TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1076 - جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟۔ - Establishing the prayer and the sunnah regarding them - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 5 in this chapter
جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟۔
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَقَامَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يَقْصُرُ الصَّلَاةَ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) stayed in Makkah for fifteen nights during the year of the Conquest, (during which time) he shortened his prayer.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مکہ میں پندرہ دن قیام کیا، اور نماز قصر کرتے رہے۔
1076
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 5, Hadith 1076 Arabic reference : Book 5, Hadith 1129
(اس حدیث کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۳/۲۶، ۲۷)
Conclusion
تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ۲۷۹ (۱۲۳۱)، (تحفة الأشراف: ۵۸۴۹)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/تقصیر الصلاة ۴ (۱۴۵۴)

Related Chapters

142
1
Chapter: What Has Been Related About How Long The Prayer Is Shortened
باب: کتنے دنوں تک قصر کرنا درست ہے؟
Jam e Tirmazi
2
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
Musnad Ahmad
3
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
4
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
5
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
6
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
7
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
Musnad Ahmad
8
(158) CHAPTER. Whoever led the people in Salat (prayer) and remembered an urgent matter or necessity and had to pass over the people (to carry out that).
اگر امام لوگوں کو نماز پڑھا کر کسی کام کا خیال کرے اور ٹھہرے نہیں بلکہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا چلا جائے تو کیا ہے
Sahih Bukhari
9
(5) CHAPTER. The sin of him who withholds water from wayfarer and travellers.
اس شخص کا گناہ جس نے کسی مسافر کو پانی سے روک دیا
Sahih Bukhari
10
(6) CHAPTER. How many witnesses are sufficient to attest one's good or bad record?
کسی گواہ کو عادل ثابت کرنے کے لیے کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہے ؟
Sahih Bukhari
11
(4) CHAPTER. It is permissible for the seller to stipulate that he should ride the (sold) animal up to a certain place.
اگر بیچنے والے نے کسی خاص مقام تک سواری کی شرط لگائی تو یہ جائز ہے
Sahih Bukhari
12
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Be in this world as if you were a stranger.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو
Sahih Bukhari
13
Chapter: The travelers’ prayer and shortening it
مسافروں کی نماز اور اس کی قصر
Sahih Muslim
14
Chapter: It is permissible to fast or not to fast during Ramadan for one who is travelling for no sinful purpose, if his journey is two stages or further. But it is better for the one who is able to fast without suffering any harm to do so, and the one for whom it is difficult may break the fast
اگر سفر گناہ کے لیے نہیں تو رمضان میں مسافر کے لیے جبکہ اس کا سفر دو یادو سے زائد منزلوں کا ہے روزہ رکھنا اور روزہ چھوڑنا دونوں جائز ہیں اور جو آدمی نقصان اٹھائے بغیر روزہ رکھ سکتا ہے ‘
Sahih Muslim
15
CHAPTER: When Should The Traveler Shorten The Prayer?
باب: مسافر قصر کب کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
16
CHAPTER: In How Many Days Should The Qur’an Be Recited?
باب: قرآن کتنے دنوں میں ختم کیا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: When Does The Traveler Break His Fast After Setting Out?
باب: مسافر سفر پر نکلے تو کتنی دور جا کر روزہ توڑ سکتا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
18
CHAPTER: One who steals a thing from a place where it is protected.
باب: جو شخص کسی چیز کو محفوظ مقام سے چرائے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
19
کتنے دن کی اقامت تک نماز قصر کی جا سکتی ہے ؟
Sunnan Nisai
20
باب: مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ نیز عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں زہری پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
21
باب: مسافر کو اجازت ہے کہ کسی دن روزے سے رہے اور کسی دن کھائے پیئے۔
Sunnan Nisai
22
(51)Chapter: [What Has Been Related About] It Is Disliked Urinate In Stagnant Water
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
(71)Chapter: What Has Been Related About Wiping Over The Two Khuff For The Traveler and the Resident
باب: مسافر اور مقیم کے مسح کی مدت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About How Many Times The Prophet Performed Haj
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے حج کئے؟
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About How Many Times The Prophet Performed Umrah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Performing Umrah From At-Tan'im
باب: (حدود حرم سے باہر) مقام تنعیم سے عمرہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Blood-Money, How Many Dirham Is It ?
