TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2757 - اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت - The chapters on jihad - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Going out in the morning in the cause of Allah, or in the evening, is better than the world and what is in it.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ( کا وقت گزارنا ) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔
2757
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 24, Hadith 2757 Arabic reference : Book 24, Hadith 2862
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۷۲۶)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ۵ (۲۷۹۲)، صحیح مسلم/الإمارة ۳۰ (۱۸۸۰)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ۱۷ (۱۶۵۱)

Related Chapters

2,749
1
(5) CHAPTER. To proceed in Allah's Cause in the forenoon and in the afternoon. A place in Paradise as small as the bow of one of you (is better than the world and whatever is in it).
اللہ کے راستے میں صبح و شام چلنے کی اور جنتمیں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت
Sahih Bukhari
2
Chapter: The virtue of going out in the morning or the evening in the cause of Allah
صبح کو یا شام کو اللہ کی راہ میں سفر کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
3
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Spending In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Developing Gray Hair In Allah's Cause
باب: اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جانے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Archery In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں تیر پھینکنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Going Out In The Morning And The Afternoon In The Cause Of Allah
باب: جہاد میں گزرنے والے صبح و شام کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
8
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
9
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
10
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
Musnad Ahmad
11
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
Musnad Ahmad
12
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سربراہی میں ملک شام کی طرف لشکر کی تیاری
Musnad Ahmad
13
(37) CHAPTER. The superiority of going to the mosque (every) morning and in the afternoon and evening [for the congregational Salat (prayers)].
مسجد میں صبح اور شام آنے جانے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
14
(5) CHAPTER. To spend money in the right way.
اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
15
(28) CHAPTER. (What about) a disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed (in Allah's Cause)?
کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے ‘ اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
16
(37) CHAPTER. The superiority of spending in Allah's Cause (i.e., for Jihad).
اللہ کی راہ ( جہاد میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
17
Chapter: The Virtue of Fasting for in the cause of Allah, for those who are able to without suffering any harm or neglecting other duties
اس شخص کےلیے اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت جو نقصان اور حق کو ضائع کیے بغیر ‘اس کی طاقت رکھتا ہو
Sahih Muslim
18
Chapter: The virtue of Jihad and going out (to fight) in the cause of Allah
جہاد اور اللہ کی راہ میں نکلنے کی فضیلت
Sahih Muslim
19
Chapter: The virtue of Martyrdom in the cause of Allah
اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے کی فضیلت
Sahih Muslim
20
Chapter: The virtue of Charity in the Cause of Allah, and its Manifold reward
اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے صدقہ کرنے کی فضیلت اور اس کے اجر میں کئی گنا اضافہ
Sahih Muslim
21
CHAPTER: Regarding The Virtue Of Keeping Watch In The Cause Of Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ کی راہ میں پہرہ دینے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
23
اللہ کی راہ میں پہرہ داری اور تکبیر کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
24
اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
25
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں صبح سویرے نکلنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
Chapter: What Has Been Related About It's Being Disliked To Raise The Hand When One Sees the House (Ka'bah)
باب: بیت اللہ (کعبہ) کو دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Ride Behind The Funeral
باب: جنازے کے پیچھے سواری پر چلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Tread On Graves, Sit On Them, (And Pray Towards Them)
باب: قبروں پر چلنے، ان پر بیٹھنے اور ان کی طرف نماز پڑھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The One Whose Two Feet Became Dusty In The Cause Of Allah
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں غبار آلود قدموں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Excellence Of Martyrs With Allah
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہیدوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About One Who Is Wounded In Allah's Cause
باب: اللہ کی راہ میں زخمی ہونے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About One Who Is Martyred While In Debt
باب: اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے پر قرض ہو تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Walk In One Sandal
باب: ایک جوتا پہن کر چلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About A Smiling And Cheerful Face
باب: خوش مزاجی اور مسکراہٹ سے ملنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Whoever Dies While He Bears Witness To La Ilaha Illallah
باب: موت کے وقت لا إلہ إلا اللہ کی گواہی دینے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Repentance, And Seeking Forgiveness, And What Has Been Mentioned Of Allah’s Mercy To His Slaves
باب: توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
39
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
41
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
42
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
43
وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
44
دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
45
سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
46
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
47
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
Musnad Ahmad
48
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
49
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
Musnad Ahmad
50
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,045
Sahih Muslim
4293
وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَو، قَالَ حَفْصٌ مِنْ بَيْنِهِمْ: عَنْ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ وَالثَّقَفِيُّ، فَفِي حَدِيثِهِمَا اعْتِكَافُ لَيْلَةٍ، وَأَمَّا فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَقَالَ: جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ حَفْصٍ ذِكْرُ يَوْمٍ وَلَا لَيْلَةٍ
This hadith is transmitted on the authority of Ibn Umar with a slight variation of words.
