور حاکم کی وصیت
2 Hadith
39
امام کی اطاعت و فرماں برداری کا بیان
4 Hadith
40
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہ کرنے کا بیان
3 Hadith
41
بیعت کا بیان
4 Hadith
42
بیعت پوری کرنے کا بیان
4 Hadith
43
عورتوں کی بیعت کا بیان
2 Hadith
44
گھوڑ دوڑ میں مقابلہ کا بیان
3 Hadith
45
دشمن کے ملک میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت
2 Hadith
46
(مال غنیمت میں سے) خمس کی تقسیم کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.