TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3059 - طواف زیارت کا بیان - Chapters on hajj rituals - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
طواف زیارت کا بیان
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَارِقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ .
It was narrated from ‘Aishah and Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) delayed Tawafuz-Ziyarah until nighttime.
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر فرمائی ۱؎۔
3059
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 25, Hadith 3059 Arabic reference : Book 25, Hadith 3175
(اس حدیث کی سند میں ابو الزبیر مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ترمذی اور منذری نے اس حدیث کی تحسین کی ہے، اور ابن القیم نے اس کو وہم کہا ہے، اور البانی صاحب نے شاذ کا حکم لگایا ہے، اس لیے کہ صحیح ترین احادیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارہ (افاضہ) زوال کے بعد کیا تھا، ملاحظہ ہو: الإرواء:۴/ ۳۶۴ - ۳۶۵ و ضعیف أبی داود:۳۴۲)
Conclusion
تخریج
«حدیث ابن عباس أخرجہ: صحیح البخاری/ الحج ۱۲۹ (۱۷۳۲ تعلیقاً)، سنن ابی داود/المناسک ۸۲ (۲۰۰۰)، سنن الترمذی/الحج ۸۰ (۹۲۰)،(تحفة الأشراف:۶۴۵۲،۱۷۵۹۴)، حدیث عائشہ تقدم تخریجہ في حدیث ابن عباس، وحدیث طاوس تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۸۸۴۵، ومصباح الزجاجة:۱۰۶۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۸۸)
Explanation
شرح و تفصیل
دسویں تاریخ کے طواف کو طواف زیارت یا طواف افاضہ کہتے ہیں۔

Related Chapters

132
1
Chapter: What Has Been Related About Using Perfume When Ending Ihram Before The Visiting
باب: طواف زیارت سے پہلے احرام کھولتے وقت خوشبو لگانے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Visiting Tawaf During The Night
باب: طواف زیارت رات میں کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
4
Chapter: What Has Been Related [About] 'Whoever Visits A People, He Does Not Lead Them In Salat'
باب: جو کسی قوم کی زیارت کرے تو وہ ان کی امامت نہ کرے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About How To Perform Tawaf
باب: طواف کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Prophet While Performed Tawaf Mudtabi'an
باب: احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے کر کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Riding For Tawaf
باب: سواری پر طواف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Tawaf
باب: طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Salat After Asr (And After Subh) Regarding One Who Performed Tawaf
باب: طواف کے بعد کی دو رکعت کو عصر کے بعد اور فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About What It To Be Recited During The Two Rak'ah (After) Tawaf
باب: طواف کی دو رکعت میں کون سی سورت پڑھے؟
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Perform Tawaf While Naked
باب: ننگے طواف کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About A Woman Whose Menses Begin After Al-Ifadah
باب: طواف افاضہ کے بعد عورت کو حیض آ جائے تو کیا ہو گا؟
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Whoever Performs Hajj Or Umrah Them Let The Last Of His Acts Be At The House
باب: حج یا عمرہ کرنے والے کا آخری کام بیت اللہ (کعبہ) کا طواف ہونا چاہئے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About: The Qarin Performs One Tawaf
باب: قارن کے ایک ہی طواف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Talking During Tawaf
باب: طواف کرتے وقت بات چیت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Visit The Graves
باب: قبروں کی زیارت کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What has been related about it being disliked for women to visit the graves
باب: عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Visiting Brothers
باب: دوست و احباب کی زیارت اور ان سے ملاقات کا بیان
Jam e Tirmazi
19
بَاب زِيَارَة الْقُبُور
قبروں کی زیارت کا بیان
Mishkat
20
بَاب دُخُول مَكَّة وَالطّواف
مکہ میں داخل ہونے اور طواف کرنے کے آداب کا بیان
Mishkat
21
اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے
Musnad Ahmad
22
قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کا بیان
Musnad Ahmad
23
اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت کے موقع کیا کہا جائے او رکیا میت، زندہ کی بات سنتا ہے؟
Musnad Ahmad
24
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
Musnad Ahmad
25
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
Musnad Ahmad
26
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
Musnad Ahmad
27
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
28
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
Musnad Ahmad
29
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
30
حج افراد کرنے والے کا طواف
Musnad Ahmad
31
حج قران کرنے والے کا طواف
Musnad Ahmad
32
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
Musnad Ahmad
33
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
35
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
Musnad Ahmad
36
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
Musnad Ahmad
37
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
38
طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
Musnad Ahmad
39
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
40
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
41
(7) CHAPTER. A menstruating woman should perform all the ceremonies of Hajj except the Tawaf around the Kabah.
