TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2767 - بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال - خرید و فروخت کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 9 of 31 in this chapter
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فجملوها فَبَاعُوهَا»
عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ یہود کو غارت کرے ان پر (مردار کی) چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
2767
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۲۲۳) و مسلم (۷۲ / ۱۵۸۲) ۔ 4050

Related Chapters

116
1
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
2
(55)Chapter: What Has Been Related About The Urine Of That Whose Meat Is Eaten
باب: جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہو اس کے پیشاب کا حکم
Jam e Tirmazi
3
Chapter: (What Has Been Related About) The Indebted And Others For Whom Charity Is Lawful
باب: قرض داروں اور دیگر لوگوں میں سے کس کس کے لیے زکاۃ حلال ہے؟
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Those Killed At Uhud, and Mention of Hamzah
باب: شہدائے احد اور حمزہ بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کا ذکر
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The Muhill And The One Who The Muhallal Was Done For
باب: حلالہ کرنے اور کرانے والے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About 'The Blood Of A Muslim Man Is Not Lawful Except For One Of Three Cases'
باب: ان تین اسباب میں سے کسی ایک کے پائے جانے پر ہی کسی مسلم کا خون حلال ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About One Who Fights For Show And For Worldly Matters
باب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Seeking Assistance (From Allah) By The Destitute Muslims
باب: غریب اور مسکین مسلمانوں کی دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What has been Related About 'The Blood Of A Muslim is Not Lawful Except For One Of Three'
باب: تین صورتوں کے سوا کسی مسلمان کا خون حلال نہیں
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Taking Wealth Within One's Wealth
باب: حلال اور جائز طریقہ سے مال و دولت حاصل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: The Hadith: Two Wolves Free Among Sheep
باب: دولت کی ہوس اور جاہ طلبی دین کے لیے انتہائی خطرناک ہیں
Jam e Tirmazi
12
Chapter: The Supplication: “O Allah, I Seek Refuge In You From Sadness And Grief”
باب: بعض چیزوں سے پناہ طلب کرنے کا باب
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Concerning The Virtue Of Asking For Al-Afiyah And Al-Mu’afah
باب: اللہ سے عافیت طلب کرنے کا باب
Jam e Tirmazi
14
Chapter: Concerning Pardon And Al-Afiyah
باب: دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
16
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
17
بَابُ مَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَمَا يَحْرُمُ
ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے
Mishkat
18
بَاب الاسْتِئْذَان
اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
19
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
نیک لوگوں اور جن کی برکت کی امید رکھی جاتی ہو، کے واسطے سے بارش طلب کرنا
Musnad Ahmad
21
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
Musnad Ahmad
22
محصر کو حل و حرم کے جس مقام پر بھی روک دیا جائے گا، وہ قربانی اور پھر حلق کر کے عمرہ سے حلال ہو جائے گا اور اس پر کوئی قضاء نہیں ہو گی
Musnad Ahmad
23
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
24
بخشش طلب کرنے کی اور قرضہ ادا کرنے کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
25
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
Musnad Ahmad
26
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
حلالہ کرنے والے اور احرام والے آدمی کے نکاح کا حکم
Musnad Ahmad
28
رجوع کرتے وقت گواہ بنا نے اور اس چیز کا بیان کہ تین طلاق والی عورت پہلے خاوند کے لیے کیسے حلال ہو گی
Musnad Ahmad
29
بجو کے حلال ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
30
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
شرابی کی وعید کا بیان،ہم اس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں
Musnad Ahmad
32
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
Musnad Ahmad
34
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
Musnad Ahmad
35
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
Musnad Ahmad
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
Musnad Ahmad
37
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
Musnad Ahmad
38
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
Musnad Ahmad
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کا واقعہ اور ان کے قاتل اور قتل کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
41
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
حلال وحرام کے بیان، اہل جنت واہلِ جہنم کی صفات، اور بخل وکذب کے بیان پر مشتمل ایک خطبہ
Musnad Ahmad
43
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
Musnad Ahmad
45
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
46
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
Musnad Ahmad
47
(27) CHAPTER. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.
اس بارے میں کہ ( طلباء کا حصول ) علم کے لیے ( استاد کی خدمت میں ) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے ۔
Sahih Bukhari
48
(84) CHAPTER. It is disliked to offer the funeral prayer for the hypocrites, and to ask Allah's Forgiveness for the Mushrikun.
منافقوں پر نماز جنازہ پڑھنا اور مشرکوں کے لیے طلب مغفرت کرنا ناپسند ہے
Sahih Bukhari
49
(8) CHAPTER. As-Sadaqa (charity) must be from money earned honestly.
حلال کمائی میں سے خیرات کرنا
Sahih Bukhari
50
(2) CHAPTER. Legal, illegal things are clearly defined, and in between them are some doubtful (unclear) things.
حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ شک و شبہ والی چیزیں بھی ہیں
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