باب: دیت میں کتنے درہم دئیے جائیں؟
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About: For How Much (Wealth) Is The Thief's Hand Cut Off ?
باب: کتنے مال کی چوری میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟
Jam e Tirmazi
30
Chapter: Something Else: The Supplication: “May Allah Grant You Taqwa As Your Provision”
باب: مسافر کو الوداع کہتے وقت پڑھی جانے والی دعا سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
31
Chapter: , What Has Been Mentioned About The Supplication Of The Travelever
باب: مسافر کی دعا کا بیان
Jam e Tirmazi
32
بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة
مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان
Mishkat
33
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
Mishkat
34
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
35
ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے
Musnad Ahmad
36
مسافرکے لیے اپنی سواری پر بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
37
سجدہ تلاوت کی فضیلت اور اس کے مقامات کی تعداد کا بیان
Musnad Ahmad
38
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
مفترض کی متنفل کی اور مقیم کی مسافر کی اقتداء میں نماز ادا کرنا
Musnad Ahmad
41
مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کے مقام کا بیان
Musnad Ahmad
42
مرد اور عورت کے کفن کی کیفیت کا بیان ، نیز وہ کتنے کپڑے ہونے چاہئیں
Musnad Ahmad
43
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
44
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
Musnad Ahmad
45
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
46
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
Musnad Ahmad
47
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
Musnad Ahmad
48
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
49
محصر کو حل و حرم کے جس مقام پر بھی روک دیا جائے گا، وہ قربانی اور پھر حلق کر کے عمرہ سے حلال ہو جائے گا اور اس پر کوئی قضاء نہیں ہو گی
Musnad Ahmad
50
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,325
Sunnan Ibn e Maja
3970
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ بْنُ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ إِسْحَاق،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سُخْطِ اللَّهِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا،‏‏‏‏ فَيَهْوِي بِهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A man may speak a word that angers Allah and not see anything wrong with it, but it will cause him to sink down in Hell the depth of seventy autumns.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے، اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا، حالانکہ اس بات کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جاتا ہے ۔
Jam e Tirmazi
203
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأُنَيْسَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَسَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْأَذَانِ بِاللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ أَجْزَأَهُ وَلَا يُعِيدُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا أَذَّنَ بِلَيْلٍ أَعَادَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادِيَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏مَا رَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ،‏‏‏‏ وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ أَذَّنَ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ مُنْقَطِعٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَلَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ أَرَادَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَغَيْرِ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَالزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَلَوْ كَانَ حَدِيثُ حَمَّادٍ صَحِيحًا لَمْ يَكُنْ لِهَذَا الْحَدِيثِ مَعْنًى، ‏‏‏‏‏‏إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ،‏‏‏‏ فَإِنَّمَا أَمَرَهُمْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِإِعَادَةِ الْأَذَانِ حِينَ أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَمْ يَقُلْ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْطَأَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