اس بارے میں کہ حائضہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج کے باقی ارکان پورا کرے گی
Sahih Bukhari
42
(27) CHAPTER. If a woman gets her menses after Tawaf-al-Ifada.
جو عورت ( حج میں ) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو ( اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ )
Sahih Bukhari
43
(31) CHAPTER. Visiting the graves.
قبروں کی زیارت کرنا
Sahih Bukhari
44
(56) CHAPTER. The touching (and kissing) of the Black Stone on reaching Makkah during the first round of Tawaf of the Kabah, and doing Ramal in the first three rounds (of Tawaf).
جب کوئی مکہ میں آئے تو پہلے حجراسود کو چومے طواف شروع کرتے وقت اور تین پھیروں میں رمل کرے
Sahih Bukhari
45
(63) CHAPTER. Whoever performed Tawaf of the Kabah on reaching Makkah before going to his house then offered two Raka and then went towards As-Safa.
جو شخص ( حج یا عمرہ کی نیت سے ) مکہ میں آئے تو اپنے گھر لوٹ جانے سے پہلے طواف کرے پھر دوگانہ طواف ادا کرے پھر صفا پہاڑ پر جائے
Sahih Bukhari
46
(64) CHAPTER. The Tawaf of women and men.
عورتیں بھی مردوں کے ساتھ طواف کریں
Sahih Bukhari
47
(65) CHAPTER. The permissibility of talking during the Tawaf of the Kabah.
طواف میں باتیں کرنا
Sahih Bukhari
48
(66) CHAPTER. Whoever saw a string or something like that during the Tawaf and disliked it and cut it.
جب طواف میں کسی کو باندھا دیکھے یا کوئی اور مکروہ چیز تو اس کو کاٹ سکتا ہے
Sahih Bukhari
49
(67) CHAPTER. It is neither permissible for a naked person to perform Tawaf of the Kabah nor for a Mushrik [polytheist, pagan, idolater, and disbeliever in the Oneness of Allah and in His Messenger Muhammad ] to perform Hajj.
بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا آدمی نہیں کر سکتا اور نہ کوئی مشرک حج کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
50
(69) CHAPTER. The Prophet offered a two Raka prayer after his seven round (of Tawaf of the Kabah).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کے ساتھ چکروں کے بعد دو رکعتیں پڑھنا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

901
Jam e Tirmazi
920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَنْ يُؤَخَّرَ طَوَافُ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَحَبَّ بَعْضُهُمْ أَنْ يَزُورَ يَوْمَ النَّحْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَوَسَّعَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُؤَخَّرَ وَلَوْ إِلَى آخِرِ أَيَّامِ مِنًى
Aishah narrated: The Prophet delayed the visiting Tawaf until the night.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲؎، ۲- بعض اہل علم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے۔ اور بعض نے دسویں ذی الحجہ کو طواف زیارت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، لیکن بعض نے اُسے منیٰ کے آخری دن تک مؤخر کرنے کی گنجائش رکھی ہے۔
Jam e Tirmazi
351
حدیث نمبر: 351 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا، ‏‏‏‏‏‏لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُ مَا كَانَ وَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرِهَا.
Jabir narrated: The Prophet dispatched me for something he needed. I came to him while he was performing Salat on his mount, heading east, he made the prostrations lower than the bowing.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو ( دیکھا کہ ) آپ اپنی سواری پر مشرق ( پورب ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی جابر سے مروی ہے، ۲- اس باب میں انس، ابن عمر، ابوسعید، عامر بن ربیعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر بیشتر اہل علم کے نزدیک عمل ہے، ہم ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے، یہ لوگ آدمی کے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، خواہ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف ہو۔
Jam e Tirmazi
1349
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ عَنْ سَمُرَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا،‏‏‏‏ أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏ وَمُعَاوِيَةَ.
Samurah narrated that the Prophet (ﷺ) said: The lifelong gift is permitted for its inhabitant or: is an inheritance for its inhabitant.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ ۱؎ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے“، یا فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کی میراث ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں زید بن ثابت، جابر، ابوہریرہ، عائشہ، عبداللہ بن زبیر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1867
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ طَاوُسٌ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُوَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Sulaiman At-Taimi: From Tawus, that a man came to Ibn 'Umar and said: Did the Messenger of Allah (ﷺ) prohibit Nabidh prepared in eartherware vessels? He said: Yes So Tawus said: I heard that from him, by Allah. He said: There are narrations on this topic from Ibn Abu Awfa, Abu Sa'eed, Suwaid, 'Aishah, Ibn Az-Zubair, and Ibn 'Abbas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس آیا اور پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۱؎، طاؤس کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے ان سے یہ بات سنی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی، ابو سعید خدری، سوید، عائشہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2337
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ ثَانِيًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَمْلَأُ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah said: If the Son of Adam had a valley of gold, then he would still like to have a second . And nothing fills his mouth but dust, Allah turns to whoever repents.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آدمی کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو اسے ایک تیسری وادی کی خواہش ہو گی اور اس کا پیٹ کسی چیز سے نہیں بھرے گا سوائے مٹی سے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس سے توبہ کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابو سعید خدری، عائشہ، ابن زبیر، ابوواقد، جابر، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2829
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ:‏‏‏‏ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ ارْمِ أَيُّهَا الْغُلَامُ الْحَزَوَّرُ وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ.
Narrated 'Ali: The Messenger of Allah (ﷺ) did not mention both of his parents for anyone except Sa'd bin Abi Waqqas. On the Day of Uhud he said: 'Shoot, may my father and mother be ransomed for you.' And he said to him: 'Shoot! O young man.'
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد اور اپنی ماں کو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے سوا کسی کے لیے جمع نہیں کیا۔ جنگ احد میں آپ نے ان سے کہا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں“، اور آپ نے ان سے یہ بھی کہا: ”اے بہادر قوی جوان! تیر چلاتے جاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث علی سے متعدد سندوں سے روایت کی گئی ہے، ۳- اس حدیث کو متعدد لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے والدین کو یکجا کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”تیر چلائے جاؤ، تم پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں“، ۴- اس باب میں زبیر اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
604
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ زَادَ قُتَيْبَةُ، قَالَ وَكِيعٌ: انْتِقَاصُ الْمَاءِ: يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Ten are the acts according to fitra: clipping the moustache, letting the beard grow, using the tooth-stick, snuffing water in the nose, cutting the nails, washing the finger joints, plucking the hair under the armpits, shaving the pubes and cleaning one's private parts with water. The narrator said: I have forgotten the tenth, but it may have been rinsing the mouth
قتیبہ بن سعید ، ابو بکر بن ابی شیبہ او رزہیر بن حرب نے کہا : ہمیں وکیع نے زکریا بن ابی زائدہ سےحدیث بیان کی ، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے ، انہوں نے طلق بن حبیب سے ، انہوں نے عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دس چیزیں ( خصائل ) فطرت میں سے ہیں : مونچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسوک کرنا ، ناک میں پانی کھینچنا ، ناخن تراشنا ، انگلیوں کے جوڑوں کودھونا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا ، پانی سے استنجا کرنا ۔ ‘ ‘ زکریا نے کہا : مصعب نے بتایا : دسویں چیز میں بھول گیا ہوں لیکن وہ کلی کرنا ہو سکتا ہے ۔ قتیبہ نے یہ اضافہ کیا کہ وکیع نے کہا : انتقاض الماء کے معنی استنجا کرنا ہیں ۔
Sahih Muslim
3590
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: - وَقَالَ سُوَيْدٌ وَزُهَيْرٌ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ -: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ
A'isha (Allah be pleased with her), Suwaid and Zubair reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: One suckling or two do not make (marriage) unlawful.
زہیر بن حرب ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور سوید بن سعید نے ، اپنی اپنی سندوں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ سوید اور زہیر نے کہا : بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ : " ( دودھ کی ) ایک یا دو چسکیاں حرمت کا سبب نہیں بنتیں
Sahih Muslim
6045
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
A'isha, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said that whenever he had to choose between two things he adopted the easier one, provided it was nor sin, but if it was any sin he was the one wio was the farthest from it of the people; and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) never took revenge from anyone because of his personal grievance, unless what Allah, the Exalted and Glorious, had made inviolable had been violated.
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے ( ایک کا ) انتخاب کرنا ہوتاتو آپ ان دونوں میں سے زیادہ آسان کو منتخب فرماتے ۔ بشرط یہ کہ وہ گناہ نہ ہوتا اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا ، سوائے اس صورت کے کہ اللہ کی حد کو توڑا جاتا ۔