7
Sahih Bukhari
2223
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ فُلَانًا بَاعَ خَمْرًا ، فَقَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ فُلَانًا ، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ ، فَجَمَلُوهَا ، فَبَاعُوهَا .
Narrated Ibn `Abbas: Once `Umar was informed that a certain man sold alcohol. `Umar said, May Allah curse him! Doesn't he know that Allah's Apostle said, 'May Allah curse the Jews, for Allah had forbidden them to eat the fat of animals but they melted it and sold it.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے طاؤس نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ نے فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کر دے۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ چربی ان پر حرام کی گئی تھی لیکن ان لوگوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا۔
Sahih Bukhari
3460
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَاتَلَ اللَّهُ فُلَانًا أَلَمْ يَعْلَمْ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَّلُوهَا فَبَاعُوهَا ، تَابَعَهُ جَابِرٌ وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Ibn `Abbas: I heard `Umar saying, May Allah Curse so-and-so! Doesn't he know that the Prophet said, 'May Allah curse the Jews for, though they were forbidden (to eat) fat, they liquefied it and sold it.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے طاؤس نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ فلاں کو تباہ کرے۔ انہیں کیا معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”یہود پر اللہ کی لعنت ہو، ان کے لیے چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا۔“ اس روایت کو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Sahih Muslim
4050
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا، فَقَالَ: قَاتَلَ اللهُ سَمُرَةَ، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَجَمَلُوهَا، فَبَاعُوهَا»،
Ibn Abbas (Allah be pleased with him) reported: This news reached 'Umar that Samura had sold wine, whereupon he said: May Allah destroy Samura; does he not know that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Let there be the curse of Allah upon the Jews that fat was declared forbidden for them, but they melted it and then sold it ?
) سفیان بن عیینہ نے ہمیں عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے طاوس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب فروخت کی ہے تو انہوں نے کہا : اللہ سمرہ کو ہلاک کرے! کیا وہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ یہود پر لعنت کرے! ( کہ ) ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پھگلایا اور فروخت کیا " ؟
Sunnan Ibn e Maja
3383
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ،‏‏‏‏ عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَلَغَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ،‏‏‏‏ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ،‏‏‏‏ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: Umar heard that Samurah had sold some wine, and he said: “May Allah ruin Samurah! Does he not know that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘May Allah curse the Jews, for animal fat was forbidden to them, so they melted it down and sold it.’”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو کہا: اللہ تعالیٰ سمرہ کو تباہ کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہود پر اللہ کی لعنت ہو، اس لیے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، تو انہوں نے اسے پگھلایا اور بیچ دیا ۱؎۔
Sahih Bukhari
2224
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, May Allah curse the Jews, because Allah made fat illegal for them but they sold it and ate its price.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ یہودیوں کو تباہ کرے، ظالموں پر چربی حرام کر دی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔
Sahih Muslim
4052
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ، حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا»
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: May Allah destroy the Jews for Allah forbade the use of fats for them, but they sold them and made use of their price.
ابن جریج نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے خبر دی کہ انہوں نے انہیں ( ابن شہاب کو ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ یہود کو ہلاک کرے! اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی ۔ "
Sunnan Abu Dawood
3488
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ بِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ، ‏‏‏‏‏‏وَخَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَرَكَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ثُمَّ اتَّفَقَا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عِنْدَ الرُّكْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ثَلَاثًا:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ . وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانِ رَأَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ .
Narrated Ibn Abbas: I saw the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم sitting neat the Black stone (or at a corner of the Kabah). He said: He (the Prophet) raised his eyes towards the heaven, and laughed, and he said: May Allah curse the Jews! He said this three times. Allah declared unlawful for them the fats (of the animals which died a natural death); they sold them and they enjoyed the price they received for them. When Allah declared eating of thing forbidden for the people, He declares it price also forbidden for them. The version of Khalid bin Abdullah al-Tahhan does not have the words I saw . It has: May Allah destroy the Jews!
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن ( حجر اسود ) کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، آپ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں پھر ہنسے اور تین بار فرمایا: اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کی ( تو انہوں نے چربی تو نہ کھائی ) لیکن چربی بیچ کر اس کے پیسے کھائے، اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کر دیا ہے ۔ خالد بن عبداللہ ( خالد بن عبداللہ طحان ) کی حدیث میں دیکھنے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں: «لعن الله اليهود» کے بجائے: «قال ‏ ‏ قاتل الله اليهود» ہے۔