Salim narrated from his father (Ibn Umar) that : the Prophet said: Indeed Bilal calls the Adhan in the night, so eat and drink until you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان نہ سن لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، انیسہ، انس، ابوذر اور سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- رات ہی میں اذان کہہ دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر رات باقی ہو تبھی مؤذن اذان کہہ دے تو کافی ہے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں، مالک، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ رات میں اذان دیدے تو اسے دہرائے ۱؎، یہی سفیان ثوری کہتے ہیں، ۴- حماد بن سلمہ نے بطریق «ایوب عن نافع عن ابن عمر» روایت کی ہے کہ بلال رضی الله عنہ نے رات ہی میں اذان دے دی، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ پکار کر کہہ دیں کہ بندہ سو گیا تھا۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے بطریق نافع عن ابن عمر روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں، اور عبدالعزیز بن ابی رواد نے نافع سے روایت کی ہے کہ عمر رضی الله عنہ کے مؤذن نے رات ہی میں اذان دے دی تو عمر نے اسے حکم دیا کہ وہ اذان دہرائے، یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ نافع اور عمر رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور شاید حماد بن سلمہ، کی مراد یہی حدیث ۲؎ ہو، صحیح عبیداللہ بن عمر دوسرے رواۃ کی روایت ہے جسے ان لوگوں نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور زہری نے سالم سے اور سالم نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، ۵- اگر حماد کی حدیث صحیح ہوتی تو اس حدیث کا کوئی معنی نہ ہوتا، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، آپ نے لوگوں کو آنے والے زمانے کے بارے میں حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں“ اور اگر آپ طلوع فجر سے پہلے اذان دے دینے پر انہیں اذان لوٹانے کا حکم دیتے تو آپ یہ نہ فرماتے کہ ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں“، علی بن مدینی کہتے ہیں: حماد بن سلمہ والی حدیث جسے انہوں نے ایوب سے، اور ایوب نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور عمر نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے غیر محفوظ ہے، حماد بن سلمہ سے اس میں چوک ہوئی ہے۔
Jam e Tirmazi
256
قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وأبي هريرةَ، ‏‏‏‏‏‏وأبي حُمْيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأبي أُسَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وسَهْلِ بن سعدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وأبي قتادةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأبي موسى الأشعري، ‏‏‏‏‏‏وجابرِ، ‏‏‏‏‏‏وعُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا يَقُولُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ ابْنُ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأَبُو هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٌ وَابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنَ التَّابِعِينَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ،‏‏‏‏ وَعَطَاءٌ،‏‏‏‏ وَطَاوُسٌ،‏‏‏‏ وَمُجَاهِدٌ،‏‏‏‏ وَنَافِعٌ،‏‏‏‏ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَالِكٌ،‏‏‏‏ وَمَعْمَرٌ،‏‏‏‏ وَالْأَوْزَاعِيُّ،‏‏‏‏ وَابْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ قَدْ ثَبَتَ حَدِيثُ مَنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْآمُلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يَرَى رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ مَعْمَرٌ يَرَى رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وسَمِعْت الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ بْنُ هَارُونَ،‏‏‏‏ وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِذَا افْتَتَحُوا الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعُوا وَإِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ.
Salim narrated: Same as 255 (above) with a different chain
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، وائل بن حجر، مالک بن حویرث، انس، ابوہریرہ، ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، ابوقتادۃ، ابوموسیٰ اشعری، جابر اور عمیر لیثی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر بن عبداللہ، ابوہریرہ، انس، ابن عباس، عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم وغیرہ شامل ہیں اور تابعین میں سے حسن بصری، عطاء، طاؤس، مجاہد، نافع، سالم بن عبداللہ، سعید بن جبیر وغیرہ کہتے ہیں، اور یہی مالک، معمر، اوزاعی، ابن عیینہ، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: جو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کی حدیث ( دلیل ) صحیح ہے، پھر انہوں نے بطریق زہری روایت کی ہے، ۵- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے“ والی ثابت نہیں ہے، ۶- مالک بن انس نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے، ۷- عبدالرزاق کا بیان ہے کہ معمر بھی نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے، ۸- اور میں نے جارود بن معاذ کو کہتے سنا کہ ”سفیان بن عیینہ، عمر بن ہارون اور نضر بن شمیل اپنے ہاتھ اٹھاتے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے“۔
Jam e Tirmazi
327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَلَكِنْ ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ،‏‏‏‏ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَمِنْهُمْ مَنْ رَأَى الْإِسْرَاعَ إِذَا خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى ذُكِرَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ كَانَ يُهَرْوِلُ إِلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ مَنْ كَرِهَ الْإِسْرَاعَ وَاخْتَارَ أَنْ يَمْشِيَ عَلَى تُؤَدَةٍ وَوَقَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَا:‏‏‏‏ الْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ إِنْ خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى فَلَا بَأْسَ أَنْ يُسْرِعَ فِي الْمَشْيِ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: When the Iqamah is called for Salat do not come to it rushing, rather come to it walking, and while you have tranquility. What you catch of it then pray it, and what you missed of it, then complete it.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی تکبیر ( اقامت ) کہہ دی جائے تو ( نماز میں سے ) اس کی طرف دوڑ کر مت آؤ، بلکہ چلتے ہوئے اس حال میں آؤ کہ تم پر سکینت طاری ہو، تو جو پاؤ اسے پڑھو اور جو چھوٹ جائے، اسے پوری کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوقتادہ، ابی بن کعب، ابوسعید، زید بن ثابت، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اہل علم کا مسجد کی طرف چل کر جانے میں اختلاف ہے: ان میں سے بعض کی رائے ہے کہ جب تکبیر تحریمہ کے فوت ہونے کا ڈر ہو، وہ دوڑے یہاں تک کہ بعض لوگوں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ نماز کے لیے قدرے دوڑ کر جاتے تھے اور بعض لوگوں نے دوڑ کر جانے کو مکروہ قرار دیا ہے اور آہستگی و وقار سے جانے کو پسند کیا ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ عمل ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث پر ہے۔ اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر تکبیر تحریمہ کے چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو دوڑ کر جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
Jam e Tirmazi
524
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْجُمُعَةِ صَلَّى إِلَيْهَا أُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَدْرَكَهُمْ جُلُوسًا صَلَّى أَرْبَعًا. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: Whoever catches a Rak'ah of the Salat then he has caught the Salat.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز میں ایک رکعت پا لی اس نے نماز پا لی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی تو وہ دوسری رکعت ( خود سے ) پڑھ لے اور جس نے لوگوں کو سجدے میں پایا تو وہ چار رکعت ( ظہر کی نماز ) پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۲؎۔
Jam e Tirmazi
1525
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل التِّرْمِذِيُّ وَاسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ يُوسُفَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ،‏‏‏‏ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ،‏‏‏‏ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ،‏‏‏‏ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَفْوَانَ،‏‏‏‏ عَنْ يُونُسَ،‏‏‏‏ وَأَبُو صَفْوَانَ هُوَ:‏‏‏‏ مَكِّيٌّ،‏‏‏‏ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَنْهُ الْحُمَيْدِيُّ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ جُلَّةِ أَهْلِ الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وقَالَ:‏‏‏‏ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ،‏‏‏‏ وَلَا كَفَّارَةَ فِي ذَلِكَ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ.
Narrated 'Aishah: That the Prophet (ﷺ) said: There is no vowing in disobedience to Allah, and its atonement is the atonement of an oath.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ابوصفوان کی اس حدیث سے جسے وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، زیادہ صحیح ہے، ۳- ابوصفوان مکی ہیں، ان کا نام عبداللہ بن سعید بن عبدالملک بن مروان ہے، ان سے حمیدی اور کئی بڑے بڑے محدثین نے روایت کی ہے، ۴- اہل علم صحابہ کی ایک جماعت اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: اللہ کی معصیت کے سلسلے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، ان دونوں نے زہری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے وہ ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ عائشہ سے روایت کرتے ہیں، ۵- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: معصیت میں کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
3097
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ:‏‏‏‏ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ إِلَيْهِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ تَحَوَّلْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي صَدْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَعَلَى عَدُوِّ اللَّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا يَعُدُّ أَيَّامَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ قَدْ قِيلَ لِي:‏‏‏‏ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ سورة التوبة آية 80 لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَشَى مَعَهُ فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ قَالَ:‏‏‏‏ فَعَجَبٌ لِي وَجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَاللَّهِ مَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ هَاتَانِ الْآيَتَانِ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ عَلَى مُنَافِقٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Narrated Ibn 'Abbas: I heard 'Umar bin Al-Khattab saying: 'When 'Abdullah bin Ubayy died, the Messenger of Allah (ﷺ) was called to perform the funeral prayer over him. The Messenger of Allah (ﷺ) came to him, and when he stood over him, about to perform the prayer, he turned until he was standing at his chest. I said: O Messenger of Allah! (You pray) for Allah's enemy 'Abdullah bin Ubayy, who on this day said this and that - mentioning different days. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) was smiling until I had said too much to him and he said: 'Leave me O 'Umar! Indeed I have been given the choice, so I chose. I was told: Whether you ask forgiveness for them, or do not ask for forgiveness for them. Even though you ask for their forgiveness seventy times, Allah will not forgive them (9:80). If I knew that were I to ask more than seventy times that he would be forgiven, then I would do so. He said: Then he performed the Salat for him and walked with him (his funeral procession) and he stood at his grave until it was finished. I was amazed at myself and my daring to talk like that to the Messenger of Allah (ﷺ), while Allah and His Messenger (ﷺ) know better. But by Allah! It was not long until these two Ayat were revealed: 'And never pray for any of them who dies nor stand at his grave... (9:84) until the end of the Ayah. He said: So afterwards the Messenger of Allah (ﷺ) did not perform the Salat for a hypocrite, nor would he stand at his grave until Allah took him.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافقوں کا سردار ) مرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے بلائے گئے، آپ کھڑے ہو کر اس کی طرف بڑھے اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ میں لپک کر آپ کے سینے کے سامنے جا کھڑا ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ اللہ کے دشمن عبداللہ بن ابی کی نماز پڑھنے جا رہے ہیں جس نے فلاں فلاں دن ایسا اور ایسا کہا تھا؟ وہ اس کے بےادبی و بدتمیزی کے دن گن گن کر بیان کرنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے یہاں تک کہ جب میں بہت کچھ کہہ گیا ( حد سے تجاوز کر گیا ) تو آپ نے فرمایا: ” ( بس بس ) مجھ سے ذرا پرے جاؤ عمر! مجھے اختیار دیا گیا ہے تو میں نے اس کے لیے مغفرت طلبی کو ترجیح دی ہے۔ کیونکہ مجھ سے کہا گیا ہے: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم» ”ان ( منافقوں ) کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اگر تم ان کے لیے ستر بار بھی مغفرت طلب کرو گے تو بھی وہ انہیں معاف نہ کرے گا“ ( التوبہ: ۸۰ ) ، اگر میں جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت طلب کرنے سے وہ معاف کر دیا جائے گا تو ستر بار سے بھی زیادہ میں اس کے لیے مغفرت مانگتا۔ پھر آپ نے عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھی اور جنازہ کے ساتھ چلے اور اس کی قبر پر کھڑے رہے، یہاں تک کہ اس کے کفن دفن سے فارغ ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اپنی جرات و جسارت پر مجھے حیرت ہوئی۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۱؎، قسم اللہ کی! بس تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ”ان میں سے کسی ( منافق ) کی جو مر جائے نماز جنازہ کبھی بھی نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو“ ( التوبہ: ۸۴ ) ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرنے تک کبھی بھی کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہو کر دعا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Sahih Muslim
1369
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَصَافَّهُمْ، قَبْلَ أَنَّ يَقُومَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامَهُ
Abu Salama reported on the authority of Abu Huraira that when Iqama was pronounced for the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), the people occupied their places in the rows before the Messenger of Allah (way peace be upon him) stood up at his place.
ابراہیم بن موسیٰ نےمجھے حدیث بیان کی ، کہا ہمیں ولید بن مسلم نےباقی ماندہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے اقامت کہی جاتی تو اس سے پہلے کہ نبی اکرم ﷺ ( اپنی جگہ پر ) کھڑے ہوں لوگ صفوں میں اپنی اپنی جگہ لے لیتے ۔
Sahih Muslim
1373
دَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَيُونُسَ، ح قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ مَعَ الْإِمَامِ، وَفِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: «فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ كُلَّهَا»
This hadith has been narrated on the authority of Malik and there is no mention of along with the Imam and In the hadith transmitted by Abdullah the words are: he in fact finds the entire prayer .
سفیان بن عیینہ ، معمر ، اوزاعی ، یونس اور عبید اللہ سب نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نبی ﷺ سے یحییٰ کی امام مالک سے مذکورہ بالا روایت کی طرح حدیث بیان کی اور ان میں سے کسی کی حدیث میں مع الامام ( امام کے ساتھ ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔ اور عبید اللہ کی حدیث میں ہے : ’’تو یقینا اس نے مکمل نماز پالی ۔ ‘ ‘