حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟۔ - حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟۔ - تیمم کے احکام و مسائل - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Chapter 35 of تیمم کے احکام و مسائل in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It was narrated from 'Aishah that:
The Prophet said to her, when she was menstruating: Undo your braids and bathe. (Sahih)(A narrator) 'Ali said in his narration: Undo your head.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ حالت حیض میں تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے بال کھول لو، اور غسل کرو ۱؎، علی بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا: اپنا سر کھول لو ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل حیض میں سر کا کھولنا ضروری ہے، اس میں بہ نسبت غسل جنابت کے زیادہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ جنابت کے غسل میں سر کا کھولنا ضروری نہ رکھا، کیونکہ وہ اکثر ہوا کرتا ہے، اور بار بار کھولنے سے عورتوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور حیض کا غسل مہینے میں ایک بار ہوتا ہے، اس میں سر کھولنے سے کسی طرح کا حرج نہیں بلکہ ہر ایک عورت مہینے میں ایک دوبار اپنا سر کھولتی، اور بالوں کو دھوتی ہے
It was narrated from 'Aishah that:
Asma asked the Messenger of Allah about bathing after ones's period. He said: One of you should take her water and lote leaves, and purify herself well, or thoroughly. Then she should pour water over her head and rub it vigorously so that the water reaches the roots of her hair. Then she should take a piece of cotton perfumed with musk and purify herself with it. Asma said: How should I purify myself with it? He said: Subhan Allah! Purify yourself with it! 'Aishah said, as if whispering to her: Wipe away the traces of blood with it. Then she (Asma) asked him about bathing to cleanse oneself from sexual impurity. He said: One of you should take her water, and purify herself, and purify herself well, or thoroughly. She should pour water over her head and rub it so that the water reaches the roots of her hair, then she should pour water over her body. 'Aishah said: How good were the women of the Ansar! For they did not let shyness keep them from understanding their religion properly.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل انصاریہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے، پھر وہ طہارت حاصل کرے ( یعنی شرمگاہ دھوئے ) اور خوب اچھی طرح طہارت کرے یا طہارت میں مبالغہ کرے، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب اچھی طرح ملے، یہاں تک کہ سر کے سارے بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی ڈالے، پھر خوشبو کو ( کپڑے یا روئی کے ) ایک ٹکڑے میں بھگو کر اس سے ( شرمگاہ کی ) صفائی کرے ، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس سے کیسے صفائی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: سبحان اللہ! اس سے صفائی کرو ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے چپکے سے کہا: اس کو خون کے نشان ( یعنی شرمگاہ ) پر پھیرو۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی آپ سے پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت پانی لے اور طہارت کرے اور اچھی طرح کرے یا پاکی میں مبالغہ کرے، پھر سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب ملے یہاں تک کہ سر کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اپنے پورے جسم پہ پانی بہائے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا: انصارکی عورتیں کتنی اچھی ہیں، انہیں دین کی سمجھ حاصل کرنے سے شرم و حیاء نہیں روکتی ۱؎۔
Takhreej
حدیث الغسل من الجنابة: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۷۸۴۸)، وحدیث الغسل من المحیض أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ۳۱ (۲۳۳)، سنن ابی داود/الطہارة ۱۲۲ (۳۱۴، ۳۱۵)، (تحفة الأشراف: ۱۷۸۴۷)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ۱۴ (۳۱۴ تعلیقاً)، سنن النسائی/الطہارة ۱۵۹ (۲۵۲)، مسند احمد (۶/۱۴۷)، سنن الدارمی/الطہارة ۸۴ (۸۰۰)
Explanation
حق بات کہنا اور دین کی بات پوچھنا یہ شرم کے خلاف نہیں ہے، اور جو کوئی اس کو شرم کے خلاف سمجھے وہ خود بے وقوف ہے، شرم برے کام میں کرنا چاہئے، معصیت سے پاک عورتیں ناپاک باتوں سے پرہیز کرتی ہیں، آج کل کی عورتیں گناہ میں شرم نہیں کرتیں، اور دین کی بات دریافت کرنے میں شرم کرتی ہیں، ان کی شرم پر خاک پڑے۔