ابواسامہ ، عبدالوہاب ثقفی ، حفص بن غیاث اور شعبہ ، ان سب نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ان میں سے حفص نے کہا : ( یہ حدیث ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، ابواسامہ اور ثقفی کی حدیث میں ایک رات اعتکاف کرنے کا تذکرہ ہے اور شعبہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا : دن کے اعتکاف کی نذر مانی ۔ حفص کی حدیث میں دن یا رات کا ذکر نہیں ہے
Sunnan Ibn e Maja
2075
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ مُغِيثٌ، ‏‏‏‏‏‏كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا وَيَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى خَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ:‏‏‏‏ يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ رَاجَعْتِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏تَأْمُرُنِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَشْفَعُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The husband of Barirah was a slave called Mughith. It is as if I can see him now, walking behind her and weeping, with tears running down his cheeks. The Prophet (ﷺ) said to 'Abbas: 'O Abbas, are you not amazed by the love of Mughith for Barirah, and the hatred of Barirah for Mughith?' And the Prophet said to her: Why don’t you take him back, for he is the father of your child?' She said: 'O Messenger of Allah, are you commanding me (to do so)?' He said: 'No, rather I am interceding.' She said: 'I have no need of him.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا اس کو مغیث کہا جاتا تھا، گویا کہ میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پھر رہا ہے، اور رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کے گالوں پہ بہہ رہے ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ سے فرما رہے ہیں: عباس! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور مغیث سے بریرہ کی نفرت پہ تعجب نہیں ہے ؟ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کاش تو مغیث کے پاس لوٹ جاتی، وہ تیرے بچے کا باپ ہے ، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں ، تو وہ بولی: مجھے مغیث کی کوئی ضرورت نہیں۔
Sunnan Ibn e Maja
4027
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ،‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ كُسِرَتْ رَبَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشُجَّ،‏‏‏‏ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ،‏‏‏‏ وَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ،‏‏‏‏ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ،‏‏‏‏ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ،‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128 .
It was narrated that Anas bin Malik said: On the Day of Uhud, a molar of the Messenger of Allah (ﷺ) was broken and he was wounded. Blood started pouring down his face, and he started to wipe his face and say: “How can any people prosper if they soak the face of their Prophet with blood when he is calling them to Allah?” Then Allah revealed: “Not for you is the decision.”[3:128]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا، اور سر زخمی ہو گیا، تو خون آپ کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو اپنے چہرہ سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا ہو، حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شيء» اے نبی! آپ کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہے ( سورة آل عمران: 128 ) ۔
Jam e Tirmazi
1378
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ،‏‏‏‏ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ،‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ قَالُوا لَهُ:‏‏‏‏ أَنْ يُحْيِيَ الْأَرْضَ الْمَوَاتَ بِغَيْرِ إِذْنِ السُّلْطَانِ،‏‏‏‏ وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْيِيَهَا إِلَّا بِإِذْنِ السُّلْطَانِ،‏‏‏‏ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ جَدِّ كَثِيرٍ،‏‏‏‏ وَسَمُرَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَبَا الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيَّ عَنْ قَوْلِهِ:‏‏‏‏ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ الْعِرْقُ الظَّالِمُ:‏‏‏‏ الْغَاصِبُ الَّذِي يَأْخُذُ مَا لَيْسَ قُلْتُ:‏‏‏‏ هُوَ الرَّجُلُ الَّذِي يَغْرِسُ فِي أَرْضِ غَيْرِهِ. قَالَ:‏‏‏‏ هُوَ ذَاكَ.
Narrated Sa'eed bin Zaid: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever revives a barren land then it is for him, and there is no right for the unjust root.
سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی بنجر زمین ( جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو ) آباد کی تو وہ اسی کی ہے کسی ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز ہے، ۴- بعض علماء کہتے ہیں: حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز نہیں ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، ۵- اس باب میں جابر، کثیر کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور سمرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۶- ہم سے ابوموسیٰ محمد بن مثنی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوولید طیالسی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «وليس لعرق ظالم حق» کا مطلب پوچھا، انہوں نے کہا: «العرق الظالم» سے مراد وہ غاصب ہے جو دوسروں کی چیز زبردستی لے۔ میں نے کہا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسرے کی زمین میں درخت لگائے؟ انہوں نے کہا: وہی شخص مراد ہے۔
Jam e Tirmazi
1647
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ:‏‏‏‏ يَنْبَغِي أَنْ نَضَعَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كُلِّ بَابٍ.
Narrated 'Umar bin Al-Khattab: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Deeds are but with intentions, and for the man is only what he intended. So one whose emigration was to Allah and His Messenger, then his emigration was to Allah and His Messenger. And one whose emigration was to the world, to attain some of it, or woman, to marry her, then his emigration was to what he emigrated. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Malik bin Anas, Sufyan Ath-Thawri and more than one of the A'immah narrated this Hadith from Yahya bin Sa'eed. And we do not know of it except as a narration from Yahya bin Sa'eed Al-Ansari. 'Abdur Rahman bin Mahdi said: It is necessary that we put this Hadith in every chapter.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے، آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے مانی جائے گی اور جس نے حصول دنیا یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک بن انس، سفیان ثوری اور کئی ائمہ حدیث نے اسے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن سعید انصاری ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: ہمیں اس حدیث کو ہر باب میں رکھنا چاہیئے۔
Jam e Tirmazi
1871
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ تُوكَأُ فِي أَعْلَاهُ لَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً وَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً وَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا.
Narrated 'Aishah: We would prepare Nabidh for the Messenger of Allah (ﷺ) in a water-skin which was fastened at the top and it has a small hole. We would prepare Nabidh in it during the morning, and drink it during the evening. And we would prepare Nabidh in it during the evening and drink it during the morning. He said: There are narrations on this topic from Jabir, Abu Sa'eed, and Ibn 'Abbas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib, we do not know of it as a narration of Yunus bin 'Ubaid except through this route. This Hadith has also been reported through routes other than this from 'Aishah.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشک میں نبیذ بناتے تھے، اس کے اوپر کا منہ بند کر دیا جاتا تھا، اس کے نیچے ایک سوراخ ہوتا تھا، ہم صبح میں نبیذ کو بھگوتے تھے تو آپ شام کو پیتے تھے اور شام کو بھگوتے تھے تو آپ صبح کو پیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے یونس بن عبید کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- اس باب میں جابر، ابوسعید اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
2602
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ «تَصَدَّقْ، تَصَدَّقْ» وَلَا قَوْلُهُ: نَهَارًا
Abbad b. Abdullah b. Zubair narrated that he heard 'A'isha (Allah be pleased with her) saying: A person came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and he then narrated the hadith. But (neither these words are found): Give charity, give charity (nor) his words: during the day time .
محمد بن مثنیٰ ، عبدالوہاب ثقفی ، یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پھر حدیث ذکر فرمائی اور اس میں صدقہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی دن کا ذکر ہے ۔
Sahih Muslim
3119
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، فَأَذِنَ لَهَا» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «فَلَيْتَنِي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ» وَكَانَتْ عَائِشَةُ «لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ»
A'isha (Allah be pleased with her) reported that (hadrat) Sauda was a bulky lady, so she sought permission from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to proceed from Muzdalifa (to Mina) in the (latter part of the) night. He granted her permission. 'A'isha said: I wish I had also sought permission from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as Sauda had. sought permission from him. 'A'isha did not proceed but with the Imam.
ایوب نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے قاسم سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بڑی ( اور ) بھاری جسم والی خاتون تھیں ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے روانہ ہوجایئں ، تو آپ نے انھیں اجازت دے دی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کاش جیسے سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( صبح کو باقی لوگوں کی طرح ) امیر ( حج ) کے ساتھ ہی واپس لوٹا کرتی تھیں ۔
Sahih Muslim
3737
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَابْنِ دِينَارٍ، وَزَادَ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
Safiyya bint Abu 'Ubaid reported that she heard Hafsa daughter of Umar (Allah be pleased with them), (and) wife of Allah's Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), narrating a hadith like this from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and she made this addition: She should abstain from adorning herself (in case of the death of her husband) for four months and ten days.
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں : میں نے نافع سے سنا ، وہ صفیہ بنت ابوعبید سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہی تھیں ۔ ۔ ۔ جس طرح لیث اور ابن دینار کی حدیث ہے ۔ اور یہ اضافہ کیا : " وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی